Sunday, Jan 20th

Last update12:39:09 AM GMT

اٹلی میں پاکستانی عورت

 

میں اٹلی میں رہنے والی خواتین کو اگر مبحوس عورتیں کہوں تو غلط نہ ہوگا۔میرا اشارہ ان عورتوں کی طرف ہے جو شادی کے بعد یہاں وارد ہوتی ہیں۔ اٹلی میں پائے جانے تارکین وطن کی زیادہ تعداد پاکستان کے دیہی علاقوں سے ہے اور خاص کر پنجاب کے دیہی علاقوں سے ۔صوبہ سرحد اور سندھ کے لوگ تو آپ کو یورپ میں مل جائیں گے لیکن صوبہ بلوچستان کا باشندہ شاید ہی آپ کو کبھی ملے۔بات ہو رہی تھی مبحوس عورتوں کی ۔پاکستانی عورت کو بچپن میں ہی سکھا دیا جاتاہے کہ تم جو بھی شوق پورے کرنے ہوئے شادی کے بعد کرنا اس لیئے انہیں اپنے تمام خوابوں کو دل میں دبا کے رکھنا پڑتا ہے۔شادی ان کے لیئے ایک فینٹیسی بن جاتی ہے۔نہ جانے شادی کے بعد کیا ہوگا یا ہوتا ہے۔ہمیں ہر قسم کی آزادی ہوگی۔ماں باپ کے گھر باپ اور بھائی کی عزت کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔شادی کے بعدخاوند اور بیٹے کی عزت کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔مردوں کی عزت سنبھالتے سنبھالتے یہ عورت اللہ کو پیاری ہوجاتی ہے اور یہی چار مرد (میرا مطلب ہے کوئی بھی چار مذکر اشخاص) اسے قبرستان لے جاتے ہیں اور منوں مٹی کے نیچے دفن کردیتے ہیں۔ 1990  میں اٹلی نے پہلی دفعہ امیگریشن کھولی اور پورے یورپ سے الیگل امیگرنٹس کا ریلہ اٹلی کی طرف آیا۔ان میں زیادہ تر لوگ یورپ کے عادات و اطوار سے واقف تھے۔چند ایک نئے لوگ بھی تھے۔ان امیگرنٹس میں اٹھارہ سال سے لیکر پچاس سال تک کے لوگ تھے۔ان میں غیر شادی شدہ،شادی شدہ اور گم شدہ بھی تھے(گم شدہ وہ لوگ تھے جنھوں نے یورپ آنے کے بعد گھر والوں کی کبھی خبر ہی نہ لی)۔اب جب لوگوں کے کاغذات کا مسئلہ حل ہوا، رہنے کو جگہ ملی اور کام کامسئلہ بھی حل ہوا تو جو لوگ شادی شدہ تھے انھوں نے اپنے بیوی بچوں کو بلانے کا سلسلہ شروع کیا۔اس طرح اٹلی میں پاکستانی عورتوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا۔اس میں آپ ان لوگوں کو مت شامل کیجئے جو ایمبیسی میں کام کرتے ہیں یا فاؤ میں کام کرتے ہیں۔
میں پہلے بھی ذکر کرچکا ہوں کہ اٹلی میں تارکینِ وطن کی زیادہ تعداد دیہات سے تعلق رکھتی ہے۔اس لیئے ان کے بیوی بچے بھی دیہاتی زندگی چھوڑ کر اٹلی وارد ہوئے تھے اور ہوتے ہیں۔یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے آپ گرِڈ سٹیشن سے بجلی جاری کریں اور بنا کسی ٹرانسفارمر کے سیدھی بلب میں آجائے۔بلب نہ صرف پھٹ جائے گا بلکہ آگ لگنے کا بھی اندیشہ ہوتا ہے۔میرا اشارہ کلچرل سکزم(cultural schism)کی طرف ہے، حالانکہ اٹلی یورپ کے دیگر ممالک سے بہت مختلف ہے۔یہاں پرانی عمارات بہت ہیں اور گھر بھی پرانے پرانے ہیں اور ان کی تعمیر بھی پاکستان کے گلی محلوں کے مکانوں جیسی ہے۔اس لیئے گھر میں داخل ہوکے یورپ کا کوئی خاص رنگ نہیں ملتا۔ پاکستان میں امیگریشن کے دوران لڑکی کو اٹلی کی ایمبیسی کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔پہلے تو وہاں قطار میں کھڑے ہوکر ٹوکن لے کر کام ہوجایا کرتا تھا لیکن اب یہ کام ایجنٹوں نے سنبھال لیا ہے۔خیر ویزہ لگتے ہی یہ لڑکی جب ایئرپورٹ پے آتی ہے تو اس کے لیئے نئی دنیا ہوتی ہے۔ٹانگے، لاری، گڈے اور رکشہ پے بیٹھنے والی لڑکی جب جہاز میں بیٹھتی ہے تو یہ اس کے لیئے بہت بڑی بات ہوتی ہے۔سیٹ بیلٹ باندھنا،کھانا کھانا یہ تمام عوامل اس کے لیے بہت مشکل ہوتے ہیں لیکن طوحاًکرحاً وہ ان تما م مراحل سے گزرجاتی ہے۔آٹھ گھنٹے کا یہ تھکادینے والا سفرجب ختم ہوتا ہے تو وہ بہت خوش ہوتی چلو اس سیٹ بیلٹ سے تو جان چھوٹی۔جیسے ہی جہاز سے نکل کر ایئرپورٹ کی حدود میں داخل ہوتی ہے، اسے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ یورپ میں نہیں کسی چنگڑوں یا جانگلیوں کے ملک میں آگئی ہے۔ہر طرف شور سنائی دیتا ہے۔اٹالین لوگ بہت اونچا بولتے ہیں اور ہاتھوں کو بھی ساتھ ساتھ ہلاتے رہتے ہیں۔جب یہ محترمہ ٹرالی پے اپنا سامان رکھے، پلاسٹک کے تھیلوں مٹھائی اور دیگچے اٹھائے باہر آتی ہیں تو سامنے ان کاشوہر کھڑا ہوتا ہے۔جو یا تو کسی کی گاڑی مانگ کر لایا ہوتا ہے یا کسی کی منت سماجت کرکے ساتھ لایا ہوتا ہے یا پھر ٹرین کا سہارا لیا جاتا ہے۔اس طرح اِن محترمہ نے جس بھی شہر میں ان کا شوہر رہتا ہے وہاں جانا ہوتا ہے۔یہ کہانی کسی ایک لڑکی کی نہیں بلکہ اٹلی میں آنے والی زیادہتر لڑکیوں کی کہانی ایسی ہی ہوتی ہے۔جب گھر پہنچتی ہے تو اسے پتا چلتا ہے کہ یہاں دو دو ،تین تین فیملیاں مل کر رہتی ہیں۔بہانہ یہ کیا جاتا ہے کہ یہاں غیر ملکیوں کو گھر کرائے پر نہیں ملتے اس لیئے گزارہ کرنا پڑتا ہے۔حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا۔ سب کی تنخواہ لگی بندھی ہوتی ہے اور اس میں سے بچت کرکے سب نے اپنے گھر والوں کی بھی مدد کرنی ہوتی ہے حالانکہ یہ بہت مشکل کام ہے لیکن ایسا ہی ہوتا ہے۔جیسے ہی لوگوں کو پتا چلتا ہے ، سب لوگ ایک ایک کر کے دعوت کرتے ہیں۔دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہیں۔دوستی بڑھتے بڑھتے گھریلوں تعلقات تک آپہنچتی ہے۔پھر اِدھر کی باتیں ا’دھر اور ا’دھر کی باتیں اِدھر ہونے لگتی ہیں۔پھر اس لڑکی کو پتا چلتا ہے کہ یہاں کا ماحول تو بہت خراب ہے۔یہاں کی عورتیں تو غیبت جیسے برے فعل میں ملوث ہیں۔بعد میں وہ خود بھی ان کا حصہ بن جاتی ہے۔
اٹلی میں رہنے والی پاکستانی عورتوں کی زیادہ تعداد گھر پے ہی رہتی ہے کیونکہ انہیں ان کے مردوں یا شوہروں کی طرف سے زبان سیکھنے کے لیئے سکول جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔نہ کام کی پے اجازت ہوتی ہے۔حتیٰ کہ وہ خود بازار سے جا کر خرید و فروخت بھی نہیں کرسکتیں۔ماں با پ کے گھر میں لاڈ و پیار میں پلنے والی یہ لڑکی جب اٹلی آتی ہے تواس کا سردیوں کا موسم بڑا تکلیف دہ ہوتا ہے۔رات کو تو کمبل اور رضائی کی مدد سے جسم کو گرم کرلیتی ہے لیکن صبح ہوتے ہی تکلیف مرحلہ شروع ہوجاتا ہے۔یہاں لوگ ہیٹر دن میں دو دفعہ چلاتے ہیں۔صبح دو گھنٹے اور شام کو دو گھنٹے۔ کچھ گھروں میں صرف شام کو دو گھنٹے ہیٹر چلائے جاتے ہیں۔اس کی وجہ گیس کا بل ہے جو بہت زیادہ آتا ہے۔اس لیئے تین تین فیملیاں مل کر بھی رہتی ہیں پھر بھی گیس کا بل ادا کرنا مشکل ہوتا ہے۔اس لیئے یہ پاکستان کی بیٹی سارا دن گرم کپڑے پہن کر ،جرابیں اور ٹوپی پہنے گھر کے کاموں میں مصروف رہتی ہے۔شام کو جب ہیٹر چلتے ہیں تو وہ اس ہیٹر کے لوہے کے پائپوں کے ساتھ چپک کے بیٹھ جاتی ہے اور ا’ف تک نہیں کرتی۔کبھی ماں باپ پوچھیں تو کہتی ہے، یہاں بڑی ’پرسکوں زندگی ہے لیکن آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسوں گرتے ہیں۔گھر والوں کے لیئے یہی بہت ہے کہ اپنے شوہر کے ساتھ رہتی ہے اور وہ بھی یورپ میں، اس سے بڑی اور کیا بات ہوسکتی ہے۔سردیوں کا یہ چھ سات مہینے کا دور جب گزر جاتا ہے تو تب یہ ’سکھ کا سانس لیتی ہے۔
یہ نہ مسلمانوں کے تہوار بھرپور طریقے سے منا سکتی ہے اور نہ ہی جس ملک میں رہتی ہے اس کے تہوار مناسکتی ہے۔عید الفطر اور عید الضحیٰ ،ان دونوں تہواروں پے اگر ہفتے یا اتوار کا دن نہ ہو تو اس کے شوہر کو کا م پے جانا پڑتا ہے۔ چھٹی کرے تو کام کے چھوٹ جانے کاڈر ہوتا ہے اس لیئے شام کو ہی ملاقات ہوتی ہے۔
خرید و فروخت کے لیئے میرا مطلب ہے کپڑا لتا اول تو پاکستان سے ہی منگوا لیا جاتا ہے کیونکہ یہاں بنے ہوئے کپڑے تو پاکستانی عورت نہیں پہن سکتی ناں۔اس لیئے سخت سردی میں بھی جاپانی ،ریشمی کپڑے (جو کہ اب جاپان میں نہیں پاکستان میں ہی بنتا ہے)کی بنی ہوئی شلوار قمیص پہنتی ہے۔جس کی شلوار ذرا سی ہوا چلے تو ٹانگوں کے ساتھ چپک جاتی ہے اور سردیوں میں تو ٹانگیں بھی اکڑ جاتی ہیں۔لیکن کیا کریں لوگوں کا خیال ہے کہ شلوار قمیص یقیناًکوئی اسلامی لباس ہے جس کا زیب تن کرنا ہر مسلمان عورت پر فرض ہے۔گھر کے استعمال کی دیگر چیزیں سٹالوں سے خریدی جاتی ہے۔اس میں جوتے ،بچوں کے کپڑے، گھریلوچیزیں، ساری کی ساری سٹالوں سے خریدی جاتی ہیں جسے اطالوی زبان میں مرکاتوکہتے ہیں۔چیز کی قیمت کم سے کم جتنی بھی ہو لیکن زیادہ سے زیادہ پانچ یورو ہونی چاہیئے۔کھانے میں بھی بڑی کفایت شعاری برتی جاتی ہے۔سالن روٹی پر اکتفا کیا جاتا ہے۔یہاں کے پھل ،بقول ان کے ذائقہ دار نہیں ہوتے ۔ یہ ٹھیک ہے کہ یورپیئن ملکوں میں پھلوں کا وہ ذائقہ نہیں ہوتا جو پاکستان یا دوسرے ایشیائی ملکوں کے پھلوں کا ہوتا ہے لیکن ان میں توانائی اتنی ہی ہوتی ہے اور حفظانِ صحت کے اصولوں کے مطابق ہوتے ہیں۔اب ذائقہ کیوں نہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں پھلوں کی نشوء نماں کے لیئے کیمیکل (کھاد) استعمال کیئے جاتے ہیں۔جس سے نہ صرف یہ جلدی بڑے ہوجاتے ہیں بلکہ عام وزن سے بھی زیادہ ہوتے ہیں۔جس طرح گائے یا بھینس کا زیادہ دودھ حاصل کرنے کے لیئے مختلف چیزیں استعمال کی جاتی ہیں اور اجناس کی زیادہ پیداوار کے لیئے کیمیکل سے بنی ہوئی ادویات استعمال کی جاتی ہیں اور کھلاڑی نشہ آور ادویاء استعمال کرکے اپنا سٹیمنا بڑھاتے ہیں۔اس لیئے اب یورپ میں بائیلوجیکل چیزیں چل پڑی ہیں۔بائیلوجیکل سٹورز کھل گئے ہیں۔ دودھ بھی بائیلوجیکل آنے لگا ہے۔
اٹلی میں پاکستانی عورت کو رہتے ہوئے جب کچھ عرصہ گزر جاتا ہے تو اسے ایک ایسے مرحلے سے گزرنا پڑتا ہے جو کہ اس کے لیئے کسی امتحان سے کم نہیں ہوتا۔وہ مرحلہ حمل کا ہے۔جب یہاں عورت حاملہ ہوتی ہے تو سب سے پہلے اس کا خون اور پیشاب ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔پیشاب ٹیسٹ کرنے کے بعد پتا چلتا ہے کہ آیا کے یہ عورت امید سے ہے یا نہیں۔اس کی ریپورٹ اگر پوزیٹیو ہو تو امید سے ہے۔اس کام کے لیئے پہلے اپنی لیڈی ڈاکٹر یا ڈاکٹر کے پاس جانا پڑتا ہے۔لیکن بغیر شوہر کے وہ کہیں
نہیں جاسکتی۔شوہر کو کام سے دو گھنٹے کی چھٹی لینی پڑتی ہے یا سارے دن کی چھٹی کرنی پڑتی ہے۔فیکٹری میں کام کرنے والے ملازمین کے لیئے چھٹی کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔اس پوزیٹیو ریپورٹ کے سے ساتھ ایک نئی کہانی کا آغاز ہوتا ہے جو نو ماہ تک چلتی رہتی ہے۔جس طرح بنیئے کی لال کتاب ہوتی اس طرح یہاں حاملہ عورت کی بھی ایک کتاب ہوتی ہے یا آپ اسے اپنی آسانی کے لیئے کھاتا کہہ لیجئے۔اس میں تمام تواریخ درج ہوتی ہیں کہ کب کب پیشاب ٹیسٹ کروانا ہے، خون ٹیسٹ کروانا ہے،گائینوکولوجسٹ کے پاس کب جانا ہے ،ایکوگرافی کب کروانی ہے،پاپ ٹیسٹ کب ہوگا۔ یہ تمام چیزیں گورنمنٹ کی طرف سے مفت فراہم کی جاتی ہیں بس آپ کا کا م ہے اس کتاب کے مطابق دی گئی تواریخ پے متعلقہ جگہ چلے جائیں۔اس سارے عمل میں اس کے شوہر کا ساتھ ساتھ ہونا بہت ضروری ہوتا ہے۔ڈاکٹر اس کے شوہر سے کہتا ہے، "mi capicci" ۔وہ ، "si...si" کرتا رہتا ہے کیونکہ اسے ڈاکٹر کی آدھی بات سمجھ آتی ہے اور آدھی نہیں۔ایکوگرافی سے بچے کا ماں کے پیٹ میں پتا چلتا رہتا ہے کہ اس کی نشوو نماں کیسی ہورہی ہے۔اس سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ لڑکا ہے یا لڑکی ہے۔اگر لڑکی ہوتو مرد بڑی بے دلی سے کہتا ہے ، ’’جو اللہ کی مرضی‘‘ اور اگر لڑکا ہو تو لوگوں کو روک روک کے کہتا ہے ، ’’جی منڈاوے، ایکوگرافی وچ پتا چل گیا اے‘‘ (لڑکا ہے ،ایکوگرافی میں پتا چل گیا ہے)۔اگر لڑکی ہو تو آخری دن تک یہی کہتا رہے گا ، ہمارے مذھب یہ بات جاننا منع ہے ۔نہ ہی میں نے پوچھنا مناسب سمجھا۔ویسے بھی ابھی کچھ پتا نہیں کہ لڑکا ہے یا لڑکی ہے۔یہ نو ماہ لڑکی کے لیئے بہت مشکل ہوتے ہیں۔پاکستان میں کوئی نا کوئی پوچھنے والا ضرور ہوتا ہے لیکن یہاں نہ صرف اٹلی میں بلکہ پورے یورپ میں سب اپنی اپنی دوڑ میں مصروف ہوتے ہیں۔شوہر کام پے چلا جاتا ہے۔اگر کبھی ٹیسٹ کروانا ہو تو پھر اسے ساتھ جانا پڑتا ہے۔آخری دنوں میں جب بچے کی پیدائش کا وقت قریب آجاتا ہے تو اسے ہسپتال داخل کردیا جاتا ہے۔بڑے بڑے پھنے خان ، جن کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ ان کی بیوی کی ایک جھلک بھی کوئی نہ دیکھ سکے (حالانکہ وہ دوسروں کی بیویوں بھرپور طریقے سے دیکھتے ہیں) جب اس مرحلے سے ان کی بیوی گزرتی ہے تو خاموش ہوجاتے ہیں۔کیا کریں جی مجبوری ہے۔یہاں گائیناکولوجسٹ نہ صرف عورتیں بلکہ مرد بھی ہوتے ہیں۔لیبر روم میں بھی جس کی ڈیوٹی ہو وہ کام کرتا ہے خواہ وہ مرد ہو یا عورت۔چونکہ پاکستانی عورتیں زبان نہیں سیکھتیں۔میدیا تورے کلتورالے کا کورس کرنا توبہت دورکی بات ہے، مرد میدیا تورے کلتورالے پاکستانی خاوندوں کو ناقابلِ قبول ہوتا ہے۔اس لیئے وہ اپنی بیوی کو مڈوائف اور گائیناکولوجسٹ کے حوالے کرکے خود باہر انتظار کرتے رہتے ہیں۔اپنی مردانگی پے اکڑتے رہتے ہیں۔ ان کی بیوی شرم و حیاء اور درد کے مارے تڑپ رہی ہوتی ہے۔بچے کی پیدائش کے وقت ا’سے اتنی تکلیف ہوتی ہے کہ وہ دل میں یہی سوچتی ہے اور دعا کرتی ہے کہ اسے دوبارہ یہاں نہ آنا پڑے لیکن اس بیچاری کو کیا پتا کہ سال دو سال بعد دوبارہ یہیں آنا ہے۔
اب جب ماں بن جاتی ہے تو اس کی تنہائی کسی حد تک دور ہوجاتی ہے۔سارا دن بچے کے کاموں میں مصروف رہتی ہے۔دن میں کئی بار اپنے گھر والوں کو یاد کرکے روتی ہے کیونکہ ایسی کئی باتیں ہوتی ہیں جو عورت اپنے شوہر کے ساتھ بھی نہیں کرسکتی نہ ہی وہ کسی اور کے ساتھ کر سکتی ہے۔وہ باتیں یا تو وہ اپنی ماں سے کرسکتی ہے یا اپنی بہن سے۔جب اسے یہاں آئے دوسال کا عرصہ گزرجاتا ہے پھر اس کی گھر والوں سے ملنے کی تڑپ شدت اختیار کرجاتی ہے۔اس کا شوہر کسی ٹریول ایجنسی سے قسطوں پے اپنی اور اپنے بچے یا بچوں کی اور بیوی کی ٹکٹیں خریدتا ہے ۔کچھ اپنے دوستوں سے ادھار لیتا ہے۔جس میں وہ
پاکستان کے لیئے خرچہ علیحدہ رکھتا ہے۔کچھ خرید و فروخت کے لیئے رقم رکھ چھوڑتا ہے۔اٹلی میں لوگ مختلف گروپوں میں تقسیم ہیں۔جیسا کہ لاہور گروپ،منڈی بہاوالدین گروپ، گجرات گروپ،فیصل آباد گروپ، سیالکوٹ گروپ ، شہر کے حساب سے گروپوں کی تقسیم ہوتی ہے۔اس کے علاوہ چودھری،ملک،گجر،بھٹی، راجے اس طرح کے بھی گروپ ہیں۔یہی قانون اٹلی میں رہنے والی لڑکی پر بھی لاگوں ہوتا ہے۔ادھار گروپ کے حساب سے دیا جاتا ہے۔جیسے ہی دوسال کے بنواس کے بعد پاکستان کی یہ بیٹی اپنے ملک پہنچتی ہے تو اس کی آواز بدل چکی ہوتی ہے۔اس کی وجہ سرد ملک میں رہنا ہے کیونکہ ٹھنڈے ملکوں میں رہنے والوں کی آوازتھوڑی مختلف ہوتی ہے۔موسم کا اثر ووکل کورڈ(vocal chord) پے پڑتا ہے جس کی وجہ سے آواز تھوڑی بھاری ہوجاتی ہے۔ مثال کے طور پہ انڈیا کی اداکارہ رانی مکرجی کی آواز بھدی اور بھاری ہے اس کی وجہ اس کا ووئس بوکس(voice box)ہے جو زیادہ سگرٹ پینے کی وجہ سے بھاری ہوگیا ہے۔جیسے ہی لوگ باہر سے آنے والوں سے بات کرتے ہیں وہ فوراً اس بات کو جان لیتے ہیں کہ یہ لوگ کسی یورپیئن ملک سے آئے ہیں۔ایئر پورٹ پے پہنچتے ہی انہیں ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ہے۔لڑکی اپنے ماں باپ سے مل کر دھاڑے دھاڑے مار مار کے روتی ہے۔ وہ یہی سمجھتے ہیں دوسال بعد مل رہی ہے اس لیئے بیچاری رو رہی ہے لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا۔وہ تو انہیں یہ سمجھانا چاہ رہی ہوتی کہ مجھے کس گناہ کی سزادی ہے جو میری شادی اٹلی کردی ۔
جیسے ہی اپنے شہر یا گاؤں پہنچتی ہے تو اسے سارے لوگ بیمار بیمار لگتے ہیں۔اگر وہ بچوں کے ساتھ جائے تو سب سے پہلے اس کے بچے بیمار ہوجاتے ہیں۔ اس کی وجہ صرف اور صرف یہ ہوتی ہے بچوں کی قوتِ مدافعت میں تبدیلی آجاتی ہے۔اب سارے گھر والے اِدھر ادھر بھاگ رہے ہوتے ہیں کوئی منرل واٹر لارہا ہے کوئی امریکہ یا انگلینڈ سے پڑھے ہوئے ڈاکٹر کو لارہا ہے۔ایک دو دنوں میں حالات معمول پے آجاتے ہیں۔لڑکی جب تمام تحائف تقسیم کرچکتی ہے، جو اس نے سٹالوں اور سستی مارکیٹوں سے خریدے ہوتے ہیں جن کی مالیت کم سے کم جتنی بھی ہو لیکن زیادہ زیادہ پانچ یورو ہوتی ہے۔سب کو بڑے پسند آتے ہیں کیونکہ اٹلی سے جو خریدے گئے ہوتے ہیں حالانکہ ان سب پے مہر میڈ ان چائینہ کی ہوتی ہے۔شروع میں چند دن سارے لوگ دعوت کرتے ہیں۔اچھے اچھے کھانے پکتے ہیں۔اٹلی کے قصے سنائے جاتے ہیں، ’’وہاں لوڈ شیڈنگ نہیں ہوتی،پانی صاف ہوتا ہے،میڈیکل کی
سہولتیں ہیں، تعلیم مفت ہے‘‘ ۔سب لوگ یورپ کے نظام سے بڑے متاثر ہوتے ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ اس بیچاری نے پاکستان سے اٹلی اور اٹلی سے جہاں وہ رہتی ہے بس وہاں تک کا سفر کیا ہوتا ہے۔اس کے علاوہ وہ کچھ نہیں جانتی۔جب گھر والوں کے ساتھ خرید و فروخت کرنے جاتی ہے تو دوکاندار یہ بات جان لیتا ہے کہ یہ محترمہ کسی غیر ملک سے آئی ہے۔وہ بڑی کوشش کرتی ہے کہ دوکاندار کو نہ پتا چلے لیکن وہ جان لیتے ہیں۔وہ یہی سمجھتی ہے شاید اس کے لباس ،تراش خراش اور زبان سے انہیں پتا چل جاتا ہے حالانکہ وہ اسے اس کی کنجوسی کی وجہ سے پہچانتے ہیں۔یورپ میں رہنے وا لے پاکستانی بہت کنجوس ہوتے ہیں اور سب سے زیادہ کنجوس انگلینڈ میں رہنے والی پاکستانی خواتیں ہیں۔اس طرح یہ پاکستانی لڑکی ، جب اس کے یورو ختم ہوجاتے ہیں(جو اس نے ٹکا ٹکا کر کے جوڑے ہوتے ہیں)تو واپسی کی راہ لیتی ہے۔نہ وہ پاکستانی لڑکی رہتی ہے نہ ہی وہ اٹالین ہوتی ہے۔کیونکہ پاکستان میں قیام کے دوران اسے سب لوگ یہی کہتے ہیں ،’’یہ باہر سے آئی ہے‘‘ اور اٹلی میں اٹالین اسے کہتے ہیں ،’’یہ غیرملکی ہے‘‘۔جب وہ پاکستان کا چکر لگا کے واپس اٹلی آتی ہے تو سکھ کا سانس لیتی ہے۔شکر خدا کا اپنے گھر پہنچ گئی ہوں۔ وہ سوچتی ہے میں یہاں جیسی بھی ہوں پاکستان میں کسی کو کیا پتا کہ میں کس حال میں ہوں۔میری سفید پوشی کا بھرم قائم رہتا ہے۔
22/12/2006 to 28/12/2006
سرفراز بیگ(SARFRAZ BAIG)
AREZZO 52100
3200127522
یہ ای میل پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com