Sunday, Aug 25th

Last update12:39:09 AM GMT

ہم جنس رشتہ دار کو کارتا دی سوجورنو دیا جائے ، عدالت

روم ۔ 17 اکتوبر 2012 ۔۔۔ ایدن کا تعلق اسرائیل سے ہے اور اس نے اپنے ایک ہم جنس دوست سے ڈینمارک کے شہر اوسلو مین شادی کی ہے ۔ ڈینمارک کے قانون کے مطابق دو ہم جنس آپس میں شادی کرسکتے ہیں ۔ یہ دونوں روم میں 10 سال سے آباد ہیں ۔ 2 دن قبل روم کے تھانے نے ایدن کو فیملی رشتہ قبول کرتے ہوئے کارتا دی سوجورنو جاری کیا ہے ۔ یورپین قانون decreto legislativo 30/2007کے مطابق یورپ کے شہری اپنے رشتہ داروں کے لیے جو کہ غیر یورپین ممالک سے تعلق رکھتے ہیں ، ان کے لیے کارتا دی سوجورنو حاصل کرسکتے ہیں ، چونکہ اٹلی نے یہ قانون قبول رکھا ہے ، اس لیے تھانے نے ایک ہم جنس کو سوجورنو جاری کردی ہے ۔ اٹلی میں یہ چھٹی مثال ہے ، اس سے پہلے میلانو، رمنی اور ریجو امیلیا میں بھی غیر یورپین ہم جنس کو کارتا دی سوجورنو جاری کیا جا چکا ہے ۔ اٹلی کی ہم جنسوں کی مدد کرنے والی ایسوسی ایش ’associazione radicale Certi Dirittifiنے روم میں بھی عدالت سے یہ کیس جیت لیا ہے ۔ یاد رہے کہ یہ ایسوسی ایشن اٹلی کے ہم جنسوں کی مدد کے لیے کافی کام کر رہی ہے ۔ گزشتہ سال ریجو امیلیا کی عدالت نے بھی یورپین قانون کے مطابق ایک غیر یورپی ہم جنس کو اس لیے کارتا دی سوجورنو جاری کیا تھا کیونکہ اس نے کسی دوسرے یورپین ملک میں یورپین شہری سے شادی کی تھی ۔ یاد رہے کہ اٹلی میں ہم جنسوں کوآپس میں شادی کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔ ہم جنسوں کی مدد کرنے والی ایسوسی ایشن نے کہا کہ اٹلی میں ایک قانون کے زریعے تمام کمونوں کو ایک سرکولر روانہ کیا گیا تھا ، جس کے مطابق وہ یورپین ہم جنس شہری جنہوں نے کسی دوسرے ملک میں کسی دوسرے ہم جنس سے شادی کر رکھی ہے ، ان کی اس شادی کو قبول نہ کیا جائے ۔ ایسوسی ایشن نے اٹلی کی وزیر داخلہ کنچیلیری سے اپیل کی ہے وہ اس قانون کو ختم کرتے ہوئے ہم جنسوں کی شادی کو قبول کرنے کی اجازت فراہم کرے کیونکہ یہ ان کہ یورپین حق ہے ۔

alt

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com