Sunday, Jan 20th

Last update12:39:09 AM GMT

کمی کازے

میرے ناول ’’پسِ آئینہ‘‘ سے اقتباس

 

آنسن کیوشی اوگاوا نے۱۱مئی ۱۹۴۵کو یو ایس ایس بنکر ہل پے جان بوجھ کے اپنا جہاز گرایا اور ۳۷۲انسانوں کی جان لی۔ جب اس کو اس مشن پے بھیجا گیا تو وہ بہت خوش دکھائی دے رہا تھا حالانکہ وہ جانتا تھا کہ اس کام میں اس کی اپنی جان بھی چلی جائے گی۔

انسانی عقل سوچتی ہے کہ وہ کون سے عوامل ہوتے ہیں جو انسان کو ایسے کاموں کی طرف راغب کرتے ہیں یا مائل کرتے ہیں۔

کمی کازے جاپانی زبان کا لفظ ہے ۔کمی کا مطلب خدا یا روح اور کازے کا مطلب ہے ہوا یا طوفان ہے یعنی خدا کی طرف سے بھیجی ہوئی ہوا یا طوفان۔ جب ۱۲۷۴اور ۱۲۸۱میں منگولوں نے جاپان پے حملہ کیا تو قدرتی طور پے اتنا شدید طوفان آیا کہ منگولین فوجیں منتشر ہوگئیں ۔ اسلیئے اس طوفان کا نام

کمیکازے رکھ دیا گیا یعنی خدا کی طرف سے بھیجی ہوئی مدد۔ دوسری جنگِ عظیم میں جب جاپان کو لگا کہ وہ جنگ ہار رہا ہے تو اس نے اس حکمت عملی پے عمل کرنے کا سوچا اور اس طرح کمی کازوں کی بھرتی شروع ہوئی۔ اس کے لیئے کوئی بنیادی تعلیم نہ تھی بس بندے کے اندر جاپانی بادشاہ کی بقا ء کے لیئے لڑنے کا جذبہ ہونا چاہیئے تھا۔ ان لوگوں کو تربیت دی گئی اور یہ لوگ خوشی خوشی امریکہ ، انگلستان اور آسٹریلیاء کے بحری بیڑوں پے اپنے جہاز تباہ کیا کرتے ۔ اپنی جان بھی لیا کرتے اور ساتھ ساتھ ہزاروں دوسرے لوگ بھی مر جاتے۔کئی ایک پائیلٹ واپس بھی آجاتے جیسا کہ ایک پائیلٹ بارہ دفعہ واپس آیا اور آخری بار اسے جان سے مار دیا گیا لیکن جاپان کی یہ جنگی حکمتِ عملی کامیاب نہ ہوئی کیونکہ امریکہ نے جیسا کہ وہ آجکل کرتا ہے ۔ ساری ملکوں کی رائے لیکر ایک ایٹم بم ہیرو شیما پے گرا یا اور دوسرا ناگاساکی پے۔

 

دوسری جنگِ عظیم کے اعداد شمار کے مطابق کمی کازوں نے کل ملا کے چار ہزار لوگوں کی جان لی کچھ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ دس ہزار لوگوں کی جان لی، اس کے برعکس ایٹم بم نے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں لوگوں کی جان لی اور آج بھی ہیرو شیما اور ناگاساکی میں جو لوگ معذور پیدا ہوتے ہیں۔

دوسرا کمیکازے کا مشہور حملہ امریکہ کے ٹون ٹاور پر کیا گیا۔ اس کے بارے میں کئی چیزیں سامنے آئی ہیں۔ یہ حملہ جہازوں کے ذریعے کیا گیا اور کونسپریسی تھیوری کے مطابق یہ عمارتیں جہاز نماں میزائلوں سے گرائی گئی ہیں۔ اس بارے میں ایک فرینچ صحافی نے ایک کتاب بھی لکھی ہے جس کا نام ہے

9/11 The Big Lie by Thierry Meyssan

۔ اس کے علاوہ ایک جرمن صحافی

Mathias Brocker

نے بھی اس پے ایک مضمون لکھا ہے اور

Andreas von Bulow

کی بھی ایک کتاب منظرِ عام پے آئی ہے۔جس میں اس کی تفصیل بیان کی گئی ہے ۔

جاپانیوں میں اپنی جان کا نذرانہ یا تو مذہب کی خاطر یا حاکمِ وقت کے لیئے شنٹو ازم سے جنم لیتا ہے۔ پرانے دور میں سمورائے اور بوشیدوں بھی اس طرح کے عمل کے ماہر تھے۔ شنٹوازم میں ایک فلسفیانہ نظریہ ہے کہ گوشت پوست کے جسم سے روح کو علیحدہ کیا جائے کیونکہ جب کمی کازے یا سوسائیڈ بومبر حملہ کرتا ہے تو اسے کامل یقین ہوتا ہے کہ اس کا جسم تو مر جائے گا لیکن اس کی روح زندہ رہے گی۔بالکل اسی طرح مسلمان کمیکازوں کو جنت کا روح پرور منظر دکھا کر اور حوروں کا لالچ دیکر اس کام کی طرف مائل کیا جاتا ہے۔

یہ فلسفہ تمام مذاہبِ عالم میں مختلف رنگوں میں پایا جاتا ہے لیکن اس کی اساس کچھ اور ہے۔ جنت ،دوزخ اور برزخ ۔

دنیا کا کوئی مذہب معصوم اانسانوں کی جانیں لینے کی تعلیم نہیں دیتا۔دیگر مذاہب کی مثال دینے سے پہلے میں اسلام کی مثال دیتا ہوں۔ جو لوگ تاریخِ اسلام سے واقف ہیں وہ اس بات سے بھی واقف ہوں گے کہ جنگِ بدر کا میدان مدینہ منورہ کے پاس ہے، احد کا پہاڑ مدینہ کی حدود میں ہے یعنی مسلمان مکے جنگ کرنے نہیں گئے بلکہ ان لوگوں نے حملہ کیا تھا اور جنگِ خندق میں خندق اسلیئے کھودی گئی تھی کہ انسانی جانوں کے ضیاء نہ ہو۔ میثاقِ مدینہ جیسی مثال دنیا کی تاریخ میں کہیں نہیں ملتی جس کی تمام شکیں مسلمانوں کے خلاف تھیں اور اس کی خلاف ورزی کرنے والے مکے کے لوگ تھے نہ کہ مسلمان۔ حضرت محمدﷺنے مکہ بغیر جنگ کے فتح کیا۔

ہر مذہب میں ایسے فتنہ پرست قسم کے لوگ ہوتے ہیں جو مذہب سے اپنے مطلب کی چیز نکال کے اپنے فائدے کے لیئے استعمال کرتے ہیں یا اس کام کے لیئے لوگوں کے ذہن تیار کرتے ہیں۔ اس کام کے لیئے پہلے خارجیوں کو استعمال کیا گیا اس کے بعد معتزلہ وجود میں آئے۔ پھر حسن بن صباح نے اپنی تنظیم بنائی جس کی پشت پناہی مصر کے فاطمی خلیفہ کرتے رہے ۔وہ اپنے پیروکاروں کو حشیش کی لت ڈالا کرتا جب وہ پوری طرح اس کے قابو میں آجاتے پھر وہ انہیں اپنے مقصد کے لیئے استعمال کرتا۔اس نے ارضی جنت بھی بنائی ہوئی تھی۔وہ اپنے پیروکاروں کو اس جنت کی سیر کروایا کرتا اور بعد میں ان سے کہا کرتا اگر اس جنت میں دوبارہ آنا چاہتے ہو تو میرے لیئے کام کرو۔ لیکن ہلاکوں خان نے ایک ہی دن میں خضر الموت فتح کرلیا اور حسن بن صباح نے ہتھیار پھینک دیئے۔

یورپ میں سب سے مشہور دہشت گرد یا انتہا پسند

Inquisitors

تھے جنہوں نے بیشمار بے گناہ انسانوں کی جانیں لیں۔ اس کے بعد

Catechuman

کا وجود آیا یہ چھوٹے چھوٹے بچوں کو اغوا کرکے ان کو اپنے مقصد کے لیئے استعمال کیاکرتے تھے۔ اس کے علاوہ

Cavallieri Templari

کا وجود عمل میں آیا ۔ یہ سارے عیسائیت کے انتہاپسند تھے۔ بنیادی طور یہ لوگ مذہب کو سامنے رکھ کے ذاتی فائدہ اٹھاتے رہے۔ جس میں وہ کافی حد تک کامیاب رہے۔ اٹلی کی ایک تنظیم

Brigatte Rosse

نے دہشت گردی کے کافی مظاہرے کیئے اور اس کا مشہور واقع بلونیا کا ریلوے سٹیشن ہے۔

انتہا پسندی کئی بین الاقوامی تنظیموں میں ہے جیسا کہ آئرلیند کی ایرا، سری لنکا کی تامل ٹائیگر، انڈیاء کی بال ٹھاکرے کی تنظیم۔ اس کے علاوہ کئی ملکوں کی خفیاء ایجنسیز ان کاموں میں شامل ہوتی ہیں اور یہ کبھی کبھی انقلاب لانے میں بھی کامیاب ہوجاتی ہیں۔ جیساکہ، آئی ایس آئی(پاکستان)،سی آئی اے(امریکہ)، کے جی بی(روس)، ساوک(ایران)، راء(انڈیاء)،موساد(اسرائیل) وغیرہ۔

اوپر بیان کی گئی جتنی بھی تنظیموں کا ذکر کیا گیا ہے ان سب کے سرغنہ انتہائی قابل اور پڑھے لکھے لوگ تھے اورہیں۔ حسن بن صباح نہ صرف علم و ادب کا ماہر تھا بلکہ وہ ریاضی دان،علمِ فلکیات کا بھی ماہر تھا۔ یہ لوگ انسانی ذہن کو اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرنا جانتے ہیں۔ اس کے علاوہ میڈیاء اس کام میں بہت اہم کردار ادا کیا یا یوں کہنا چاہیئے کہ منفی کردار ادا کیا۔

آج لوگ ٹی وی پے دیکھی ہوئی بات پے بغیر تحقیق کے یقین کرتے ہیں۔ مختلف ٹی وی چینلز کے ذریعے جنگ ہورہی ہے۔ جس ملک کے پاس سٹرونگ میڈیاء لوگ اسی کی بات پے یقین کرتے ہیں۔ یعنی جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔ دنیا کے تمام ٹی وی ایک دن افغانستان کے شہر کابل کے سٹیڈیئم میں فٹبال کا میچ دکھاتے ہیں اور اسی سٹیڈیئم میں دوسرے دن کسی عورت کو طالبان کے ہاتھوں سنگسار ہوتا ہوا دکھاتے ہیں۔ جیسے ہی دنیا کے کسی کونے میں دہشت گردی یا سوسائیڈ بومبنگ کا واقع پیش آتا ہے فورا سارے چینل اسے دکھانا اپنا فرض سمجھتے ہیں اور جو بھی اس کام کے پیچھے عمل پیراں ہوتا ہے وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوجاتا ہے۔

ہم لوگ فلموں اور ٹی وی سے کیسے بیوقوف بنتے ہیں اس کا ذکر کرنا ضروری ہے۔

Ben Hur

کے ڈائیریکٹر نے سارے دنیا کے سامنے چیلنچ رکھا کہ جو بھی میری فلم میں نقص نکالے گا میں اس کو انعام دونگا۔ ایک شخص نے اسے خط لکھا کہ تمھاری فلم میں ٹائروں کے نشان نظر آتے ہیں ۔ فلم کا ڈائیریکٹر اس شخص کی عقل پے حیران رہ گیا اور اسے انعام سے نوازا۔

دنیا کی مشہور فلم

Titanic

کے ڈائیریکٹر اور فلم میکر

James Cameron

نے اس فلم پے بڑی محنت کی اس فلم کے ہیرو جیک کے پاس

Paul Cezanne

کی جو پینٹنگ تھی وہ ۱۹۲۴میں بنائی گئی ہے اور ٹائیٹینک شپ ۱۹۲۰میں ڈوبا تھا اس طرح ڈائیریکٹر سے بہت بڑی غلطی ہوئی۔

انڈیا کی فلم فناء میں اس کا ہیرو بمبئی (ممبئی)کے چھ مختلف مقامات پے بم بلاسٹ کرتا ہے ۔اس فلم کے ریلیز ہونے کے چھ ماہ بعد ٹھیک انہی مقامات پے دھماکے ہوئے۔

ان مثالوں کا مطلب ہے ہم جو بھی فلم یا ٹی وی میں دیکھیں اس پے بغیر تحقیق کے یقین نہیں کرنا چاہیئے۔ فلم اور ٹی وی والے آپ کو وہ دکھاتے ہیں جو وہ دکھانا چاہتے ہیں۔ کئی دفعہ فلموں اورٹی وی کے ذریعے ہم لوگوں کو غلط بات بھی سکھا دیتے ہیں ۔

جہاں تک اسلام کی بات ہے تو قرانِ کریم کی آیت الانعام میں خود کشی کرنے سے منع کیاگیا ہے اور دنیا کے تمام بڑے بڑے مسلمان مفکرین اس طرح کے جہاد کے خلاف ہیں۔اسلام میں جنگ کے دوران بچوں ،عورتوں ،بوڑھوں کی جان بخشی کی جاتی رہی ہے حتیٰ کہ جانوروں اور کھیتوں کو بھی نقصان نہیں پہنچایا جاتا تھا۔

موت اور زندگی کا فلسفہ یہ ہے کہ ایک دن موت زندگی سے ملنے آئی اور اس نے پوچھا،

موت: زندگی تمہیں مجھ سے ڈر نہیں لگتا۔

زندگی: نہیں بالکل نہیں

موت: کیوں؟

زندگی: جب میں ہوتی ہوں ، تو تم نہیں ہوتی اور جب تم ہوتی ہو تو میں نہیں ہوتی تو ڈرنا کیسا۔

یہ سن کے موت چلی گئی اور کہنے لگی زندگی بھی کتنی عجیب ہے اسے مجھ سے ڈر ہی نہیں لگتا حالانکہ سب لوگ مجھ سے ڈرتے ہیں۔

سرفراز بیگ اریزو

3200127522

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com