Sunday, May 24th

Last update06:26:21 PM GMT

RSS

کمونٹی کی خبریں

اٹلی کے پاکستانیوں کی دکھ بھری پنجابی نظم

 

ہاں کسی لحاظ سے یہ سچ بھی ہے لیکن ہماری کہانی کچھ اس دورے سے ملتی جلتی ہے ۔ ایک شخص پاگل خانے کا دورہ کرنے گیا تو ایک کمرے میں ایک پاگل اس لیے رو رہا تھا کہ اس کی شادی شبنم سے ہوئی تھی ۔ جب یہ شخص دوسرے کمرے کا وزٹ کرنے گیا تو وہاں بھی ایک شخص رو رہا تھا ۔ اس نے سوال کیا تم کیوں رو رہے ہو ۔ اس پاگل نے جواب دیاکہ میں شبنم سے شادی کرنا چاہتا تھا لیکن وہ مجھ سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی ۔ اس لیے دوستو ، جو یورپ کی طرف بھاگتا ہے ، وہ بھی روتا ہے اور جو پاکستان میں رہ جاتا ہے ، وہ بھی یہی سمجھ کر روتا رہتا ہے کہ شاید یورپ شبنم ہے ۔ خیر یہ نظم ضرور سنیں ۔

نظم سننے کے لیے      

یہاں کلک کریں

     

 

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

روم میں Broastفاسٹ فوڈ کا افتتاح

روم، یکم اگست 2013 ۔۔۔ آج شام روم کے مشہور زون بوچیا میں Broastفاسٹ فوڈ کا افتتاح کردیا گیا ہے ۔ Broastفاسٹ فوڈ امریکہ کی مشہور کمپنی ہے جو کہ فوڈ کے بزنس میں 1954 سے کام کررہی ہے اور انہوں نے پوری دنیا میں اپنی شاخیں کھولتے ہوئے کامیابی حاصل کرلی ہے ۔ پاکستان میں بھی بروسٹ کافی کامیاب ہوا ہے ۔ اب روم میں بھی انکی پہلی شاخ کھول دی گئی ہے اور اسکے مالکان میں بنگالی اور پاکستانی ہیں ، جن میں فاسٹ فوڈ کی دنیا کی مشہور شخصیت حاجی نسیم، ملک عادل از سیالکوٹ، علاؤالدین اور ناھید حسن شامل ہیں ۔ کیشئر عدیل اصغر اعلی تعلیم یافتہ ہیں اور عربی، انگلش اور اٹالین بولنے کے ماہر ہیں ، انہوں نے بتایا کہ وہ اپنی فیس بک کی کمونٹی کے زریعے بروسٹ کو متعارف کروانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں ۔ حاجی نسیم نے آزاد سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ہاں صرف حلال فوڈ میسر ہو گا اور الکوہل والے بیوریج فروخت نہیں کیے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم روم شہر میں بروسٹ کی مزید 4 شاخیں کھول رہے ہیں ، جن کا افتتاح چند ماہ میں کردیا جائے گا ۔ بروسٹ فوڈ ایک خاص طریقے سے بنایا جاتا ہے جو کہ دوسرے فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹوں سے مختلف ہے ، اسے پریشر کوکنگ کہتے ہیں اور اسکی مشینیں بھی مختلف ہیں ۔ فوڈ کی قدرتی حالت قائم رہتی ہے اور ہمارے ہاں آٹا، گوشت اور دوسرے اجزا خاص فرموں سے خریدے جاتے ہیں ۔ ہمارا فرائی چکن، فرنچ فرائز، برگر، چاول اور دوسرے کئی فلیور اس قسم سے تیار کیے جاتے ہیں ، جن سے انکی تازگی قائم رہتی ہے اور چکناہٹ نظر نہیں آتی ۔ یہ سب ماڈرن مشینوں کا کمال ہے ۔ یاد رہے کہ Broastفرم دنیا کی اہم فرم ہے اور یہی وجہ ہے کہ اگلے ماہ امریکہ سے انکی ٹیم روم کے بروسٹ کا وزٹ کرنے کے لیے تشریف لا رہی ہے ۔ روم والے بروسٹ میں کھانا کھانے کے لیے آپ میٹرو Aسے Cornelia  کے سٹاپ پر اتریں گے اور نکلتے ہی بروسٹ آپ کے سامنے ہو گا ۔ افتتاح کے روز بروسٹ ریسٹورنٹ کو غباروں اور ریبنوں سے سجایا گیا تھا اور سارا دن مفت فوڈ تقسیم کیا گیا تھا ۔ سینکڑوں لوگوں نے قطاروں میں لگ کر بروسٹ کے فلیور ٹیسٹ کیے اور انہوں نے مالکان کو مبارکباد دی ۔ روزے کے وقت تمام مسلمانوں کو افطاری کروائی گئی ۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ بروسٹ اس لیے بھی کامیاب ہو گا کیونکہ اسکی ٹیم میں تمام مہمان نواز ورکر موجود ہیں۔ بروسٹ کھولنے کے لیے آپ ان سے رابطہ کر سکتے ہیں اور مزید معلومات کے لیے انکی سائٹ کا وزٹ کرسکتے ہیں ۔

Broast

Via Domenico Tardini 5 / c,b , Roma

Mob: 333.6086073 Tel: 06.6626233

 

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

پوپ فرانچیسکو نے لامپے دوزا کا تاریخی دورہ کیا

روم۔ 8 جولائی 2013 ۔۔۔۔ آج ویٹیکن کے پوپ فرانچیسکو نے اٹلی کے جزیرے لامپے دوزا کا دورہ کیا ۔ لامپے دوزا وہ جزیرہ ہے ، جہاں افریقہ اور ایشیا کے تارکین وطن کشتیوں کے زریعے سے آتے ہیں ۔ یہ جزیرہ افریقہ کی سرحدوں کے قریب ہے اور اسے اٹلی کا ایلس آئی لینڈ کہا جاتا ہے ۔ اس جزیرے تک پہنچنے کے لیے سمندر اور افریقہ کے ممالک سے گزرنا پڑتا ہے اور اب تک ہزاروں کے غیر ملکی راستے تہہ کرنے کے دوران جاں بحق ہو چکے ہیں ۔ ان میں سینکڑوں پاکستانی بھی شامل ہیں ، صرف ایک بحری کشتی میں 1998 میں ڈیڑہ سو کے قریب پاکستانی موجود تھے اور یہ کشتی ڈوب گئی تھی اور ان میں سے 140 کے قریب پاکستانی اپنی جان کھو بیٹھے تھے ۔ پوپ نے جزیرے کا تاریخی وزٹ کرتے ہوئے پورے اٹلی اور یورپ میں بحث چھیڑ دی ہے اور اب ہر کوئی پوپ کے حق میں اور انکے وزٹ کے خلاف بحث کر رہا ہے ۔ لیگا نورد کے ایک لیڈر بوزے نے کہا ہے " غیر ملکیوں کی کشتی ڈوبنی چاہئے اور انہیں مرنا چاہئے ۔ اسکے برعکس اٹلی کی سول سوسائٹی نے اس دورے کو خوش آئند قرار دیا ہے ۔ پوپ نے جزیرے میں 10 ہزار لوگوں کے سامنے عبادت کی اور اسکے بعد سمندر میں پھولوں کا گل دستہ پھینکنے کے لیے گئے ۔ انہوں نے 50 کے قریب نئے پہنچنے والے غیر ملکیوں سے ملاقات کی ، جن میں اکثریت مسلمانوں پر مبنی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے مفادات کی خاطر غریب تارکین وطن کی جان لے لی ۔ اگر ہم ان سے ہمدردی کرتے تو آج ہزاروں کی تعداد میں مرنے والے غیر ملکی زندہ ہوتے ۔ یہ لوگ جنگ اور غریبی سے تنگ آکر ہمارے ممالک کی طرف رجوع کرتے ہیں اور ہمیں جاہئے کہ ہم غیر ملکیوں کے لیے انسانی ہمدردی کے قوانین عمل میں لائیں ۔

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

نور شاہ کی موت اور میری پریشانی میں اضافہ

روم، 24 جون 2013 ۔۔۔۔ جب میں پاکستان میں تھا تو غیر انصافی کے خلاف تھا، میرے پاس کوئی طاقت نہیں تھا جس سے میں اس بھیانک رسم کو جلا سکتا اور اسکی راکھ کو کسی گند کے ڈھیر میں دفن کر سکتا لیکن میں ہمیشہ سے کمزور انسان کے طور پر اپنا تعارف کرواتا رہاہوں ۔ خود ہی اپنے دل میں جلتا رہا ہوں اور اکیلا بیٹھ کر روتا رہا ہوں ۔ جب میں نے راجی خیل نور شاہ کا آرٹیکل لکھا تو میرے ہاتھ کانپ پڑے ۔ مجھے نور شاہ اپنا بیٹا لگا اور میں نے آنسو بہائے اور مزید اداسی کے اندھیروں میں دھنس گیا ۔ آج میں نے حوصلہ کرتے ہوئے نور شاہ کی زندگی کو بیان کرنے کے لیے قلم اٹھایا اور میرے زہن میں آیا ۔ شمالی پاکستان میں پیدا ہونے والا یہ بچہ اتنا خوبصورت تھا کہ ماں نے اسکا نام نور رکھ دیا کیونکہ اسکی پیدائش کے بعد پورے گھر میں روشنی پھیل گئی ہو گی ۔ ہر طرف لڈو بانٹے گئے ہوں گے اور پورے محلے نے مبارکیں دی ہونگی ۔ نور شاہ نے پتنگ بازی کی ہو گی اور سکول میں اپنا مقام بنایا ہو گا ، اسکی صحت سے لگتا ہے کہ وہ کھیل میں بھی اپنے جوہر دکھاتا تھا اور چھاتی تان کر گلی میں بھی چلتا تھا ۔ والدین کا پیارا تھا اور بہن بھائیوں کی زندگی بہتر بنانے کے لیے قربانی دینے کے لیے بھی تیار تھا ۔ اس نے اس کالے سفر کا عہد بھی کیا تھا اور اپنی تمام تر ایک جوان لڑکے کی مصروفیات چھوڑ کر پیارے وطن کو چھوڑنے کا دعوہ بھی کیا تھا ۔ نور کے اس دن کو یاد کرتے ہوئے میرا ایک اور آنسو بہا ، جب اسے اسکا والد آخری سلام کرنے کے لیے آیا تھا اور لازمی بات ہے کہ نور نے اپنی والدہ سے کہا ہوگا ، ماں تم مت رونا ، میں جلد کامیاب ہو کر واپس اؤں گا اور ہمارے گھر میں بھی یورو راج کرے گا ۔ نور کو کیا پتا تھا کہ قاتل اس کا انتظار کر رہے ہیں ، جنہوں نے اسکے والدین سے لمبی رقم لیتے ہوئے اسے مارنا ہے اور اور پھر اسکی لاش کو سڑک پر پھینکنا ہے ۔ اٹلی کے قبرستانوں میں اور سسلی کے سمندر میں ہزاروں نور بے نام ہونے کیوجہ سے جنازے کے بغیر دفن ہیں اور پاک ہستی سے انصاف طلب ہیں ۔ انکے نام پر ایک یادگار دیوار بھی تعمیر کی گئی ہے  جو کہ تصویر میں دکھائی دے رہی ہے ۔ اس دیوار پر مرنے والے غیر ملکیوں کی تصاویر، جوتے ، کپڑے اور دوسری یادیں نسب کی گئی ہیں ۔ تحریر، اعجاز احمد

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت پیر, 24 جون 2013 19:22

وچنزا میں غلام مرتضے کو جنسی زیادتی کے جرم میں گرفتار کر لیا گیا

روم۔ 4 جون 2013 کل رات وچنزا میں غلام مرتضے کو جنسی زیادتی کے جرم میں گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ غلام مرتضے کی عمر 34 سال ہے اور وہ وچنزا میں قانونی طور پر رہائش پزیر ہے اور اس نے اس پہلے کبھی بھی کوئی جرم نہیں کیا ۔ پولیس کے مطابق کل رات ایک اٹالین لڑکی جس کی عمر 25 سال ہے ، اپنے دوستوں کو رات 2 بجے کے قریب سلام کرتے ہوئے گھر واپس جا رہی تھی کہ اسے پیشاپ آگیا اور یہ قریبی باغ میں جھاڑیوں کے پیچھے چھپ کر پیشاپ کرنے کے لیے گئی اور اس نے اپنا پرس قریبی بنچ پر رکھ دیا ۔ اسی دوران ایک شخص اسکے پرس سے پیسے نکالنے کے لیے کوشش میں تھا کہ اس نے فوری طور پر اسے روکنے کی کوشش کی ۔ اس شخص یعنی غلام مرتضے نے لڑکی سے جنسی زیادتی کرنے کی کوشش کی اور اسے طوائف سمجھتے ہوئے رقم دینے کا دعوہ کرتا رہا ۔ لڑکی نے شور مچایا اور اس پر غلام مرتضے نے اسے مارنا پیٹنا شروع کردیا اور اس کا ایک دانت توڑ دیا ۔ اسی اثنا میں ایک راہی نے پولیس کو بلالیا ۔ غلام مرتضے بھاگنے میں کامیاب ہو گیا لیکن قریبی سڑک پر اسے گرفتار کر لیا گیا ۔ پولیس نے بتایا کہ اسکی پینٹ کے بٹن کھلے ہوئے تھے اور اسکے کپڑوں پر مٹی کے نشان تھے ۔ غلام مرتضے کو جیل میں روانہ کردیا گیا ہے اور اب اس پر زنا، ڈاکہ اور مارپیٹ کا کیس چلے گا ۔ اسی مہینے میں ناپولی شہر میں ایک 23 سالہ غیر قانونی پاکستانی کو جعلی عینکیں اور عورتوں کے مفلر بیچنے پر گرفتار کر لیا گیا ہے ۔  تصویر میں وہ پارک نظر آرہا ہے ، جس میں غلام مرتضے نے لڑکی کے ساتھ زیادتی کی  ہے ۔

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com