Friday, Jul 21st

Last update08:57:59 PM GMT

فقیر غنی کو دہشت گردی کے الزام میں ملک بدر کر دیا گیا

روم، 20 جنوری 2015 ۔۔۔۔ آج اٹلی کے ریجن مارکے سے فقیر غنی کو دہشت گردی کے الزام میں ملک بدر کر دیا گیا ہے ۔ فقیر غنی کی عمر 26 سال ہے اور وہ چویتا نووا شہر میں 12 سال سے مقیم تھا ۔ فقیر غنی جوتے بنانے کی فیکٹری میں کام کرتا تھا اور اپنی بہن، بھائی اور والدین کے ساتھ رہائش پزیر تھا ۔ غنی پر یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس نے اپنے فیس بک کے صفحے پر جہادی نعرے اور پیغام لکھے تھے اور اسکی فیس بک پر چند ایسی ویڈیو فلم تھیں ، جنکے زریعے جہاد کا پرچار کیا جاتا تھا ۔ فقیر غنی کو اسکی فیکٹری سے گرفتار کرتے ہوئے روم ائر پورٹ کے زریعے پاکستان ملک بدر کردیا گیا ہے ۔ اس واقع کے بعد اسکے والدین اور بہن بھائی ، جنکے پاس اٹالین شہریت ہے ، وہ بھی پاکستان روانہ ہوگئے ہیں ۔ فقیر غنی کے وکیل نے بتایا کہ اس پر جھوٹا الزام لگایا گیا ہے اور اسے وزرات داخلہ کے اسپیشل آرڈر کے بعد ملک بدر کیا گیا ہے ، اسکے فیس بک پر جہادی پرچار کی ویڈیو اسکے دوست نے لگائی تھیں ۔ ایک ہی دن میں اسے جج کے سامنے پیش کرتے ہوئے ملک بدر کردیا گیا ہے ۔ فقیر غنی نے گزشتہ عید میلادالنبی کے جلوس میں شرکت کی تھی ۔ اسی جلوس پر ایک اٹالین نے غصے میں آکر حملہ کردیا تھا ۔ یہ اٹالین اس جلوس کے خلاف اس لیے ہوا تھا کیونکہ جلوس سے چند دن قبل نام نہاد مسلمانوں نے پیرس میں صحافیوں کو قتل کیا تھا ۔ فقیر غنی کے وکیل نے کہا کہ وہ عدالت میں کیس کریں گے اور یہ ظاہر کریں گے کہ وہ دہشت گرد نہیں تھا ۔ اٹلی کی خفیہ پولیس نے اسکے فون بھی ریکارڈ کیے تھے اور کہا جاتا ہے کہ فقیر غنی اپنی بحث کے دوران یورپین کلچر کے خلاف بولتا تھا اور جہاد کی رہنمائی کرتا تھا ۔ تصویر میں فقیر غنی

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com