Thursday, May 23rd

Last update12:39:09 AM GMT

صفائی

تحریر، محمود اصغر از اٹلی( امیلیا رومانیا )  ۔۔۔۔ اگرصرف ایک لمحہ کے لیے اسلام کو مکمل نظام زندگی کہنے کی بجائے اسے بھی دیگر مذاہب کی طرح محض ایک مذہب ہی تصور کر لیا جائے اور اسی تناظر میں اس کی مذہبی رسومات سے متعلقہ کتب کا مطالعہ شروع کر یں تو قاری ایک بات جو بڑی تیزی سے نوٹ کر ے گا وہ یہ ہے کہ اسلام کی تمام مذہبی رسومات صرف اور صرف ایک لفظ کے گرد گھومتی ہیں اور وہ لفظ ہے صفائی ۔ اس سے ایک بات تو واضع ہوجاتی ہے کہ جس شخص کا تعلق صفائی سے نہیں ہے وہ چاہے جتنی بھی شدو مد سے خود کو مسلمان ثابت کرنے کی کوشش کرتا رہےمسلمان کہلانے کاصحیح حقدار نہیں ہے دنیا کا کونسا نظام اور کونسی ایسی رسومات یا عبادات ہیں جو دن میں آپ کو پانچ بار دانت صاف کرنے کی دعوت دیں جو پانچ بار پیشانی سے لیکر سر تک اور ہاتھوں کی انگلیوں سے لیکر پاﺅں کی انگلیوں تک دھونے اور صاف کرنے کا موقع فراہم کریں یورپ میں دو تین سال پہلے انفلوئنزافلو کا ایک وائرس تیزی سے پھیل گیا جس کا نام ایچ ون این ون تھا تو یہاں کے ڈاکٹروں نے تحقیق سے یہ ثابت کیا کہ یہ وائرس ہاتھوں کی انگلیوں کی درمیانی جگہ کی نا مناسب صفائی کی بنا پر زیادہ پھیلتا ہے ان دنوں اٹلی کے تمام غسل خانوں میں ہاتھ دھونے والے بیسن کے پاس ایک تصویر لگا دی گئی جس پر یہ طریقہ لکھا ہوا تھا کہ ایک ہاتھ کی انگلیوں کی درمیانی جگہ کو کیسے دوسری ہاتھ کی مدد سے کنگی سی بنا کر صاف کیا جاتا ہے اگراسلامی کتب میں وضو کے دوران انگلیوں کو صاف کرنے والے طریقہ کار کو تصویری شکل میں بنایا جاتا تو بالکل وہی تصویر بنتی جو آج سے پندرہ سو سال پہلے ہی ہمارے نبی مطہرو مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے امتیوں کو سمجھائی تھی لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے پاس تھیوری تو بڑی دلچسپ ہے لیکن پریکٹیکل اس سے یکسر مختلف ہے صفائی کو اسلام میں اتنی زیادہ اہمیت دی گئی ہے کہ اسے ایمان کا لازمی جزو قرار دیا گیا ہے صفائی کو نصف ایمان کہا گیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس معاملہ میں ہمارے اکثر اسلامی ممالک کا ”حال“ بڑاپریشان کن ہے اس کے بر عکس جن مغربی ممالک سے ہم حقارت کا رویہ رکھتے ہیں اور جنہیں ہم کافرمعاشرہ کہتے نہیں تھکتے اب حالت یہ ہے کہ وہ ہمیں سمجھاتے نظر آتے ہیں کہ صفائی کا خیال کیسے رکھنا ہے۔ اگر صفائی کو مذہبی تناظر میں ہی دیکھا جائے تو احادیث سے یہ بات واضع طور پر ملتی ہے کہ اشیائے خورد ونوش کا احترام لازمی ہے اور اصراف گناہ کے ذمرہ میں آتا ہے اسلامی روایات میں کھانے پینے کی چیزوں کو رزق کہا جاتا ہے اور اس کی بے حرمتی نہیں کی جاتی ہمارا دوسرا مسئلہ اسلامی کتب کے صفحات کو ٹھکانے لگانا ہوتا ہے ہمارا خیال ہے کہ ان اوراق کو دیگر کوڑے کے ساتھ پھینکنا ان کی بے حرمتی ہے لیکن ہم اپنے ممالک میں ان مسائل کا حل نہیں نکال سکے کچھ سال پہلے اٹلی کے ایک شہر میں کوڑا اٹھانے والی کمپنی نے اپنے شہریوں کوگھروں کاکوڑاعلیحدہ علیحدہ تقسیم کرنے اور اسے اٹھانے کے لیے بھی علیحدہ علیحدہ دن مختص کرنے کی مہم کا آغاز کیاکمپنی نے تمام گھروں میں تین قسم کے بیگ بالکل مفت پہنچائے تاکہ لوگ اپنے گھر کا کوڑا الگ الگ تقسیم کریں اشیائے خوردونوش ایک ایسے بیگ میں اکٹھا کرنے کا کہا گیا جو مکئی سے بنا ہوا تھا اورکچھ عرصہ بعد فضا میں تحلیل ہونے کی خاصیت رکھتا تھا تاکہ اسے بطور کھاد استعمال کیا جا سکے اس کے علاوہ کاغذات اوردیگر کتب کے اوراق وغیرہ کے لیے انہوں نے ایک علیحدہ بیگ دیا اور اس کو اٹھانے کےلئے بھی علیحدہ دن کا انتظام کیا انہوں نے تیسرا بیگ ایساتیار کیا جس میں گھر کاباقی ماندہ کوڑا کرکٹ اور گندگی وغیرہ ڈالی جائے اس کے علاوہ ہر بلڈنگ کے نیچے براﺅن کلر کے ایسے ڈبے بھی رکھ دیئے گئے جن میں درختوں کی ڈالیاں اور پتے وغیرہ پھینکیں جاتے ہیں اس کمپنی نے مجھے اس تحریری پمفلٹ کا اردو زبان میں ترجمہ کرنے کی استدعا کی تاکہ اٹلی میں رہنے والے پاکستانیوں کو ان کی زبان میں سمجھایا جائے کہ گھریلو کوڑے کو علیحدہ علیحدہ تقسیم کیسے کیا جاتا ہے بعد میں انہوں نے اپنے ماہرین صفائی کے ساتھ ملک کر گھر گھر جاکریہ پمفلٹ تقسیم بھی کئے جس میں مختلف زبانوں اور تصاویر کی مدد سے کوڑے کو الگ کرنے کا طریقہ کار سمجھایا گیا تھا۔  اس کمپنی کے ڈائریکٹر سے میری ملاقات ہوئی تو میں نے اسے کہا کہ صفائی کا یہ سارا فلسفہ تو اسلامی ہے کہ ہمیں یہی درس دیا جاتا ہے کہ اصراف بہت بڑا گنا ہ ہے اسلام کے نام سے اس کی دلچسپی بڑھ گئی وہ کہنے لگا کہ اس نے امام غزالی کی کتب پڑھی ہوئی ہیں اور وہ اسلامی فلسفہ تصوف سے بہت مانوس ہے خیر اس طرح ہماری دوستی ہوگئی سارے شہر میں پمفلٹ تقسیم کر دئے گئے ایک سال بعد میری اس سے دوبارہ ملاقات ہوئی تو کہنے لگا کہ پاکستانیوں کو صفائی کی تربیت دینا بہت مشکل ہے اکیلے رہنے والے لڑکے تو دور پاکستانی گھریلو خواتین بھی کوڑا علیحدہ کرنے کی عادی نہیں ہیں اور وہ ایک ہی بیگ میں اشیائے خوردو نوش اور بچوں کے پوتڑے تک ڈال دیتی ہے ایسے میں اسلامی تصور رزق جس کے احترام کی تم بات کرتے تھے وہ کہاں ہے؟  ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ پلاسٹک شاپر کو مکمل طور پر تلف ہونے میں‌ ہزاروں‌ سال کا عرصہ درکار ہوتا ہےاس لیے یہ آلودگی کی بڑی وجہ ثابت ہوتے ہیں‌ اطالو ی حکومت نے دو تین سال پہلے اس عزم کااظہار کیا کہ وہ پورے ملک سے پلاسٹک شاپنگ بیگ کا خاتمہ کریں گے تاکہ آلودگی کو ختم کیاجائے اور انہوں نے آہستہ آہستہ مارکیٹوں اور دوکانوں سے ان پلا سٹک شاپروں کو غائب کر دیا اب آپ کو کسی بھی سپر مارکیٹ سے گراسری کرنے کے لیے پلاسٹک شاپر نہیں ملیں گے اور آپکوخریداری کرنے کے لیے کپڑے اور دیگر میٹریل کے بار بار استعمال ہونے والے تھیلے گھر سے لانا ہوں گے لیکن آج بھی اگر آپ کسی بھی پاکستانی یا عربی دوکان پر جائیں تو بیگ لے جانے کا تکلف کرنے کی ضرورت نہیں وہاں سے آپ کو گوشت دالیں خریدنے کے لیے پلاسٹک کے موٹے موٹے شاپر مل جائیں گے اسی طرح چند سال پہلے اطالوی حکومت نے پلاسٹک کی بوتلوں کو ختم کرنے کا ارادہ بھی کیا کہ اس سے آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے اس نیت سے انہوں نے مختلف شہروں میں صافی پانی کے نل لگائے ہیں جہاں سے مفت پانی بھرا جا سکتا ہے حکومت کا ارادہ ہے کہ اسطرح پلاسٹک بوتلوں کے استعمال میں کمی آئے گی بڑی بڑی گاڑیوں میں لوگ پانی بھرنے آتے ہیں اور لائین میں لگ کر پانی لے جاتے ہیں لیکن اٹلی میں رہنے والے پاکستانی ان نلوں سے پانی لانا بے عزتی خیال کرتے ہیں وہ اس کے پس پردہ حکومتی نیت سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے کہ اس طرح پلاسٹک بوتلوں کے استعمال میں کمی آئے گی اور ماحولیاتی آلودگی میں کمی واقع ہوگی ، گزشتہ دنوں میلان میں پاکستانی قونصلیٹ نے ایک پریس ریلیز جاری کی جس میں میلان قونصلیٹ میں آنے والی خواتین وحضرات سے صفائی کاخاص خیال رکھنے کی اپیل کی گئی میلان میں پاکستانی قونصلیٹ حال ہی میں نئی عمارت میں منتقل ہو ئی ہے جہاں پر قونصل جنرل نے پاکستانی خواتین اوران کے شیر خوار بچوں کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے علیحدہ کمرہ بنوایا ہے تفصیلات کے مطابق پاکستانی خواتین نے چند ہی دنوں میں ان کمروں کے استعمال کے بعد صفائی کی ایسی ناگفتہ بہ حالت بنادی ہے کہ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے یورپ کے ان ممالک میں آکر بھی صفائی کے بارے میں کچھ نہیں جانا صفائی کے بارے ان پر نہ تو اسلامی تعلیمات نے کوئی اثر چھوڑا اور نہ ہی محمد علی جناح جیسے صفائی پسند لیڈر کی تعلیمات سے انہوں نے کچھ سیکھا ہے خبر کے مطابق میلان قونصلیٹ میں خواتین اور بچوں کی سہولت کیلئے مختص کیے گئے کمرے اور باتھ روم کی حالت اتنی گندی کر دی جاتی ہے کہ یہ بعد میں آنے والوں کیلئے قابل استعمال نہیں رہتے ان کمروں میں بچوں کے استعمال کی چیزیں ، کھانے پینے کی بچی کھچی اشیاءاوربچوں کے پوتڑے تک کمروں اور ٹائلٹ میں ہی پھینک کر پاکستانی خواتین اپنے فرض سے گلو خلاصی کرلیتی ہیں ایسا کرنے سے بار بار ٹائلٹ بند ہوجانا معمول کی بات ہے جس سے قونصلیٹ آنے والوں کو ہی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اگر دیکھا جائے تومیلان قونصلیٹ ہم سب پاکستانیوں کی اپنی عمارت ہے اس کے تمام اخراجات حکومت پاکستان برداشت کرتی ہے یہ ہمارے ہی روپوں سے کام کر رہی ہے اس کی صفائی کا خیال رکھنا صرف قونصلیٹ کے عملہ کیلئے ہی نہیں بلکہ وہاں جانے والے سب پاکستانیوں کی ذمہ داری بنتی ہے یہاں پر جانے والی خواتین،مرد اور بچے پاکستانی ہی ہیں صفائی کی ناقص صورت حال ہمارے ہی بچوں کی صحت کیلئے مضر ثابت ہوسکتی ہے، ہمیں ہر موقع پربطور پاکستانی ایک باشعور اور صفائی پسند قوم کا ثبوت دیتے ہوئے غیر ضروری اشیاءکو گند اور کوڑے کے ڈبوں میں پھینکنا چاہئے
ایک صاف ستھرے ذہن میں ہی تعمیری سوچ اور اچھے خیالات جنم لیتے ہیں ۔ نظم و ضبط اور صفائی ہی مہذب قوموں کی پہچان ہے۔ہمیں چاہیے کہ جب ہم کسی صاف ستھرے ماحول میں آئیں تونہ صرف ان ممالک کی صفائی کے طور و طریقوں سے سبق سیکھیں بلکہ اتنی اہم اسلامی روایات کے وارث ہوتے ہوئے اپنے مذہب کی صفائی ستھرائی کی روایات سے یہاں کے لوگوں کو روشناس کرائیں لیکن یہ سب ماضی کی حکایات بیان کرنے سے ممکن نہیں ہوگا بلکہ حال کے عملی نمونہ سے ثابت کرنا ہو گا۔ تصویر میں محمود اصغر

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com