Tuesday, Mar 19th

Last update12:39:09 AM GMT

طاہر القادری، سمندرپار پاکستانی اور انقلاب

انقلاب راتوں رات نہیں آیا کرتا۔ قوموں کی عشروں تربیت کرنی پڑتی ہے ۔ دیہاتوں سے شہروں تک اور سبزہ زاروں سے صحراؤں تک چپے چپے کی خاک چھاننا پڑتی ہے ۔ آرام دہ کمروں میں بیٹھ کر سیاست پر پنجہ آزمائی کرنے والے انقلاب کے لیے جانیں نہیں دیا کرتے ۔ تپتی دھوپ میں جھلسنے والے کسان اور فیکٹریوں کے دھوئیں میں سلگنے والے مزدور ہی سینوں پر گولیاں کھانے کا حوصلہ رکھتے ہیں ۔ انقلاب پاکستان کے لیے بہت زیادہ محنت اور قربانیاں درکار ہیں ۔ سندہ کے افریقی نژاد شہریوں سے لیکر وزیرستان کے قبائلوں تک کو  اپنے حقوق کی اجتماعی جدوجہد کے لیے منظم کرنا ہو گا ۔ چین کے عظیم انقلابی لیڈر ماؤزے تنگ نے کہا تھا " انقلاب کوئی ڈنر پارٹی نہیں ہے " ۔ ڈاکٹر علامہ طاہر القادری کے لانگ مارچ کی کامیابی یا ناکامی سے قطع نظر اہم ترین نقطہ جسے نظر انداز کیا گيا ہے ، وہ یہ ہے کہ اس لانگ مارچ اور اس سے پہلے ہونے والے جلسہ میں بیرون ملک پاکستانیوں نے انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے  اور یہ اوورسیز پاکستانیوں کا وطن عزیز میں اپنی سیاسی قوت کا پہلا بھرپور اور منظم مظاہرہ تھا ۔ علامہ صاحب نے خود کئی بار اس امر کی تصدیق کی کہ انکی سیاسی سرگرمیوں کے لیے فنڈز سمندر پار پاکستانیوں نے فراہم کیے ہیں ۔ حقیقت انتہائی قابل غور ہے ۔ بیرون ملک پاکستانی جن کے پاس سرمایہ بھی ہے ، تجربہ بھی اور اپنے وطن پر سب کچھ لٹا دینے کا جذبہ بھی ، پاکستان کے کرپٹ نظام کے خاتمہ کے لیے فیصلہ کن جنگ لڑنے کے لیے نظر آرہے ہیں ۔ اگرچہ یہ ایک نسبتا چھوٹی جماعت کی سیاسی تحریک تھی ، اگر تارکین وطن کو وسیع پلیٹ فارم میسر آگیا تو بدعنوان اشرافیہ کو چھپنے کی جگہ نہ ملے گی ۔ جو لوگ باہر بیٹھ کر ملک کی معیشت چلا سکتے ہیں ، وہ سیاست کا رخ بھی موڑ سکتے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ اگر بیرون ملک پاکستانی کچھ عرصہ کےلیےزرمبادلہ روانہ بند کردیں تو پاکستان کی معیشت جامد ہو جائے ۔ کتنی عجیب بات ہے کہ سیاست دان اور میڈیا طاہر القادری کو بیرون ملک قیام کا طعنہ دیتے ہیں ۔ کیا وہ بھول گئے ہیں کہ قائد اعظم انگلستان اور گاندھی جنوبی افریقہ سے تشریف لائے تھے ، کیا پاکستان کے تمام بڑے سیاست دانوں کی اولادیں ، اثاثے اور کاروبار بیرون ملک نہیں ہیں ؟ پاکستان کو اتنا نقصان دوہری شہریت والوں نے نہیں پہنچایا ، جتنا اکلوتی والوں نے پہنچایا ہے ۔ تارکین وطن محنت مزدوری اور خون پسینے کی کمائی سے زرمبادلہ پاکستان روانہ کرتے ہیں اور ہمارے سیاست دان اسی سرمایہ کو لوٹ کر دوبارہ بیرون ملک یا سویٹزرلینڈ کے بنکوں میں روانہ کردیتے ہیں ۔ دولت کی یہ کیسی منحوس گردش ہے ۔ پاکستان کی مردہ معیشت میں روح پھونکنے والے ان تارکین وطن کو بدلے میں کیا ملتا ہے ؟ ائر پورٹوں پر تذلیل، جائیدادوں پر قبضے، خاندان اور کاروبار غیر محفوظ۔۔۔۔۔۔ وقت آگیا ہے کہ تمام سمندر پار پاکستانی ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو کر اپنے حقوق کی جدوجہد کریں بلکہ اپنے مظلوم فرسودہ استحصالی نظام کو جڑ سے اکھاڑ دیں۔  رات طویل ضرور ہے مگر روشن صبح ضرور آئے گی ۔ تحریر، خرم شریف از بلونیا ۔ موبائل 3201178275

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت اتوار, 27 جنوری 2013 10:52