Wednesday, Apr 24th

Last update12:39:09 AM GMT

شہنشاہ ِغزل مہدی حسن انتقال کر گئے

14 جون 2012 ۔۔۔ دنیائے غزل کےعظیم ترین گائیکوں میں سے ایک مہدی حسن طویل علالت کے بعد بدھ کو کراچی میں انتقال کر گئے، ان کی عمر 84سال تھی۔مہدی حسن کافی عرصے سے فالج کا شکار تھے اور آغا خان ہسپتال میں داخل تھے۔آغا خان ہسپتال کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بدھ کی صبح ساڑھے نو بجے کے قریب ان کی طبیعت اچانک بگڑنا شروع ہوگئی اور بارہ بج کر پندرہ منٹ پر ان کا انتقال ہوگیا۔چوراسی سالہ مہدی حسن جنھیں شہنشاہ غزل کا خطاب دیا گیا تھا، وہ بھارتی ریاست راجھستان کے ایک گاؤں لونا میں پیدا ہوئے تھے۔وہ پاکستان کے قیام کے بعد راجستھان سے کراچی منتقل ہوگئے تھے جہاں ابتدا میں انہوں نے زندگی کے دشوار ترین دن گزارے، انہوں نے سائیکل پنکچر لگانے کی دکان پر کام کیا جس کے بعد ایک موٹر میکنیک ورکشاپ سے منسلک ہوگئے۔وہ بچپن سے ہی گلوکاری سے آشنا تھے اور اس عرصے میں انہوں نے ریاضت کو جاری رکھا۔ موسیقی کی دنیا میں ان کے سفر کا باقاعدہ آغاز 1952میں ریڈیو پاکستان کے کراچی سٹوڈیو سے ہوا اور انہوں نے اپنے کیریئر میں پچیس ہزار سے زیادہ فلمی اور غیر فلمی گیت اور غزلیں گائیں۔1960 اور ستر کی دہائی میں ان کا شمار عوام کے پسندیدہ ترین فلمی گلوکاروں میں ہوتا تھا۔حکومت پاکستان ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں تمغۂ امتیازاور تمغۂ حسنِ کارکردگی سے بھی نواز چکی ہے۔مہدی حسن کی گائیگی بھارت اور پاکستان میں یکساں مقبول ہے اور بھارت کی ممتاز گلوکارہ لتا منگیشکر نے ایک بار مہدی حسن کی گائیگی کو ’بھگوان کی آواز‘ سے منسوب کیا تھا۔بھارتی ریاست راجستھان کی حکومت نے مہدی حسن کو بھارت میں علاج معالجے کی پیشکش بھی کی تھی ۔ مہدی حسن اور ملکہ نور جہاں پاکستان کے سب سے بڑے گلوکار شمار ہوتے ہیں ۔

alt

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com