Wednesday, Apr 24th

Last update12:39:09 AM GMT

RSS

قومی خبریں

مسعود احمد شاہ کے خیالات

روم۔ 22 نومبر 2012 ۔۔۔ مسعود احمد شاہ ریجو امیلیا میں آباد ہیں اور ان کا تعلق گجرات کے گاؤں نصیرہ سے ہے ۔ انہوں نے آزاد کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ میں نے بی اے اور بی ایڈ کی تعلیم حاصل کی اور اسکے بعد 10 سال تک تعلیمی شعبے سے پروفیسر کے طور پر منسلک رہا ۔ منہاج ایجوکیشن سوسائٹی پاکستان کے تحت چلنے والے سکول میں سات سال تک پرنسپل رہا ۔ اسکے بعد پنجاب ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں ایجوکیٹر کے طور پر بھرتی ہوگیا ۔ مسعود شاہ نے کہا کہ تعلیم کے ساتھ ساتھ میں نے سوشل سرگرمیاں بھی جاری رکھیں اور مقامی ویلفئر سوسائٹی الفلاح کے صدر اور بانی کی حیثیت سے کام کیا ۔ اسکے بعد راولپنڈی کی گلوبل فا‎ؤنڈیشن کے لیے تحصیل کھاریاں کا کوارڈینیٹر بن گیا ۔ یہ ایسوسی ایشن انسانی حقوق کی پاسداری کے لیے کام کرتی ہے اور اسی سلسلے میں ہم نے انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف ایک ڈاکومنٹری فلم بنائی ۔ اسلام آباد اسٹوڈیو PTVمیں اس فلم پر ایک مباحثہ کروایا گیا اور جنرل پرویز مشرف کی صدارت کے دوران اس پر حکومتی وزرا کی طرف سے اقدامات بھی اٹھائے گئے ۔ مسعود احمد شاہ نے کہا کہ وہ ریجو امیلیا میں 5 سال سے مقیم ہیں اور اپنے ملک ، قوم اور مذہب سے بے حد محبت کرتے ہیں ۔ انکی خواہش ہے کہ وہ اپنی کمونٹی کے لیے بھی کوئی مثبت قدم  اٹھانے میں لا‏حہ عمل تیار کریں اور اٹلی میں پاکستان کا امیج بہتر بنانے کے لیے اٹالین کمونٹی کے ساتھ بھی اچھے روابط بنائیں ۔ مسعود شاہ امیلیا رومانیا سے آزاد کی نمائندگی کریں گے ۔ اپنی خبریں، معلومات، اشتہارات اور اعلانات شائع کروانے کے لیے ان سے رابطہ کریں

       ‏‏‏Masoud Ahmad Shah 

Guastalla Reggio Emilia

                                                                                                                               cell :        3279089531 
                                                                                            e-mail           یہ ای میل پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے
                                                                                                                یہ ای میل پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت اتوار, 25 نومبر 2012 11:55

پی پی پی کے جوائنٹ سیکرٹری ملک ندیم رؤف کے تاثرات

روم۔ 18 نومبر 2012 ۔۔۔ اٹلی کے پی پی پی روم  کے جوائنٹ سیکرٹری ملک ندیم رؤف نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیر داخلہ رحمان ملک  کا اٹلی کا دورہ خیر سگالی سے مکمل ہوگیا ہے اور وہ اب وطن واپس پہنچ گئے ہیں ۔ ملک ندیم نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے تمام مشکلات کے باوجود اپنا پانج سالہ دور پورا کرتے ہوئے یہ ظاہر کردیا ہے کہ پی پی پی وہ واحد سیاسی پارٹی ہے جو کہ پورے ملک کی سیاسی ترجمانی کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے اور ملک کی سالمیت کی مثال ہے ۔ ہمارے دشمنوں نے پارٹی کو ختم کرنے کے لیے کئی کوششیں کی ہیں لیکن وہ ناکام رہے ہیں ۔ صدر آصف علی زرداری اور ملک رحمان جیسے سیاسی رہنماؤں کی موجودگی میں ملک عالمی سطح پر بھی ایک مثبت رائے عامہ قائم کررہا ہے ۔ انہوں  نے کہا کہ  رحمان ملک میرے شہردار بھی ہیں اور میرے خاندان کی قربانیوں سے بھی واقف ہیں ۔ ہمارے خاندان نے سیالکوٹ میں پی پی پی اور بھٹو خاندان کے لیے جیلیں کاٹی تھیں اور ہم پر کئی پابندیاں عائد کی گئی تھیں ۔ ہم بھٹو خاندان کے بعد بلاول بھٹو سے امیدیں پیوست کرتے ہوئے ملک کی تقدیر کو بدلیں گے اور بھٹو کے خواب کی تکمیل کے لیے اپنی جان تک قربان کریں گے ۔ ہماری خواہش ہے کہ جلد تارکین وطن کو ووٹ کا حق دیا جائے تاکہ ہم ملک سے دور بیٹھے ہوئے شہری بھی اپنی سیاسی سرگرمیوں کو عملی جامہ پہنا سکیں ۔ ملک ندیم رؤف نے حال ہی میں ایک روم کے نواح تیوولی میں ایک سروس اسٹیشن کا افتتاح کیا ہے اور وہ سیاست کے ساتھ ساتھ بزنس میں بھی کامیابیوں سے ہمکنار ہورہے ہیں ۔ موبائل ملک ندیم 3391395356 تصویر میں ملک ندیم اپنے سیاسی لیڈر  رحمان ملک سے گلے مل رہے ہیں ۔

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت اتوار, 18 نومبر 2012 14:03

اٹالین ایسوسی ایشن نے پاکستانی پہاڑوں کی حفاظتی ٹیم قائم کردی

روم۔ 14 نومبر 2012 ۔۔۔ اٹلی کی ایسوسی ایشن EvK2Cnrنے پاکستان کی پہاڑوں کی تنظیم l’Alpine Club of Pakistanکی مدد سے پہاڑوں کی حفاظتی ٹیم قائم کردی ہے ۔ ایک کورس اور باہمی ٹریننگ کے زریعے اس منصوبے  کو 18 اکتوبر کو مکمل کرلیا گیا ہے ۔ اس کورس کے بعد پاکستان میں موجود قراقرم کی بلند چوٹیوں پر چڑھنے والے سیاحوں کی مدد کے لیے ایک حفاظتی ٹیم تشکیل دیدی گئی ہے ، جس کا نام Concordia Rescue Teamہے ۔ یہ کورس 8 اکتوبر کو شروع ہوا اور اس میں سکردو، کاندے اور شگار کے پہاڑ منتخب کیے گئے ۔ اس کورس میں مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے 12 گائیڈوں نے حصہ لیا ۔ گلگت بلتستان کے ڈویلپمنٹ کے وزیر راجہ عاضم  نے کہا کہ ایسے کورسوں سے علاقے میں ترقیکے امکان پیدا ہونگے اور سیاحوں کی سیکورٹی اور ریسکیو کے مسائل بھی حل کیے جا سکیں گے ۔ یہ منصوبہ اٹلی کی ایسوسی ایشن EvK2Cnrاور قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کے تعاون سے عمل میں آیا ۔ اس منصوبے کے لیے تمام اخراجات پاکستان کے قرضے سے حاصل کیے گئے جو کہ پاکستان نے اٹلی کو واپس کرنے ہیں ۔ اٹلی کی ایسوسی ایشن پاکستان میں جو بھی منصوبہ عمل میں لاتی ہے ، اس کا خرچہ پاکستان کے قرضوں کے عوض حاصل کیا جاتا ہے ۔ اٹلی کی حکومت نے پاکستان سے جو قرضے وصول کرنے ہیں ، وہ رقم وصول کرتے ہوئے ایسے منصوبوں میں صرف کرتی ہے جو کہ پاکستان کی ترقی کے لیے صرف کیے جاتے ہیں ۔ کورس کے اساتذہ میں 2 اٹالین شامل تھے ، جن کے نام Michele Cucchi e Maurizio Galloہیں ۔ کورس میں شامل ہونے والے حضرات نے تجربات کو عمل میں لاتے ہوئے باہمی معلومات حاصل کیں ، پہاڑوں کے بارے میں علم حاصل کیا گیا اور پہاڑوں پر گائیڈ بننے کی ٹریننگ کی گئی ۔ ٹریننگ کے دوران دنیا کی بلند ترین چوٹیوں پر چڑھنے، اترنے اور آس پاس جانے کے بارے میں معلومات حاصل کی گئیں اور بلند پہاڑوں پر سیکورٹی اور انسانی حفاظت  کے اصولوں کو سمجھنے کے بارے میں بات چیت کی گئی ۔ سیاحوں کو اونچے پہاڑوں پر ادوایات دینے اور ایمرجنسی کی صورت میں علاج و معالجہ کرنے کے طریقہ کار سیکھے گئے ۔ پاکستان کے وزیر راجہ عاضم نے کہا کہ اٹالین ایسوسی ایشن 20 سال سے اس علاقے کی ترقی اور قدرتی زرائع کی حفاظت کے لیے اپنی سرگرمیاں انجام دے رہی ہے ۔ کورس میں شامل ہونے والے پہاڑوں کے گائیڈوں میں روضی علی علی، غلام نبی رستم، محمد حسن علی ، محمد خان احمد، شمبی خان شمشال، شبیر رضا ، ابراہیم خلیل اور قاضم سدپارہ اور دوسرے گائیڈ شامل ہوئے ۔

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آریزو شہر کی دیوار پر نسل پرست نعرہ

روم۔ 11 نومبر 2012 ۔۔۔ اٹلی کے شمالی شہر جہاں پاکستانیوں کی معقول تعداد آباد ہے ، وہاں ایک دیوار پر نسل پرست نعرہ لکھنے سے شہر کی سول سوسائٹی تشویش کا اظہار کررہی ہے ۔ یہ نعرہ شہر کے ٹاؤن ہال کی دیوار پر لکھا گیا ہے ۔ اس نعرے میں لکھا ہوا ہے کہ " او گندے غیر ملکیوہوشیار ہوجاؤ ، فاشسٹ واپس آگئے ہیں " ۔ کل ہی اس شہر میں غیر ملکیوں پر ایک رپورٹ شائع کی گئی تھی ۔ آریزو میں 40 ہزار غیر ملکی آباد ہیں اور ان کا تعلق 128 ممالک سے ہے اور انکی ریشو تمام شہریوں کو ملا کر 11 فیصد بنتی ہے ۔ آخری 10 سالوں میں غیر ملکیوں کی تعداد چار گنا سے زیادہ بڑھی ہے ۔ شہر کے میئر جوزپے فنفانی نے دیوار پر لکھے اس بیہودہ نعرے کو غیر قانونی اور غیر اخلاقی قرار دیا ہے ۔ انہوں نے تھانے میں  نا معلوم افراد کے خلاف پرچہ بھی کٹوا دیا ہے ۔ میئر نے کہا کہ فاشسٹ کبھی بھی واپس نہیں آئیں گے کیونکہ وہ صرف اپنے آپ کی نمائندگی کرتے ہیں اور شہر کی عوام انکے ساتھ نہیں ہے ۔ یہ شہر ملٹی نیشنل شہر ہے اور یہاں تمام اقوام متحد ہو کررہیں گی ۔غیر ملکی  ہمارے شہر میں بچے پیدا کرتے ہیں ، ہمارے نجی ادادوں اور خاندانوں کے لیے کام کرتے ہیں اور اس شہر کی ترقی میں حصہ لیتے ہیں۔ ان غیر ملکیوں کو گندہ کہنا انتہائی گھٹیا حرکت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی شہری نے لکھنے والے کو دیکھا ہے تو فوری طور پر پولیس کو بتا دے ۔ اٹلی کے نسل پرستی کے خلاف کام کرنے والے سرکاری ادارے انار نے بھی اس کیس کی پیروائی کرنا شروع کردی ہے ۔ اٹلی میں ایسا قانون موجود ہے ، جس کے مطابق  نسلی فساد پھیلانے والوں کے خلاف کاروائی کی جاتی ہے ۔ تصویر میں کمونے کی دیوار پر لکھا ہوا نعرہ

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت اتوار, 11 نومبر 2012 18:33

ایک وزیر کے وعدے اور بے چارے تارکین وطن

روم۔ 5 نومبر 2012 ۔۔۔ کل روم ایمبیسی میں پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان ملک تشریف لائے ۔ انہوں نے خوبصورت پینٹ کوٹ پہنا ہوا تھا اور گلابی ٹائی لگا رکھی تھی ۔ جوانی کو قائم رکھنے کے لیے سر اور مونچھوں کے بال بھی کالے کیے ہوئے تھے ۔ اٹلی میں گلابی ٹائی کو زرا عجیب سمجھا جاتا ہے کیونکہ گلابی رنگ عام طور پر صرف فی میل رنگ قرار دیدیا گیا ہے ۔ مثال کے طور پر جب اٹلی میں بچہ پیدا ہوتا ہے تو دروازے پر آسمانی رنگ کا پلاسٹک یا کپڑے کا پھول لگایا جاتا ہے اور اگر بچی پیدا ہو تو گلابی رنگ کا پھول لگایا جاتا ہے ، اسی طرح بچیوں کے کھلونوں میں بھی عام طور پر گلابی رنگ عیاں ہوتا ہے ۔ اس لیے اٹلی میں مرد گلابی رنگ کو بہت کم استعمال کرتے ہیں ۔ دوسری بات جو ہم پہلے کر رہے تھے یعنی بال کالے کرنا۔ ہاں ، اٹلی میں جب سابقہ وزیر اعظم برلسکونی بال کالے کیا کرتے تھے تو انکا کافی مذاق اڑایا جاتا تھا ۔ عام طور پر اٹلی میں مرد حضرات بال کالے نہیں کرتے ۔ اس کے برعکس پاکستان میں بال کالا کرنے کی رسم کافی عام ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ ہمارے ملک میں مرد حضرات بزرگ ہونے سے ڈرتے ہیں ۔ خیر ہم کہہ رہے تھے کہ وزیر داخلہ رحمان ملک نے کمونٹی سے یہ وعدہ کیا کہ وہ ان 60 پاکستانیوں کو ایف آئی اے کی بلیک لسٹ سے خارج کررہے ہیں جو کہ بلیک لسٹ میں شامل ہیں ، بشرطیکہ انہوں نے منشیات فروشی یا دہشت گردی جیسا جرم نہ کیا ہو ۔ اسکے بعد انہوں نے کہا کہ وہ ایک مہینے میں میلان کونصلیٹ میں ڈیجیٹل پاسپورٹ اور نادرہ کا شناختی کارڈ بنوانے والی مشینیں لگوادیں گے ۔ اسکے علاوہ روم سے پی آئی اے کی فلائٹ دوبارہ شروع کروانے کی کوشش کریں گے لیکن اسکے لیے وہ کسی مدت کا وعدہ نہیں کرتے ۔ تارکین وطن کو ڈاک کے زریعے ووٹ ڈالنے کے لیے انہوں نے کہا کہ وہ میاں نوازشریف کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ پی پی پی کے ساتھ ملکر اس مسئلے کو حل کریں ۔ میں اٹلی میں 22 سال سے آباد ہوں اور اٹلی میں آنے والے پاکستانی سیاست دانوں کے بیانات شائع کرچکا ہوں ، ان میں سے اکثر وعدہ کرنے کے بعد بھول جاتے ہیں لیکن اب یہ دیکھتے ہیں کہ رحمان ملک ایک مہینے میں وعدے پورے کرتے ہیں یا نہیں ۔ ہم ایک مہینے کے بعد اس خبر کے نیچے حقیقت کو شائع کردیں گے ۔ تحریر، اعجاز احمد

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com