Monday, Aug 19th

Last update12:39:09 AM GMT

مہاجرین یا غلام


ہجرت اپنے مسائل سے اور غلامی اپنی خواہشات کی ۔ہجرت اپنی مرضی سے یا زبردستی؟ یہ ایک پرانی کہانی ہے۔ جب دنیا میں غلام ،تاجر،خانہ بدوش، پیغمبر، جنگیں کرنے والے اور عام انسان، بہتر مستقبل ، کاروبار، اشیاء خورد و نوش ، مذھب کے پھیلاؤ اور اپنے ملک کی سرحدوں کے پھیلاؤ کے لیئے ایک جگہ سے دوسری جگہ کسی نہ کسی حیلے بہانے سے ہجرت یا حملہ، تبلیغ یا تجارت جو بھی کہہ لیجئے،کے لیئے نئی راہیں، ممالک تلاش کرتے تھے۔ اس کا آغاز انسانی تہذیب کے ارتقاء سے ہوا اور انیسویں صدی کے آواخر تک ہوتا رہا۔ اس بات کا اندازہ آپ اس بات سے لگا لیجئے کہ انیسویں صدی کے آواخر میں ہجرت اتنے زوروں پر تھی کہ ہر دسواں آدمی مہاجر ہوا کرتا تھا یا غلام کہہ لیجئے۔ کہنے کا مطلب یہ ہوا کہ جہاں کا، یا جس ملک کا وہ رہنے والا تھا وہاں وہ نہیں رہ رہا تھا۔ ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں لوگ ہجرت کیا کرتے تھے۔ انیسویں صدی کے آواخر میں ،امریکہ کی ایک ریاست نیویارک کے پاس ایک جزیرہ ہے
ELLIS ISLAND(ایلس آئیلینڈ) ۔ پوری دنیا کے مہاجرین یا غلاموں کی آماجگاہ ہوا کرتا تھا۔یہاں سے لوگ امریکہ میں داخل ہوتے تھے لیکن آج مہاجرین کے لیئے کئی طرح کے راستے ہیں۔ ماضی کی طرح نہیں۔ ایک سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ۲۰۰۲میں سترہ کروڑ پچاس لاکھ (۵۰۰۰۰۰۰،۱۷) یعنی ۱۷۵ملین لوگوں نے بہتر مستقبل یا روزگار کی خاطر اپنا ملک چھوڑا۔ آج لوگ
ELLIS ISLAND
(ایلس آئیلیڈ) پے اکھٹے ہوکر امریکہ یا کینیڈا کے لیئے نہیں نکلتے بلکہ امریکہ کے علاوہ یورپ ، جاپان ، (سکینڈینیوین) ممالک اور جہاں بہتر روزگار کے مواقع ہوں، کے لیئے نکلتے ہیں۔
دنیا کی کل آبادی سے سترہ کروڑ پچاس لاکھ (۱۷۵۰۰۰۰۰۰) یعنی ۱۷۵ملین ،مہاجرین یا غلاموں کا مقابلہ کیجئے، جو بہتر مستقبل کے لیئے (۲۰۰۲کے اعداد شمار کے مطابق) اپنا ملک چھوڑ چکے ہیں، تو یہ تقریبا کل آبادی کا تین فیصد حصہ بنتا ہے۔ یعنی ہر سو(۱۰۰) میں سے تین (۳) بندے مہاجر یا غلام ہیں۔ یعنی ۹۸،۹۹، ۱۰۰بندہ مہاجر ہے۔ اس اعداد و شمار میں آپ ان لوگوں کو مت شامل کیجئے جن کی لکھت پڑھت نہیں ہوئی۔ یعنی کسی بھی ملک کے سرکاری اعداد و شمار مین ان کا ندراج نہیں۔ مہاجرین یا غلاموں کاموضوع جہاں متجسس اور متحیرکن ہے وہاں دکھ درد،رنج و الم، غم و اندوہ سے بھی بھرا پڑا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یورپ ایک خواب ہے ۔ جنت ہے۔ لوگ لاکھوں روپیہ برباد کرکے ،پرسکون زندگی کی تلاش میں یہاں آتے ہیں اور اپنی پرسکون زندگی (جو یہاں آنے سے پہلے ان کے نصیب میں تھی) برباد کرلیتے ہیں۔ پچھلے دنوں ایک پاکستانی جوان نے امریکہ جانے کے لیئے ایجنٹ کو ۲۰لاکھ روپے دیئے۔ جبکہ یورپ کا ریٹ ۵لاکھ سے لیکر ۱۰لاکھ تک پہنچ چکا ہے۔ آج اگر آپ  ایک نقشہ بنانے چلیں کہ مہاجرین یا غلام کہاں کہاں بستے ہیں۔ کن کن ممالک میں پائے جاتے ہیں تو یہ ایک مشکل مرحلہ ہوگا۔ اب یہ مکڑی کے جالے کی طرح پوری دنیا میں پھیل چکے ہیں۔ اس لیئے آپ ایک پاکستانی فی جی جزیرے اور افغانی  سوٹزرلینڈ میں باآسانی ڈھونڈ سکتے ہیں۔  مہاجرین کسی بھی ملک سے ، یعنی افریقہ سے یا پاکستان سے، انڈیا سے یا چین سے، سری لنکا سے بنگلہ دیش سے یا کسی بھی ملک سے اپنے پسندیدہ ملکوں میں کیسے آتے ہیں۔ میں ان لوگوں کی بات کررہا ہوں جو غیرقانونی طور پے داخل ہوتے ہیں۔ لانے اور لے جانے والے ایجنٹ کہلاتے ہیں۔  اردو میں دلال کہہ لیجئے اور جن ممالک سے غیرقانونی طور پے داخل کیا جاتا ہے ۔ اس غیرقانونی طور پے سرحد پارکرنے کا نام ڈنکی ہے۔ یہ کس زبان کا لفظ ہے یا کس لفظ سے مماثلت رکھتا ہے یہ بعد کی بحث ہے۔
پوری دنیا میں انتہائی مربوط گروہ ہوتے ہیں جو بڑے منظم اورمضبوط ہوتے ہیں۔ اب انسان کی عقلِ سلیم سوچتی ہے کہ کوئی یورپ یا امریکہ میں غیرقانونی طور پے کیسے داخل ہوسکتا ہے۔ عام تاثر یہ ہے کہ سفید چمڑی والے بڑے ایماندار اور محبِ وطن ہوتے ہیں لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ کسی بھی ملک میں غیرقانونی طور پے داخل ہونے کے لیئے اس ملک کے لوگوں کی مدد کے بغیر (جہاں آپ جانا چاہتے ہیں)داخل ہونا ناممکن ہے۔ یعنی جہاں چینی ،پاکستانی، ہندوستانی ایجنٹ یا دلال ہوتے ہیں، بالکل اسی طرح یورپیئن ممالک میں یا امریکہ میں وہاں کے مقامی ایجنٹ  ہوتے ہیں یعنی  پاکستان، ایران، ترکی، یونان ،جہاں جہاں آپ کا پڑاؤ ہوگا، وہاں وہاں قیمت چکانی ہوگی۔  آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ جیسے جیسے امیگریشن کے قوانین میں پیچیدگیاں پیدا ہورہی ہیں، ویسے ویسے مہاجرین کی تعداد میں بجائے کمی ہونے کے اضافہ ہورہا ہے۔ ہر سال مہاجرین یا غلاموں کی تعداد میں تقریباً ۴۰لاکھ تک کا اضافہ ہورہا ہے۔ جو غیرقانونی طور پے منتقل کیئے جاتے ہیں۔ خریدے یا بیچے جاتے ہیں۔ اربوں روپے کا کاروبار کیا جاتا ہے۔ آپ مہاجرین یا غلاموں کو معمولی لوگ مت جانیئے۔ ہر مہاجر یا غلام پانچ یا چھ لاکھ تک کے اخراجات اٹھاتا ہے، بلکہ کبھی کبھی اس سے بھی زیادہ۔
اقوامِ متحدہ میں کام کرنے والے ایک اطالوی نژاد سوشیالوجسٹ، جن کا تعلق مہاجرین کی نقل و حمل کے اعداد و شمار پے تحقیق کرنا ہے۔ ان کا اندازہ ہے کہ اس وقت تک بیس کروڑ انسان دورانِ ہجرت ایجنٹ یا دلالوں کے زیرِ عتاب رہے ہیں۔ مثال کے طور پے سن دو ہزار، جون کے مہینے میں ٹماٹروں کا ایک ٹرک براستہ ڈوور انگلستان کی سرحد جو انگلش چینل کے پاس ہے، انگلینڈ جارہا تھا۔ تقریباً پچاس چینی مہاجرین اس ٹرک میں دم گھٹنے کی وجہ سے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔اس کے چند ہفتوں بعد براستہ ہنگری آنے والے چھیالیس  سومالین دارِ فانی سے کوچ کرگئے۔ آج سے چند سال پہلے دو ہندوستانی جہاز کے پہیوں میں بند ہوکر آئے۔ انسانی عقل حیران وہ جاتی ہے کہ یورپ ہجرت کرنے کے لیئے مہاجرین  نے یہ انوکھا راستہ اپنایا۔ آپ کو جان کر حیرت ہوگی دونوں انگلستان پہنچ گئے۔ ایک نے جلدی ہی دم توڑ دیااور دوسرا شاید اب بھی ہسپتال میں زندگی اور موت کی کشمکش میں ہے۔ اس طرح کی بیشمار مثالیں ہیں۔ یہ وہ مثالیں ہیں جو  (آن دی ریکارڈ)ہیں۔ جن کے گوشوارے یا لکھت پڑھت ہے یا جن کی پہنچ اخبار تک ہوتی ہے۔ لیکن اس سفر یا  ہجرت کے دوران کتنے لوگ گمنام اور تاریک راہوں میں مارے جاتے ہیں، اس کا کوئی (ریکارڈ) یا لکھت پڑھت نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انسان (تقریباً ) دنیا کے مختلف حصوں میں غیرقانونی طور پے لائے اور لے جائے جاتے ہیں۔ جن سے یا تو غیرقانونی طور پے کام لیا جاتا ہے یا اگر مہاجرین مونث ہیں تو ان سے جسم فروشی کا کام لیا جاتا ہے۔ بارہ کروڑ بچے (تقریباً) جن کی عمر ۱۴سے ۱۵سال کے درمیان ہوتی ہے ، غیرقانونی طور پے لائے اور لے جائے جاتے ہیں۔ جن سے غیرقانونی طور پے کام لیا جاتا ہے یا جسم فروشی یعنی اغلام بازی (لواطیت) کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ بیس لاکھ عورتیں انسانوں کی اس تجارت کا شکار ہوتی ہیں۔ جن کی عزت لوٹنے کے علاوہ ان سے جسم فروشی کروائی جاتی ہے۔ ان ۲۰لاکھ عورتوں میں ۵لاکھ (تقریباً) عورتوں کی منزل یورپ ہوتی ہے اور ان ۵لاکھ عورتوں میں سے ۵۰ہزار اٹلی وارد ہوتی ہیں یا لائی جاتی ہیں۔’یعنی آم کے آم اور گٹلیوں کے دام ‘ کا سا مصداق ہے۔  ان ساری باتوں کے پیچھے پیسہ گردش کرتا ہے۔ ہر شخص کو پیسے کا لالچ ہے اور یہ غم کھائے جارہا ہے کہ دوسروں کا پیسہ میرے پاس آجائے اور میں راتو رات امیر ہوجاؤں۔اس کے لیئے خواہ مجھے کچھ بھی کیوں نہ کرنا پڑے۔بڑے کم لوگ مجبوری کی حالت میں ایسا قدم اٹھاتے ہیں۔ آپ خود سوچیئے،ایجنٹ یا دلال کو پانچ لاکھ روپے دیکر آنے والا شخص غریب تو نہیں ہوسکتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اٹلی کوآپ  (کلندستینی) یعنی چھپ کر رہنے والوں کی جنت سمجھ لیجئے یا دوزخ۔ جس طرح پریڈیٹرچھپ کر حملہ کرنے والے ہوتے ہیں۔ اسی طرح چھپ
کر رہنے والے  (کلندستینی) ہوتی ہیں جنھیں اطالوی زبان میں
clandestini
(کلندستینی)کہا جاتا ہے اور یہ لفظ سنتے ہی ایسا لگتا ہے جیسے کسی نے گالی دے دی ہو۔
یورپ میں داخل ہونے والے چھ بڑے راستوں میں سے چار کا تعلق اٹلی سے ہے۔ اٹلی اس وقت یورپ میں وہی حیثیترکھتا ہے جو انیسویں صدی کے آواخر میں ایلس آئی لینڈ حاصل تھی۔ سارے
(کلندستینی)اٹلی کے آس پاس کے جزیروں پے اکھٹے ہوتے ہین اور موقع پاتے ہی راہِ فرار اختیار کرتے ہیں۔ نوے فیصد لوگ یورپ کے مختلف ملکوں میں چلے جاتے ہیں لیکن پچھلے دس سالوں میں اٹلی میں اوپر تلے امیگریشن کھلنے کی وجہ سے(جسے اطالوی زبان میں sanatoria
ساناتوریہ کہتے ہیں) لوگوں نے یہاں ٹکنا شروع کر دیا ہے۔ نہ صرف ٹکنا شروع کردیا ہے بلکہ نئے آنے والوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ لیبیاء اور سسلی کے درمیان دو اطالوی جزیرے ہیں ، لامپے دوزا اور پانتیلریا زیادہ بوجھ ان جزیروں پر پڑتا ہے۔ مہاجرین اپنا پہلا پڑاؤ یہاں کرتے ہیں پھر سسلی کے لیئے نکلتے ہیں۔ اور اس طرح  (کلابریہ)میں داخل ہوجاتے ہیں۔ ایجنٹ یا دلال اس کاروبار میں ہر ماہ لاکھوں یوروں  کا فائدہ اٹھاتے ہیںیعنہ اگر آپ غیرقانونی اسلحہ یا منشیات کا کروبار کریں تو بھی آپ اتنا منافع نہیں کماسکتے،جتنا آپ انسانوں کی سمگلنگ میں ایک ماہ میں کماتے ہیں۔  صرف اتنا سوچیئے کہ سری لنکا یا انڈیا،پاکستان یا بنگلہ دیش سے اٹلی آنے کے لیئے ایک مہاجر ۵ہزار یورو ادا کرتا ہے اور چینی مہاجر اس سے دوگنا۔ یہ ایک ایسا سفر ہے جس میں واپسی کا ٹکٹ نہیں ہوتا اور مزے کی بات یہ ہے کہ اس سنگل ٹکٹ میں ڈسکاؤنٹ (رعایت) نہیں دیا جاتا بلکہ زیادہ ہی وصول کیئے جاتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم لوگ یورپ کی خاطر اپنی ہر چیز کا سودا کردیتے ہیں۔ تہذیب،زبان،مذھب،عزتِ نفس۔ اگر معاشی مسائل پے قابو پا لیتے ہیں تو معاشرتی مسائل کا شکار ہوجاتے ہیں۔ یورپ میں جب تارکین
کے ہاں بچیاں(بیٹیاں) پیدا ہوتی ہیں، خاص کر (ایشیائی)کے ہاں تب انھیں(یورپیئن) تہذیب بری لگنی شروع ہوجاتی ہے۔ اس میں ان بچیوں کا کوئی قصور نہیں ہوتا کیونکہ ان کے والدین دولت کمانے کے چکر میں تربیت پے توجہ دینا بھول جاتے ہیں۔خاص کر مسلمانوں کو یورپ میں بیشمار خامیاں نظر آنی شروع ہوجاتی ہیں لیکن اس کے باوجود یہاں آنا پسند کرتے ہیں۔


SARFRAZ BAIG 05/10/2004 AREZZOMOBILE: 3200127522E,MAIL: یہ ای میل پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com