Monday, Nov 11th

Last update12:39:09 AM GMT

شہریت کا قانون اسمبلی میں روک دیا گیا

altروم۔ 22 ستمبر 2012 ۔۔۔۔ دوسری نسل کے غیر ملکیوں کو فوری طور پر شہریت دینے کا قانون اسمبلی میں روک دیا گیا   ہے ۔ اٹلی کی سیاسی پارٹیاں پی ڈی ایل یعنی برلسکونی کی پارٹی اور لیگا نورد نے اس قانون کے خلاف بائیکاٹ کر دیا ہے ۔ سینٹ اور قومی اسمبلی میں شہریت کے قانون میں ترمیم کرنے کے لیے قوانین پیش کیے گئے تھے لیکن لگتا ہے کہ موجودہ حکومت اسے پاس کروانے میں ناکام رہے گی ۔ جون کے مہینے میں قومی اسمبلی کے ایک آئینی کمیشن نے دوسری نسل کے غیر ملکیوں کو شہریت دینے پر مختلف تجاویز پر کام شروع کر دیا تھا اور لگتا تھا کہ یہ قانون تمام سیاسی جماعتوں کی مثبت رائے سے پاس ہو جائے گا ۔ چند سیاسی جماعتوں کے اراکین نے کہا ہے کہ موجودہ شہریت کے قانون میں تبدیلی نہیں ہونے دیں گے اور دوسروں نے یہ کہا ہے کہ سال بعد ہونے والے الیکشنوں کے بعد دیکھا جائے گا کہ ہم نے کونسی تبدیلیاں لانی ہیں ۔ اب شہریت کے قانون میں ترمیم لانے کا وقت نہیں کیونکہ اٹلی میں عارضی حکومت قائم کر دی گئی ہے اور اکثریت کی سیاسی جماعتیں اسمبلی میں اپوزیشن کی طرح بیٹھ گئی ہیں ۔ شہریت کے قانون میں ترمیم کرنے کے لیے قومی اسمبلی اور سینٹ کے 10 کے قریب اجلاس بلائے گئے ہیں اور یہاں پی ڈی ایل پارٹی اور لیگا نورد نے ہمیشہ منفی رائے کا اظہار کیا ہے ۔ 25 جولائی کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں لیگا نورد کے رکن Pierguido Vanalliنے کہا تھا کہ شہریت کے قانون میں ترمیم کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ، اس لیے اس قانون کو مت چھیڑا جائے ، لیگا نورد پارٹی کا ہمیشہ سے یہی مؤقف رہا ہے کہ اٹلی میں دوسری نسل کے غیر ملکیوں کو 18 سال کی عمر ہونے پر شہریت دی جائے ۔ 31 جولائی کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں پی ڈی ایل پارٹی کے رکن Pietro Laffrancoنے کہا تھا ہم چند ترامیم کرنے کے لیے تیار ہیں ، یعنی شہریت حاصل کرنے کے لیے وقت کی مدت کم کی جائے اور بیروکریسی کو بھی کم کیا جائے کیونکہ شہریت حاصل کرنے کے لیے کافی وقت لگ جاتا ہے لیکن ہم نہیں چاہتے کہ موجودہ حکومت کوئی ایسی ترمیم کرے ، جس سے دوسری نسل کے غیر ملکیوں کو شہریت دینے کا قانون آسان بنایا جا سکے ، اس قانون میں ترمیم کرنے کے لیے آئندہ آنے والی حکومت کام کرے گی ۔ اب پی ڈی ایل کی رکن اسمبلی Isabella Bertoliniاور پی ڈی پارٹی کی Sesa Amiciکی ذمہداری ہو گی کہ وہ ایک نئی تجویز اراکین اسمبلی کو پیش کریں لیکن اس مقصد کے لیے وقت بہت کم رہ گیا ہے ۔ پی ڈی پارٹی کے Andrea Sarubbiاور ایف ایل ای پارٹی کے Fabio Granataنے یہ قانون اسمبلی میں پیش کیا تھا ، جس میں اپوزیشن اور حکومتی جماعتوں کے اراکین نے ووٹ دینے کا وعدہ کیا تھا اور 50 سے زیادہ اراکین اسمبلی فوری طور پر شہریت کے قانون میں ترمیم لانے کے لیے جمع ہو گئے تھے ، اس وقت لگتا تھا کہ اب شہریت کا قانون تبدیل ہو جائے گا ۔ اندریا سروبی نے کہا کہ جب 31 جولائی کے اجلاس میں چند سیاسی جماعتوں نے ہمارے خلاف ووٹ دیا تو ہماری امیدیں ختم ہو گئيں لیکن میں ہمت نہیں ہاروں گا اور آخر تک اس قانون میں ترمیم لانے کے لیے جنگ لڑوں گا ۔ تصویر میں ایک دوسری نسل کا پاکستانی ۔ تحریر، ایلویو پاسکا

 

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com