Monday, Nov 11th

Last update12:39:09 AM GMT

پاکستانی تیری عظمت کو سلام

22 دسمبر 2012۔۔۔ مسعود شیرازی کے قلم سے ۔۔۔۔ چند دن قبل ریجو امیلیا کے گاؤں گواستالا میں آباد حاجی محمد اسلم اچانک انتقال کرگئے ۔ ان کا تعلق میر پور آزاد کشمیر سے تھا اور وہ سوزی مرض سرطان میں مبتلا تھے ۔ کافی عرصہ سے بے روزگار بھی تھے اور کمونے نے فیملی کے لیے مکان بھی دے رکھا تھا ۔ بیوہ، بیٹی اور دو بیٹے تھے ۔ روزگار کا کوئی دوسرا سلسلہ نہیں تھا ، اس لیے خاندان کے لیے لاش کو پاکستان پہنچانا اور کاغذات وغیرہ کی تیاری کرنا کافی مشکل تھا ۔ گواستالا مسجد کمیٹی اور دیگر پاکستانی کمونٹی سے تعلق رکھنے والے افراد کی کوششوں سے قلیل وقت میں معقول رقم اکٹھی کرلی گئی اور باقی تمام بندوبست اور میلان کونصلیٹ سے کاغذات کی تیاری ایک دن مین مکمل کرلی گئی ۔ یہ وہ جذبہ ہے جو کہ دنیا کی دوسری قوموں میں کم ہی نظر آتا ہے ، حاجی صاحب سے خونی رشتہ تھا اور نہ ہی کوئی دوسرا تعلق ۔ صرف مسلم، پاکستانی اور انسانیت کے رشتے سے تمام مشکلات دور ہوگئیں ۔ یاد رہے کہ معاشی بحران کیوجہ سے کافی پاکستانی بے روزگار ہونے کے باوجود اس نیک کام میں اپنا حصہ ڈالتے ہوئے محب الوطنی اور انسانی ہمدردی کی مثال قائم کرتے ہوئے پاکستان کا نام روشن کرنے میں کامیاب ہوئے ۔ ہماری اس تنظیم کو دیکھ کر اٹالین کمونٹی اور خاص طور پر بچوں کے اساتذہ نے بہت تعریف کی ۔ یہی وہ جذبہ تھا ، جب 8 اکتوبر 2005 میں آزاد کشمیر میں آنے والے ہولناک زلزلے کے دوران دیکھنے میں آیا تھا ۔ ہر طرف تباہی تھی ، لاکھوں انسان شہید ہوچکے تھے اور شہروں کے شہر راکھ کی صورت اختیار کرچکے تھے ۔ ایسے حالات میں پاکستان کی قوم کا ہر شخص بے چین نظر آیا اور اپنے کشمیری بہن بھائیوں کی مدد کے لیے نکل پڑا ۔ ہر طرف مدد کے ٹینٹ لگ گئے ۔ ادوایات، کمبل اورکپڑوں کے ڈھیر لگ گئے اور امداد اتنی زیادہ تھی کہ اسے پہنچانے کے لیے ٹرانسپورٹ کم پڑگئی ۔ جذبہ، احساس، قربانی ، محب الوطنی اور انسانیت کی مثال قائم کردی گئی اور دنیا حیران ہو گئی ۔ ایسا جذبہ رکھنے والی قوم نہ جانے کیوں جب ملکی سالمیت اور خوشحال مستقبل کا وقت آتا ہے تو بے حس ہو کر دماغ و زہن کے تاک بند کر کے وقت کے فرعاؤنوں اور جلادوں کے ہاتھوں خاموش کیوں ہو جاتی ہے ۔ انکے ہاتھوں میں اپنی ڈور دے کر ایک عرصہ تک ہم اپنے عرصہ حیات کو تنگ کردیتے ہیں ، ایسا عمل کرنے سے سزا پوری قوم کو بھگتنا پڑتی ہے ۔ بعض اوقات تعلقات، برادری اور علاقائیت پرستی کے نام پر ہم پاکستان کا مستقبل داؤ پر لگا دیتے ہیں ۔ ملک کی تقدیر بدلنے کے لیے ہمیں اپنے ضمیر میں جگانا ہوگا ۔

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com