Monday, Jul 15th

Last update12:39:09 AM GMT

تبصرہ


alt
" "IL PREZZO DELLA LIBERTAیعنی ’’آزادی کی قیمت‘‘ یہ عنوان ہے اس کتاب کا جو حال ہی میں ایک اطالوی شخص فرانکو ایسپوستو نے ترجمہ کرکے چھاپی ہے۔ اس میں اردو ادب کے مایہ ناز افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کے پندرہ افسانوں کا ترجمہ کیا گیا۔ منٹو کے افسانے ’’کھول دو‘‘ کا ترجمہ الیساندرہ باوسینی (AllesandroBausini)نے بھی کیا تھا جب انہوں نے افغانستان اور پاکستان کے ادب پے ایک کتاب لکھی تھی۔ الیساندرو باوسینی وہی شخص جس کا اشفاق احمد نے اپنے پروگرام زاویہ میں بھی بارہا ذکر کیا ہے۔  یہ کتاب پندرہ افسانوں پر مشتمل ہے اور اس پہلے منٹو کے افسانوں کے انگریزی میں بھی تراجم ہوچکے ہیں۔ جو کہ خالد حسن اور منٹو کے بھانجے حامد جلال نے کیئے ہیں۔ مجھے منٹو کو اردو کے علاوہ انگریزی میں بھی پڑھنے کا اتفاق ہوا ہے لیکن جس خوبصورتی اس کے افسانوں کا اطالوی زبان میں ترجمہ کیا گیا اس کا لفظوں میں احاطہ کرنا مشکل ہے۔ جب میں نے کتاب پڑھنی شروع کی تو مجھے ایسا لگا شاید منٹو اطالوی زبان سے واقف تھا اور اس نے سیموئل بیکٹ (Samuel Beckett)(سیموئل بیکٹ ایک آئرش شاعر اور ڈرامہ نگار تھا وہ ایک ہی وقت میں انگریزی اور فرنچ زبان میں اپنے ڈرامے لکھا کرتا تھا)کی طرح دو زبانوں میں اکھٹا لکھا ہے۔ اس بات کا سہرا مترجم کے سر ہے جس نے اس خوبصورتی سے منٹو کی کہانیوں کا ترجمہ کیا ہے کہ پڑھنے والے کو کہیں بھی محسوس نہیں ہوتا یہ کہانیاں اردو سے ترجمہ کی گئی یا اطالوی میں لکھی گئی ہیں۔ جیسے کہ مترجم نے ’’آخری سلوٹ میں لفظ ’’کمہار کے کھوتے ‘‘ کو لکھا "asinaccio d'un vasaio" اس طرح کی کئی مثالیں ہیں جیسے عید کے بارے میں تفصیل لکھی ہے اس کے علاوہ رمضان کے بارے میں ہے۔ فرانکو نے جہاں زبان کا دھیان رکھا ہے وہاں اردو زبان کے بارے میں پروفیسر شفیق ناز سے رائے بھی لی ہے کہ کہیں ترجمہ کے دوران الفاظ کے ترجمے میں لفظوں کے ذومعنی مطالب سے کوئی شک و شبہ نہ رہے۔ اس کتاب کی تزئین اور زیبائش ستیافانیا سانتی نے کی اور گرافکس کا کام ریکاردو مارتینی نے سر انجام دیا۔ اسے ایک نئی اور چھوٹی پبلیکیشن کمپنی fuorilineaنے چھاپا۔جب خالد حسینی (ایک افغان نژاد ڈاکٹر جو کہ امریکن شہری ہیں) نے "the kite runner" لکھی تو پوری دنیا میں اس کی دھوم مچ گئی ۔اس کتاب سے پہلے لوگ صرف اتنا جانتے تھے کہ افغانستان میں جنگ ہے لیکن اس کے بعد آپ اٹلی کے کسی بھی دفتر میں جائیں ہر شخص ایک ہی بات کرتا تھا تم نے دی کائیٹ رنر پڑھی ہے۔ اس کے بعد اس کتاب پے فلم بھی بنی۔ بات لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ اس وقت دنیا کے کئی ممالک میں پاکستانی موجود ہیں اور ان کو کئی کئی سال ہوچکے ہیں لیکن کسی شخص نے اس طرف  دھیان نہیں دیا کہ قلم میں کتنی طاقت ہوتی ہے کیسے ادب کے ذریعے آپ لوگوں کے اذہان میں اپنے بارے میں بری رائے کو تبدیل کرسکتے ہیں۔ حنیف قریشی اور طارق علی کے راستے پے کتنے لوگ چل رہے ہیں۔ یہ بات ہمارے لیئے باعثِ فخر و افتخار ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب ساری دنیا پاکستان کے بارے اپنی ایک بری رائے قائم کیئے ہوئے ، ایسے میں یہ کتا ب ایک ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ہے۔ اب کسی پاکستانی سے کوئی اطالوی پوچھے کہ تمھارا بھی کوئی قلمکار ہے تو سر کو فخر سے بلند کرکے ا س کتاب کا نام لیں اور میں یہ بات یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ پڑھنے والے کو مایوسی نہیں ہوگی۔سرفراز بیگ از اریزو

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com