Thursday, May 23rd

Last update12:39:09 AM GMT

پنجرے میں بند چڑیا

کبھی کبھی میرے دل میں کچھ سوال اٹھتے ہیں جن کا جواب شاید کوئی نہیں دے سکتا کیوںکہ ہر ایک کے پاس جواب ہے لیکن کوئی اپنی زبان پہ نہیں لانا چاہتا۔ ہزاروں سال گزر جانے کے بعد بھی ہمارے معاشرے میں زیادہ فرق نہیں آیا , آج بھی جب کسی کے گھر بیٹا پیدا ہوتا ہے تو سب کو خوش ہو کے بتایا جاتا ہے "ہمارے گھر بیٹا پیدا ہوا ہے ہم نے اس کا یہ نام رکھنا ہے , یہ بڑا ہو کر یہ بنے گا ہم ایسا کریں گے ہم ویسا کریں گے وغیرہ وغیرہ " لڑکے کے پیدا ہوتے ہی سب اپنے مطابق خواب سجانے لگ جاتے ہیں خوشی کی وجہ سے سب کے رخسار گلابی رہتے ہیں لیکن جب بیٹی پیدا ہوتی ہے تو کہتے ہیں " جی بس جیسی خدا کی مرضی".جب اس کی عمر سکول جانے کے قابل ہوتی ہے تو کچھ لوگ تو اپنے رسم و رواج کی وجہ سے تعلیم پےپابندی لگا دیتے ہیں اور کچھ لوگوں کو تعلیم ناکارہ چیز لگتی ہے ، ان کی نظر میں عورت کا کام ہے گھر سنبھالنا تو وہ کتابیں پڑھ کر کیا کریں گی لیکن کچھ لوگ جن کو بیٹیوں کی ابتدائی تعلیم پر اعتراض نہیں ہوتا وہ انہیں تعلیم حاصل کرنے دیتے ہیں لیکن جب ابتدائی تعلیم کے بعد اعلٰی تعلیم حاصل کرنے کا وقت آتا ہے تو کہا جاتا ہے نہیں بیٹی ہم جتنا کر سکتے تھے اور جتنا تمہارے لیے ضروری تھا ہم نے کیا باقی شوق تم اپنے شوہر کے گھر جا کر پورے کرنا پھر اس کی ہر خواہش پہ یہی جواب ملتا ہے کے شوہر کے گھر جا کر کرنا۔ کچھ عرصے میں اس کا رشتہ تہہ کر دیا جاتا ہے اور لڑکی یہ سوچ کر خوش ہوتی ہے کے میں اپنی نئی ذندگی شروع کرنے جا رہی ہوں جس میں میرا ہمسفر میرا شوہر ہو گا جس کے ساتھ میں اپنے تمام خواب پورے کروں گی لیکن خوابوں کی حسین دنیا سے وہ حقیقت میں قدم تب رکھتی ہے جب ایک زور دار آواز اس کے کانوں میں گھونجتی ہے "تم اس گھر کی بہو ہو تمہارا کام گھر سنبھالنا ہے ، میرے والدین کی خدمت کرنا بچوں کو سنبھالنا اور سوال نہ کرنا ہے اب تم اپنے مائیکے میں نہیں جو اپنی من مرضی کر سکو"پھر اس کے کانوں میں ماں کی کہی آواز سنائی دیتی ہے کہ "اپنے شوہر کے گھر جا کے سب خواب پورے کرنا"
ایک عورت نہ مائیکے میں اپنے خواب پورے کر سکتی ہے اور نہ ہی سسرال میں کیوںکہ مائیکے میں وہ اپنے بھائیوں اور باپ کی عزت ہوتی ہے اور سسرال میں اپنے خاندان اور شوہر کی ان ناموں کی عزتوں میں جلتے ہیں تو صرف ایک عورت کے خواب۔  ایسی بھی عورتیں ہیں جو کے اعلٰی تعلیم حاصل کرتی ہیں, علم کی روشنی سے انہیں غلط سہی کا فرق پتہ چلتا ہے پھر وہ اپنے علم کو کام میں لانے کی خواہش کرتی ہیں "اماں ابا  میں کام کرنا چاہتی ہوں" اسی وقت باپ کی آواز آتی ہے ہمارے معاشرے میں لڑکیاں کام نہیں کرتیں اس لیے تمہیں پڑھایا تھا کہ آج تم ہمارے سامنے کھڑی ہو کر ایسا بول سکو ایک بات تم سمجھ جاوْ اب تمہاری عمر شادی کی ہو چکی ہے ہم تمہیں جلد رخصت کر دیں گے اپنے شوق اپنے شوہر کے گھر جا کے پورے کرنا روتے روتے وہ سو جاتی ہے ہر دن ایک نیا سمجھوتا کرتی ہے جب بھی آسمان پہ اڑتی ہوئی چڑیا کو دیکھتی ہے تو سوچتی ہے اے چڑیا میں بھی تمہاری طرح ہوں لیکن بس اتنا فرق ہے "میرے پاس پر تو ہیں لیکن میں اڑ نہیں سکتی میرے پاس علم تو ہے لیکن میں فیصلہ نہیں کر سکتی"ایک دن وہ اپنے مائیکے سے اپنے ارمانوں کے ساتھ رخصت ہوتی ہے ایک مضبوط ارادے کے ساتھ مسکراتے ہوئے چہرے کے ساتھ سوچتی ہے "اب میری زندگی کو نیا موڑ ملنے والا ہے میرے خواب پورے کرنے والا آ رہا ہے"پھر جب وہ اپنے ہمسفر سے اپنی کام کرنے کی خواہش کا ذکر کرتی ہے تو جواب ملتا ہے کے ہمارے معاشرے میں باہر نکل کر کام کرنے والی عورتوں کو پسند نہیں کیا جاتا میں کما رہا ہوں کیا اتنا کافی نہیں ہمارے لیے تم بس اپنے کام سے کام رکھو.ایک لڑکی جو مرد کی ہی طرح سانس لیتی ہے ہنستی ہے بولتی ہے, اس کے پاس بھی ایک دل ہے جو دھڑکتا جو خواب دیکھتا ہے تو پھر آخر کیوں ایک عورت کو اس کی جائز خواہشات کو پورا کرنے کا حق نہیں ہے آخر کیوں ہر بار ایک عورت کو ہی سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے اپنے خوابوں کا گلا گھونٹنا پڑتا ہے.آخر ہمارے معاشرے میں ایک تعلیم یافتہ عورت کو کام کیوں نہیں کرنے دیا جاتا؟
اس کی ایک بڑی وجہ ہمارا ماحول بھی ہے جب بھی ایک عورت گھر سے نکلتی ہے اسے عجیب نظروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ایسے مرد جو اسے مسلسل گھورتے ہیں (بغیر کسی وجہ کے) کوئی اس کے اکیلے ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے تنگ کرتے ہیں تو کوئی بیہودہ آوازیں کستا ہے کوئی کہتا ہے ہائے کس بے شرم خاندان کی لڑکی ہے جو ایسے باہر گھوم رہی ہے.ان تمام وجوہات کی بنا پر مرد عورت کو کام نہیں کرنے دیتے.لیکن کیا کبھی کسی نے سوچا ہے؟ ایک عورت کو رسوا کرنے والابھی تو ایک مرد ہے ، اگر مرد ہی ٹھیک ہو جائیں تو ہمارے معاشرے کے بہت سے کام سنبھل جائیں ہر عورت اپنی خواہشات کو تکمیل دے سکے ، بہت سے گھر ایسے ہیں جن کے بیٹے نہیں تو ان کی بیٹیاں ہی کام کر کے گھر کا بھوج اٹھا لیں ۔ بہت سے لوگ ہاتھ پھیلانے سے بچ سکتے ہیں بہت سے لوگ بیٹی کی رسوائی کے غم میں مرنے سے بچ سکتے ہیں ۔ اگر مرد چاہیں تو وہ ہمارے معاشرے کی جاہلیت کو ختم کر سکتے ہیں عورت کو اس کے حقوق مل سکتے ہیں یہ معاشرہ بہت سی برائیوں سے بچ سکتا ہے

حنا سید
http://www.facebook.com/mahi.ali28jan1997

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com