Thursday, May 23rd

Last update12:39:09 AM GMT

RSS

قومی خبریں

برطانوی شہریوں کی جبری شادیاں

پاکستان میں برطانیہ کے ہائی کمشنر مارک لائل گرانٹ کا کہنا ہے کہ اب تک پاکستان میں 500 سے زائد برطانوی شہریوں کی جبری شادیوں کو رکوا کر انہیں واپس برطانیہ بھیجا گیا ہے۔  انہوں نے یہ بات جبری شادی کے موضوع پر ہونے والے اس مذاکرے میں کہی جس کا انتظام’سچ‘ نامی ایک غیر سرکاری تنظیم نے برطانوی ہائی کمیشن کے تعاون سے کیا تھا۔ برطانوی ہائی کمشنر کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال کے دوران ہی ایک سو چھ ایسے کیس سامنے آئے جس میں برطانوی شہریوں کو پاکستان لا کر ان کی زبردستی شادی کرنے کی کوشش کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ زیادہ تر شادیاں شہریت کے حصول کی خاطر کی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زبردستی کی شادی صرف عورتوں کا مسئلہ نہیں اور ان کے پاس آنے والے بیس فیصد کیس مردوں کے تھے۔  انہوں نے کہا کہ یہ بات تسلیم نہیں کی جا سکتی کہ اس قسم کی شادیاں برصغیر کے معاشرے کی روایت ہیں اور ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ۔  اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے نیشنل کمیشن فار سٹیٹس آف ویمن کی سربراہ ڈاکٹر عارفہ سیدہ کا کہنا تھا کہ’جبر کی شادی صرف سنہری دیسوں کا خواب نہیں بلکہ پاکستانی معاشرے میں بھی جبری شادیاں عام ہیں لیکن ان کی صورت مختلف ہے اور اس قسم کی جبری شادیوں میں عورت کو ساتھ نہیں ملتا بلکہ صرف حکم ماننے کا حکم صادر ہوتا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ والدین کو چاہیئے کہ وہ نہ صرف اپنے بچوں کا نقطۂ نظر سمجھیں بلکہ ان پر اپنی مرضی مسلط کرنے کی بجائے اپنی عقل اور تجربے کی بنیاد پر انہیں مشورہ دیں کیونکہ کسی بالغ پر مرضی ٹھونسنا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ کشمیر سپریم کورٹ کے جج سید منظور حسین گیلانی نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے جبر کو ایک’ریلیٹو ٹرم‘ قرار دیا اور کہا کہ’جس چیز کو مغرب میں جبر سمجھا جا رہا ہے وہ ہماری فیملی ارینجمنٹ ہے اور مغرب ہماری معاشرتی روایات کو جبر کے غلط معنی پہنا رہا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’اس قسم کی شادیوں کا مسئلہ ہمارے معاشرے میں کم ہے اور دراصل یہ مشکلات ان خاندانوں کو درپیش ہیں جو بیرونِ ملک رہتے ہوئے اپنی جڑوں سے وابستہ رہنے کی کوشش تو کرتے ہیں لیکن اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت میں وطن کی وہ محبت شامل نہیں کرتے جو انہیں پاکستان کی جانب کھینچ سکے۔‘ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین خال مسعود کا کہنا تھا کہ پاکستان میں جیسے جیسے شخصی آّزادی مل رہی ہے ویسے ہی مسائل کی altنوعیت میں بھی تبدیلی آ رہی ہے اور آج شادی دو افراد کے درمیان ایک معاہدے کی صورت اختیار کرگئی ہے جبکہ کچھ عرصہ قبل اسے دو خاندانوں کا ملاپ تصور کیا جاتا تھا۔ اٹلی میں بھی بر صغیر کے خاندانوں پر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ بعض اوقات اپنے بچوں کی جبری شادی کرتے ہیں۔ حنا سلیم اور شہناز بیگم کے قتل کے بعد اٹلی میں بھی جبری شادی کا مسئلہ سنجیدہ ہوتا جا رہا ہے ۔

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

برطانیہ کے انتخابات میں تین مسلم خواتین پارلیمان کی رکن منتخب

2010alt کے عام انتخابات میں اکیس ایشیائی خواتین نے برطانیہ کی تینوں بڑی جماعتوں کی جانب سے حصہ لیا تھا اور یہ برطانوی پارلیمان کی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ کوئی مسلم خاتون رکنِ پارلیمان بنی ہے۔ منتخب ہونے والی خواتین میں برمنگھم سے تعلق رکھنے والی بیرسٹر شبانہ محمود، مشرقی بولٹن کی یاسمین قریشی اور لندن کے علاقے بیتھنل گرین کی روشن آراء علی شامل ہیں اور ان تینوں خواتین نے لیبر پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لیا تھا۔ پاکستان سے نو سال کی عمر میں برطانیہ آنے والی ایڈوکیٹ یاسمین قریشی نے اس الیکشن میں اٹھارہ ہزار سات سو بیاسی ووٹ حاصل کر کے اپنے مدِ مقابل کنزرویٹو امیدوار اینڈی مورگن کو ساڑھے آٹھ ہزار ووٹوں کے واضح فرق سے شکست دی۔ اس حلقے میں گزشتہ الیکشن کے برعکس کنزرویٹو امیدوار نے قریباً تین فیصد زیادہ ووٹ حاصل کیے اور لیبر کو آٹھ فیصد ووٹوں کی کمی کا سامنا کرنا پڑا تاہم اس کے باوجود لیبر نے یہ سیٹ جیت لی۔ لندن کے بیتھنل گرین حلقے سے انتخاب جیتنے والی روشن آراء علی پہلی بنگلہ دیشی نژاد برطانوی شہری ہیں جو رکنِ پارلیمان بننے میں کامیاب ہوئی ہیں۔ انہوں نے لبرل ڈیموکریٹ امیدوار اجمل مسرور کو دس ہزار سے زائد ووٹوں کے فرق سے شکست دی۔ خیال رہے کہ بیتھنل گرین میں بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی اکثریت آباد ہے اور یہاں ہونے والے انتخاب میں تمام بڑی جماعتوں کی امیدوار بنگلہ دیشی نژاد ہی تھے۔ منتخب ہونے والی تیسری مسلم خاتون شبانہ محمود نے برمنگھم کے لیڈی ووڈ حلقے سے 19950 ووٹ حاصل کر کے کامیابی حاصل کی۔ شبانہ کے مدِ مقابل لبرل ڈیموکریٹ امیدوار ایوب خان کو 9845 ووٹ ملے جبکہ اسی حلقے سے کنزرویٹو پارٹی کی خاتون امیدوار نصرت غنی نے چار ہزار دو سو ستتر ووٹ حاصل کیے۔ شبانہ کے برعکس برمنگھم میں جس مسلم خاتون امیدوار کی فتح کی پیشنگوئیاں کی جا رہی تھیں وہ یہ معرکہ سر نہیں کر سکیں۔ انتخابات سے قبل برمنگھم کے ہال گرین حلقے میں جارج گیلووے کی رسپیکٹ پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے والی سلمٰی یعقوب کی فتح کے واضح امکانات ظاہر کیے جا رہے تھے تاہم انتخابی نتائج کے مطابق یہاں سے لیبر پارٹی کے راجر گوڈسف 16039 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے ہیں جبکہ سلمٰی نے 12240 ووٹ لیے ہیں۔ شکست کے باوجود رسپیکٹ پارٹی کا اتحاد اس نشست پر گزشتہ انتخابات کی نسبت قریباً چودہ فیصد زائد ووٹ لینے میں کامیاب رہا ہے۔ خیال رہے کہ سنہ 2000 میں ہونے والی مردم شماری کے مطابق برمنگھم کےگرین ہال حلقے میں مسلم ووٹرز کی تعداد برطانیہ کے کسی بھی حلقے کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔ اس حلقے میں مسلمان ووٹرز کا تناسب اڑتالیس فیصد ہے۔

 

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت اتوار, 11 دسمبر 2011 11:30