Tuesday, Jan 21st

Last update12:39:09 AM GMT

ندیم کی کہانی

تحریر، اعجاز احمد ۔۔۔۔ ۔ جوزپے وکیل نے ایک نابالغ پاکستانی کا کیس لڑنا تھا ۔ یہ پاکستانی غیر قانونی طور پر اٹلی میں داخل ہوا تھا اور اس نے سیاسی پناہ کے کمیشن میں انٹرویو کے لیے جانا تھا ۔ ندیم نے اپنی کہانی سناتے ہوئے کہا کہ اس کا تعلق آزاد جموں کشمیر سے ہے اور اسکی عمر 17 سال ہے ۔ اپنے سفر کی کہانی سناتے ہوئے اس نے بتایا کہ میں ایک سال سے اٹلی میں آباد ہوں اور اٹالین بول لیتا ہوں ، اس لیے مجھے ترجمان کی ضرورت نہیں ۔ میں نابالغ غیر ملکیوں کے سنٹر میں آباد ہوں اور اٹالین زبان سیکھ چکا ہوں ۔ اب میں ہائی سکول میں جیومیٹری کا کورس کررہا ہوں اور ساتھ ساتھ پیزا بنانے کا کورس بھی کر رہا ہوں ۔ میں روم کے نواح میں موجود سنٹر میں رہتا ہوں ۔ ندیم نے بتایا کہ میرا گھر کشمیر کے ایک گاؤں میں ہے ۔ یہ گاؤں سرحد سے دور ہے اور یہاں ہم صرف سیکورٹی کے طور پر رہتے ہیں ۔ ہمارا اصل گھر بارڈر کے قریب ہے اور وہاں جنگ کیوجہ سے اکثر ہمیں فرار ہونا پڑتا ہے ۔ میرے والد ماضی میں پٹواری تھے لیکن انہوں نے کشمیر کو آزاد کروانے کے لیے نوکری چھوڑ دی اور مجاہدبن گئے ۔ میرے والد اکثر مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین کے ساتھ جاتے ہیں اور کشمیر کو آزاد کروانے کے لیے انڈین آرمی کے خلاف جنگ کرتے ہیں ۔ اسی جنگ میں میرا ایک بھائی شہید ہو چکا ہے ۔ میرے والد کی خواہش تھی کہ اب میں بھی مجاہد بنوں ۔ اسی سلسلے میں انہوں نے مجھے ایک مدرسے میں ٹرینگ کے لیے روانہ کردیا تھا ۔ اس مدرسے میں ٹیچر ہمیں یہ بتاتے تھے کہ کشمیریوں پر ظلم ہو رہے ہیں اور صاف الفاظ میں ہمیں زہنی طور پرجنگ کے لیے  تیار کیا جاتا تھا ۔ میں نے انکے حکام ماننے سے انکار کیا تو انہوں نے مجھے مارنا شروع کردیا ۔ میں نے اس مدرسے سے فرار ہونے کی کوشش کی تو انہوں نے میری ہڈیاں توڑ دیں ۔ میں علاج کے بہانے گھر آگیا اور میری والدہ نے تمام زیورات بیچ کر مجھے یورپ روانہ ہونے کے لیے کہا ۔ ہم نے ایجنٹوں کو 5 ہزار ڈالر دیے اور میرا سفر شروع ہوا ۔ میں ایک ٹرک کے زریعے کراچی پہنچا اور اسکے بعد تین دن تک وہاں رہنے کے بعد ہم گوادر سے ہوتے ہوئے سرحد پر پہنچے  ۔ یہاں سے ہم ایران کے بارڈر سے قریبی شہر میں پہنچ گئے ۔ یہاں پولیس نے مجھے گرفتار کرلیا اور دوبارہ پاکستان روانہ کردیا ۔ مجھے گوادر کے قریب جیل میں ڈال دیا گیا ۔ چند دنوں بعد مجھے رہا کردیا گیا اور اسکے بعد ایجنٹوں نے دوبارہ مجھے حاصل کرتے ہوئے ایران کے شہر تہران میں پہنچا دیا ۔ یہاں 8 دن رہنے کے بعد ہم ترکی کی سرحد کے قریب پہنچ گئے ۔ یہ سفر ہم نے گاڑی سے کیا ۔ اسکے بعد پیدل ہم نے مختلف ایجنٹوں کے زریعے ترکی کا بارڈر کراس کیا ۔ ہم ترکی کے مختلف شہروں سے ہوتے ہوئے استنبول پہنچ گئے ۔ یہاں پولیس نے مجھے دوبارہ گرفتار کرلیا اور 4 ماہ کی جیل کے بعد چھوڑ دیا ۔ یہاں ایجنٹوں کو مزید رقم دیتے ہوئے میں یونان پہنج گیا ۔ یہاں کچھ عرصہ رہنے کے بعد ایک کشتی کے زریعے ہمیں اٹلی پہنچا دیا گیا ۔ اس کشتی میں مختلف ممالک کے غیر ملکی موجود تھے اور ایجنٹ ترکی تھے ۔ اٹلی میں پہنچ کر میں نے اپنی عمر 18 سال سے زیادہ بتائی کیونکہ مجھے مشورہ دیا گیا تھا کہ کمسن ہونے کے بارے میں نہ بتانا ۔ مجھے آہستہ آہستہ روم کے ایک سنٹر میں منتقل کردیا گیا اور مجھے پتا چلا کہ یہاں نابالغ ہونے کے کافی فوائد ہیں تو میں نے سنٹر والوں کو بتایا کہ میں نابالغ ہوں ۔ میرا کیس بدل گیا اور مجھے نابالغ سنٹر میں منتقل کردیا گیا ۔ میری تعلیم ، صحت اور کیس کے بارے میں بھی سنٹر کا رویہ تبدیل ہو گیا ۔ یاد رہے کہ اٹلی میں نابالغ بچے یا بچی کو اسپیشل پروٹیکشن دی جاتی ہے ۔ ( یاد رہے کہ ندیم کی کہانی فرضی ہے )

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com