Saturday, Jul 21st

Last update12:39:09 AM GMT

RSS

کمونٹی کی خبریں

بریشیا کی صنا چیمہ کو اسکے والد اور بھائی نے قتل کر دیا

 

21 اپریل 18 ۔۔۔۔ آج اٹلی کے شمالی شہر کے اٹالین اخبار بریشیا اوجی نے خبر دی ہے کہ صنا چیمہ کو اسکے والد اور بھائی نے قتل کر دیا ہے ۔ پورے اٹلی کے اخبارات اور ٹیوی اور ریڈیوز نے اس ہولناک خبر کو شائع کرتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا ہے اور ایک بار پھر پاکستانی کمونٹی کے بارے میں منفی بیانات سامنے آرہے ہیں ۔

صنا چمیہ کی عمر 25 سال تھی اور کافی سالوں سے اٹلی کے شمالی شہر بریشیا میں اپنے والدین کے ساتھ آباد تھی ۔ اس نے یہیں سے تعلیم حاصل کی تھی اور اب ایک لائسنس بنانے والی ایجنسی میں کام کر رہی تھی ۔ اسکے والدین نے اٹالین پاسپورٹ حاصل کرنے کے بعد جرمنی جانے کا فیصلہ کیا تھا اور اب وہیں آباد تھے۔ کہا جاتا ہے کہ سنا ایک اٹالین سے شادی کرنا چاہتی تھی اور اسکے گھر والے اس کے فیصلے کے خلاف تھے ۔ صنا کے اٹالین دوستوں اور ایجنسسی والوں نے بتایا کہ وہ ہنس مکھ اور ہمدرد لڑکی تھی اور سب سے اخلاق سے پیش آتی تھی ۔ اس کیس کی تفتیش میں اٹالین ایمبیسی اسلام آباد بھی اپنا کردار ادا کرے گی ۔ 

alt

صنا چیمہ گزشتہ 2 ماہ سے پاکستان کے شہر گجرات گئی ہوئی تھی ، جیسا کہ وہ اکثر جایا کرتی تھی لیکن اس بار اسکا آخری سفر تھا ۔ اسی عرصے میں اسکا والد اور بھائی بھی جو کہ جرمنی میں آباد تھے، گجرات آئے ہوئے تھے ۔ انہوں نے موقع کا فائدہ اٹھا کر اپنی عزت کے نام پر سنا کو قتل کر دیا ۔ گجرات پولیس نے ان دونوں کو گرفتار کر لیا ہے ۔ یاد رہے کہ صنا کے پاس اٹالین پاسپورٹ تھا اور جرمنی جانے کے لیے تیار نہیں تھی۔ 

alt

یاد رہے کہ 2006 میں اسی شہر کی ایک پاکستانی لڑکی حنا سلیم کو اسکے والد اور بہنوئی نے قتل کردیا تھا ۔ اسی طرح بلونیا کے قریبی گاؤں میں چند سال قبل شہناز بیگم کو اسکے خاوند اور بھائی نے قتل کر دیا تھا اور اسی کیس میں نوشین بٹ یعنی شہناز بیگم کی بیٹی بھی بری طرح زخمی ہوگئی تھی اور کئی دن بیہوش رہنے کے بعد حوش میں آئی تھی ۔ اب اسی سال مچیراتا شہر کے ایک گاؤں میں ایک پاکستانی نے اپنی 19 سالہ بیٹی کو ازکا ریاض کو قتل کر دیا ہے ، جسکی تفتیش ابھی ہو رہی ہے کیونکہ ازکا کے والد نے کہا ہے کہ یہ کار ایکسیڈنٹ میں مری تھی ۔

تصویر میں صنا اور اسکا والد 

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت ہفتہ, 21 اپریل 2018 17:22

اسلام اور بنیاد پرستی

 

روم۔ 25 اپریل 2015 ۔۔۔۔ اسلام ایک بین الاقوامی مذہب ہے ، اسلامی ممالک کی تعداد 54 ممالک سے زائد ہے  ۔ اسلام کا مطلب امن ہے اور اس مذہب میں جاہل انسانوں کے لیے کوئی مقام موجود نہیں ہے ۔ اسلام میں لکھنا پڑھنا لازمی ہے اور یہی وجہ ہے کہ دنیا کی موجودہ سائنس کی بنیاد اسلامی سائنس دانوں کی مرہون منت ہے ۔ بنیاد پرستی کیا ہے ۔ بنیاد پرستی اور اسلام ایک دوسرے کے متضاد ہیں ۔ بنیاد پرست صرف بنیادوں پر یقین رکھتا ہے اور عمارت کے خلاف ہوجاتا ہے جو کہ ان بنیادوں پر کھڑی ہوتی ہے ۔ اسلام کی بنیاد کے بعد چودہ سوسال اسکی عمارت ہیں ۔ عربی زبان میں زیر زبر اور پیش اس وقت شامل کیے گئے ، جب اسلام عربی سرحدوں کو پار کرگیا اور غیر عربی قوموں کے لیے عربی سمجھنا اور قرآن پاک کافی مشکل ہوگیا تو اس مسئلے کو حل کرنے کے لی زیر زبر وغیرہ کی ایجاد ہوئی ۔ اسی طرح بہت سارے ایسے قوانین ہیں جو کہ دوسری قوموں کی آسانی کے لیے بنائے گئے ۔ اس کے برعکس ایک بنیاد پرست صرف ان قوانین کو عمل میں لانے کے لیے ضد کرتا ہے جو کہ اسلام کے پہلے دور سے متعلق ہیں ۔ وقت کے ساتھ ساتھ اجتہاد کرنا لازمی ہوتا ہے ، یعنی پانچ بنیادی اراکین وہی رہتے ہیں لیکن قوانین، روایات اور سماجی تبدیلی دنیا کے مطابق کرنا اسلام کا حصہ ہیں ۔ مثال کے طور پر ہمارے ملک میں بنکنگ سسٹم اسلامی روایات کے مطابق نہیں ہے لیکن دنیا کے ساتھ چلنے کے لیے اسے رائج کیا گیا ہے اور اسے تسلیم بھی کرلیا گیا ہے ۔

عسکریت پسندی اور جہادی اسلام کا پرچار گزشتہ 35 سالوں سے کیا جا رہا ہے ۔ یہ بھی اسلام کے متضاد ہے ۔ جہاد کے لیے خلیفہ یا موجودہ حکومت کی مرضی شامل ہونا ضروری ہوتی ہے ۔ زاتی طور پر جنگ، لڑائی، چڑھاؤ جیسے جراثیم جو بعض اوقات ہمارے ملاں بھی ہمارے اندر پیدا کردیتے ہیں اور ہمارے زہن میں یہ بٹھادیتے ہیں کہ اسلام پوری دنیا میں غالب آنا چاہئے ، یہ سب ایسے نعرے ہیں ، جنکی موجودگی کیوجہ سے بعض اوقات ہمارے جوان اٹلی میں بھی دنیاوی زندگی چھوڑ کر لمبی داڑھی رکھ لیتے ہیں اور جس ملک میں رہتے ہیں ، اسکی رسومات، روایات اور کلچر کے خلاف ہو جاتے ہیں ۔ اصل بات یہ ہوتی ہے کہ یہ جوان اس ملک یا اٹلی میں خوش نہیں ہوتے اور مذہب کو اپنی ڈھال بناتے ہوئے خوشی تلاش کرتے ہیں ۔ یاد رکھیں کہ اس سال پیرس کے حملوں کے بعد اٹلی میں تین پاکستانیوں کی انکی لمبی داڑھیوں اور مذہبی لباس پہننے اور فیس بک پر انتہا پسند سائٹ دیکھنے کیوجہ سے ملک بدر کردیا گیا ہے اور اب پشتون کمونٹی کے 18 افراد کو دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ دوستو ، حالات سازگار نہیں ، ہمیں پاکستانی اور مسلمان سمجھ کر ہمارا کنٹرول کیا جاتا ہے اور ہمارا چال چلن دیکھا جاتا ہے  ، اگر کوئی جوان فیس بک پر دولت اسلامی کا نشان استعمال کرے گا تو لازمی بات ہے کہ حکومت اسے ملک بدر کرے گی کیونکہ دولت اسلامی والے یورپ کو اپنا دشمن تصور کرتے ہیں ۔ اٹلی میں مذہبی آزادی ہے لیکن اٹلی کا کوئی سرکاری مذہب نہیں ہے کیونکہ یہاں اسٹیٹ سیکولر ہے ۔ مذہب کا پرچار کرنے کے لیے بھی ہمارے لوگ جب تبلیغ اور دعوہ جیسی تنظیموں کا حصہ بنتے ہیں ، انکے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اس ملک کی روایات ، سماج اور ثقافت کو رد نہ کریں بلکہ انکی تعریف کریں ۔ آزادی، جمہوریت اور انسانی ہمدردی انکی بنیادی قدریں ہیں اور اگر ہم انکے خلاف پراپیگنڈہ کریں گے تو اس سے تو بہتر یہی ہے کہ ہم اس ملک کو چھوڑ دیں ۔ اسکے برعکس ہم رہنا بھی یورپ میں چاہتے ہیں لیکن ہم اسے بدلنے کے خواب دیکھتے ہیں ۔ سب سے بڑا مسلمان وہ ہے جو کہ محنت مزدوری کرتے ہوئے اس ملک میں اپنا مقام بناتا ہے ، اپنے بچوں کو تعلیم دلواتا ہے اور مہذب شہری بنتا ہے ۔ 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

بلزانو سے عثمان کو دہشت گردی کے الزام میں ملک بدر کر دیا گیا

روم۔ 22 جنوری 15 ۔۔۔۔ عثمان ریان خان عمر 23 سال کو اٹلی کے شمالی علاقے کے شہر بلزانو سے ملک بدر کر دیا گیا ہے ۔ فرانس کے شہر پیرس میں صحافیوں کے سانحہ کے بعد پورے یورپ میں مسلمانوں کی کاروائیوں پر نظر رکھی جا رہی ہے اور اگر ان میں سے کوئی شدت پسند، عسکریت پسند اور بنیاد پرستی جیسے خیالات کا حامی ہے ، اس پر نظر رکھی جاتی ہے اور اسکے فون ریکارڈ کیے جاتے ہیں ، اسکی سوشل میڈیا کی زندگی دیکھی جاتی ہے اور آخر کار اسے دہشت گرد نہیں لیکن معاشرے کے لیے خطرناک فرد قرار دیتے ہوئے ملک بدر کیا جاتا ہے یا پھر اسکا نام بلیک لسٹ میں ڈال دیا جاتا ہے ، تمام پاکستانیوں سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ مذہب کو پرائیویٹ زندگی تک محدود رکھیں اور اسے پبلک زندگی سے دور رکھیں کیونکہ یہ پاکستان نہیں ہے ۔ یہاں اسٹیٹ سیکولر ہے اور مذہب کو کسی قسم کی سرکاری حیثیت حاصل نہیں ہے۔

 خیر عثمان ریان خان بلزانو میں 8 سال کی عمر میں آیا تھا اور اسکے پاس عام پرمیسو دی سوجورنو تھی ۔ یہ کبھی کبھار کام کرتا تھا اور پاکستانی کمونٹی کے بقول ایک اچھا پاکستانی تھا۔ اسے وزیر داخلہ کے حکم کے مطابق خطرناک شہری قرار دیتے ہوئے ملک بدر کر دیا گیا ہے ۔ عثمان نے تعلیم بھی بلزانو میں حاصل کی تھی اور یہ مکمل طور پر جرمن اور اٹالین زبان بولتا تھا۔ اٹالین اخبارات کے مطابق اس نے اپنے فیس بک پر دا‏عش یا دولت اسلامیہ کے جھنڈے کی تصویر لگائی ہوئی تھی ۔  یہ عام طور پر اپنے بیانات کے زریعے بھی جہاد اور عسکریت پسند اسلام کا پرچار کرتا تھا ۔ چند ایسی ویڈیو بھی اسکے فیس بک پر موجود تھیں ، جوکہ جہادی اسلام کی عکاسی کرتی ہیں ۔ عثمان نے پیرس میں ہونے والے ہولناک دہشت گردی کے حادثے پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ ناموس رسالت کی پاسداری ہر مسلمان کا فرض ہے ۔ تصویر میں عثمان ریان خان

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

پاکستانیوں نے 5 ہزار سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کروائی ہیں

روم، 20 جنوری 15 ۔۔۔۔ گزشتہ سال یعنی 2013 میں پاکستانیوں نے 5 ہزار سے زائد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کروائی ہیں۔ عام طور پر پاکستانیوں کی سیاسی پناہ کی درخواستیں ایک ہزار کے لگ بھگ ہوتی تھیں لیکن گزشتہ سال ہمارے نوجوانوں نے دوسری پوزیشن حاصل کرتے ہوئے اٹلی کو حیران کردیا ہے ۔ پہلا نمبر نائجیریا کا ہے ، جنہوں نے سیاسی پناہ حاصل کرنے کے لیے 22 ہزار سے زائد درخواستیں جمع کروائی ہیں ۔ ہمارے پاکستانی جو کہ سیاسی پناہ کی درخواست جمع کرواتے ہیں ، عام طور پر وہ یہی کیس کرواتے ہیں کہ طالبان انہیں زبردستی بھرتی کرتے ہوئے جنگ پر روانہ کرنا چاہتے تھے اور جس میں انکی مرضی شامل نہیں تھی ۔ اپنی جان بچانے کے لیے یہ اٹلی پہنچ گئے ہیں ۔ عام طور پر یہ پاکستانی جوان ہوتے ہیں اور ان تعلق پنجاب اور سرحد سے ہوتا ہے ۔ سرحد والے نوجوان اپنےآپ کو افغان پیش کرتے ہوئے بھی کیس کرواتے ہیں ۔ عام طور پر پاکستانیوں کا کیس مسترد کر دیا جاتا ہے لیکن ان میں سے بیشتر کو انسانی ہمدردی کی پرمیسو دی سوجورنو جاری کردی جاتی ہے ۔ یہ سوجورنو عام طور پر ایک سال پر مبنی ہوتی ہے ۔ پشاور میں ملٹری سکول کے بچوں کی ہلاکت کے بعد پاکستانیوں کا کیس قدرے مضبوط ہوگیاہے۔ کیس کروانے والے پاکستانی زیادہ تر غیر قانونی طور پر ترکی اور لیبیا کے راستے استعمال کرتے ہوئے کشتیوں کے زریعے اٹلی پہنچتے ہیں ۔

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت منگل, 20 جنوری 2015 19:54

اٹلی کے پاکستانیوں کی دکھ بھری پنجابی نظم

 

ہاں کسی لحاظ سے یہ سچ بھی ہے لیکن ہماری کہانی کچھ اس دورے سے ملتی جلتی ہے ۔ ایک شخص پاگل خانے کا دورہ کرنے گیا تو ایک کمرے میں ایک پاگل اس لیے رو رہا تھا کہ اس کی شادی شبنم سے ہوئی تھی ۔ جب یہ شخص دوسرے کمرے کا وزٹ کرنے گیا تو وہاں بھی ایک شخص رو رہا تھا ۔ اس نے سوال کیا تم کیوں رو رہے ہو ۔ اس پاگل نے جواب دیاکہ میں شبنم سے شادی کرنا چاہتا تھا لیکن وہ مجھ سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی ۔ اس لیے دوستو ، جو یورپ کی طرف بھاگتا ہے ، وہ بھی روتا ہے اور جو پاکستان میں رہ جاتا ہے ، وہ بھی یہی سمجھ کر روتا رہتا ہے کہ شاید یورپ شبنم ہے ۔ خیر یہ نظم ضرور سنیں ۔

نظم سننے کے لیے      

یہاں کلک کریں

     

 

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com