Sunday, Aug 25th

Last update12:39:09 AM GMT

سعودی عورت کی اولمپکس میں نمائندگی پر تشویش

altمئی 2012 ۔۔۔ انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کا کہنا ہے کہ اگرچہ دو ہزار بارہ کے اولمپکس مقابلوں کے آغاز میں تھوڑا وقت رہ گیا ہے  تاہم وہ ابھی تک سعودی عرب کی جانب سے اولمپکس میں خواتین ایتھلیٹس کو شرکت کی اجازت نہ دینے کے معاملے کا حل تلاش نہیں کر سکی ہے۔سعودی عرب نے اولمپکس کے لیے اپنے قومی دستے میں خواتین کو شامل کرنے سے انکار کیا ہے اور سعودی دستہ لندن اولمپکس کا واحد دستہ ہوگا جس میں کوئی عورت نہیں ہوگی۔سعودی عرب میں قدامت پسند مذہبی رہنما عورتوں کے کھیلوں کے عوامی مقابلوں میں شرکت کے مخالف ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔سعودی قومی اولمپکس کمیٹی کے صدر شہزادہ نواف نے گزشتہ ماہ ایک سعودی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ خواتین ایتھلیٹس کو بھیجنے کے حامی نہیں ہیں۔ماضی میں سعودی عرب کے علاوہ قطر اور برونائی نے بھی کبھی اولمپکس دستے میں کسی خاتون کو شامل نہیں کیا تاہم اس مرتبہ یہ دونوں ممالک خواتین کو اولمپکس دستے میں شامل کر رہے ہیں۔انٹرنیشنل اولمپکس کمیٹی کے صدر جیکس راگ کا کہنا ہے کہ وہ پرامید ہیں کہ سعودی خواتین بھی لندن اولمپکس مقابلوں میں حصہ لے پائیں گی۔کینیڈا میں آئی او سی کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ہم ان سے بات چیت کر رہے ہیں اور ایتھلیٹ کوالیفائی کرنے کی کوششیں کر رہی ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ وہ مقررہ وقت کے اندر کھیلوں کے لیے کوالیفائی کرنے میں کامیاب ہوں گی‘۔آئی او سی کے صدر کا کہنا تھا کہ ’یہ آسان چیز نہیں ہے۔ ہم پرعزم ہیں اور ان(سعودی حکام) کے ساتھ مل کر ایک اچھا حل تلاش کرنے کے لیے کوشاں ہیں‘۔سعودی عرب کی جانب سے اولمپکس مقابلوں میں خواتین کی شرکت پر پابندی اولمپک چارٹر کے خلاف ہے اور اس خلاف ورزی پر سعودی عرب کو کھیلوں سے خارج بھی کیا جا سکتا ہے۔حقوقِ انسانی کی عالمی تنظیموں نے بھی اولمپکس کمیٹی پر دباؤ بڑھا دیا ہے کہ اگر سعودی عرب اپنے اولمپکس دستے میں خواتین کو شامل نہیں کرتا تو اس پر پابندی لگا دی جائے تاہم جیکس راگ نے کسی قسم کی پابندی پر بات کرنے سے انکار کیا۔ان کا کہنا تھا کہ ’ انتظار کریں اور دیکھیں۔ ہم ابھی کسی خیالی حالات کے بارے میں سوالات کا جواب نہیں دے سکتے‘۔

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com