Monday, Jul 15th

Last update12:39:09 AM GMT

پہیہ


پہیہ اپنی بنیادی شکل میں انسانی تاریخ کی سب سے اہم ایجاد تصور کیا جاتا ہے جس کی بے شمار مختلف اشکال نے آج انسان کو ترقی کے اس دور میں لا کھڑا کیا ہے۔ آج کی جدید مشینیں ہوں یا پچھلے زمانے کی سادہ گاڑیاں، پہیے کے بغیر بے معنی ہو کر رہ جاتی ہیں۔ دیارِ غیر میں بعض اوقات کسی ایسی چیز کی ضرورت پڑ جاتی ہے جسے ہم ایک ضروری شے کے تحت پاکستان سے کم ہی لے کر آتے ہیں کیونکہ تارکینِ وطن پاکستان سے چلتے ہوئے جن چیزوں کو اہمیت دیتے ہیں وہ عموماَ کپڑے اور جوتے ہی رہے ہیں۔ میرا مقصد کسی برانڈ کی تشہیر کرنا نہیں کیونکہ انھوں نے مجھے کسی قسم کا سپانسر نہیں کیا مگر جوتوں میں سروس کمپنی کے جوگرز ’’چیتا‘‘ اور کپڑوں میں ’’D & G‘‘ کی شرٹز ہر دل عزیز ہیں۔ ایسے ایسےoutfit دیکھنے میں ملتے ہیں کہ اگر’’Dolce & Gabbana‘‘ والے دیکھ لیں تو پریشان ہو کر سوچنا شروع کردیں کہ یہ ہم نے کب ڈیزائن کیے تھے یاد نہیں آ رہا۔ سکول کے دور سے میرے پاس اردو کی ایک لغت ہے جسے میں نے آٹھویں جماعت میں خریدا تھا۔ شوقِ آگہی کے تحت شروع میں تو اسے ایک کہانی کی کتاب یا ناول کی طرح پڑھا کرتا تھا مگر رفتہ رفتہ شوقِ مطالعہ بھی نئی راہیں پکڑتا چلا گیا۔ آج مجھے اپنی اُس لغت کی اپنے پاس نہ ہونے کی کمی محسوس ہوئی، لفظ کوئی اتنا ثقیل نہیں ہے کہ جس کا مطلب ضروری جانا جائے مگر پھر بھی سوچ رہا تھا کہ گاڑی کا مطلب کیا ہے؟ پھر اپنے موجودہ علم پر ہی بھروسہ کرنا پڑا اور سوچا کہ ہم یہ لفظ کب استعمال کرتے ہیں تو یاد آیا کہ ہمارے ہاں بیل گاڑی، گدھا گاڑی، گھوڑا گاڑی وغیرہ عام ہیں۔ اس کے علاوہ ریل گاڑی، مال گاڑی بھی سننے میں آ جاتا ہے اور عرفِ عام میں جب کوئی کہتا ہے کہ بھائی گاڑی ہے تو کار وغیرہ بھی اِسی زمرہ میں لی جاتی ہے۔ تو گاڑی ایک ایسی چیز ہوئی جو کہ ذریع آمدورفت کے لیے استعمال کی جاتی ہے جسے کسی ذریعہ سے کھنچا جاتا ہے اور اُسی نسبت سے اس کا نام بھی پڑ جاتا ہے۔ ایک اور لفظ بھی کبھی سننے میں آتا تھا مگر اب ناپید ہوتا جا رہا ہے وہ ہے ’’اُڑن کھٹولا‘‘ یعنی اُڑنے والی گاڑی، جو کہ ہمیں پرانے اردو ادب کی داستانوں مثلاََ الف لیلہ میں ملتا ہے تو شاید کھٹولا بھی گاڑی کا مترادف بن سکتا ہے۔ گاڑی کسی قسم کی بھی ہو پہیہ اس کا لازمی حصہ ہے جس کے بغیر گاڑی کا چلنا ناممکن ہے۔ گاڑیوں کی ان سب اقسام میں ایک اور قسم بھیہے جس کا مادی وجود نظرنہیں آتا وہ ہے ’’زندگی کی گاڑی‘‘۔ دنیا میں جب ایک نیا خاندان بنانے کی ابتدا ہوتی ہے تو ہر معاشرے میں سب سے باعزت عمل شادی ہوتا ہے۔ آسانیاں اور مشکلات زندگی کے دو بنیادی عنصر ہیں تو جب کبھی نئے خاندان کے بنیادی فریقوں کو آپسی مشکل درپیش آتی ہے تو مشورہ دینے والے عموماََ ایک جملہ ضرور استعمال کرتے ہیں ’’میاں بیوی گاڑی کے دو پہیوں کی طرح ہوتے ہیں یہ ایک جیسے نہ ہوں تو زندگی کی گاڑی ٹھیک سے نہیں چلتی‘‘۔ ہو سکتا ہے کہ یہ بات کسی حد تک ٹھیک ہو مگر اتنی بھی نہیں، وہ گاڑی جو کبھی ایک پہیے پر بھی اچھی خاصی چل رہی ہوتیتھیدو پہیوں پر کھڑی ہو کے بھی ڈگمگانے لگ جاتی ہے۔ ویسے دو پہیوں میں سب سے اہم سواری سائیکل رہی ہے۔ عموماََ جب بچے تیسرے سال میں لگتے ہیں تو اُنھیں سائیکل مل جاتی ہے لیکن چونکہ ابھی وہ کافی چھوٹے ہوتے ہیں اور اُن میں اتنی صلاحیت نہیں ہوتی کہ وہ دو پہیوں کو اچھی طرح سے بیلنس کر سکیں تو سائیکل میں اضافی پہیے لگا دیے جاتے ہیں۔ جب ہم چھوٹے تھے تو اُس وقت کے ماڈلز میں تین مستقل پہیے ہوتے تھے مگر اب کیactive نئی نسل کے کھلونوں میں بھی کافی جدت آ چکی ہے۔ اب سائیکل دو پہیوں والی ہی بن رہی ہیں جبکہ سہارے کے لیے لگائے گئے اضافی پہیے اُس وقت اتار دیے جاتے ہیں جب بچہ دو پہیوں کو ٹھیک سےhandleکرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ بچوں کو ملنے والی سائیکلوں میں ایک خوبی ہونی چاہے تھی کہ اُنھیں بھی بچوں کے ساتھ ساتھ بڑا ہونا چاہے تھا۔ وقت کے ساتھ بچے تو بڑے ہوتے چلے جاتے ہیں مگر اُن کی چھوٹی سائیکل بچپن کی یادوں کی طرح کسی کونے میں سنبھال دی جاتی ہیں۔ شادی کے فوراََ بعد کا عرصہ نہایت اہم ہوتا ہے اور میں اس کو سائیکل سیکھنے کی طرح ہی تصور کرتا ہوں۔ جس طرح سائیکل سیکھنا انتہائی معرکہ انگیز عمل ہے ایسے ہی شادی کے شروع کا عرصہ بھی کافی دلچسپ ہوتا ہے۔ جب بھی ہم اپنا اعتماد کھوتے ہیں تو ڈگمگانا شروع ہو جاتے ہیں۔ جیسے ہی یہ سوچا جائے کہ میں دوپہیوں کی گاڑی چلا رہا ہوں تو سائیکل خودبخود ہی ایک طرف کو جھکنا شروع کر دیتی ہے اور ہم زمین پر۔ مگر جب خود اعتمادی آجائے تو پھرانسان سوچتا ہے کہ اس سے آسان بھی کوئی بات ہوگی کیا؟ زندگی کی اس نئی گاڑی میں پچیدگیاں عموماَبیرونی عناصر کے عمل دخل سے واقع ہوتی ہیں۔ کبھی کوئی نند انجن گرم کر دیتی ہے تو کبھی ساس یک دم بریک دبا دیتی ہے اور کہیں کوئی سالی حقیقتاَ آدھی گاڑی والی بن جاتیہے۔ مشکلات کے اِن دائروں کے بارے میں سوچتے ہوئے ایک دفعہ میں نے اپنی ایک اٹالین کولیگ سے پوچھا کہ تمھاری اپنی ساس کے ساتھ کیسی بنتی ہے، میرے سوال کو سن کر پہلے تو وہ ہنسی پھر کہنے لگی ’’ہماری آپس میں خوب جمتی ہے کیونکہ میں بہت اچھی ہوں۔‘‘ اُس لڑکی کا اپنے لیے کریڈٹ لے جانا اپنی جگہ لیکن پتہ چلا کہ معاشرہ چاہے مکمل مغربی بھی ہو کئی رشتے اپنی نوعیت میں ایسے ہیں کہ اس میں نظریات کے اختلافات ہو جانا فطری سی بات ہے۔ مشاہدے میں یہ بھی آتا ہے کہ ساس بہو کے رشتے کی بجائے ساس داماد کا آپسی رشتہ کہیں بہتر نبہتا ہے۔ ویسے تو مجھے اس بات سے اختلاف ہے مگر پھر بھی شادی کے موقع پر دلہن لانے کیبجائے اگر لڑکے کو اگلے گھر بھیج دیا جائے تو ہمارے کئی معاشرتی مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ میرے خیال میں ایک اچھی یا کامیاب شادی کے لیے ازواج کا ایک جیسا ہونا ضروری نہیں۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ کوئی دو انسان ایک جیسے ہو ہی نہیں سکتے، یہاں تک کہidentical twins بھی کئی پہلوؤں میں ایک دوجے سے مختلف ہوتے ہیں۔ ایک اچھی شادی شدہ زندگی کیلئے آپس ہم آہنگی نہایت ضروری ہے اور شاید اِس سے بھی آگے، اپنے بجائے دوسرے کو ترجیح دینا زیادہ اہم ہے۔ کہنے میں آتا ہے کچھ دو کچھ لو، کبھی آپ اس کو اُلٹا نہیں سنیں گے۔ ایک دوسرے سے مطمئن نہ ہونا تب ہی ہوتا ہے جب ہم اپنے آپ کو اہمیت دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ بات کا دائرہ وسیع کر دیں تو عموماَ نوجوانوں کو اپنے ملک سے بھی شکایت ہو جاتی ہے کہ پاکستان نے ہمیں کیا دیا ہے۔ ہم اُسے کیا دے رہے ہیں اس پر کوئی کم ہی بات کرتا ہے۔ ملک صوبوں سے، صوبے شہروں گاؤں سے، شہر اور گاؤں محلوں سے اور محلے گھروں سے بنتے ہیں۔ اگر گھر میں بسنے والا خاندان مضبوط اور اعلٰی اقدار کا مالک ہو گا تو بات چلتے چلتے کہاں تک پہنچ جائے گی۔ خاندان کی بنیاد میں میاں بیوی کا آپسی رویہ اُن کی اولاد کی نشونما پر پڑتا ہے، اگر وہ آپس میں عزت، محبت، تحمل سے پیش نہ آئیں گے تو اگلی نسل کو کو ن سا اخلاقی سبق دے سکیں گے۔ جس دین کے ہم پیروکار ہیں وہ تو آیا ہی اس لیے تھا کہ ایک اچھی انسانی سوسائٹی قائم ہو سکے نہ کہ ہم صرف صبح شام اپنے منہ مشرق و مغرب کی طرف پھیر کر کھڑے ہو جائیں اور سجدوں کے نام پر صرف ٹکریں مار کر خوش ہوتے رہیں کہ ہم مسلمان ہیں۔ اس بات کا یہ مطلب ہرگز نہ لیا جائے کہ مذہب کے بنیادی عناصر پر عمل نہیں کرنا چاہیے وہ تو ہم مسلمانوں کا ظاہر ہیں۔ اگر ہم اپنے بنیادی فرائض نماز، روزہ وغیرہ ادا نہیں کریں گے تو مسلمان ہونے کی پہچان کیا ہو گی مگر یہ ارکان جسم کی پہچان ہیں، اصل روح تو معملات ہیں۔ آج کے ہمارے معاشرتی بگاڑ کی وجہ ہماری روحانی کمزوری ہے۔کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ ہم اللہ کو تو مانتے ہیں مگر اللہ کی کوئی نہیں مانتے۔ روح اگر مادی جسم سے نکل جائے تو وہ بھی گلنے سڑنے لگ جاتا ہے۔ کوشش کریں کہ روحانی پستی میں گرنے سے بچیں۔ آئیں اپنے مذہب کی اصل کو سمجھیں۔

 

محمد شاہد چیمہ – اریتزوalt

328-8211420

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com