Monday, Aug 19th

Last update12:39:09 AM GMT

ایمبیسی میں کشمیر ڈے منایا گیا

روم۔ 7 فروری 2013 ۔۔۔۔ 5 فروری کے روز روم میں موجود پاکستان کی ایمبیسی میں کشمیر ڈے منایا گیا اور اس سلسلے میں مہمان خصوصی منسٹر آف اسٹیٹ فارن آفئیرز نوابزادہ ملک احمد خان تھے ۔ محفل کا آغاز ایک ڈاکومنٹری فلم کے زریعے کیا گیا ۔ اس فلم میں کشمیری بہن بھائی اور کمسن بچوں پر بھارتی فوج کے مظالم دکھائے گئے ۔ اسکے بعد شام 6 بجے کے قریب باقاعدہ کانفرنس کی صورت میں کشمیر ڈے پر بحث و مباحثہ ہوا ۔ کمرشل اتاشی عامر سعید نے اسٹیج سیکرٹری کے فرائض انجام دیتے ہوئے کشمیر کی آزادی پر روشنی ڈالی اور اسکے بعد محفل کا آغاز کرنے کے لیے اشفاق احمد کو تلاوت کلام پاک کے لیے دعوت دی ۔ اسکے بعد سفارتکارہ تہمینہ جنجوعہ نے اپنی قلیل تقریر کے دوران کہا کہ ہم کشمیریوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہو کر ان کا ساتھ دیں گے ۔ آج ہم نے ایمبیسی میں کشمیر ڈے کے سلسلے میں منسٹر آف اسٹیٹ فارن آفئیرز نوابزادہ ملک احمد خان کو بھی دعوت دی ہے جو روم میں ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس میں حصہ لینے کے لیے تشریف لائے ہیں ۔ ایمبیسڈر تہمینہ جنجوعہ کی تقریر کے بعد کمرشل اتاشی عامر سعید نے صدر اور وزیر اعظم کا پیغام انگریزی میں پڑہ کر سنایا ۔ جس میں وزیر اعظم اور صدرنے زور دیا تھا کہ کشمیر میں ہزاروں کشمیری اپنی جانیں قربان کرچکے ہیں اور ان پر آج بھی ظلم ڈھائے جا رہے ہیں ۔ پاکستان کشمیر کی آزادی کے سلسلے میں پرامن حل چاہتا ہے ۔ اسکے بعد کمونٹی کی جانب سے ثقلین علی رضا نے کشمیر ڈے پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری گزشتہ 60 سالوں سے آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔ خواتین و حضرات آج ہم یہاں کشمیر کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں اور ہم پر فرض بنتا ہے کہ ہم یکجا ہو کر آزادی کشمیر کے لیے آواز بلند کریں ۔ اقوام متحدہ کے علاوہ دنیا کی دوسری بڑی تنظیموں نے بھی کشمیر کی حق خودارادیت کو تسلیم کرلیا ہے لیکن بھارتی فوجیں اب بھی ہمارے بھائیوں کا قتل عام کررہی ہیں ۔ اس لیے ہم عہد کرتے ہیں کہ ہم کشمیر کو آزاد کروا کر ہی دم لیں گے ۔ منسٹر آف اسٹیٹ فارن آفئیرز نوابزادہ ملک احمد خان نے اپنی تقریر میں کہا کہ میں پہلے تو لکھی ہوئی تقریر کرنا چاہتا تھا لیکن میں نے کمونٹی کو دیکھ کر یہی سوچا ہے کہ میں اپنے دلی خیالات کا اظہار کروں ۔ انہوں نے کہا کہ میں جب بھی دنیا کے ممالک میں پاکستانی کمونٹی سے ملاقات کرتا ہوں تومیں یہی پیغام دیتا ہوں کہ تارکین وطن ملک کے اصل سفیر ہیں ، آپ کا کردار پاکستان کی عکاسی ہے ۔ میں اٹلی کی کمونٹی کے بارے میں اکثر روم ایمبیسی کے افسران سے پوچھتا رہتا ہوں اور ہیڈ آف چانسلری شہباز کھوکھر نے مجھے بتایا ہے کہ اٹلی میں موجود پاکستانی کمونٹی کافی بڑی اور پرامن ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آپ اس ملک میں اچھے شہری بن کردکھائیں اور انکے قوانین کا احترام کریں ۔ ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے زاتی اختلافات کو ملک میں ہی چھوڑ دیں اور یہاں آکر صرف اچھے پاکستانی ہونے کا ثبوت دیں ۔ آپ کو چاہئے کہ آپ اپنے بچوں کو اعلی تعلیم دینے کی کوشش کریں اور انکی اچھی تربیت کریں ۔ اسی سلسلے میں ایمبیسی آف روم نے ایک ہونہار طالب علم اور طالبہ کے لیے ایک ایوارڈ کا اہتمام کیا ہے ۔ اس ایوارڈ کا نام جمشید احمد فراس رکھا گیا ہے جو ہر سال تقسیم کیا جائے گا ۔ جمشید احمد فراس روم کی پاکستانی ایمبیسی میں سابقہ ایمبیسڈر رہ چکے ہیں اور روم میں ہی آباد ہیں ۔ منسٹر آف اسٹیٹ فارن آفئیرز نوابزادہ ملک احمد خان نے کہا کہ کشمیر صرف 60 سالوں سے نہیں بلکہ اس دن سے مظالم برداشت کررہا ہے ، جب اسے انگریزوں نے ایک ہندو راجہ کے ہاتھوں فروخت کردیا تھا ۔ اب وقت آگیا ہے کہ کشمیر کے لیے یکجا ہو کر کوشش کی جائے ۔ 2010 میں جب کشمیری عورتیں بھی جلسے اور جلوسوں میں شمولیت کے لیے باہر نکل آئیں تو دنیا کی ان تنظیموں کو بھی یقین ہو گیا جو کہ کل تک کشمیر کے مسئلے کو اہمیت نہیں دیتی تھیں ۔ تقاریر کے بعد منسٹر نوابزادہ ملک احمد خان نے کمونٹی کے تمام افراد سے ملاقات کی اور ہاتھ ملایا ۔ اسکے بعد ایمبیسی کی جانب سے شام کا کھانا پیش کیا گیا ۔

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com