Friday, Sep 22nd

Last update08:57:59 PM GMT

اسلام اور بنیاد پرستی

 

روم۔ 25 اپریل 2015 ۔۔۔۔ اسلام ایک بین الاقوامی مذہب ہے ، اسلامی ممالک کی تعداد 54 ممالک سے زائد ہے  ۔ اسلام کا مطلب امن ہے اور اس مذہب میں جاہل انسانوں کے لیے کوئی مقام موجود نہیں ہے ۔ اسلام میں لکھنا پڑھنا لازمی ہے اور یہی وجہ ہے کہ دنیا کی موجودہ سائنس کی بنیاد اسلامی سائنس دانوں کی مرہون منت ہے ۔ بنیاد پرستی کیا ہے ۔ بنیاد پرستی اور اسلام ایک دوسرے کے متضاد ہیں ۔ بنیاد پرست صرف بنیادوں پر یقین رکھتا ہے اور عمارت کے خلاف ہوجاتا ہے جو کہ ان بنیادوں پر کھڑی ہوتی ہے ۔ اسلام کی بنیاد کے بعد چودہ سوسال اسکی عمارت ہیں ۔ عربی زبان میں زیر زبر اور پیش اس وقت شامل کیے گئے ، جب اسلام عربی سرحدوں کو پار کرگیا اور غیر عربی قوموں کے لیے عربی سمجھنا اور قرآن پاک کافی مشکل ہوگیا تو اس مسئلے کو حل کرنے کے لی زیر زبر وغیرہ کی ایجاد ہوئی ۔ اسی طرح بہت سارے ایسے قوانین ہیں جو کہ دوسری قوموں کی آسانی کے لیے بنائے گئے ۔ اس کے برعکس ایک بنیاد پرست صرف ان قوانین کو عمل میں لانے کے لیے ضد کرتا ہے جو کہ اسلام کے پہلے دور سے متعلق ہیں ۔ وقت کے ساتھ ساتھ اجتہاد کرنا لازمی ہوتا ہے ، یعنی پانچ بنیادی اراکین وہی رہتے ہیں لیکن قوانین، روایات اور سماجی تبدیلی دنیا کے مطابق کرنا اسلام کا حصہ ہیں ۔ مثال کے طور پر ہمارے ملک میں بنکنگ سسٹم اسلامی روایات کے مطابق نہیں ہے لیکن دنیا کے ساتھ چلنے کے لیے اسے رائج کیا گیا ہے اور اسے تسلیم بھی کرلیا گیا ہے ۔

عسکریت پسندی اور جہادی اسلام کا پرچار گزشتہ 35 سالوں سے کیا جا رہا ہے ۔ یہ بھی اسلام کے متضاد ہے ۔ جہاد کے لیے خلیفہ یا موجودہ حکومت کی مرضی شامل ہونا ضروری ہوتی ہے ۔ زاتی طور پر جنگ، لڑائی، چڑھاؤ جیسے جراثیم جو بعض اوقات ہمارے ملاں بھی ہمارے اندر پیدا کردیتے ہیں اور ہمارے زہن میں یہ بٹھادیتے ہیں کہ اسلام پوری دنیا میں غالب آنا چاہئے ، یہ سب ایسے نعرے ہیں ، جنکی موجودگی کیوجہ سے بعض اوقات ہمارے جوان اٹلی میں بھی دنیاوی زندگی چھوڑ کر لمبی داڑھی رکھ لیتے ہیں اور جس ملک میں رہتے ہیں ، اسکی رسومات، روایات اور کلچر کے خلاف ہو جاتے ہیں ۔ اصل بات یہ ہوتی ہے کہ یہ جوان اس ملک یا اٹلی میں خوش نہیں ہوتے اور مذہب کو اپنی ڈھال بناتے ہوئے خوشی تلاش کرتے ہیں ۔ یاد رکھیں کہ اس سال پیرس کے حملوں کے بعد اٹلی میں تین پاکستانیوں کی انکی لمبی داڑھیوں اور مذہبی لباس پہننے اور فیس بک پر انتہا پسند سائٹ دیکھنے کیوجہ سے ملک بدر کردیا گیا ہے اور اب پشتون کمونٹی کے 18 افراد کو دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ دوستو ، حالات سازگار نہیں ، ہمیں پاکستانی اور مسلمان سمجھ کر ہمارا کنٹرول کیا جاتا ہے اور ہمارا چال چلن دیکھا جاتا ہے  ، اگر کوئی جوان فیس بک پر دولت اسلامی کا نشان استعمال کرے گا تو لازمی بات ہے کہ حکومت اسے ملک بدر کرے گی کیونکہ دولت اسلامی والے یورپ کو اپنا دشمن تصور کرتے ہیں ۔ اٹلی میں مذہبی آزادی ہے لیکن اٹلی کا کوئی سرکاری مذہب نہیں ہے کیونکہ یہاں اسٹیٹ سیکولر ہے ۔ مذہب کا پرچار کرنے کے لیے بھی ہمارے لوگ جب تبلیغ اور دعوہ جیسی تنظیموں کا حصہ بنتے ہیں ، انکے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اس ملک کی روایات ، سماج اور ثقافت کو رد نہ کریں بلکہ انکی تعریف کریں ۔ آزادی، جمہوریت اور انسانی ہمدردی انکی بنیادی قدریں ہیں اور اگر ہم انکے خلاف پراپیگنڈہ کریں گے تو اس سے تو بہتر یہی ہے کہ ہم اس ملک کو چھوڑ دیں ۔ اسکے برعکس ہم رہنا بھی یورپ میں چاہتے ہیں لیکن ہم اسے بدلنے کے خواب دیکھتے ہیں ۔ سب سے بڑا مسلمان وہ ہے جو کہ محنت مزدوری کرتے ہوئے اس ملک میں اپنا مقام بناتا ہے ، اپنے بچوں کو تعلیم دلواتا ہے اور مہذب شہری بنتا ہے ۔ 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com