Wednesday, Apr 24th

Last update12:39:09 AM GMT

RSS

مس اطالیہ کے مقابلے میں غیر ملکی لڑکیاں حصہ لیں گی

روم۔ تحریر، ایلویو پاسکا 27 مئی 2012 ۔۔۔۔ اٹلی کی مس اطالیہ کے مقابلے کی ڈائریکٹر پتریسیا میرالیانی نے اعلان کیا ہے کہ اس سال غیر ملکی لڑکیاں بھی مس اطالیہ کےمقابلے میں حصہ لے سکیں گی ۔ ان لڑکیوں کے لیے ضروری ہے کہ انکے پاس پرمیسو دی سوجورنو ہو اور یہ ایک سال سے زیادہ مدت سے اٹلی میں آباد ہوں ۔ انکی عمر 18 سال سے 26 سال تک ہو ۔ جیتنے والی لڑکی کو مس اطالیہ کے ساتھ ستمبر کے مہینے میں Montecatini Termeمیں تاج پہنایا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ عورتیں امیگریشن میں اہم کردار کرتی ہیں اور اس کے علاوہ انٹیگریشن کے لیے ضروری ہے کہ ان غیر ملکیوں کو بھی موقع دیا جائے جو کہ اٹلی میں اپنا گھر بنا چکے ہیں اور اس ملک کو اپنا ملک سمجھتے ہیں ۔ اٹلی میں 5 ملین کے قریب غیر ملکی آباد ہیں اور اب وقت آگیا ہے کہ انہیں مختلف مواقع فراہم کیے جائیں ۔ یاد رہے کہ اس مقابلے کیوجہ سے وہ ہزاروں جوان نسل کی لڑکیاں اس مقابلے میں حصہ نہیں لے سکیں گی جو کہ اٹلی میں پیدا ہوئی ہیں اور یہیں جوان ہوئی ہیں ، یہ لڑکیاں اپنے آپ کو غیر ملکی تصور نہیں کرتیں لیکن موجودہ شہریت کے قانون کیوجہ سے انہیں قومی مقابلوں سے اس لیے باہر رکھا جا رہا ہے کیونکہ انکے پاس اٹالین پاسپورٹ کی بجائے کسی دوسرے ملک کا پاسپورٹ ہوتا ہے ۔ اٹلی میں غیر ملکیوں کی انٹیگریشن اور جوان نسل کی انٹیگریشن کے لیے ضروری ہے کہ موجودہ قانون میں تبدیلی واقع کی جائے کیونکہ اٹلی کی خوبصورتی اب وہ روائیتی اٹالین لڑکی نہیں بلکہ کالے رنگ والی لڑکی یا پھر چینی شکل والی لڑکی بھی ہو سکتی ہے ۔

alt

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت پیر, 09 جولائی 2012 10:09

میلان کے مشہور ماڈل ذیشان ملک کے خیالات

ذوالقرنین کے قلم سے ۔۔۔ پاکستان نژاد اٹالین ماڈل ذیشان ملک اٹالین اور پاکستانی کمونٹی میں اپنی ایک منفرد پہچان رکھتے ہیں ۔ ذیشان ملک ماڈلنگ کے شعبے میں ایک ابھرتا ہوا ستارہ ہے ، نیلی اور جھیل جیسی آنکھوں والا ذیشان ملک جہاں بھی جاتا ہے لوگوں کی نگاہوں کا مرکز بن جاتا ہے ۔ ذیشان ملک کی عمر صرف 17 سال ہے اور ڈریس ڈیزائننگ سکول میں تعلیم حاصل کر رہا ہے ۔ راولپنڈی کی اعوان فیملی سے تعلق رکھنے والے ملک خالد اقبال کا یہ ہونہار فرزند بہت ساری خداداد صلاحیتوں کا مالک ہے ۔ آزاد کے خصوصی نمائندے ذوالقرنین خان سے ملاقات کے دوران ذیشان ملک نے بتایا کہ وہ اپنی کلاس میں ہونہار طالبعلم ہے ۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ ماڈلننگ کرنا اس کا شوق ہے  اور وہ مستقبل میں ماڈلننگ میں اپنا اور اپنے ملک کا نام روشن کرنا چاہتا ہے ۔ ذیشان ملک نے بتایا کہ وہ فٹبال کا بھی اچھا کھلاڑی ہے اور اپنے سکول کی ٹیم سے کئی ٹورنامنٹس کھیل چکا ہے ۔ اپنی فٹنس قائم رکھنے کے لیے ذیشان ملک کو باڈی بلڈنگ کلب میں جانا پڑتا ہے ۔ اس نے بتایا کہ اسے اپنے والدین اور بڑے بھائی ذوہیب سے بہت محبت ہے ۔ ذیشان ملک نے کہا کہ اسے اپنی والدہ کے ہاتھ سے بنا ہوا کھانا بہت پسند ہے ۔ کبھی کبھار اپنے والد سے مار کھانے کو جی کرتا ہے لیکن میرے والد کو کبھی غصہ ہی نہیں آتا ۔ ذیشان ملک نے کہا کہ دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ میں قرآن پاک بھی altپڑہ رہا ہوں ۔altalt

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

Girolamo Savonarola

 

 

Girolamo Savonarola

21 september 1452 Ferrara, 23 may 1498 Florence

جیرولامو سوونارولا اٹلی کے شہر فرارا میں 1452 میں پیدا ہوا اور 23 مئی 1498 میں اسے ساری دنیا کے سامنے لکڑی کے ٹال کے اوپر اٹلی کے شہر فلورنس میں پیاتزا دالا سنیوریہ پے زندہ جلا دیا گیا۔   سوونارولا نے اپنی زندگی کے ابتدائی ایام میں بائیبل کی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد اس نے ارسطو اور تھامس ایکویناس کی کتابیں پڑھیں۔ اس کی پہلی شاعری کی کتاب ’’دی روئینا مندی‘‘ یعنی دنیا کا زوال جب منظرِ عام پے آئی تو اس وقت اس کی عمر بیس سال تھی۔ اس نے دوسری کتاب رومن چرچ کے خلاف لکھی۔ جس میں اس نے رومن چرچ اور ویٹیکن سٹی اور پوپ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔    جس طرح مسلمانوں میں مختلف سلسلے ہوتے ہیں جیسے نقشبندی، سہروردی وغیرہ بالکل اسی طرح عیسائیوں میں بھی مذہبی سلسلے ہوئے ہیں جنھیں یہ آرڈرز سا اوردنی کہتے ہیں۔ دوسلسلے بہت مشہور ہیں۔ ایک تو فرانچسکن آرڈر ہے اور دوسرا ڈومینیکن آرڈر۔ ایک دو شاعری کی کتابیں لکھنے کے بعد سوونارولا نے ڈومینیکن آرڈر سے ناطہ جوڑ لیا اور اس طرح اس نے بلونیاں کے چرچ سنتا ماریہ دل آنجلی میں مذہب کے حوالے سے مزید تعلیم حاصل کرنی شروع کردی۔ سوونارولا کو مذہبی تعلیم دینے کے لیئے فلورنس بھیجا گیا لیکن اسے کوئی کامیابی نصیب نہ ہوئی۔ یہ واپس بلونیاں آگیا اور اس نے مذہب کے حوالے سے مزید تعلیم حاصل کرنی شروع کی۔ کچھ عرصے بعد سوونارولا کو دوبارہ فلورنس بھیج دیا گیا تانکہ وہ لوگوں ڈومینیکن آرڈر کے حوالے تعلیم دے۔ اس دفعہ اسے کامیابی ہوئی اور وہ بہت سے لوگوں کو قائل کرنے میں کامیاب ہوگیا کہ عیسائیت کی اصل تعلیمات کیا ہیں۔ اس کے پیروکاروں میں بارہ سے اٹھارہ سال کے نوجوان ہوتے۔ اس کے خیال چرچ اور پادریوں کا سادہ زندگی گزارنے چاہیئے بلکہ عام لوگوں کو عیش و نشاط کی زندگی نہیں گزارنی چاہیئے۔ اس نے اپنے پیروکار کو گھر گھر بھیجنا شروع کردیا کہ جس کے پاس کوئی بھی قیمتی چیز ہیں وہ خدا کی نظر کردے۔ آخر اس نے فلورنس کے شہر پیتسا دالا سیئیوریہ میں آگ کا ایک بہت بڑا الاؤ جلایا اور اس میں ایسی تمام کتابیں جلا دی جس سے انسان ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکتا تھا۔ اٹلی مشہور پینٹر مائیکل آنجلوں نے یہ آگ اپنی آنکھوں سے دیکھی۔ اس نے مشہور مصوروں کے تصاویر اس آگ میں جلتے دیکھیں۔ اس آگ میں ساندرو بوتیچیلی نے بھی اپنی کئی تصاویر جلا دیں کیوں اسے ڈر تھا کہیں اس کو ساوونارولا کے بندے جان سے نہ ماردیں۔ لورینزو دی میڈشی کی پلوٹونک اکیڈمی کے سارے فلاسفر بھاگ گئے۔ ان میں سے ایک پولزسیانو بائیس زبانوں کا ماہرتھا۔ آہستہ آہستہ ساوونارولا کی دہشت بڑھنے لگی۔ لوگوں نے ڈر کے مارے گھر سے نکلنا بند کردیا۔ ایک دن ایسا آیا کہ ساوونارولا نے خود کو پیغمبر کہنا شروع کردیا۔ وہ کہنے لگا میں خدا سے بات چیت کرتا ہوں۔ شروع میں اس کی تعلیمات سچی تھیں اور لوگ اس کے فلسفے کے قائل ہوگئے تھے۔ بعد میں جب اس نے ویٹیکن سٹی پے اٹیک کرنا شروع کیا تو اس کے بہت سے مخالفین نے جنم لیا۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ساوونارولا کی پشت پناہی فرانس کا بادشاہ اس لیئے کررہا تھا کیونکہ فلورنس کے بادشاہ لورنزوں دی میڈشی کو بھگانا چاہتا تھا۔ اس کے علاوہ وہ ویٹیکن سٹی کے بھی خلا ف تھا کیوںکہ اس نے چرچ سے مختلف جنگوں کے لیئے بہت زیادہ ادھار لے رکھا تھا۔     آخر کار 23 مئی سن چودہ سو اٹھانویں میں جیرولامو کو ساری دنیا کے سامنے ویٹیکن کی مخالفت کے جرم میں زندہ جلا دیا۔ اس وقت اس کی عمر پینتالیس سال تھی۔ تحریر، سرفراز بیگ از اریزو . تصویر میں جیرولامو کا بت فرارا شہر کے چوک میں دکھائی دے رہا ہے ۔

alt

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

جیرولامو سوونارولا

 

 

Girolamo Savonarola

21 september 1452 Ferrara, 23 may 1498 Florence

جیرولامو سوونارولا اٹلی کے شہر فرارا میں 1452 میں پیدا ہوا اور 23 مئی 1498 میں اسے ساری دنیا کے سامنے لکڑی کے ٹال کے اوپر اٹلی کے شہر فلورنس میں پیاتزا دالا سنیوریہ پے زندہ جلا دیا گیا۔   سوونارولا نے اپنی زندگی کے ابتدائی ایام میں بائیبل کی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد اس نے ارسطو اور تھامس ایکویناس کی کتابیں پڑھیں۔ اس کی پہلی شاعری کی کتاب ’’دی روئینا مندی‘‘ یعنی دنیا کا زوال جب منظرِ عام پے آئی تو اس وقت اس کی عمر بیس سال تھی۔ اس نے دوسری کتاب رومن چرچ کے خلاف لکھی۔ جس میں اس نے رومن چرچ اور ویٹیکن سٹی اور پوپ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔    جس طرح مسلمانوں میں مختلف سلسلے ہوتے ہیں جیسے نقشبندی، سہروردی وغیرہ بالکل اسی طرح عیسائیوں میں بھی مذہبی سلسلے ہوئے ہیں جنھیں یہ آرڈرز سا اوردنی کہتے ہیں۔ دوسلسلے بہت مشہور ہیں۔ ایک تو فرانچسکن آرڈر ہے اور دوسرا ڈومینیکن آرڈر۔ ایک دو شاعری کی کتابیں لکھنے کے بعد سوونارولا نے ڈومینیکن آرڈر سے ناطہ جوڑ لیا اور اس طرح اس نے بلونیاں کے چرچ سنتا ماریہ دل آنجلی میں مذہب کے حوالے سے مزید تعلیم حاصل کرنی شروع کردی۔ سوونارولا کو مذہبی تعلیم دینے کے لیئے فلورنس بھیجا گیا لیکن اسے کوئی کامیابی نصیب نہ ہوئی۔ یہ واپس بلونیاں آگیا اور اس نے مذہب کے حوالے سے مزید تعلیم حاصل کرنی شروع کی۔ کچھ عرصے بعد سوونارولا کو دوبارہ فلورنس بھیج دیا گیا تانکہ وہ لوگوں ڈومینیکن آرڈر کے حوالے تعلیم دے۔ اس دفعہ اسے کامیابی ہوئی اور وہ بہت سے لوگوں کو قائل کرنے میں کامیاب ہوگیا کہ عیسائیت کی اصل تعلیمات کیا ہیں۔ اس کے پیروکاروں میں بارہ سے اٹھارہ سال کے نوجوان ہوتے۔ اس کے خیال چرچ اور پادریوں کا سادہ زندگی گزارنے چاہیئے بلکہ عام لوگوں کو عیش و نشاط کی زندگی نہیں گزارنی چاہیئے۔ اس نے اپنے پیروکار کو گھر گھر بھیجنا شروع کردیا کہ جس کے پاس کوئی بھی قیمتی چیز ہیں وہ خدا کی نظر کردے۔ آخر اس نے فلورنس کے شہر پیتسا دالا سیئیوریہ میں آگ کا ایک بہت بڑا الاؤ جلایا اور اس میں ایسی تمام کتابیں جلا دی جس سے انسان ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکتا تھا۔ اٹلی مشہور پینٹر مائیکل آنجلوں نے یہ آگ اپنی آنکھوں سے دیکھی۔ اس نے مشہور مصوروں کے تصاویر اس آگ میں جلتے دیکھیں۔ اس آگ میں ساندرو بوتیچیلی نے بھی اپنی کئی تصاویر جلا دیں کیوں اسے ڈر تھا کہیں اس کو ساوونارولا کے بندے جان سے نہ ماردیں۔ لورینزو دی میڈشی کی پلوٹونک اکیڈمی کے سارے فلاسفر بھاگ گئے۔ ان میں سے ایک پولزسیانو بائیس زبانوں کا ماہرتھا۔ آہستہ آہستہ ساوونارولا کی دہشت بڑھنے لگی۔ لوگوں نے ڈر کے مارے گھر سے نکلنا بند کردیا۔ ایک دن ایسا آیا کہ ساوونارولا نے خود کو پیغمبر کہنا شروع کردیا۔ وہ کہنے لگا میں خدا سے بات چیت کرتا ہوں۔ شروع میں اس کی تعلیمات سچی تھیں اور لوگ اس کے فلسفے کے قائل ہوگئے تھے۔ بعد میں جب اس نے ویٹیکن سٹی پے اٹیک کرنا شروع کیا تو اس کے بہت سے مخالفین نے جنم لیا۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ساوونارولا کی پشت پناہی فرانس کا بادشاہ اس لیئے کررہا تھا کیونکہ فلورنس کے بادشاہ لورنزوں دی میڈشی کو بھگانا چاہتا تھا۔ اس کے علاوہ وہ ویٹیکن سٹی کے بھی خلا ف تھا کیوںکہ اس نے چرچ سے مختلف جنگوں کے لیئے بہت زیادہ ادھار لے رکھا تھا۔     آخر کار 23 مئی سن چودہ سو اٹھانویں میں جیرولامو کو ساری دنیا کے سامنے ویٹیکن کی مخالفت کے جرم میں زندہ جلا دیا۔ اس وقت اس کی عمر پینتالیس سال تھی۔تصویر میں سرفراز بیگ

alt

 

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

عورت نے جنم دیا مردوں کو

اپریل 2008 کو آسٹریا کی حکومت نے جوزف فرٹزل کو گرفتار کیا۔ یہ شخص 24 سال تک اپنی بیٹی کو اپنی ہوس کا نشانہ بناتا رہا اور اس کے اپنی بیٹی سے سات بچے پیدا ہوئے۔ ایک تو پیدائش کے فورا بعد فوت ہوگیا اور باقی چھ بچے اپنی ماں کے ساتھ ایک قلعے میں رہتے ہیں۔ اس شخص نے چوبیس سال تک اپنی بیٹی کو تحہ خانے میں قید رکھا۔ اٹلی کے شہر بریشیا میں ایک پاکستانی باپ نے اپنی بیٹی حنا سلیم کو اس لیئے قتل کردیا کیونکہ وہ کسی اطالوی لڑکے سے شادی کرنا چاہتی تھی۔ اس کے علاوہ اس کے باپ کی خواہش تھی کہ وہ پاکستان میں اپنے باپ کی مرضی سے شادی کرے۔ گزشتہ دنوں اٹلی کے شہر تارانتو میں ایک پندرہ سالہ لڑکی سارا سکاتزی کی لاش ایک کنوئیں سے ملی۔ اس کے چچا نے لڑکی کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانا چاہا۔ جب وہ نہ مانی تو اس کو قتل کردیا اور اس کے بعد اس کے مردہ جسم کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا۔ پچھلے دنوں اٹلی کے ایک چھوٹے سے شہر جو کہ مودینا کے پاس ہے۔ایک پاکستانی شخص احمد بٹ نے اپنے بیٹے کے ساتھ مل کے اپنی بیوی کو قتل کردیا۔ وہ اپنی بیٹی نوشین بٹ کی شادی اس کی مرضی کے خلاف کسی لڑکے سے پاکستان میں کرنا چاہتا تھا۔ لڑکی اور اس کی ماں نے مخالفت کی تو باپ بیٹے نے مل کے لڑکی کی ماں کو قتل کیا اور اس کے بعد ان کا ارادہ تھا کہ نوشین کو بھی قتل کردیں گے لیکن وہ ان کی چنگل سے بچ گئی۔ انسان کی بنیادی ضروریات میں جہاں روٹی ،کپڑا اور مکان ہیں وہاں جنس بھی زندگی کا ضروری جز ہے۔ مندرجہ بالہ واقعات میں جہاں انسانی بربریت نظر آتی ہے وہاں ان میں نفسیاتی پہلو بھی نظر آتے ہیں۔ مرد عورت پے حکومت کرنا چاہتا ہے جب وہ اپنے حقوق کے لیئے جنگ کرتی ہے تو وہ اسے ہر طریقے سے دبانے کی کوشش کرتا ہے۔ آج سے دو ہزار سال پہلے افریقہ کے تقریبا سارے ممالک میں عورتوں کی حکومت تھی۔ مرد نے یہ حکومت ان سے چھینی اور اس کے بعد اس نے  عورت کے حقوق سلب کرنے شروع کیئے۔ جب حضرت محمد صلہ للہ علیہ وسلم پیدا ہوئے تو عربوں میں عورت کو زندہ درگور کرنے کا رواج تھا۔ آپ نے عورت کے حقوق رائج کیئے۔ قران میں عورتوں کے بارے میں سورت نسائ میں عورت کے بارے میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ علم کا حاصل کرنا مرد اور عورت دونوں پر لازم ہے۔ اسلام میں عورت کو اپنی مرضی کی شادی کی اجازت ہے۔ میں نا چیز یہ لکھنے میں عار محسوس نہیں کرتا کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خود پسند کیا تھا۔ آپ عرب ممالک اور پاک و ہند کے ممالک کے عشقیہ قصے لے لیجئے۔ جیسا کہ لیلی مجنوں، ہیر رانجھا، سسی پنوں، سوہنی ماہیوال۔ سب میں عورتوں کے نام پہلے آتے ہیں اس کے برعکس یورپیئن عشقیہ قصوں میں رومیو جولیٹ، سیمسن اینڈ ڈیلائیلا دونوں میں مردوں کا نام پہلے آتا ہے۔ اس کے علاوہ انسانیت لفظ مونث ہے جبکہ مین کائینڈ مذکر ہے۔ یورپیئن زبان میں عورتوں کے لیئے ایک لفظ ہے جو کہ یونانی زبان کا لفظ ہے ,,گائینی,, جس کا مطلب ہے عورت۔ پاکستان میں عورت کو ووٹ کا حق 1947 میں ملا سوئس میں عورت کو ووٹ کا حق 1970  میں ملا۔ ہماری غزلیں، نظمیں، شاعری، ڈرامے ،افسانے، ناول ،کہانیاں عورتوں کے وجود کے بغیر مکمل ہی نہیں ہوتیں۔ جس میں کالی داس کا شاکنتلا سب سے قدیم ہے۔ اس حوالاجات کو لکھنے کا مقصد ہے کسی کی دل آزاری کرنا نہیں بلکہ اس بات کو باور کرانا چاہتا ہوں کہ عورت بھی انسان ہے اس کے ساتھ نہ صرف مسلمان بلکہ یورپیئن بھی زیادتی کرتے ہیں۔ عورت بھی انسان ہے اور اسے بھی اس دنیا میں جینے کا اتنا ہی حق ہے جتنا کہ مردوں کو۔ اگر عورت اور مرد اپنی حدود میں رہ کے اپنے حقوق و فرائض کو پہچانے تو اس طرح کے مسائل جو کہ ہمیں درپیش ہیں ان کا ہمیں کبھی سامنا نہ کرنا پڑے۔

سرفراز بیگ اریزو 3200129522

alt

 

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت جمعرات, 05 اپریل 2012 19:20