Sunday, Apr 30th

Last update08:57:59 PM GMT

اٹلی میں موجود پاکستانی دہشت گرد گروہ گرفتار

روم، 24 اپریل 2015۔۔۔۔۔ کل شام سے لیکر آج صبح تک دہشت گرد گروہ کے 9 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور باقی 9 افراد کی تلاش جاری ہے ۔ اٹالین پولیس کے مطابق اس گروہ کا گھڑسردینیا صوبہ تھا اور یہ پورے اٹلی میں پھیلے ہوئے تھے ۔ گروہ کا تعلق القاعدہ، تحریک طالبان اور دوسری دہشت گرد تنظیموں سے بتایا جاتا ہے ۔ ان میں سے 2 دہشت گرد اسامہ بن لادن سے براہ راست منسلک بھی تھے ۔ یہ گروہ موجودہ پاکستانی حکومت کے خلاف بھی کام کر رہا تھا اور ان کی خواہش تھی کہ موجودہ حکومت طالبان کے خلاف کاروائی نہ کرے اور امریکہ سے تعلقات ترک کردے ۔ اس گروہ نے 2010 میں ویٹیکن میں دہشت گردی کرنے کی کوشش بھی کی تھی ۔ 9 دہشت گردوں کی تلاش جاری ہے لیکن کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ اٹلی سے فرار ہو چکے ہیں ۔ اس آپریشن میں اٹلی کے 7 صوبے شامل ہیں ۔ اس گروہ پر دہشت گردی، غیر قانونی امیگریشن کی کمائی اور دوسرے الزامات عائد کیے گئے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ اس گروہ نے شمالی اٹلی میں ایک عورت کو بھی قتل کیا تھا ۔ گروہ کے افراد نے ٹیلی فون پر بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ عورت کے قتل کی ویڈیو میں چھری نظر نہیں آرہی ۔ اس ویڈیو کی تلاش جاری ہے لیکن ابھی تک مل نہیں سکی ۔ اٹلی کے جزیرے سردینیا کے شہر اولبیا سے پاکستانی کمونٹی کے مذہبی لیڈر سلطان ولی خان عمر 39 سال کوگرفتار کر لیا گیا ہے ۔ سلطان ولی خان کو اس وقت گرفتار کیا گیا ، جب وہ اولبیا سے چویتا ویکیا کے لیے سفر کر رہا تھا ۔ کہا جاتا ہے کہ سلطان خان اس گروہ کا سب سے بڑا لیڈر ہے ۔ سلطان خان مسجد کا سربراہ بھی ہے اور اولبیا میں اسکی ایک دکان بازار کے نام سے مشہور ہے ۔ پولیس کے مطابق اسکی دکان سے ایک کاغذ بھی ملا ہے ، جس پر فارسی میں لکھا ہوا ہے کہ " شہادت لازمی ہے " ۔ یہ گروہ جزیرے کی مساجد سے چندہ حاصل کرتے ہوئے القاعدہ، تحریک طالبان، تحریک نفاز اور شریعت محمدی جیسی تنظیموں کی مدد کرتا تھا ۔ پولیس کے مطابق سلطان خان کے بعد گروہ کا نائب حافظ محمد ذوالفقار تھا ، جوکہ بیرگامو میں آباد ہے اور آج اسے بھی گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ حافظ ذوالفقار بھی مختلف گروہوں کو رقم ارسال کرتا تھا  اور اسکی عمر 43 سال ہے ۔  حافظ بیرگامو اور بریشیا میں عسکریت پسندی اور دہشت گردی کا پراپیگنڈہ کرتا تھا اور جوانوں کو اکساتا تھا ۔  اسکے بعد امتیاز خان عمر 40 سال، نیاز میر عمر 41 سال، صدیق محمد عمر 37 سال کو بھی اولبیا میں گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ ایک افغانی شہری یحیی خان عمر 37 سال کو فوجیا میں گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ اسکے علاوہ اٹلی کے شمالی شہر چویتا نووے مارکے سے زبیر شاہ عمر 37 سال اور شیر غنی عمر 57 سال کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ ان میں سے دو دہشت گرد  پاکستان میں اسامہ بن لادن کے محافظ بھی رہے ہیں ۔ اس گروہ نے پاکستان میں بھی مختلف دہشت گردی کی وارداتیں انجام دی ہیں ، جن میں 28 اکتوبر 2009 میں پشاور کے مینا بازار کی واردات شامل ہے ، جس میں 100 سے زائد معصوم شہری شہید ہوئے تھے ۔ اس گروہ نے غیر قانونی امیگریشن کے زریعے اپنے افراد پورے یورپ میں پھیلا دیے تھے ۔ ان لوگوں کو جعلی کاغذات فراہم کیے جاتے تھے اور انکو سیاسی پناہ بھی دلوائی جاتی تھی ۔ گروہ کے افراد حوالہ کا بزنس بھی کرتے تھے اور اس رقم سے مختلف مقاصد پورے کیے جاتے تھے ۔ ویٹیکن کے ترجمان فادر فیدیریکو نے کہا کہ اس گروہ نے 2010 میں ویٹیکن میں دہشت گردی کرنے کی کوشش کی تھی لیکن انکی کوشش کو ناکام بنا دیا گیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ طور پر گروہ کے پروگرام میں ویٹیکن کو خطرہ لاحق نہیں تھا ۔ گروہ کے افراد پاکستان میں دہشت گردی کے حملے کرنے کے بعد اٹلی کے جزیرے میں واپس آجاتے تھے ۔ اس گروہ کے افراد کا تعلق تبلیغ و دعوہ سے بتایا جاتا ہے ۔ حافظ محمد ذوالفقار بیرگامو اور بریشیا میں تبلیغ کرتے ہوئے رقم اکٹھی کرتا تھا اور پاکستانی اور افغانی کمونٹی میں کافی مقبول تھا ۔ اس نے حال ہی میں روم کے ائر پورٹ کے زریعے 55 ہزار یورو غیر قانونی طور پر روانہ کیے تھے اور کسٹم کے حکام نے اس کا سراغ لگا لیا تھا اور اس رقم کو ضبط کر لیا گیا تھا ۔ پولیس نے بتایا کہ گروپ کے افراد کا تعلق پشتون کمونٹی سے ہے اور انکی موبائل فون کی بات چیت کی مخبری کرنے کے لیے پشتون ترجمانوں کی مدد حاصل کی گئی تھی ۔ پولیس کے مطابق انکی زبان سمجھنا کافی مشکل تھا اور اس خاطر ہم نے ایکسپرٹ ترجمان حاصل کیے تھے ۔ وزیر داخلہ الفانو نے کہا کہ اس گروہ کی تفتیش 2009 میں شروع ہوئی تھی اور اب اس آپریشن کو مکمل کر لیا گیا ہے ۔ یہ گروہ اٹلی میں بھی دہشت گردی کے حملوں کے لیے تیاری کر رہا تھا ۔ تصویر میں پولیس ملزمان کو گرفتار کر رہی ہے ۔

 

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت منگل, 28 اپریل 2015 19:40