Saturday, Sep 22nd

Last update12:39:09 AM GMT

آزاد کی انٹرنیٹ کی سائٹ www.azad.itکا آغاز

روم۔۔۔ تحریر، اعجاز احمد ۔۔۔ اٹلی میں آباد خواتین و حضرات اور پیارے بچوں کو یہ خوشخبری سنائی جاتی ہے کہ آزاد اخبار کی انٹرنیٹ کی سائٹ www.azad.itکا آغاز ہو گیا ہے ۔ اب آپ ایک کلک کرتے ہوئے وہ تمام خبریں اور اٹلی کے امیگریشن کے قوانین اردو میں پڑہ سکتے ہیں جو کہ آپکو آزاد اخبار میں ملتے ہیں ۔ سائنس کی ترقی میں شامل ہونے کے لیے میں نے بھی یہ قدم اٹھایا ہے ۔ تمام تارکین وطن سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ آزاد کی سائٹ کو preferiti  میں رکھ لیں ۔ آزاد اخبار ماہانہ ہے اور چند ایسی خبریں ہوتی ہیں جو کہ فوری طور پر عوام تک پہنچنی لازمی ہوتی ہیں ، اسی خاطر ہم نے سائٹ کا اہتمام کیا ہے ۔ استرانیری ان اطالیہ نے 13 زبانوں میں سائٹیں بنا دی ہیں اور ان میں اب آزاد یعنی اردو کی سائٹ بھی شامل ہو گئی ہے ۔ www.azad.itمیں پاکستان کی خبریں، اٹلی کے امیگریشن کے قوانین، اٹلی کے پاکستانی، اٹلی میں موجود پاکستانیوں کی خوشی، غمی اور جرائم کی خبریں ،اٹلی میں موجود پاکستانی کھلاڑی، کامیاب نوجوان اور پاکستان ایمبیسی کی خبریں شامل ہونگی ۔ وہ لوگ جو کہ آزاد کے لیے اپنی صحافتی خدمات پیش کرنے کے خواہش مند ہوں ، ان سے گزارش ہے کہ وہ مجھ سے رابطہ کریں ۔ آپ کی شکایات، اشتہار، اعلان اور خبریں اس سائٹ میں شائع ہونگی ۔ یاد رہے کہ آزاد اخبار 10 سال سے اٹلی میں موجود پاکستانی کمونٹی کی خدمت کر رہا ہے ۔ گو کہ ہماری صحافت کا انداز اور ہے لیکن پھر بھی ہماری خدمت انتھک ہے ۔ یہ اخبار اٹلی میں ہی بنے گا ، یعنی دوسری سا‏ئٹوں کی طرح اسے پاکستان نہیں روانہ کیا جائے گا اور نہ ہی اسے رسمی اخبار بنایا جائے گا ۔ رسمی اخبارات تمام ایک جیسے ہوتے ہیں اور ایسی صحافت کو اجاگر کرتے ہیں ، جس میں صرف چند مرد حضرات کی تعریفیں، علاقائیت پرستی اور پاکستان پر نظر ہوتی ہے ۔ ایسے اخبار ہمیں ماضی کی طرف گامزن کرتے ہیں اور مستقبل کے خلاف ہوتے ہیں ۔ ہمارا مستقبل اٹلی ہے ، ہمیں اٹلی میں صرف انٹیگریٹ نہیں بلکہ کامیاب بھی ہونا ہے ، یہ ہمارا دوسرا ملک بن چکا ہے ۔ www.azad.itمیں ایک صفحہ اٹالین زبان میں ہو گا ، جس میں ہماری دوسری نسل کے پاکستانی اور اٹالین عوام لکھ اور پڑہ سکیں گے ۔ پاکستان کی ساخت کو مثبت بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اٹالین زبان میں بھی قلم میں روانگی پیدا کریں ۔ دوستو ، تمام مشکلات کے باوجود میری کاوش کو فبول کریں، اس کام میں مجھے کوئی بچت نہیں ہوتی اور میری بیوی اکثر مجھ سے لڑتی ہے اور کہتی ہے " تم صحافت کو چھوڑو اور کوئی کام کرو ، اولاد جوان ہو رہی ہے " ۔ شاعر نے کہا تھا

اے قافلے والو میری  ہمت کو  سراہو

ہر چند کہ زخمی تھے قدم ساتھ دیا ہے

alt

 

Ejaz Ahmad Mob:3476937016.    یہ ای میل پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com