Sunday, Oct 13th

Last update12:39:09 AM GMT

RSS

قومی خبریں

پنجرے میں بند چڑیا

کبھی کبھی میرے دل میں کچھ سوال اٹھتے ہیں جن کا جواب شاید کوئی نہیں دے سکتا کیوںکہ ہر ایک کے پاس جواب ہے لیکن کوئی اپنی زبان پہ نہیں لانا چاہتا۔ ہزاروں سال گزر جانے کے بعد بھی ہمارے معاشرے میں زیادہ فرق نہیں آیا , آج بھی جب کسی کے گھر بیٹا پیدا ہوتا ہے تو سب کو خوش ہو کے بتایا جاتا ہے "ہمارے گھر بیٹا پیدا ہوا ہے ہم نے اس کا یہ نام رکھنا ہے , یہ بڑا ہو کر یہ بنے گا ہم ایسا کریں گے ہم ویسا کریں گے وغیرہ وغیرہ " لڑکے کے پیدا ہوتے ہی سب اپنے مطابق خواب سجانے لگ جاتے ہیں خوشی کی وجہ سے سب کے رخسار گلابی رہتے ہیں لیکن جب بیٹی پیدا ہوتی ہے تو کہتے ہیں " جی بس جیسی خدا کی مرضی".جب اس کی عمر سکول جانے کے قابل ہوتی ہے تو کچھ لوگ تو اپنے رسم و رواج کی وجہ سے تعلیم پےپابندی لگا دیتے ہیں اور کچھ لوگوں کو تعلیم ناکارہ چیز لگتی ہے ، ان کی نظر میں عورت کا کام ہے گھر سنبھالنا تو وہ کتابیں پڑھ کر کیا کریں گی لیکن کچھ لوگ جن کو بیٹیوں کی ابتدائی تعلیم پر اعتراض نہیں ہوتا وہ انہیں تعلیم حاصل کرنے دیتے ہیں لیکن جب ابتدائی تعلیم کے بعد اعلٰی تعلیم حاصل کرنے کا وقت آتا ہے تو کہا جاتا ہے نہیں بیٹی ہم جتنا کر سکتے تھے اور جتنا تمہارے لیے ضروری تھا ہم نے کیا باقی شوق تم اپنے شوہر کے گھر جا کر پورے کرنا پھر اس کی ہر خواہش پہ یہی جواب ملتا ہے کے شوہر کے گھر جا کر کرنا۔ کچھ عرصے میں اس کا رشتہ تہہ کر دیا جاتا ہے اور لڑکی یہ سوچ کر خوش ہوتی ہے کے میں اپنی نئی ذندگی شروع کرنے جا رہی ہوں جس میں میرا ہمسفر میرا شوہر ہو گا جس کے ساتھ میں اپنے تمام خواب پورے کروں گی لیکن خوابوں کی حسین دنیا سے وہ حقیقت میں قدم تب رکھتی ہے جب ایک زور دار آواز اس کے کانوں میں گھونجتی ہے "تم اس گھر کی بہو ہو تمہارا کام گھر سنبھالنا ہے ، میرے والدین کی خدمت کرنا بچوں کو سنبھالنا اور سوال نہ کرنا ہے اب تم اپنے مائیکے میں نہیں جو اپنی من مرضی کر سکو"پھر اس کے کانوں میں ماں کی کہی آواز سنائی دیتی ہے کہ "اپنے شوہر کے گھر جا کے سب خواب پورے کرنا"
ایک عورت نہ مائیکے میں اپنے خواب پورے کر سکتی ہے اور نہ ہی سسرال میں کیوںکہ مائیکے میں وہ اپنے بھائیوں اور باپ کی عزت ہوتی ہے اور سسرال میں اپنے خاندان اور شوہر کی ان ناموں کی عزتوں میں جلتے ہیں تو صرف ایک عورت کے خواب۔  ایسی بھی عورتیں ہیں جو کے اعلٰی تعلیم حاصل کرتی ہیں, علم کی روشنی سے انہیں غلط سہی کا فرق پتہ چلتا ہے پھر وہ اپنے علم کو کام میں لانے کی خواہش کرتی ہیں "اماں ابا  میں کام کرنا چاہتی ہوں" اسی وقت باپ کی آواز آتی ہے ہمارے معاشرے میں لڑکیاں کام نہیں کرتیں اس لیے تمہیں پڑھایا تھا کہ آج تم ہمارے سامنے کھڑی ہو کر ایسا بول سکو ایک بات تم سمجھ جاوْ اب تمہاری عمر شادی کی ہو چکی ہے ہم تمہیں جلد رخصت کر دیں گے اپنے شوق اپنے شوہر کے گھر جا کے پورے کرنا روتے روتے وہ سو جاتی ہے ہر دن ایک نیا سمجھوتا کرتی ہے جب بھی آسمان پہ اڑتی ہوئی چڑیا کو دیکھتی ہے تو سوچتی ہے اے چڑیا میں بھی تمہاری طرح ہوں لیکن بس اتنا فرق ہے "میرے پاس پر تو ہیں لیکن میں اڑ نہیں سکتی میرے پاس علم تو ہے لیکن میں فیصلہ نہیں کر سکتی"ایک دن وہ اپنے مائیکے سے اپنے ارمانوں کے ساتھ رخصت ہوتی ہے ایک مضبوط ارادے کے ساتھ مسکراتے ہوئے چہرے کے ساتھ سوچتی ہے "اب میری زندگی کو نیا موڑ ملنے والا ہے میرے خواب پورے کرنے والا آ رہا ہے"پھر جب وہ اپنے ہمسفر سے اپنی کام کرنے کی خواہش کا ذکر کرتی ہے تو جواب ملتا ہے کے ہمارے معاشرے میں باہر نکل کر کام کرنے والی عورتوں کو پسند نہیں کیا جاتا میں کما رہا ہوں کیا اتنا کافی نہیں ہمارے لیے تم بس اپنے کام سے کام رکھو.ایک لڑکی جو مرد کی ہی طرح سانس لیتی ہے ہنستی ہے بولتی ہے, اس کے پاس بھی ایک دل ہے جو دھڑکتا جو خواب دیکھتا ہے تو پھر آخر کیوں ایک عورت کو اس کی جائز خواہشات کو پورا کرنے کا حق نہیں ہے آخر کیوں ہر بار ایک عورت کو ہی سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے اپنے خوابوں کا گلا گھونٹنا پڑتا ہے.آخر ہمارے معاشرے میں ایک تعلیم یافتہ عورت کو کام کیوں نہیں کرنے دیا جاتا؟
اس کی ایک بڑی وجہ ہمارا ماحول بھی ہے جب بھی ایک عورت گھر سے نکلتی ہے اسے عجیب نظروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ایسے مرد جو اسے مسلسل گھورتے ہیں (بغیر کسی وجہ کے) کوئی اس کے اکیلے ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے تنگ کرتے ہیں تو کوئی بیہودہ آوازیں کستا ہے کوئی کہتا ہے ہائے کس بے شرم خاندان کی لڑکی ہے جو ایسے باہر گھوم رہی ہے.ان تمام وجوہات کی بنا پر مرد عورت کو کام نہیں کرنے دیتے.لیکن کیا کبھی کسی نے سوچا ہے؟ ایک عورت کو رسوا کرنے والابھی تو ایک مرد ہے ، اگر مرد ہی ٹھیک ہو جائیں تو ہمارے معاشرے کے بہت سے کام سنبھل جائیں ہر عورت اپنی خواہشات کو تکمیل دے سکے ، بہت سے گھر ایسے ہیں جن کے بیٹے نہیں تو ان کی بیٹیاں ہی کام کر کے گھر کا بھوج اٹھا لیں ۔ بہت سے لوگ ہاتھ پھیلانے سے بچ سکتے ہیں بہت سے لوگ بیٹی کی رسوائی کے غم میں مرنے سے بچ سکتے ہیں ۔ اگر مرد چاہیں تو وہ ہمارے معاشرے کی جاہلیت کو ختم کر سکتے ہیں عورت کو اس کے حقوق مل سکتے ہیں یہ معاشرہ بہت سی برائیوں سے بچ سکتا ہے

حنا سید
http://www.facebook.com/mahi.ali28jan1997

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آسیہ بی بی کے لیے 31 ہزار دستخط ایمبیسڈر کے حوالے کردیے گئے

روم 10 مارچ 2013 ۔۔۔ اٹلی کے ویٹیکن کے اخبار Avvenireاوینیرے نے آسیہ بی بی کو بچانے کے لیے 31 ہزار دستخط  روم میں موجود پاکستانی ایمبیسڈرتہمینہ جنجوعہ کے حوالے کردیے ہیں ۔ اخبار کے ڈائریکٹر Marco Tarquinioنے کہا کہ آسیہ بی بی پاکستان کی ایک عورت ہے ، ماں ہے یا پھر اس ملک کی بیٹی ہے ۔ آسیہ بی بی کو توہین رسالت ۖ کے کیس میں سزائے موت کا حکم جاری کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم گزشتہ 2 سالوں سے آسیہ بی بی کے لیے اخبار میں ایک جگہ مختص کر رہے ہیں اور یہ بھی لکھ رہے ہیں کہ وہ 1358دنوں سے جیل میں قید ہے ۔ آسیہ بی بی اپنے بچوں اور خاندان کے بغیر جیل میں تنہا زندگی گزار رہی ہے اور اپنے کیتھولک مذہب کی روشنی میں آزادی کی کوششوں میں مصروف ہے ۔ ڈائریکٹر نے کہا کہ ہم نے 2 سال قبل آسیہ بی بی کے متعلق اسکا ایک خط شائع کیا تھا اور سینکڑوں افراد نے اسکی آزادی کے لیے لکھا تھا ۔ اسی دن سے ہم نے دستخط اکٹھے کرنے کی سکیم شروع کی اور 2 سالوں میں 31 ہزار دستخط اکٹھے کرلیے ۔ ہم جانتے ہیں کہ پاکستان ایک عظیم ملک ہے اور وہ آسیہ بی بی کی رہائی اور توہین رسالت کے قانون میں ترمیم کرنے کی کوشش کرے گا ۔ ایک ایسے جج کی ضرورت ہے جو کہ اس قانون کے غلط استعمال سے روکے ۔ پاکستان میں بھی دانشور اسے کالا قانون کہہ کر پکارتے ہیں ، کیونکہ چند عناصر اپنے مفادات کی خاطر اس قانون کا سہارا لیتے ہیں ، اس قانون کیوجہ سے اب تک 4 ہزار لوگوں کو سزائے موت کا حکم جاری کیا جا چکا ہے ۔تصویر میں آسیہ بی بی

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت اتوار, 10 مارچ 2013 19:46

کینڈا کے پاکستانیوں کا شکریہ

ہم کینڈا میں رہنے والے پاکستانی تارکین وطن کا شکریہ ادا کرتے ہیں کیونکہ وہ ہماری سائٹ کو اٹلی کے بعد کھولتے ہوئے ہماری حوصلہ افزائی کر رہے ہیں ۔ آپ لوگوں سے گزارش ہے کہ آپ اپنے بارے میں بھی کچھ لکھا کریں ۔ آپ کے خیالات، تجسس اور معلومات ہمارے لیے قابل فخر ہیں ۔ ایڈیٹر اعجاز احمد

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

یورپ میں ویزے کے بغیر کن ممالک میں جانے کی اجازت ہے

شنگن کے قانون کے مطابق تمام وہ غیر ملکی جنہوں نے اپنی پر میسو دی سوجورنو پہلی دفع  بنوانے کے لیے جمع کروا رکھی ہے ، انہیں اجازت دی گئی ہے کہ یہ سال کے کسی بھی حصے میں اپنے ملک ڈاک کی رسید کے ساتھ جا سکیں اور اسکے ساتھ ساتھ یورپ کے کسی بھی شنگن کے ملک میں تین ماہ تک سٹے کر سکیں بشرطیکہ انکے پاس Schengen uniformeوالا ویزہ موجود ہو  ۔ وہ غیر ملکی جو کہ اٹلی میں خاندانی ویزہ حاصل کرتے ہوئے یا پھر فلسی کے زریعے آئے ہیں ، انکی سوجورنو بہت دیر بعد جاری ہوتی ہے اور یہ اس عرصے میں یورپ میں سفر کرنے سے قاصر ہوتے تھے اب یہ لوگ شنگن ویزے کے زریعے سوجونو جاری ہونے سے قبل بھی یورپ کا سفر کر سکتے ہیں وہ غیر ملکی جن کے پاس عام پر میسو دی سوجورنو ہے ، یہ لوگ کسی بھی شنگن کے ملک میں تین مہینوں کے لیے سیر کے لیے جا سکتے ہیں لیکن کام نہیں کر سکتے ۔ اب تک شنگن کے ممالک میں اٹلی ، فرانس، جرمنی، اسپین، لکسمبرگ، بیلجیئم ، ہالینڈ، پرتگال، آسٹریا، یونان، سویڈن، ڈینمارک، فن لینڈ، ناروے ، آئی لینڈ ،ایستونیا، ہنگری، لیتونیا، لتوانیا، پولینڈ، سلووینیا، سلوواکیہ، مالٹا اور چیک ریپبلک اور سویٹزرلینڈ  شامل ہیں ۔ اگر آپ کسی دوسرے ملک میں جانے کے خواہش مند ہیں تو اس صورت میں آپ کو اس ملک کا ویزہ حاصل کرنا ہو گا ۔ یاد رہے کہ یورپ میں ٹرانزٹ کرنے کی اجازت ان کو دی گئی ہے ، جنہوں نے پہلی دفع  پر میسو دی سوجورنو رینیو کروانے کے لیے جمع کروا رکھی ہے اور ان کے پاس اٹلی کا کام کا ویزہ ہے ۔ اب اٹالین ایمبیسی تمام نئے آنے والوں کو شنگن ویزہ فراہم کرے گی ۔ وہ غیر ملکی جنہوں نے اپنی سوجورنو رینیو ہونے کے لیے جمع کروا رکھی ہے ۔ یہ لوگ شنگن کے ممالک میں ٹرانزٹ نہیں کر سکتے ۔ یہ لوگ اپنے ملک جا سکیں گے اور ان کے لیے ضروری ہو گا کہ یہ اپنے ساتھ پر میسو دی سوجورنو کی اصل ختم شدہ کاپی، رسید اور پاسپورٹ ساتھ لیکر جائیں ۔ ائرپورٹ پر انکی رسید پرمہر لگائی جائے گی اور واپسی پر اسے چیک کیا جائے گا ۔ انہیں یورپ میں ٹرانزٹ کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔ وہ غیر ملکی جو کہ سوجورنو کے بغیر اٹلی میں آباد ہیں ، ان کے ضروری ہے کہ یہ کسی بھی ملک کا سفر نہ کریں ۔ وہ غیر ملکی جنہوں نے موجودہ اميگریشن میں سوجورنو کے لیے اپلائی کیا ہے ، انکے لیے بھی ضروری ہے کہ یہ پر میسو دی سوجورنو حاصل کرنے کے بعد کسی ملک کا سفر کریں ۔ وہ غیر ملکی جن کے پاس عام کام کی سوجورنو یا انسانی ہمدردی کی ایک سال یا تین سال کی سوجورنو ، سیاسی پناہ کی سوجورنو ، بزنس کی سوجورنو یا پھر تعلیم کی سوجورنو ہے یہ لوگ یورپ کے اوپر درج کردہ ممالک میں سیر کے لیے جا سکتے ہیں ۔

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

مہاجرین یا غلام


ہجرت اپنے مسائل سے اور غلامی اپنی خواہشات کی ۔ہجرت اپنی مرضی سے یا زبردستی؟ یہ ایک پرانی کہانی ہے۔ جب دنیا میں غلام ،تاجر،خانہ بدوش، پیغمبر، جنگیں کرنے والے اور عام انسان، بہتر مستقبل ، کاروبار، اشیاء خورد و نوش ، مذھب کے پھیلاؤ اور اپنے ملک کی سرحدوں کے پھیلاؤ کے لیئے ایک جگہ سے دوسری جگہ کسی نہ کسی حیلے بہانے سے ہجرت یا حملہ، تبلیغ یا تجارت جو بھی کہہ لیجئے،کے لیئے نئی راہیں، ممالک تلاش کرتے تھے۔ اس کا آغاز انسانی تہذیب کے ارتقاء سے ہوا اور انیسویں صدی کے آواخر تک ہوتا رہا۔ اس بات کا اندازہ آپ اس بات سے لگا لیجئے کہ انیسویں صدی کے آواخر میں ہجرت اتنے زوروں پر تھی کہ ہر دسواں آدمی مہاجر ہوا کرتا تھا یا غلام کہہ لیجئے۔ کہنے کا مطلب یہ ہوا کہ جہاں کا، یا جس ملک کا وہ رہنے والا تھا وہاں وہ نہیں رہ رہا تھا۔ ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں لوگ ہجرت کیا کرتے تھے۔ انیسویں صدی کے آواخر میں ،امریکہ کی ایک ریاست نیویارک کے پاس ایک جزیرہ ہے
ELLIS ISLAND(ایلس آئیلینڈ) ۔ پوری دنیا کے مہاجرین یا غلاموں کی آماجگاہ ہوا کرتا تھا۔یہاں سے لوگ امریکہ میں داخل ہوتے تھے لیکن آج مہاجرین کے لیئے کئی طرح کے راستے ہیں۔ ماضی کی طرح نہیں۔ ایک سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ۲۰۰۲میں سترہ کروڑ پچاس لاکھ (۵۰۰۰۰۰۰،۱۷) یعنی ۱۷۵ملین لوگوں نے بہتر مستقبل یا روزگار کی خاطر اپنا ملک چھوڑا۔ آج لوگ
ELLIS ISLAND
(ایلس آئیلیڈ) پے اکھٹے ہوکر امریکہ یا کینیڈا کے لیئے نہیں نکلتے بلکہ امریکہ کے علاوہ یورپ ، جاپان ، (سکینڈینیوین) ممالک اور جہاں بہتر روزگار کے مواقع ہوں، کے لیئے نکلتے ہیں۔
دنیا کی کل آبادی سے سترہ کروڑ پچاس لاکھ (۱۷۵۰۰۰۰۰۰) یعنی ۱۷۵ملین ،مہاجرین یا غلاموں کا مقابلہ کیجئے، جو بہتر مستقبل کے لیئے (۲۰۰۲کے اعداد شمار کے مطابق) اپنا ملک چھوڑ چکے ہیں، تو یہ تقریبا کل آبادی کا تین فیصد حصہ بنتا ہے۔ یعنی ہر سو(۱۰۰) میں سے تین (۳) بندے مہاجر یا غلام ہیں۔ یعنی ۹۸،۹۹، ۱۰۰بندہ مہاجر ہے۔ اس اعداد و شمار میں آپ ان لوگوں کو مت شامل کیجئے جن کی لکھت پڑھت نہیں ہوئی۔ یعنی کسی بھی ملک کے سرکاری اعداد و شمار مین ان کا ندراج نہیں۔ مہاجرین یا غلاموں کاموضوع جہاں متجسس اور متحیرکن ہے وہاں دکھ درد،رنج و الم، غم و اندوہ سے بھی بھرا پڑا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یورپ ایک خواب ہے ۔ جنت ہے۔ لوگ لاکھوں روپیہ برباد کرکے ،پرسکون زندگی کی تلاش میں یہاں آتے ہیں اور اپنی پرسکون زندگی (جو یہاں آنے سے پہلے ان کے نصیب میں تھی) برباد کرلیتے ہیں۔ پچھلے دنوں ایک پاکستانی جوان نے امریکہ جانے کے لیئے ایجنٹ کو ۲۰لاکھ روپے دیئے۔ جبکہ یورپ کا ریٹ ۵لاکھ سے لیکر ۱۰لاکھ تک پہنچ چکا ہے۔ آج اگر آپ  ایک نقشہ بنانے چلیں کہ مہاجرین یا غلام کہاں کہاں بستے ہیں۔ کن کن ممالک میں پائے جاتے ہیں تو یہ ایک مشکل مرحلہ ہوگا۔ اب یہ مکڑی کے جالے کی طرح پوری دنیا میں پھیل چکے ہیں۔ اس لیئے آپ ایک پاکستانی فی جی جزیرے اور افغانی  سوٹزرلینڈ میں باآسانی ڈھونڈ سکتے ہیں۔  مہاجرین کسی بھی ملک سے ، یعنی افریقہ سے یا پاکستان سے، انڈیا سے یا چین سے، سری لنکا سے بنگلہ دیش سے یا کسی بھی ملک سے اپنے پسندیدہ ملکوں میں کیسے آتے ہیں۔ میں ان لوگوں کی بات کررہا ہوں جو غیرقانونی طور پے داخل ہوتے ہیں۔ لانے اور لے جانے والے ایجنٹ کہلاتے ہیں۔  اردو میں دلال کہہ لیجئے اور جن ممالک سے غیرقانونی طور پے داخل کیا جاتا ہے ۔ اس غیرقانونی طور پے سرحد پارکرنے کا نام ڈنکی ہے۔ یہ کس زبان کا لفظ ہے یا کس لفظ سے مماثلت رکھتا ہے یہ بعد کی بحث ہے۔
پوری دنیا میں انتہائی مربوط گروہ ہوتے ہیں جو بڑے منظم اورمضبوط ہوتے ہیں۔ اب انسان کی عقلِ سلیم سوچتی ہے کہ کوئی یورپ یا امریکہ میں غیرقانونی طور پے کیسے داخل ہوسکتا ہے۔ عام تاثر یہ ہے کہ سفید چمڑی والے بڑے ایماندار اور محبِ وطن ہوتے ہیں لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ کسی بھی ملک میں غیرقانونی طور پے داخل ہونے کے لیئے اس ملک کے لوگوں کی مدد کے بغیر (جہاں آپ جانا چاہتے ہیں)داخل ہونا ناممکن ہے۔ یعنی جہاں چینی ،پاکستانی، ہندوستانی ایجنٹ یا دلال ہوتے ہیں، بالکل اسی طرح یورپیئن ممالک میں یا امریکہ میں وہاں کے مقامی ایجنٹ  ہوتے ہیں یعنی  پاکستان، ایران، ترکی، یونان ،جہاں جہاں آپ کا پڑاؤ ہوگا، وہاں وہاں قیمت چکانی ہوگی۔  آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ جیسے جیسے امیگریشن کے قوانین میں پیچیدگیاں پیدا ہورہی ہیں، ویسے ویسے مہاجرین کی تعداد میں بجائے کمی ہونے کے اضافہ ہورہا ہے۔ ہر سال مہاجرین یا غلاموں کی تعداد میں تقریباً ۴۰لاکھ تک کا اضافہ ہورہا ہے۔ جو غیرقانونی طور پے منتقل کیئے جاتے ہیں۔ خریدے یا بیچے جاتے ہیں۔ اربوں روپے کا کاروبار کیا جاتا ہے۔ آپ مہاجرین یا غلاموں کو معمولی لوگ مت جانیئے۔ ہر مہاجر یا غلام پانچ یا چھ لاکھ تک کے اخراجات اٹھاتا ہے، بلکہ کبھی کبھی اس سے بھی زیادہ۔
اقوامِ متحدہ میں کام کرنے والے ایک اطالوی نژاد سوشیالوجسٹ، جن کا تعلق مہاجرین کی نقل و حمل کے اعداد و شمار پے تحقیق کرنا ہے۔ ان کا اندازہ ہے کہ اس وقت تک بیس کروڑ انسان دورانِ ہجرت ایجنٹ یا دلالوں کے زیرِ عتاب رہے ہیں۔ مثال کے طور پے سن دو ہزار، جون کے مہینے میں ٹماٹروں کا ایک ٹرک براستہ ڈوور انگلستان کی سرحد جو انگلش چینل کے پاس ہے، انگلینڈ جارہا تھا۔ تقریباً پچاس چینی مہاجرین اس ٹرک میں دم گھٹنے کی وجہ سے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔اس کے چند ہفتوں بعد براستہ ہنگری آنے والے چھیالیس  سومالین دارِ فانی سے کوچ کرگئے۔ آج سے چند سال پہلے دو ہندوستانی جہاز کے پہیوں میں بند ہوکر آئے۔ انسانی عقل حیران وہ جاتی ہے کہ یورپ ہجرت کرنے کے لیئے مہاجرین  نے یہ انوکھا راستہ اپنایا۔ آپ کو جان کر حیرت ہوگی دونوں انگلستان پہنچ گئے۔ ایک نے جلدی ہی دم توڑ دیااور دوسرا شاید اب بھی ہسپتال میں زندگی اور موت کی کشمکش میں ہے۔ اس طرح کی بیشمار مثالیں ہیں۔ یہ وہ مثالیں ہیں جو  (آن دی ریکارڈ)ہیں۔ جن کے گوشوارے یا لکھت پڑھت ہے یا جن کی پہنچ اخبار تک ہوتی ہے۔ لیکن اس سفر یا  ہجرت کے دوران کتنے لوگ گمنام اور تاریک راہوں میں مارے جاتے ہیں، اس کا کوئی (ریکارڈ) یا لکھت پڑھت نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انسان (تقریباً ) دنیا کے مختلف حصوں میں غیرقانونی طور پے لائے اور لے جائے جاتے ہیں۔ جن سے یا تو غیرقانونی طور پے کام لیا جاتا ہے یا اگر مہاجرین مونث ہیں تو ان سے جسم فروشی کا کام لیا جاتا ہے۔ بارہ کروڑ بچے (تقریباً) جن کی عمر ۱۴سے ۱۵سال کے درمیان ہوتی ہے ، غیرقانونی طور پے لائے اور لے جائے جاتے ہیں۔ جن سے غیرقانونی طور پے کام لیا جاتا ہے یا جسم فروشی یعنی اغلام بازی (لواطیت) کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ بیس لاکھ عورتیں انسانوں کی اس تجارت کا شکار ہوتی ہیں۔ جن کی عزت لوٹنے کے علاوہ ان سے جسم فروشی کروائی جاتی ہے۔ ان ۲۰لاکھ عورتوں میں ۵لاکھ (تقریباً) عورتوں کی منزل یورپ ہوتی ہے اور ان ۵لاکھ عورتوں میں سے ۵۰ہزار اٹلی وارد ہوتی ہیں یا لائی جاتی ہیں۔’یعنی آم کے آم اور گٹلیوں کے دام ‘ کا سا مصداق ہے۔  ان ساری باتوں کے پیچھے پیسہ گردش کرتا ہے۔ ہر شخص کو پیسے کا لالچ ہے اور یہ غم کھائے جارہا ہے کہ دوسروں کا پیسہ میرے پاس آجائے اور میں راتو رات امیر ہوجاؤں۔اس کے لیئے خواہ مجھے کچھ بھی کیوں نہ کرنا پڑے۔بڑے کم لوگ مجبوری کی حالت میں ایسا قدم اٹھاتے ہیں۔ آپ خود سوچیئے،ایجنٹ یا دلال کو پانچ لاکھ روپے دیکر آنے والا شخص غریب تو نہیں ہوسکتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اٹلی کوآپ  (کلندستینی) یعنی چھپ کر رہنے والوں کی جنت سمجھ لیجئے یا دوزخ۔ جس طرح پریڈیٹرچھپ کر حملہ کرنے والے ہوتے ہیں۔ اسی طرح چھپ
کر رہنے والے  (کلندستینی) ہوتی ہیں جنھیں اطالوی زبان میں
clandestini
(کلندستینی)کہا جاتا ہے اور یہ لفظ سنتے ہی ایسا لگتا ہے جیسے کسی نے گالی دے دی ہو۔
یورپ میں داخل ہونے والے چھ بڑے راستوں میں سے چار کا تعلق اٹلی سے ہے۔ اٹلی اس وقت یورپ میں وہی حیثیترکھتا ہے جو انیسویں صدی کے آواخر میں ایلس آئی لینڈ حاصل تھی۔ سارے
(کلندستینی)اٹلی کے آس پاس کے جزیروں پے اکھٹے ہوتے ہین اور موقع پاتے ہی راہِ فرار اختیار کرتے ہیں۔ نوے فیصد لوگ یورپ کے مختلف ملکوں میں چلے جاتے ہیں لیکن پچھلے دس سالوں میں اٹلی میں اوپر تلے امیگریشن کھلنے کی وجہ سے(جسے اطالوی زبان میں sanatoria
ساناتوریہ کہتے ہیں) لوگوں نے یہاں ٹکنا شروع کر دیا ہے۔ نہ صرف ٹکنا شروع کردیا ہے بلکہ نئے آنے والوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ لیبیاء اور سسلی کے درمیان دو اطالوی جزیرے ہیں ، لامپے دوزا اور پانتیلریا زیادہ بوجھ ان جزیروں پر پڑتا ہے۔ مہاجرین اپنا پہلا پڑاؤ یہاں کرتے ہیں پھر سسلی کے لیئے نکلتے ہیں۔ اور اس طرح  (کلابریہ)میں داخل ہوجاتے ہیں۔ ایجنٹ یا دلال اس کاروبار میں ہر ماہ لاکھوں یوروں  کا فائدہ اٹھاتے ہیںیعنہ اگر آپ غیرقانونی اسلحہ یا منشیات کا کروبار کریں تو بھی آپ اتنا منافع نہیں کماسکتے،جتنا آپ انسانوں کی سمگلنگ میں ایک ماہ میں کماتے ہیں۔  صرف اتنا سوچیئے کہ سری لنکا یا انڈیا،پاکستان یا بنگلہ دیش سے اٹلی آنے کے لیئے ایک مہاجر ۵ہزار یورو ادا کرتا ہے اور چینی مہاجر اس سے دوگنا۔ یہ ایک ایسا سفر ہے جس میں واپسی کا ٹکٹ نہیں ہوتا اور مزے کی بات یہ ہے کہ اس سنگل ٹکٹ میں ڈسکاؤنٹ (رعایت) نہیں دیا جاتا بلکہ زیادہ ہی وصول کیئے جاتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم لوگ یورپ کی خاطر اپنی ہر چیز کا سودا کردیتے ہیں۔ تہذیب،زبان،مذھب،عزتِ نفس۔ اگر معاشی مسائل پے قابو پا لیتے ہیں تو معاشرتی مسائل کا شکار ہوجاتے ہیں۔ یورپ میں جب تارکین
کے ہاں بچیاں(بیٹیاں) پیدا ہوتی ہیں، خاص کر (ایشیائی)کے ہاں تب انھیں(یورپیئن) تہذیب بری لگنی شروع ہوجاتی ہے۔ اس میں ان بچیوں کا کوئی قصور نہیں ہوتا کیونکہ ان کے والدین دولت کمانے کے چکر میں تربیت پے توجہ دینا بھول جاتے ہیں۔خاص کر مسلمانوں کو یورپ میں بیشمار خامیاں نظر آنی شروع ہوجاتی ہیں لیکن اس کے باوجود یہاں آنا پسند کرتے ہیں۔


SARFRAZ BAIG 05/10/2004 AREZZOMOBILE: 3200127522E,MAIL: یہ ای میل پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com