Friday, Sep 22nd

Last update08:57:59 PM GMT

اٹلی سے ایک اور پاکستانی دہشت گردی کے الزام میں ملک بدر

روم۔ 24 اپریل 2015 ۔۔۔ اٹلی کے شہر پراتو سے ایک پاکستانی یار اقبال عمر 27 کو دہشت گردی کے الزام میں ملک بدر کردیا گیا ہے ۔ یاد رہے کہ پیرس میں دہشت گردی کے واقع کے بعد اب تک تین پاکستانیوں کو ملک بدر کیا جا چکا ہے ۔ یار اقبال اٹلی میں 1999 سے آباد تھا اور قانونی طور پر رہائش پذیر تھا ۔ اقبال اپنے بھائی اور والد کے ہمراہ آباد تھا لیکن کچھ عرصے سے وہ ان سے علیحدہ رہ رہا تھا ۔ پولیس کے مطابق اقبال فیس بک پر جہادی پروگرام دیکھتا تھا اور وہ مذہبی لیڈران کی تقاریر گھنٹوں تک سنتا رہتا تھا ۔ اقبال پراتو کالینسانو میں ایک فرم میں ورکر تھا اور کافی مذہبی ہونے کے بعد جنونی بنتا جا رہا تھا ۔ پولیس نے اسے وزیر داخلہ کے اسپیشل آرڈر کے بعد 22 اپریل کو گرفتار کیا اور اسکے بعد 23 اپریل کو ملک بدر کردیا ہے ۔ اسے روم ائر پورٹ کے زریعے کراچی روانہ کردیا گیا ہے ۔ پولیس نے کہا کہ اسکے گھر سے کوئی اسلحہ وغیرہ نہیں ملا اور نہ اس کا تعلق کسی گروہ سے تھا لیکن اس کی دلچسپی جہادمیں بڑہ رہی تھی اور یہ کسی وقت بھی فارن فائٹر کے طور پر شام جیسے ملک میں جا کر جہادی فوجی بن سکتا تھا ۔ اقبال پراتو میں ویا فرارا کی مسجد میں نماز پڑھتا تھا ۔ یاد رہے کہ آج سردینیا میں پاکستانیوں کا ایک بڑا گروہ دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے ، جس میں 17 پاکستانی اور ایک افغان شہری موجود ہے ۔ تصویر میں یار اقبال

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت جمعہ, 24 اپریل 2015 21:57