Monday, Nov 11th

Last update12:39:09 AM GMT

اڑان

 

دو دن کی لگاتار بارش سے موسم خوشگوار ہوچکا تھا۔ اس لیئے آج میں نے لان میں ناشتہ کرنے کا پروگرام بنایا۔ میں ہاتھ میں ناشتے کی ٹرے لیئے لان کی طرف جارہی تھی کہ گیٹ پے بیل کی آواز آئی۔ آج کام والی جلدی چلی گئی تھی اس لیئے مجھے ہی گیٹ کھولنے کے لیئے جانا پڑا۔

گیٹ کھلا تو سامنے ایک نوجوان لڑکی جس کی عمر لگ بھگ ۱۷ یا ۱۸ سال ہوگی۔ دبلی پتلی سی لڑکی ایک بڑا سا بیگ کندھے پر لٹکائے اور ایک سرف(کپڑے دھونے کا پاوڈر) کا پیکٹ ہاتھ میں لیئے کھڑی نظر آئی۔

میں نے پوچھا، ’’کیا بات ہے اور اتنی زور سے بیل کیوں بجائی‘‘۔

وہ بولی، ’’باجی گھر گھر جاکر سرف بیچتی ہوں۔ آپ کے گھر بھی اسی لیئے آئی ہوں۔ پلیز آپ ایک پیکٹ لے لیں۔ میری بونی کروادیں‘‘۔

میں ایک دم ہنس پڑی، ’’بونی کیا ہوتی ہے؟‘‘

وہ بولی، ’’باجی میں سب سے پہلے آپ کے گھر آئی ہوں۔ اگر آپ مجھ سے یہ پیکٹ لے لیں گی تو یہ میری بونی ہوگی۔ یعنی آپ میری پہلی کسٹمر ہوں گی‘‘۔

میں تھوڑا غصے سے بولی، ’’بھئی مجھے نہیں کروانی بونی وونی۔ جاؤ تم کہیں اور جاؤ۔ مجھے ناشتہ کرنے دو۔ ویسے بھی میں سرف لے کر کیا کرنا ہے‘‘۔

وہ بولی،’’باجی پلیز ایک پیکٹ لے لیں۔ میں کل بھی سارا دن پھرتی رہی اور میرا یک پیکٹ بھی نہیں بکا‘‘۔

میں تھوڑا نرم دلی سے بولی،’’اچھاابھی جاؤ ، تھوڑی دیر بعد آنا ۔پھر میں لے لوں گی‘‘۔

وہ مجھے شکریہ کہہ کر تھوڑی دیر بعد آنے کا کہہ کر چلی گئی۔

میں ناشتہ کرتے کرتے اس لڑکی کے بارے میں بھی سوچتی رہی کہ بیچاری کو پتا نہیں کیا مجبوری ہوگی جو گھر گھر جاکے سرف بیچتی ہے اور پتا نہیں لوگوں کی کیسی کیسی باتیں سنتی ہوگی۔ابھی میں یہی باتیں سوچ رہی تھی کہ گیٹ پر پھر بیل ہوئی۔

میں زور سے چلائی، ’’گیٹ کھلا ہے ۔ آجاؤ اندر‘‘۔

وہ لڑکی اندر آئی اور بولی، ’’باجی اب تو آپ یہ پیکٹ لے لیں گی نا مجھ سے؟‘‘

اس کے چہرے پے معصومیت اور بیچارگی دیکھ کر میں انکار نہ کرسکی۔ میں نے ایک پیکٹ لے لیا اور اس سے اس کا نام پوچھا۔ اس نے اپنا نام کشمالہ بتایا۔

میں نے کہا، ’’تمہارا نام تو بہت اچھا ہے کشمالہ۔ تم یہاں بیٹھو میں اندر سے اپنا پرس لے آؤں‘‘۔

میں سرف کی قیمت پوچھے بغیر اسے ۵۰۰ (پانچ) سو کا نوٹ دے دیا۔

کشمالہ، ’’باجی میرے پاس کھلے پیسے نہیں ہیں‘‘۔

میں نے کہا، ’’کوئی بات نہیں باقی روپے تم رکھ لو‘‘۔

کشمالہ، ’’شکریہ باجی، آپ کتنی اچھی ہیں لوگ تو پیسے بھی پورے نہیں دیتے اور باتیں بھی اتنی سناتے ہیں اور کچھ تو ہمیں چور بھی سمجھتے ہیں اور ڈرتے ہیں۔دروازہ کھولے بغیر اندر سے ہی کہہ دیتے ہیں ،معاف کرو۔ حالانکہ ہم کوئی بھکاری تونہیں ہیں۔ بلکہ کام کرتے ہیں‘‘۔

اس نے اتنی بھرائی ہوئی آواز میں باتیں کیں کہ مجھے اس پے ترس آنے لگااور میرا جی چاہا کہ میں اس سے اور باتیں کروں۔

میں نے پوچھا، ’’تم پڑھی لکھی ہو؟‘‘

کشمالہ،’’بس میٹرک پاس ہوں۔ کالج میں ایڈمشن لیا تھا لیکن امی ابو کی فوتگی کے وجہ سے آگے نہ پڑھ سکی‘‘۔

میں نے تجسس کے سے انداز میں پوچھا، کیونکہ میں اس کے ماضی کے بارے تھوڑا بہت جاننا چاہتی تھی۔

’’اچھا کشمالہ تم مجھے کچھ اپنے بارے میں بتاؤ۔ تم کتنے بہن بھائی ہو۔ یہ کام کب سے کرتی ہو ؟کوئی اور کام کیوں نہیں کرتیں‘‘؟

کشمالہ، ’’باجی ہم دو بہنیں ہیں۔ بڑی باجی کی بہت جلد شادی ہوگئی تھی۔مجھے پڑھنے کا شوق تھا اس لیئے امی ابو نے میرا کالج میں ایڈمشن کروادیا۔کالج جانے میں ابھی ایک ہفتہ باقی تھاَ ۔میں نے سوچا دو تین دنوں کے لیئے بڑی باجی کے گھر رہ آؤں ۔پھر پڑھائی شروع ہوجائے گی تو وقت نہیں ملے گااور میری بڑی بہن ویسے بھی ہمارے گھر کم ہی آیا کرتی۔ میں نے ابو امی کو منایا اور ہم تینوں بہن کے گھر جانے کے لیئے تیار ہوگئے۔ میں بہن کے گھر رک گئی اور امی ابو واپس چلے گئے لیکن گھر واپس جاتے ہوئے ان کی گاڑی کا ایکسیڈنٹ ہوگیا اور اس حادثے میں دونوں فوت ہوگئے۔ میں بالکل اکیلی رہ گئی۔ ہمارا اپنا گھر تھا جبکہ میری بڑی بہن اپنے خاوند کے ساتھ کرائے کے گھر میں رہتی تھی۔ اس لیئے میری بہنوئی نے سوچا بجائے اس کے کہ میں ان کے ساتھ رہوں وہ ہمارے ہاں رہنا شروع کردیں ۔ اس طرح ان کی کرائے کی بھی بچت ہوجائے گی اورمجھے بھی سہارا مل جائے گا اور ویسے بھی اکیلے گھر اکیلی لڑکا کا رہنا کوئی آسان بات نہیں۔ اس طرح ہم دونوں بہنوں کی باہمی افہام و تفہیم سے یہ فیصلہ طے پایا کہ میری باجی ،بہنوئی اور بچے ہمارے ہاں رہیں گے۔ لیکن یہ فیصلہ بہت عجیب و غریب تھا۔ میرا بہنوئی بہت چالاک آدمی تھا۔ وہ نہ صرف ہمارے گھر آگیا بلکہ اس نے بہانے سے ہمارا گھر بھی اپنے نام کروالیا اور میرا کالج جانا بھی بند کروادیا۔ اور صاف صاف کہہ دیا کہ ان کے ساتھ رہنا ہے تو مجھے کوئی کام کرنا ہوگا کیونکہ وہ میرا خرچہ نہیں برداشت کرسکتے۔ اگر بہن میری طرف داری کرتی تو وہ اسے بہت مارتا۔ روز روز کے لڑائی جھگڑوں سے تنگ آکر میں نے کام کرنے کا سوچا لیکن میری تعلیم اتنی نہ تھی کہ مجھے کوئی معقول نوکری ملتی ۔ نہ ہی ایک مٹرک پاس کو کسی سکول میں ٹیچر کی نوکری مل سکتی تھی۔ تھوڑابہت سلائی کا کام جانتی تھی وہ شروع کردیا۔ لیکن بہنوئی کو گھر میں عورتوں آنا جانا پسند نہیں تھا۔ اس لیئے اس نے مجھے سلائی کے کام سے بھی منع کردیا۔ پھر میری ایک جاننے والی نے مجھے اس کام کے بارے میں بتایا۔ میں دو تین مہینوں سے یہ کام کررہی ہوں۔ سارا سارا دن گرمی میں گھر گھر جاکر سرف بیچتی ہوں۔ لوگوں کی باتیں بھی سنتی ہوں۔ کھانے پینے کا ہوش بھی نہیں رہتا۔ اتنی محنت کے باوجود مہینے بعد ۱۵۰۰ سو روپے ملتے ہیں اور سارے پیسے بہنوئی کو دینے پڑتے ہیں۔ تب کہیں جاکے مجھے رات کا کھانا نصیب ہوتا ہے اور رہنے کی جگہ۔اس کے باوجود بھی بہنوئی مجھ سے اور بہن سے لڑائی کرتا رہتا ہے۔ اور باتیں سناتا ہے کہ میں اس کے سر پے بوجھ ہوں۔حالانکہ میں اتنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ اس سے کشمالہ کچھ نہ کہہ پائی اور زور زور سے رونے لگی۔

میں نے بڑی مشکل سے اسے چپ کروایا۔ اسے پانی پلایا۔وہ ایک دم اٹھی اور جانے لگی تو میں نے اسے دوبارہ آنے کے لیئے کہا۔ وہ خدا حافظ کہہ کر چلی گئی۔میں پھر سے اپنے کام میں مصروف ہوگئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گرمیوں میں بوتیک کا کام بہت بڑھ جاتا ہے ۔ ابھی ایک سال ہی ہوا تھا مجھے یہ کام شروع کیئے ہوئے۔ پہلے میں اپنی ایک سہیلی کے ساتھ مل کر یہ کام کرتی تھی۔ وہ شادی کے بعد امریکہ چلی گئی اور سارا کام مجھے سونپ گئی۔ میں کام میں مصروف رہی اور کشمالہ کو بالکل بھول گئی۔

رات کو بوتیک سے واپسی پے بہت دیر ہوگئی ۔ کام کی تھکاوٹ کی وجہ سے جلدی ہی سو گئی اور صبح دیر سے آنکھ کھلی ۔ اس لیئے میں بغیر ناشتہ کیئے ہی گھر سے نکل گئی۔ راستے میں میری نظر کشمالہ پر پڑی۔ لیکن اتنی جلدی میں تھی کہ میں نے دھیان ہی نہ دیا اور گاڑی کی سپیڈ اور تیز کردی۔

ایک تو کام کی زیادتی اور دوسرا کشمالہ ۔ ذہن انہی۔ دو باتوں میں الجھ کے رہ گیا۔ کام میں بالکل دل نہیں لگ رہا تھا ۔بڑی مشکل سے ایک گھنٹہ گزرا تھا کہ میں نے اپنا بیگ اٹھایا اور گاڑی میں آبیٹھی۔ دس منٹ تک یہی سوچتی رہی کہ کیاکروں۔ بوتیک کا کام بوتیک بھی زیادہ ہے اور اور کشمالہ بھی ذہن میں ٹک سی گئی ہے۔ کام اور کشمالہ کی اس جنگ میں کشمالہ جیت گئی۔

میں نے گاڑی سٹارٹ کی اور اسی روڈ پے گاڑی موڑ دی جہاں تقریباً ایک گھنٹہ پہلے آتے ہوئے میں نے کشمالہ کو دیکھا تھا۔ میں گاڑی بہت آہستہ چلارہی تھی ۔کافی دیر سڑکوں پے ادھرادھر گھومنے کے باوجود مجھے کشمالہ نظر نہ آئی اور میں خود کو کوسنے لگی کہ میں نے جب کشمالہ کو دیکھا تھا تو اسی وقت ہی اسے ساتھ کیوں نہ لے آئی۔ دو گھنٹے کی انتھک کوشش کے باوجود جب وہ مجھے کہیں نظر نہ آئی تو میں نے دوبارہ بوتیک کا رخ کیا۔سارے ورکرز بھی میری حالت سے پریشان تھے۔ کیونکہ میں کام پے بالکل دھیان نہیں دے رہی تھی اور کام بھی بہت زیادہ تھا۔ لیکن اس کے باوجود سب نے مجھے گھر جاکر آرام کرنے کو کہا اور مجھے یقین دلایا کہ وہ سب کام سنبھال لیں گے۔ ان کی طرف تسلی کرلینے کے بعدمجھے محسوس ہوا کہ تھوڑا آرام ضروری ہے۔ میں دوبارہ سارا کام ورکرز پے چھوڑ کے گھر کی طرف چل دی۔ میں جیسے ہی گاڑی سے اتر کے گھر کے اندر داخل ہونے لگی تو میری نظر کشمالہ پر پڑی۔ میں ایکدم خوش ہوگئی اور حیران بھی ۔ اسے اپنے ساتھ لے کر میں گھر کے اندر داخل ہوئی۔

اس کی حالت بہت عجیب و غریب ہورہی تھی۔ پھٹے پرانے کپڑے ، بکھرے ہوئے بال ، چہرے سے ایسا لگتا تھا جیسے اس نے کئی دنوں سے کھانا بھی نہ کھایا ہو۔ اپنے کپڑوں کا ایک جوڑا دیکر میں اسے سرونٹ کوارٹر لی گئی۔ اماں بی (نوکرانی) سے کہا کہ وہ اسے فریش ہونے کے بعد کچھ کھلا پلا دے اور پھر اسے میری طرف لے آئے۔ تھوڑی دیر بعد کشمالہ میرے پاس آئی تو اس کی حالت قدرے بہتر تھی۔ لیکن اس کی آنکھوں سے اب بھی ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ کئی دنوں سے سوئی نہ ہو۔ کچھ نیند کا خمار اور تشکر اس ملی جلی کیفیت نے اس کے چہرے کو اور بھی معصوم بنادیا تھا۔ میں نے اسے آرام کرنے کے لیئے کہا لیکن وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ میں نے اسے اپنے پاس بٹھا لیا اور رونے کی وجہ پوچھی تو وہ بولی،

’’باجی میں نے اپنا گھر چھوڑ دیا ہے‘‘۔

میں نے حیرت سے پوچھا، ’’کیوں گھر چھوڑ دیاتم نے۔ تم تو کام بھی کرتی ہو‘‘

کشمالہ،’’باجی میرا بہنوئی بہت برا آدمی ہے ۔وہ نشہ کرتا ہے اور میری بہن کو ہر وقت مارتا بھی رہتا ہے اور اس کو ہر وقت یہ طعنہ دیتا ہے کہ تم صرف بیٹیاں پیدا کرسکتی ہو۔ میری دو بھانجیاں ہیں اور بہنوئی کو بیٹے کی خواہش ہے۔ اب وہ بیٹے کے لیئے مجھ سے شادی کرنا چاہتا ہے۔ کل رات اس نے مجھے اور میری بہن کو بہت مارااور صاف صاف کہہ دیا کہ وہ میری بہن کو طلاق دے کر مجھ سے زبردستی شادی کرے گا۔ میں بڑی مشکل سے وہاں سے جان چھڑا کر بھاگ آئی ہوں اور رات سے سڑکوں پے ماری ماری پھر رہی ہوں۔ جب کوئی بھی ٹھکانا نہ ملا تو میں تھک ہار کے آپ کے گھر سامنے آکے بیٹھ گئی۔ پلیز باجی میری مدد کریں۔ میں گھر واپس نہیں جاؤں گی۔ میں آپ کے گھر کا سارا کام کردیاکروں گی۔ پلیز باجی مجھے پیسے نہیں چاہئیں بس مجھے رہنے کی جگہ دے دیں‘‘۔

وہ روتی جارہی تھی اور میں مسلسل اسے چپ کرانے کی ناکام کوشش کیئے جارہی تھی۔

اسے میں نے ملازمہ کے ساتھ سرونٹ کوارٹر میں آرام کرنے کے لیئے بھیج دیا۔ خود میں کتنی دیر تک سوچتی رہی کہ مجھے کیا کرنا چاہیئے۔ اگر اس کا بہنوئی آگیا ، یا کوئی پولیس کیس بن گیا تو ۔ یا کشمالہ واقعی مظلوم لڑکی ہے یا یہ اس کی کوئی چال ہے۔ یہ سب باتیں سوچتے سوچتے کب میری آنکھ لگ گئی مجھے پتا ہی نہ چلا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نیند پوری ہونے کی وجہ سے آج میں بالکل تازہ دم تھی۔ کئی دنوں سے ناشتہ کے نام پے بس چائے کا ایک کپ ہی پی رہی تھی۔ آج اچھا سا ناشتہ کرنے کا موڈ تھا۔ میں ناشتہ لانے کے لیئے اماں بی کو آواز دی۔

اماں بی پلیز آج پراٹھا اور آملیٹ لے آئیں کافی دنوں ہوگئے اچھا سا ناشتہ کیئے ہوئے اور ذرا جلدی کیونکہ مجھے کافی دیر ہوگئی ہے۔ بوتیک پے بہت کام پڑا ہوا ہے۔ تھوڑی دیر بعد کشمالہ ناشتے کی ٹرے ہاتھ میں لیئے ہوئی آئی۔

کشمالہ، ’’باجی ، آج میں نے خود آپ کے لیئے ناشتہ بنایا ہے‘‘۔

میں اسے پاس ہی بٹھا لیا۔ میں ناشتہ کررہی تھی اور ساتھ ساتھ اس سے باتیں بھی کررہی تھی۔

’’کشمالہ آج تم میرے ساتھ بوتیک چلو ۔ تمہیں تھوڑا بہت کام آتا ہے ۔ میں تمہیں بوتیک کا کام بھی سکھا دوں گی۔تم مصروف ہوجاؤگی اور میری بھی مدد ہوجائے گی اور ہاں تم پڑھائی بھی دوبارہ شروع کردو۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں کشمالہ کے لیئے علامہاقبال اوپن یونیورسٹی سے فارم بھی لے آئی۔ اس کا ایڈمشن بھی ہوگیا اور ہمارے بوتیک کا کام بھی شروع ہوگیا۔ کشمالہ میرے ساتھ بوتیک بھی جاتی اور پڑھائی بھی کرتی اور گھر کے کاموں میں اماں بی کی مدد بھی کرتی۔ اماں بی چونکہ اکیلی تھیں اس لیئے کشمالہ اب ان کے ساتھ ہی سرونٹ کوارٹر میں رہنے لگی۔ جب سے کشمالہ نے میرے ساتھ آکے رہنا شروع کیا تھا ہمارا کام بہت پسند کیا جانے لگا تھا۔ یہ کشمالہ کی آمد کا اعجاز تھا یا کوئی اور بات یہ بات مجھے سمجھ نہ آئی۔ کام اتنا بڑھا اور خاص یورپیئن ملکوں کے آرڈرز زیادہ آنے لگے تو میں نے سوچا ایک برانچ پیرس میں کھولنی چاہیئے۔ ہمارے ڈیزائنز ایسے تھے کہ ان میں ویسٹرن ٹچ زیادہ تھا۔ کشمالہ نے خود کو بوتیک کے کام اتنا مصروف کرلیا تھا کہ ہماری کئی کئی دن بات ہی نہ ہو پاتی۔ کبھی کوئی بات ہوتی بھی تو کام کے حوالے سے۔

میں نے کشمالہ کو بوتیک کا کام سمجھاتے ہوئے کہا،’’میں دوہفتوں کے لیئے پیرس جارہی ہوں ۔ یہاں کا کام بھی تم نے دیکھنا ہے اور گھر کا خیال بھی تم نے رکھنا ہے۔میرے جانے کے بعد دودن کے لیئے میرا بھائی اور بھابھی آئیں گے ان کا خیال بھی تم ہی نے رکھنا ہے۔ یہ سب تمہاری ذمہ داری ہے اور مجھے کسی قسم کوئی شکایت نہیں ہونی چاہیئے‘‘۔

اس نے پھر سے بچوں کی طرح رونا شروع کردیا اور روتے روتے بولی، ’’باجی میں آپ کو کبھی شکایت کا موقع نہیں دوں گی ۔ آپ مجھ پے بھروسہ کیا ہے وہ ہمیشہ قائم رہے گا۔ آپ مطمئن ہوکے جائیں ۔ آپ وہاں کے کام کے بارے میں سوچیں، یہاں کی آپ بالکل فکر نہ کریں۔ بس آپ مجھے فون کرنا اور اپنے کھانے پینے کا خیال رکھنا۔ یہاں تو میں آپ کا خیال رکھتی ہوں وہاں آپ اکیلی ہوں گی۔ اپنا خیال خود رکھنا پڑے گا‘‘۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کشمالہ نے زندگی میں آگے بڑھنے کا پکا ارادہ کیا ہوا تھا۔ وہ اپنے فرائض بخوبی انجام دے رہی تھی۔ اپنے ماضی کو وہ کبھی نہ بھولی اور بھولتی بھی کیسے ۔اس بھیانک ماضی نے تو اسے تابناک مستقبل دیا تھا۔ اس کی بہن اور بہنوئی نے اسے ڈھونڈنے کی کبھی کوشش نہ کی۔ انہوں نے تو شکر کیا ہوگا کہ اس مصیبت سے جان چھوٹی گئی اور کشمالہ نے بھی کبھی دوبارہ اپنے گھر والوں کے بارے میں نہ سوچا۔

کشمالہ نے مجھے کبھی مایوس نہ کیا ۔ چارسال کیسے گزر گئے پتا ہی نہ چلا۔میرا کام دن بدن بڑھتا ہی جارہا تھا۔ اس میں ہم دونوں کی محنت شامل تھی۔ کشمالہ نے نہ صرف اپنی پڑھائی کی طرف توجہ دی بلکہ میرے کام میں میرا ہاتھ بھی بٹایا۔ میرا پیرس کا بوتیک بھی اسی کی وجہ سے اچھاچل رہا تھا کیونکہ میرا وہاں اکثر جانا ہوتا تھا اور جب جاتی تو خود کو یہاں کے تمام کاموں سے آزاد کرکے جایا کرتی ۔اتنے عرصے میں میرے سارے وہم ختم ہوچکے تھے۔ جو کشمالہ کے یہاں آتے وقت مجھے لاحق تھے۔ وہ گریجویشن بھی مکمل کرچکی تھی اور شاید اللہ تعالی نے اسے میری مدد کے لیئے یہاں بھیجا تھا۔ آج میں جس مقام پے ہوں اس میں اس کا بھی بہت ہاتھ ہے۔ میں تو دو بوتیک پر ہی خوش تھی اور باہر جانے کا تو میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی لیکن اسی کی وجہ سے مجھے حوصلہ ملا۔ اس نے نئے نئے آئیڈیاز سے میرے بزنس کو چار چاند لگا دیئے۔ سلائی کڑھائی کا تو اسے ویسے بھی بہت شوق تھا لیکن تعلیم نے اس کے ذہن کو اور بھی وسیع کردیا تھا۔ مجھے تو کبھی یاد ہی نہیں آیا کہ یہ وہی سرف بیچنے والی لڑکی ہے۔ ایک عام سی ، ڈری ڈری سی۔ آج اسے دیکھ کے کوئی بھی نہیں کہہ سکتا کہ اس کا ماضی اس قدر دردناک تھا اور میں چاہتی بھی یہی تھی کہ وہ اتنی آگے بڑھے کہ اسے اس کا ماضی یاد ہی رہے۔

میں نے اب پیرس میں ہی رہنے کا فیصلہ کرلیا تھا اور سوچ لیا تھا کہ سارا کام اسی کو سونپ کے چلی جاؤں گی۔ جب میں نے اس بات کا ذکر کشمالہ سے کیا تو وہ بہت خوش ہوئی لیکن اداس بھی کیونکہ اسے بھی میرے ساتھ رہنے کی عادت سی ہوگئی تھی۔ اور جب اس نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے شکریہ کہنے کی کوشش کی تو اس کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ وہ خود کو روک نہ سکی اور پھوٹ پھوٹ کررونے لگی۔ مجھے ایک بار پھر روہی لڑکی ذہن میں آگئی جو ڈری ڈری ،سہمی سہمی سی ۔اپنی آنکھوں میں شکریئے اور مدد کی ملی جلی کیفیت سے میرا ہاتھ پکڑ کر رو رہی تھی۔

 

روما اریزو 30/03/2013

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com