Friday, Mar 22nd

Last update12:39:09 AM GMT

روم میں یوم پاکستان جوش و خروش سے منایا گیا

روم۔ 23 مارچ 2014 ۔۔۔۔۔ روم میں موجود پاکستان کے سفارتخانہ میں یوم پاکستان جوش و خروش سے منایا گیا ۔ روم کے علاوہ دوسرے شہروں سے بھی محب وطن تشریف لائے اور انہوں نے تہوار کو مزید رونق بخشی۔ اجلاس کا آغاز صبح 10 بجے پرچم کشائی سے کیا گیا ۔ قومی ترانے کی گونج میں ریٹائرڈ کرنل حسیب گل اور انکے سٹاف نے پریڈ کے ساتھ سفید اور سبز پرچم کو سلامی دی ۔ محترمہ تہمینہ جنجوعہ نے پرچم کو روم کی ہوا میں لہرایا اور اسکے بعد ایمبیسی کے ہال میں اجلاس کا مکمل آغاز کیا گیا ۔ محمد اشفاق نے تلاوت کلام پڑہ کر سنائی اور اسکے بعد اسکا اردو میں ترجمہ بھی پیش کیا ۔ سیکنڈ سیکرٹری عامر سعید نے اسٹیج سیکرٹری کے فرائض انجام دیے ۔ ڈپٹی ہیڈ آف مشن اشتیاق عاقل اور ایچ او سی احمد فاروق نے صدر ممنون حسین اور وزیر اعظم میاں نواز شریف کے پیغامات پڑہ کر سنائے ۔ ان پیغامات میں محب الوطنی، آزادی، جمہوریت، قربانی اور ترقی جیسے لوازمات شامل تھے ۔ اسکے بعد سفارتکارہ محترمہ تہمینہ جنجوعہ نے اپنی تقریر کا آغاز کیا ۔ انہوں نے سب سے پہلے ان بچوں کا شکریہ ادا کیا جوکہ ایمبیسی میں قومی ترانے سنانے کے لیے موجود تھے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ بچے ملک سے باہر رہتے ہوئے پاکستان سے زیادہ محبت کرتے ہیں ۔ محترمہ نے کہا کہ 1940 میں جب پاکستان بنانے کی قرارداد شیر بنگال عبدالحق نے پیش کی تھی تو اس وقت یہ بات صاف طور پر سامنے آگئی تھی کہ ہندو اپنے مفادات کو ترجیح دیتے ہیں ، اس لیے برصفیر کے مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ اسٹیٹ ضروری ہو گئی تھی ۔ یاد رہے کہ قائد اعظم کو ہندو مسلم اتحاد کا ایمبیسڈر تصور کیا جاتا تھا ۔ محترمہ تہمینہ جنجوعہ نے کہا کہ 1973 کا آئین ایک بین الاقوامی آئین ہے اور اس میں تمام انسانی حقوق اور عورتوں کے حقوق شامل ہیں لیکن جب میں ایک کانفرنس میں گئی تو وہاں تیونس والے یہ کہہ کر خوش ہو رہے تھے کہ ہمارا آئین اسلامی دنیا کا سب سے بہتر آئین ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی کمونٹی کے نام یہ پیغام دیتی ہوں کہ وہ اٹلی کے ہر شہر میں پاکستانی کلچر کا پرچار کرنے کے لیے ایک ایسوسی ایشن بنائیں ، یہاں کی سیاست میں حصہ لیتے ہوئے انکے قومی اداروں کا حصہ بنیں اور پاکستان کا نام روشن کریں ۔ میری اپیل ہے کہ آپ ان بچوں کے بارے میں بتائیں جو کہ سکول میں اچھی پوزیشن حاصل کررہے ہیں تاکہ انہیں ایوارڈ دیا جا سکے ۔ یاد رہے کہ ہمارے ایک سابق ایمبیسڈر خراس صاحب روم میں رہتے ہیں اور انہوں نے ہونہار طالب علم کے لیے ایک ہزار یورو ہر سال جاری کرنے کا اعلان کر رکھا ہے ۔ محترمہ تہمینہ جنجوعہ نے کہا کہ آپ لوگ رسید کے ساتھ پاکستان نہ جائیں۔ صرف اس وقت سفر کریں ، جب آپ کے پاس مکمل کاغذات موجود ہوں ۔ ایمبیسڈر محترمہ تہمینہ جنجوعہ کی تقریر کے بعد بچوں نے قومی ترانے گائے اور اسکے بعد پاکستان فیڈریشن اٹلی کی جانب سے چوہدری بشیر امرے والا اور آصف رضا نے محترمہ تہمینہ جنجوعہ کو پھولوں کے ہار پیش کیے اور انکی اعلی کارکردگی کی داد دی ۔ اجلاس کے خاتمے کے بعد مہمانان گرامی کو سموسے، پکوڑے، مٹھائی اور چائے پیش کی گئی ۔

 

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com