Friday, Aug 14th

Last update06:26:21 PM GMT

وینس کے فلمی فیسٹیول کا پاکستانی فلم سے افتتاح

روم۔ یکم ستمبر 2012 ۔۔۔ دنیا کے مشہور فلمی میلوں میں اٹلی کے شہر وینس کا نام سر فہرست ہے ۔ اس سال وینس کے فلمی فیسٹیول کا پاکستانی فلم سے افتتاح کیا گیا ہے ، اس فلم کا نام Fondamentalista riluttanteیا باغی بنیادپرست ہے ۔ اس فلم کی پروڈیوسر انڈیا کی مشہور ہدائیتکار میرا نیئر ہیں اور یہ فلم پاکستانی مشہور و معروف مصنف محسن مجید کی کتاب کی کہانی کی عکاسی کرتی  ہے ۔ میرا نیئر نے وینس میں اپنی فلم کاا فتتاح کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں خوشی ہے کہ وینس میں ایک دلچسپ اور حساس معاملے والی فلم کو مدنظر رکھتے  ہوئے سرخ کالین  پر اسکےاافتتاح کو اولیت دی گئی ہے  ۔ میرا نیئر نے کہا کہ بنیاد پرستی صرف مذہبی نہیں بلکہ انسان کے ضمیر کی عکاسی ہے ، دنیا کو دیکھنے اور پرکھنے کا زاویہ ہے ۔امریکہ میں 11 ستمبر کے بعد دنیا بدل گئی ہے اور انسانوں کا دنیا کو پرکھنے کا انداز بدل گیا ہے ۔ مشرقی اور مغربی دنیا میں ایک دراڑپیدا ہو گئی ہے اور ان دونوں میں نفرت اور پراپیگنڈہ کی دیواریں کھڑی ہو رہی ہیں ۔ محسن حمید کی کتاب باغی بنیاد پرست میں چنگیز خان اور امریکی صحافی لاہور کے ایک ٹی روم میں بیٹھ کر بات چیت کرتے ہیں اور جوان چنگیز خان اپنی کہانی سناتا ہے کہ اس نے اپنے خاندان سے روا‏یتی تعلیم حاصل کی اور اسکے بعد امریکہ کی زندگی کا خواب دیکھا، امریکہ کی سب سے اہم یونیورسٹی پرینسٹن سے تعلیم حاصل کی  اور امریکہ کی سٹاک ایکسچینج یعنی وال سٹریٹ میں مینجر کے طور پر کام کرنے لگا ، ایک خوبصورت امریکن لڑکی سے ملاقات ہوئی اور اسے اپنی زندگی بھر کا ساتھی سمجھنے لگا لیکن اس کا یہ خواب اس وقت خاک میں مل گیا ، جب امریکہ میں 11 ستمبر کا دہشت گردی کا واقع پیش آیا ۔ لوگوں کی رائے بدل گئی ، دوست دشمن بن گئے اور ہر شخص اسے شک کی نگاہ سے دیکھنے لگا ۔ چنگیز خان کی زندگی میں ایک بڑی تبدیلی آگئی ۔ میرا نئیر نے کہا کہ میں نے امریکہ میں تعلیم حاصل کی ہے اور اس ملک سے محبت اور نفرت بھی کی ہے ۔ میں بھی نیویارک میں رہتی ہوں اور مجھے خود اس تجربے سے واسطہ پڑا ہے اور میرے کئی پاکستانی دوست تھے ، انکی زندگی اور حالات پر مجھے بھی خوف آتا تھا اور میں کافی پریشان تھی ۔ اپنے ہمسائے دشمن نظر آتے تھے اور وہ لوگ جو کہ ہم آہنگی اور انٹیگریشن کے گیت گاتے تھے ، وہی خاموشی اختیار کرتے ہوئے دور نظر آتے تھے ۔ پاکستان ایک خوبصورت ملک ہے ، جس میں ہزاروں سالوں کی تہذیب و تمدن اور ماڈرن کلچر اکٹھا سفر کرتے ہیں ، اس ملک میں فیض احمد فیص جیسے شاعر پیدا ہوئے ہیں اور یہاں کے مصنف، دانشور، مصور اور اداکار اعلی کردار کا کلچر پیش کرتے رہتے ہیں ، پاکستان میں ملبوسات کی ماڈلننگ اور دوسری کئی ایسی خصوصیات ہیں ، جنہیں دنیا کے اخبارات و ٹیوی میں جگہ نہیں دی جاتی ۔ اس ملک کو صرف ایک اینگل یا زاویے سے دیکھنے کیوجہ سے دنیا کی منفی رائے میں اضافہ ہوا ہے ۔ میں نے اپنی فلم مین مذہبی بنیاد پرستی کا زکر نہیں کیا اور میں نے کلچرل، معاشی اور فنانس کی بنیاد پرستی کو اجاگر کرتے ہوئے ایک رائے پیش کی ہے ۔ محسن حمید نے کہا کہ امریکہ میں تیس کروڑ انسان آباد ہیں اور سب ایک رائے نہیں رکھتے ، ہم سب انسان ہیں اور سکون و امن سے رہنے کے راستے تلاش کرتے رہتے ہیں ۔ میرا نیئر نے کہا کہ اب تک عراق اور افغانستان کے مسئلے پر امریکی فلمیں بنتی رہی ہیں لیکن اس فلم سے پاکستانی رائے عامہ کو اجاگر کیا گیا ہے اور امریکہ اور پاکستان کے درمیان ڈائیلاگ کو مدنظر رکھا گیا ہے ۔ عام طور پر امریکی فلموں میں امریکہ کی خالص ترین رائے کو تقویت دی جاتی ہے ۔ تصویر میں میرا نئیر فلم کے اداکاروں کے ہمراہ

alt

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com