Wednesday, Apr 24th

Last update12:39:09 AM GMT

RSS

قومی خبریں

مشرف کی واپسی

روم۔ 27 مارچ 2013 ۔۔۔ امریکہ میں نائن الیون کے بعد وہ لوگ تھے جنہیں اس واقع کی سخت سزا ملی اور اسکے بعد وہ لوگ یا مسلمان بھی تھے ، جنہیں اس واقع سے فائدہ ہوا ۔ نقصان والے لوگوں میں امریکہ میں موجود پاکستانی تارکین وطن تھے اور اسکے بعد فائدے والے لوگوں میں پرویز مشرف جیسے حکمران شامل تھے ۔ اس واقع کی وجہ سے اسامہ بن لادن، الجزیرہ ٹیوی اور دوسری کئی ایسی ہستیاں پیدا ہوئیں جو کہ اس حادثے کی پیداوار تھیں ۔ طالبان اور صدام حسین جیسے لیڈران کو جان دینی پڑی اور دنیا کا نقشہ بدل کر رہ گیا ۔ پرویز مشرف اسی دور میں عربوں ڈالر حاصل کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑتے رہے اور ساتھ ہی گوری دنیا نے ان پر ڈبل گیم کا الزام عائد کردیا ۔ خیر اب ہمارے پیارے قائد پرویز مشرف وطن واپس پہنچ گئے ہیں اور موجودہ الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں ۔ ملک کے حالات انتہائی خطرناک ہیں اور اب 11 ستمبر جیسے بہانے بھی موجود نہیں ہیں ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کون جیتتا ہے ۔ بھٹو خاندان شہید ہو چکا ہے ، نواز شریف خاندان میں جوانی کی چمک نہیں رہی ، عمران خان پر الزام ہے کہ اسکے ساتھ زات برادری نہیں ، مولویوں کے پیٹ بھی بڑے ہو چکے ہیں اور محاجر قومی موومنٹ بھی 65 سال گزر جانے کے بعد اب کم محاجر نظر آرہی ہے ۔

 پرویز مشرف کا اٹلی کے ساتھ گہرا رشتہ تھا ، وہ اٹلی کے دورے پر اکثر آیا کرتے تھے اور اپنے وزرا کے وفد بھی اکثر روانہ کیا کرتے تھے ۔ انہوں نے اپنے دورے کے دوران کمونٹی سے بھی روم میں ملاقات کی تھی اور اٹلی سے کئی معاہدے کرنے میں کامیاب ہوئے تھے، تصویر میں پرویز مشرف اٹلی کے سابقہ اسپیکر پیرا کے ہمراہ

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

غیر ملکیوں سے امتیازی سلوک ختم کیا جائے ، مزدور یونین

روم۔ 25 مارچ 2013۔۔۔ اٹلی کی مزدور یونین چزل کے حکام نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ غیر ملکیوں سے امتیازی سلوک ختم کیا جائے۔ اٹلی کی مختلف نوکریوں میں غیر ملکیوں سے بے انصافی کی جاتی ہے اور انکے حقوق پامال کیے جاتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر کنسٹرکشن، زراعت اور کمرشل کاموں میں غیر ملکیوں کے ساتھ برا سلوک کیا جاتا ہے ، یعنی ان سے کنٹریکٹ نہیں کیا جاتا اور ان سے غیر قانونی طور پر کام لیا جاتا ہے ۔ یہ غیر ملکی اٹالین قوانین سے واقفیت نہ رکھتے ہوئے اور غیر ملکی ہونے کی صورت میں اپنی آواز نہیں اٹھاتے اور اس امتیازی سلوک کو برداشت کرتے ہیں ۔ دوسرا حلقہ جس میں غیر ملکی اکثریت میں کام کرتے ہیں وہ ڈومیسٹک کام ہے اور اس کام میں بھی ان سے عام طور پر کنٹریکٹ نہیں کیا جاتا اور قومی کنٹریکٹ سے کم تنخواہ دیتے ہوئے ان سے دن رات کام لیا جاتا ہے ۔ غیر قانونی کام اٹلی کی سب سے بڑی بیماری بن چکا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اٹلی کی تمام بڑی مزدور یونینوں کے ساتھ ملکر امتیازی سلوک کو ختم کرنے کی مہم چلا رہے ہیں ۔ اگر غیر ملکی خوشی سے کام نہیں کرے گا تو وہ خوش نہیں ہو گا اور اگر خوش نہیں ہو گا تو وہ انٹیگریٹ بھی نہیں ہو سکے گا ۔ اٹلی میں امتیازی سلوک کے خلاف سخت قوانین بنانے کی ضرورت ہے ۔

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

فیس بْک

یہ میری پہلی تحریر ہے۔ میں نے آج سے پہلے کوئی افسانہ ، مضمون یا کہانی کچھ نہیں لکھا۔ بس ایک عجیب و غریب واقعے نے مجھے قلم اٹھانے پر مجبور کردیا۔ یہ کہانی فیس بْک سے جڑی ہوئی ہے(فیس بْک آج کے دور کا سب سے بڑا مشغلہ ہے۔ ضرورت، مجبوری، یا اپنوں سے قربت یا کچھ اور پتا نہیں کیا۔ اس بات کا فیصلہ ہر پڑھنے والا اپنے حساب سے کرے گا)۔یہ کہانی میری سہیلی کی بہن کی ہے جس کی شادی کو پانچ ماہ ہوئے تھے۔ گھر میں نندیں، دیور، ساس، سْسر تقریباً سب ہی رشتے موجود تھے۔ ایک چھوٹی سی جنت جہاں سب ایک دوسرے کا بہت خیال رکھتے تھے اور بہت پیار سے رہتے تھے۔ندیم کی شادی سے سب ہی بہت خوش تھے کیونکہ اس نے شادی بہت دیر سے کی تھی (پروفیسر بننے کے بعد شاید اْسے اپنے لیئے وقت ہی نہ ملا تھا)۔ ندیم اور اریبہ کی عمر میں تقریباً ۱۲ (بارہ ) سال کا فرق تھا لیکن ان کی باتوں،مشغلوں اور پیار سے لگتا تھا کہ وہ دونوں ہم عمر ہیں۔ ندیم میں بس ایک ہی برائی تھی کہ بیوی سے زیادہ فیس بْک کو وقت دیا کرتا۔ رات گئے فیس بْک پے اپنے دوستوں سے چَیٹ کرتا رہتا۔ ایک دن کسی خوبصورت لڑکی نے اْسے فرینڈ ریکویسٹ بھیجی جو اس نے فوراً کنفرم کردی۔بس اب کیا تھا۔ اب تو ندیم کی آئی ڈی اور بھی کلر فل ہوگئی تھی۔ اب وہ رات تین چار بجے تک نازش (فیس بْک کی فرینڈ) سے باتیں کرتا رہتا ۔ اریبہ نے محسوس کرنا شروع کردیا کہ پچھلے تقریباً دو ہفتوں سے ندیم اسے اِگنور کررہا ہے۔ جب اریبہ کو یہ پتا چلا کہ ندیم اور نازش کی دوستی فیس بْک سے کچھ زیادہ ہی آگے نکل گئی ہے اور دوستی پیار کا رنگ اختیار کرتی جارہی ہے۔ اسے یہ جان کر بہت دْکھ ہوا۔ اس نے اپنے اس شک جسے وہ شک یا اپنی غلط فہمی سمجھتی تھی کا ذکر کیا تو ندیم کو بہت غصہ آیا۔ اس نے اریبہ کو جاہل ، بیوقوف، کم عقل اور کْند ذہن اور نہ جانے کون کون سے القابات سے نوازا۔ بات بڑھتے بڑھتے طلاق تک آپہنچی۔ ندیم کے پاس تو اولاد نہ ہوئے کا بہانہ بھی موجود تھا حالانکہ ان کی شادی کو ابھی پانچ ماہ ہی گزرے تھے۔ اس کے نزدیک اریبہ کا سب سے بڑا جرم یہی تھا۔ خیر دونوں طرف سے بزرگوں نے بڑی کوشش کی کہ ندیم اور اریبہ کی جوڑی بنی رہے لیکن شاید ندیم اب کچھ اور ہی سوچ رہا تھا (شاید نازش کے بارے میں)۔ اور بہت کوششوں کے باوجودندیم اور اریبہ میں طلاق ہوگئی۔ اس بات کو ابھی تین ہفتے ہی گزرے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اس دکھ کا مداوا بھی کردیا اور اریبہ کو ماں بننے کی خوشخبری بھی دے دی۔ دوسری طرف جب ندیم نے نازش سے شادی کی بات کی تو اس نے صاف انکار کردیاکہ اس سے شادی نہیں کرسکتی کیونکہ اس کی شادی اس سے ہو ہی نہیں سکتی تھی ۔اگر ان دونوں کی شادی ہوجاتی تو جس معاشرے میں وہ رہتے تھے اس معاشرے نے اس رشتے کو کبھی تسلیم ہی نہیں کرنا تھا۔ کیونکہ نازش اصل میں ایک لڑکا تھا جو محض تفریح کے لیئے فیک آئی ڈی سے لڑکی بنا ہوا تھا اور اس نے اپنی فوٹو کی جگہ کسی خوبصورت لڑکی کی تصویر لگائی ہوئی تھی۔ جب ندیم کو یہ پتا چلا کہ نازش ایک لڑکا ہے اور دوسری طرف اربیہ ماں بھی بننے والی ہے تو اسے اپنے کیئے پر بڑی شرمندگی ہوئی لیکن اب کچھ نہیں ہوسکتا تھا۔ ایک لڑکے کے چھوٹے سے مذاق سے ایک گھر تباہ ہوگیا ۔ایک فیک آئی ڈی نے دوانسانوں کی زندگی میں زہر گھول دیا۔

یہ کہانی لکھنے کا مقصد صرف یہی ہے کہ پلیز فیس بْک پے سوچ سمجھ کر دوستی کریں اور اس کی وجہ سے اپنے پیار کرنے والے رشتوں کو مت ٹھکرائیں۔ کہیں کسی اور کا بھی ندیم اور اریبہ جیسا حال نہ ہو۔

اللہ تعالی ہمیں سوچنے سمجھنے کی طاقت دے۔آمین

رْوما بیگ ، اریزو

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

کیا عمران خان اچھے کرکٹر ہونے کے بعد اچھے لیڈر بھی ہونگے ، ایڈووکیٹ محمد ندیم یوسف

 
 

میں ان لوگوں میں سے ہوں جنہوں نے ہمیشہ عمران کی عزت کی لیکن بطور سیاسی ورکر مجھے عمران کی سیاسی حکمت عملی پر شدید اعتراضات تھے۔ میں ہمیشہ کہتا تھا کہ عمران بہت دیانت دار اور قابل انسان ہے لیکن عمران کے پاس ٹیم نہیں، اس کے پاس پارٹی نہیں، اس کے پاس اچھی باتیں تو ہیں مربوط پالیسی نہیں، اس کا فین کلب بہت بڑا ہے لیکن سیاسی ورکرز نہیں، عمران پریشر گروپ بنا پایا ہے مظبوط سیاسی قوت نہیں بن پایا۔ عمران انتخابی سیاست کے ماڈل کو نہیں سمجھ پایا ہے وغیرہ وغیرہ۔ لیکن عمران نے اپنے اوپر ہونے والی ہر تنقید کو رسپانڈ کیا اور آج پاکستان کی سب سے قابل ٹیم اس کے پاس ہے ہر سکیٹر کے ہیروز اور پرفارمرز عمران کی ٹیم کھلاڑی ہیں، عدلیہ کے حقیقی ہیرو جسٹس وجیہ الدین، سیاسی کارکنان اور جدوجہد کے ہیروجاوید ہاشمی، بدترین حالات میں کامیاب سفارتکاری اور اصولی موقف پر سٹینڈ لے کر اقتدار کو ٹھکرانے والےشاہ محمود قریشی، پاکستان کے بزنس سیکٹر کے ہیرو اسد عمر، دنیا بھر کے ڈینٹل سیکٹر کے ہیرو عارف علوی،دنیا بھر میں کامیابوں کے جھنڈے گاڑنے والے سٹریٹیجک تھنکر عظیم ابراہیم، پاکستان میں کارپوریٹ ماکیٹنگ اور ایجوکیشن سیکٹر کی ہیروئن عندلیپ عباس، عدلیہ تحریک کے آغاز کار اور وکلاء کے ہیرو حامد خان ، ملک میں پہلی مرتبہ ایگری کلچرل ٹیکس کے نفاز کی حقیقی کوشش کرنے والے اور پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کروڑوں روپے کا زرعی ٹیکس جمع کروانے والے محب وطن جاگیر دار جہانگیر ترین ، پاکستان میں چیریٹی ہسپتال بنانے والے اور پوتھ پالیمنٹ جیسا ادارہ بنانے والے ابرار الحق، سیاسی قربانیوں کی تاریخ اسرار شاہ سمیت مرکز سے لے کر یونین کونسل تک پاکستان کا سب سے زیادہ پڑھا لکھا ، کامیاب اور پاکستان کو دینے والا طبقہ عمران خان کے ساتھ کھڑا ہے۔ آج پاکستان کی واحد جمہوری سیاسی پارٹی کا سربراہ عمران خان ہے، جس کے لیڈر مرکز سے لے کر یونین کونسلز تک منتخب شدہ ہیں، الیکشن میں جانے سے پہلے ہی وہ نئے بدلیاتی نظام، تعلیمی اصلاحت، توانائی کے بحران پر قابو پانے، معاشی ترقی، انڈسٹری اور ہنرمندی کے فروغ، صحت سے متعلق نئے نظام، ماحولیات اور نوجوانوں سے متعلق مربوط پالیسیاں پبلک ڈیبیٹ کے لیئے پیش کر چکا ہے۔ پاکستان کی ہر جماعت سے تعلق رکھنے والا نظریاتی سیاسی ورکر اب تحریک انصاف کو سپورٹ کر رہا ہے، لوگ عمران کی کرکٹ کو بھول چکے ہیں اور عمران کی سیاست کے مداح ہیں اور سٹیٹس کو پارٹیوں کے لیے عمران اس وقت سب سے بڑا چیلنج بن کر سامنے آیاہے۔ ایک کروڑ سے زیادہ لوگ اس وقت اس کے رجسٹرڈ پارٹی ورکر ہیں۔ عمران نے موجودہ گندے سیاسی کلچر کا حصہ بننے کے بجائے ایک نیا غیر متشدد اور محب وطن سیاسی کلچر ترتیب دے کر بہت حد تک ملک کے سیاسی کلچر کو تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی دھائیوں سے راج کرتی سٹیٹس کو پارٹیوں کو آج عوام کو قائل کرنے کے لیے وہ باتیں اور وعدے کرنے پڑ رہے ہیں جو باتیں عمران سترہ سال سے کرتا رہا ہے۔ پاکستان کی تعلیمی اداروں کو ایم ایس ایف کے زریعے کلاشنکوف کلچر دینے والے آج لیپ ٹاپ بانٹ رہے ہیں، تھانہ کو سیاستی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی روایت کے موجد آج پولیس اصلاحات کے وعدے کر رہے ہیں، کرپشن کی جدید ٹیکنالوجیز کے موجد شفافیت لانے کے وعدے کر رہے ہیں۔ یوتھ کو قبضوں کے لیے استعمال کرنے والے یوتھ بیس پالیسیز کا وعدہ کر رہے ہیں، پانچ سال سے مرکزی حکومت کی انشورنس پالیسی بننے والے اور آدھے سے زیادہ پاکستان کے مطلق العنان بادشاہ اپنے لیے اپوزیشن کا ٹائٹل پسند کر رہے ہیں۔ بلدیاتی نظام کے قاتل نئے بلدیاتی نظام کا وعدہ کر رہے ہیں۔ پولنگ بوتھوں پر ہتھیاروں کے زور پر قبضہ کرنے والے غیر متشدد سیاست کی بات کر رہے ہیں، دہشت گردوں سے اتحاد کرنے والے دہشت گردی کے خلاف بیان دے رہے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ عمران نے لیفٹ رائٹ برادری صوبائیت فرقہ واریت لسانیت کی تفریق سے نکال کر پورے ملک کو نظام کی تبدیلی کے ایک قومی ایجنڈے پر کھڑا کر دیا ہے۔ اس نے عوام کو یہ شعور دے دیا ہے کہ ملک ٹھیکے پر نہیں چل سکتا بلکہ ایک شفاف اور جدید نظام ہی ملک کو بچاسکتا ہے۔ سٹیٹس کو کی اننگ ختم، اب بلا عمران کے ہاتھ میں ہے۔ اب میچ کا فیصلہ اس بات پر ہوگا کہ کپتان اپنی ٹیم یعنی پاکستان کے کروڑوں نوجوانوں کو سٹیٹس کو کے خلاف کیسے کھلواتا ہے۔ ۲۳مارچ کو اوپنرز میدان میں اتریں گے، اگر اوپنرز نے اچھا سکور کیا تو آدھے سے زیادہ میچ ہاتھ میں آجائے گا۔

 

MUHAMMAD NADEEM YOUSUF.
ADVOCATE.
COORDINATOR, PTI ITALY.
0039 3336409233

http://www.insaf.pk/Chapters/International/Italy
www.insaf.pk

https://www.facebook.com/muhammadnadeem.yousuf

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت اتوار, 17 مارچ 2013 21:17

سینٹ اور قومی اسمبلی کے اسپیکر منتخب

روم۔ 16 مارچ 2013 ۔۔۔ اٹلی کے الیکشنوں کے بعد قومی اسمبلی اور سینٹ کے دو اجلاسوں میں اسپیکر منتخب کرلیے گئے ہیں ۔ قومی اسمبلی کی اسپیکر لاؤرا بولدرینی منتخب کی گئی ہیں ۔ ان کی عمر 51 سال ہے اور ان کا تعلق مارکے ریجن سے ہے ۔ لاؤرا اٹلی میں موجود اقوام متحدہ کے سیاسی پناہ کے ادارے سے منسلک تھیں اور انہوں نے غیر ملکیوں کو سیاسی پناہ دلوانے میں اہم کردار ادا کیا تھا ۔ کئی بار سمندر پر جاتے ہوئے انہوں نے سیاسی پناہ گزینوں کے ساتھ ملاقاتیں کیں تھیں اور انکی مدد کا عہد کیا تھا ۔ اٹلی میں جب بھی امیگریشن کے متعلق بحث ہوتی تھی تو لاؤرا کی رائے حاصل کی جاتی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ اب وہ اسپیکر کے طور پر غیر ملکیوں کی زیادہ سے زیادہ مدد کریں گی۔ لاؤرا بولدرینی کا تعلق بائیں بازو کی سیاسی جماعت سے ہے ، جو کہ کیمونسٹ پارٹی تصور کی جاتی ہے  ۔ انکے بعد سینٹ کے اسپیکر گراسو منتخب کیے گئے ہیں جو کہ اٹلی میں جج کے طور پر مشہور ہیں ۔ گراسو نے اٹالین مافیا کے خلاف کام کرتے ہوئے زندگی گزاری ہے اور انکے کئی جج دوست مافیا نے قتل بھی کردیے ہیں ۔ انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ وہ سینٹ کے صدر یا اسپیکر کے طور پر انصاف کے لیے جنگ جاری رکھیں گے اور مافیا کے خلاف اپنا کام جاری رکھیں گے ۔ چند دنوں میں وزیر اعظم کا انتخاب ہو گا اور اسکے بعد حکومت اپنا کام کرنا شروع کردے گی ۔ یاد رہے کہ دونوں اسپیکر غیر سیاسی شخصیات کے طور پر منتخب کیے گئے ہیں ۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ اٹلی میں آج کل لوگ سیاست دانوں کے سخت خلاف ہو گئے ہیں اور اٹلی کی سب سے بڑی سیاسی جماعت پانج ستارے بھی غیر سیاسی افراد پر مبنی ہے ۔تصویر میں اسپیکر لاؤرا اور گراسو

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com