Wednesday, Apr 24th

Last update12:39:09 AM GMT

فخر زمان


پاکستان اکیڈمی آف لیٹر کی بنیاد زوالفقار علی بھٹونے رکھی تھی۔ بھٹو نے فرانس کی اکیڈمی فرانسیز کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستان میں اس طرح کی اکیڈمی کا آغاز کیا۔ آجکل اس کے ڈائیریکٹر اردو و پنجابی کے درخشندہ ستارے فخر زمان ہیں۔ فخر زمان کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ ان کا تعلق پاکستان بلکہ پنجاب کے مشہور شہر گجرات سے ہے۔ عام طور پے دیارِ غیر میں رہنے والے گجرات شہر کو کئی اور حوالوں سے جانتے ہیں جن کا ذکر کرنا میں مناسب نہیں سمجھتا۔ گجرات شہر میں روحی کنجاہی اور انور مسعود جیسے مہان استاد لوگ پیدا ہوئے ہیں۔ فخر زمان نے نہ صرف پاکستان میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی بلکہ انہوں نے ہالینڈسے بھی قانون کی ڈگری حاصل کی۔ فخرزمان نے ادبی زندگی کا آغاز بہت پہلے کیا اور ان کا پہلا شعری مجموعہ اردومیں  زہراب میں منظرِ عام پے آیا۔ اس کے بعد تو کتابوں کا ایک سلسلہ شروع ہوگیا۔ ان کی کتاب ہر سال بازار میں آنے لگی۔ ان کی دوسری ادبی تحریر پنجابی زبان میں ایک ریڈیوں کا ڈرامہ تھا ’’چڑیاں دا چنباں‘‘ جو کہ منظرِ عام پے آیا ۔ اس کے بعد ’’واں ڑ دا بوٹا ‘‘ بھی ریڈیوکا ڈرامہ تھا 1981میں منظرِ عام پے آیا۔ دیگر تصنیفات درج ذیل ہیں۔اس کے علاوہ ان کی بیشمار تحریریں دیگر زبانوں میںآچکی ہیں۔ انہوں نے بینظیر بھٹو اور زوالفقار علی بھٹو کی زندگی پے لکھی جانے والی مختلف دستاویزات اور تحریروں کو بھی اکھٹا کیا جو کہ ایک مشکل اور محنت طلب کام تھا۔حال ہی میں ان کی زیرِ سرپرستی ایک کتاب جاری ہوئی ہے جس میں اردو ادب کے ساٹھ سالہ افسانوں میں سے چنے گئے افسانوں کی کتاب مرتب کی گئی ہے۔ ہر دہائی کے اچھے افسانے چن کر اس کتاب کی زینت بنائے گئے ہیں ۔فخر زمان کی پانچ پنجابی کتابوں پر مارشل لاء دور میں پابندی لگائی گئی ۔ اس پابندی کو لاہور ہائیکورٹ نے اٹھارہ سال بعد ختم کیا۔ ادب کی تاریخ میں کسی بھی مصنف کی پانچ کتابوں پر پابندی لگنا گنیز بکس آف ریکارڈ میں آنا چاہیئے۔ فخرزمان کی کتابیں پنجابی ادب کے ماسٹرز کے نصاب میں بھی شامل ہیں۔اس کے علاوہ ان کی ادبی خدمات پر کئی ایک لوگوں نے پی ایچ ڈی بھی کی ہے۔ فخر زمان کی زیرِ سرپرستی تین مجلے بھی نکلتے ہیں ’’وائس‘‘ انگریزی میں ماہوار، ’’بازگشت‘‘ اردو میں ماہوار اور ’’ونگار‘‘ پنجابی میں ہفتہ وار یہ تینوں ماشل لاء دور میں بند کردیئے گئے تھے۔ فخرزمان نہ صرف ادبی خدمات انجام دیتے رہے بلکہ وہ اہم سرکاری عہدوں پر میں کارہائے نمایا ں انجام دیتے رہے ہیں۔ جس میں آپ بیگم نصرت بھٹو کے سیاسی مشیر رہے۔ 1988میں آپ سینٹ کے ممبر رہے۔ پریذیڈنٹ پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب۔ دو دفعہ اکیڈمی ادبیات کے چیئرمین بنے جو کہ اب بھی ہیں۔ اس کے علاوہ یونیسکو کے ورلڈ کلچرل ڈیکیڈ کے بھی چیئرمین ہیں  .حکومت پاکستان نے فخرزمان کو آپ کی ادبی خدمات صلے میں کئی اعزازات سے نوازاجن میں حکومت پاکستان کا سب سے بڑا اعزاز ’’ستارہ ءِ امتیاز ‘‘ آپ کی ادبی خدمات کے سلسلے میں  آپ کو دیا گیا۔ اس کے علاوہ ملینیم ایوارڈ اور 2008میں آپ کو ہلالِ امتیاز سے نوازا گیا۔ فخر زمان واحد پاکستانی ادیب ہیں جنھیں ہندوستان کا مشہور اعزاز ملا ’’شرومانی ساہیتک‘‘۔  فخر زمان نے نہ صرف پاکستان میں ادب کی خدمت کی بلکہ انہوں نے غیر ممالک میں ادبی کانفرنسسز کا انعقاد کیا ہے جن میں امریکہ، فرانس، انگلستان، سویڈن، چیکریپبلک،چین،نورتھ کوریا، مصر،انڈیا، ازبکستان،روس، بنگلہ دیش، تھائی لینڈ، ڈنمارک، ناروے،ہنگری،اٹلی، آسٹریاء، ہالینڈ، بیلجیئم، فن لینڈ، ایستونیاء، جرمنی، یونان، کازکستان،ترکمانستان اور کرگستان شامل ہیں۔ 

alt
PAKISTAN ACEDEMY OF LETTERS
SECTOR H-8/1ISLAMABAD
PAKISTAN
سرفراز بیگ از اریزو
baigsarfrazhotmail.com

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com