Sunday, Apr 30th

Last update08:57:59 PM GMT

بلزانو سے عثمان کو دہشت گردی کے الزام میں ملک بدر کر دیا گیا

روم۔ 22 جنوری 15 ۔۔۔۔ عثمان ریان خان عمر 23 سال کو اٹلی کے شمالی علاقے کے شہر بلزانو سے ملک بدر کر دیا گیا ہے ۔ فرانس کے شہر پیرس میں صحافیوں کے سانحہ کے بعد پورے یورپ میں مسلمانوں کی کاروائیوں پر نظر رکھی جا رہی ہے اور اگر ان میں سے کوئی شدت پسند، عسکریت پسند اور بنیاد پرستی جیسے خیالات کا حامی ہے ، اس پر نظر رکھی جاتی ہے اور اسکے فون ریکارڈ کیے جاتے ہیں ، اسکی سوشل میڈیا کی زندگی دیکھی جاتی ہے اور آخر کار اسے دہشت گرد نہیں لیکن معاشرے کے لیے خطرناک فرد قرار دیتے ہوئے ملک بدر کیا جاتا ہے یا پھر اسکا نام بلیک لسٹ میں ڈال دیا جاتا ہے ، تمام پاکستانیوں سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ مذہب کو پرائیویٹ زندگی تک محدود رکھیں اور اسے پبلک زندگی سے دور رکھیں کیونکہ یہ پاکستان نہیں ہے ۔ یہاں اسٹیٹ سیکولر ہے اور مذہب کو کسی قسم کی سرکاری حیثیت حاصل نہیں ہے۔

 خیر عثمان ریان خان بلزانو میں 8 سال کی عمر میں آیا تھا اور اسکے پاس عام پرمیسو دی سوجورنو تھی ۔ یہ کبھی کبھار کام کرتا تھا اور پاکستانی کمونٹی کے بقول ایک اچھا پاکستانی تھا۔ اسے وزیر داخلہ کے حکم کے مطابق خطرناک شہری قرار دیتے ہوئے ملک بدر کر دیا گیا ہے ۔ عثمان نے تعلیم بھی بلزانو میں حاصل کی تھی اور یہ مکمل طور پر جرمن اور اٹالین زبان بولتا تھا۔ اٹالین اخبارات کے مطابق اس نے اپنے فیس بک پر دا‏عش یا دولت اسلامیہ کے جھنڈے کی تصویر لگائی ہوئی تھی ۔  یہ عام طور پر اپنے بیانات کے زریعے بھی جہاد اور عسکریت پسند اسلام کا پرچار کرتا تھا ۔ چند ایسی ویڈیو بھی اسکے فیس بک پر موجود تھیں ، جوکہ جہادی اسلام کی عکاسی کرتی ہیں ۔ عثمان نے پیرس میں ہونے والے ہولناک دہشت گردی کے حادثے پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ ناموس رسالت کی پاسداری ہر مسلمان کا فرض ہے ۔ تصویر میں عثمان ریان خان

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com