Thursday, May 23rd

Last update12:39:09 AM GMT

Galileo Galilei (15 february 1564---8 january 1642)

 

اٹلی کا مشہور سانئسدان اٹلی کے شہر پیسا میں پیداہوا ۔اس کا باپ اپنے دور کا مشہور موسیقار تھا اور اس کے چھ بہن بھائی تھے لیکن ان میں سے صرف دو وندہ بچے۔ ایک تو باپ کے نقشے قدم پے چلتے ہوئے موسیقار بن گیا لیکن گلیلیو گلیلائی نے سائنسدان بننا پسند کیا۔ اس کا پورا نام تھا گلیلیو دی ونچینسو بوناوتی دی گلیلائی۔ جب اس کی عمر آٹھ سا ل تھی تواس کے خاندان والے فلورنس منتقل ہوگئے۔ اس نے زندگی کے چند سال جاکوبو بورگینی کے ساتھ گزارے اس کے بعد اسے فلورنس سے پینتیس کلومیٹر دور کمالدولی مونیسٹری یا خانقاہ میں بھیج دیا گیا۔ اس دور میں گلیلیو ایک راسخ العقیدہ کیتھولک عیسائی تھا۔ اس کی شادی مرینا گامبا سے ہوئی اور اس کے تین بچے پیدا ہوئے۔ گلیلیو کے باپ کی خواہش تھی کہ وہ پادری بنے لیکن اور ابتدامیں اس کا اپنا بھی یہی خیال تھا لیکن بعدمیں اس نے میڈیکل کی ڈگری کے لیئے پیسا یونیورسٹی میں داخلہ لیا جو اس نے مکمل کیئےبغیر ہی چھوڑ دی، اس کے بعد اس نے ریاضی اور حساب کے مضمون پسند کیئے۔ عجیب و غریب آدمی تھا پادری بنتے بنتے ڈاکٹر بنا، ریاضی دان بنا، لیکن پھر فلورنس کی اکیڈمی میں مصوری کا استاد بھرتی ہوگیا۔ اس کے بعد اسے پیسا یونیورسٹی میں ریاضی کے استاد کی نوکری مل گئی۔ پھر اسے پادووا میں جومیٹری، میکینکس اور ایسٹرونومی پڑھانی کی نوکری مل گئی۔ اس دوران اس نے ایجادات کی طرف غور کرنا شروع کیا اور دوربین بنانےکے نئے نئے تجربات کرنے لگا۔ اس نے جب پہلی دفعہ یہ نظریہ پیش کیا کہ زمین سورج کے گرد چکر لگاتی ہے تو اس دور کے پادریوں نے اس پر فتوا لگادیا اور کتنی عجیب بات ہے کہ اسے ویٹیکن سٹی نے 2008 میں معاف کیا ہے۔ اس نے پیسا ٹاور پے چڑھ کے اسرائی کے قانون پے تحقیق کی اور ثابت کیا کہ رفتار میں تبدیلی وزن کے مطابق ہو تی ہے۔ جب گلیلیو نے اپنی کتاب ال ساجاتورے میں اپنے نئے نظریات پیش کیئے تو ایک پادری جو کہ ریاضی دان بھی تھا اورازیو گراسی نے اس کے خلاف کتاب لکھی اور اس نے گلیلیو کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کی جس کے جواب میں گلیلیو اور اس کے ایک دوست ماریو جودوچی نے اپنی نئی کتاب کے دیباچے میں چرچ کے پرانے انداز کے فلسفوں پر تنقید کی جس کی وجہ سے گلیلیو پر فتوا لگایا گیا۔ بائیبل کے کئی ابواب میں زمین کو ایک مستقل رکی ہوئی چیزلکھا گیا ہے جبکہ گلیلیو نے اسے سورج کے گرد گھومتے ہوئے بتایا جس کی وجہ سے چرچ نے اسے اپنا دشمن اور لادین کہنا شروع کردیا۔ گلیلیو نے اپنی صفائی میں بہت کچھ کہا لیکن کسی نے اس کی نہ سنی اور اس کو اس دور کے انتہا پسندوں کی طرف سے سزا سنائی گئی جن کو انکویزیشن کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس کو ساری زندگی گھر میں نظر بند رہنے کا حکم سنایا گیا کیونکہ اس کا جرم صرف اتنا تھا کہ اس نے ایک نیا نظریہ پیش کیا تھا جو کہ صحیح تھا کہ زمین سورج کے گرد تین سو پیسنٹھ دنوں میں چکر لگاتی ہے اور چاند زمین کے گرد تیس دنوں میں چکر لگاتا ہے۔ جب گلیلیو کو گھر میں نظر بند کیا گیا تو وہ یہی کہتا تھا کہ زمین سورج کے گرد چکر نہیں لگاتی جبکہ وہ بڑی آہستگی سے کہا کرتا چکرتو لگاتی ہے۔ اس کو سزا کے طور پر تین سال کے لیے  بائیبل کے مختلف باب پڑھنا لازمی قرار دے دیے گئے ۔ آخری دنوں میں اس کی نظر جاتی رہی اور ا س کو ساری نیند نہ آیا کرتی ۔اس کو صرف دوا دارو کے لیئے فلورنس جانے کی اجازت تھی حالانکہ اس کو جدید سائنس کا بانی مانا جاتا ہے۔ اس کے خیالات سے متاثر ہو کر کوپرنیکس، کیپلر نے خاطر خواہ ایجادات کیں۔  77 سال کی عمر میں اس جدید سائنس کے بانی نے دنیا سے پردہ فرمایا اور اس دور کے لوگوں نے اس عظیم اور جدید سائنس کے بانی کو چرچ میں دفن کرنے کا سوچالیکن اسے وہاں نہ دفن کیا جاسکا کیونکہ چرچ کے مطابق وہ گناہگار تھا لیکن اسکے مرنے کے سوسال بعد اس کے تابوت کو چرچ میں دفن کیا گیا۔ گلیلیو نے دس کتابیں لکھیں اور آج تک اس کی کتابوں سے لوگ مستفید ہوتے ہیں جن میں البرٹ آئنسٹائن، سٹیفن ہاکنگز جیسے عظیم لوگ شامل ہیں ہیں۔ گلیلیو نے ریاضی اور علمِ فلکیات میں بہت کام کیا جس سے اس دورکے مشہور ماہر فلکیات کارل ساگا نے بہت فائدہ اٹھایا اور اس کے علاوہ آئیسک ایزیموف نے بہت خوبصورت ناول لکھے۔ گلیلیو کے بارے میں داوا سوبل نے بہت اچھی کتابیں لکھی ہیں۔تحریر سرفراز بیگ از آریزو

alt

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com