Saturday, Mar 25th

Last update08:57:59 PM GMT

پاکستان میں پورتو کو ہلاک کرد یا گیا

روم،24 اپریل 2015- پاکستان میں  تین سال قبل 21 جنوری کے روز ملتان سے ایک اٹالین جوانی لو پورتو کو اغوا کر لیا گیا تھا ، ابھی تک اسکے اغوا کی کوئی خبر نہیں آرہی تھی ۔ اسکے لواحقین اور اٹالین حکومت جوانی کے اغوا کے سلسلے میں سخت پریشان تھے ۔ اسکے خاندان نے اپیل کی تھی کہ اسے فوری طور پر رہا کر دیا جائے ۔ جوانی پاکستانی عوام سے محبت کرتا تھا اور یہ اسی سلسلے میں پاکستان میں سیلاب زدگان کی مدد کے لیے کام کر رہا تھا ۔ جوانی کا تعلق اٹلی کے جزیرے altسسلی کے شہر پلیرمو سے ہے ۔ جوانی اکتوبر کے مہینے میں پاکستان میں آیا تھا اور سیلاب زدگان کے لیے گھر تعمیر کر رہا تھا ۔ یاد رہے کہ گزشتہ سیلاب میں پاکستان میں 4 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے اور لاکھوں پاکستانی اپنا گھر کھو بیٹھے تھے ۔ جوانی ایک جرمن این جی او کے لیے کام کر رہا تھا ، جس کا نام welthungerhilfeہے ۔ یہ اس این جی او میں پراجیکٹ مینجر ہے اور اسکے ساتھ اسکے ایک ہالینڈ کے ساتھی کو بھی اغوا کر لیا گیا تھا ۔ جوانی نے انگلینڈ کے بہترین یونیورسٹیوں سے دو ڈگریاں حاصل کی تھیں اور وہ اس سے قبل کئی مشہور این جی او میں کام کر چکا تھا ، جس میں اٹالین ایمرجنسی بھی شامل ہے ۔ جوانی اور اسکے ساتھی کو چار ڈاکوؤں نے اغوا کیا تھا ، ان کے پاس اسلحہ تھا ۔ جوانی کے ساتھی کا تعلق ہالینڈ سے ہے اور اسکی عمر 45 سال تھی ۔ اٹالین اخبار کے مطابق انکے اغوا کا پتا چلانا بہت مشکل تھا ۔ پاکستان میں  کرپٹ سیاست، مذہبی جنونیت اور آسان دولت جیسے اجزا کی موجودگی میں کوئی بھی آئیڈیا لگایا جا سکتاتھا ۔

اوپر والی خبر آزاد نے تین سال پہلے لگائی تھی اور اب نئی خبر کے مطابق لو پورتو کو جنوری 2015 میں ایک امریکی اغوا کے ہمراہ امریکہ ہی کے ایک ڈرون حملے نے پاکستان میں ہلاک کر دیا ہے ۔ تین دن قبل صدر اوباما نے اٹالین وزیر اعظم رینسی کو فون کرتے ہوئے پورتو کی موت کی اطلاع فراہم کردی ہے اور معافی بھی مانگی ہے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ امریکی سی آئی اے نے ایک حملے میں دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کے لیے ڈرون حملہ کیا اور انہیں بعد میں پتا چلا کہ اسی کمپاؤنڈ میں ایک امریکی ہینسٹائن اور اٹالین اغواشدہ بھی شامل تھے ۔ پورے اٹلی میں لو پورتو کی موت پر بحث ہو رہی ہے اور اٹالین خفیہ تنظیم اور حکومت کے خلاف تنقیدی بحث ہو رہی ہے ۔ اٹالین حکومت نے بتایا کہ ہمیں معلوم تھا کہ لوپورتو زندہ ہے اور ہم اسکی بازیابی کے لیے کام کر رہے تھے ۔ یاد رہے کہ ہالینڈ کے شہری کو ازاد کروالیاگیا تھا لیکن لوپورتو کی تلاش جاری تھی ۔ اٹالین وزیر اعظم نے پورتو کے خاندان کو اسکی موت کی خبر سنا دی ہے اور انتہائی افسوس کا اظہار کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم پورتو کی میت ضرور حاصل کریں گے اور اسے اٹلی لائیں گے ۔

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت جمعہ, 24 اپریل 2015 20:34