Saturday, Nov 18th

Last update08:57:59 PM GMT

RSS

قومی خبریں

محمد شہزاد خان کے قاتل کو 21 سال کی قیدکا فیصلہ

‎‎‎

7 دسمبر 15 ۔۔۔۔۔ یاد رہے کہ گزشتہ 18 ستمبر کی رات کو نہتے محمد شہزاد اٹلی کے دارالخلافہ روم کے ایک علاقے تور پنیاتارا میں اٹالین باپ بیٹے نے وحشیانہ طور پر قتل کردیا گیا تھا ۔ یہ واقع تورپنیا تارے کی گلی Via Ludovico Pavoni  میں رات پونے بارہ بجے کے قریب پیش آیا ۔ جائے وقوع پر پولیس پہنچ گئی اور انہوں نے قاتلوں کو گرفتار کرلیا ۔ بقلم خود نے  اس محلے کا وزٹ کیا اور لوگوں سے بات چیت کی ۔ محمد شہزاد خان کا تعلق آزاد کشیمر کے گاؤں باغ سے تھا اور اسکی عمر 28 سال تھی ۔ محمد شہزاد روم کی مشہور و معروف شخصیت  ممحمد عزیز خان کا کزن تھا اور اٹلی میں گزشتہ 4 سالوں سے مقیم تھا ۔ محمد شہزاد کے پاس پرمیسو دی سوجورنو تھی اور کبھی کبھار پاکستانی ریسٹورنٹوں میں کام بھی کرتا رہا تھا ۔ اب چند ماہ سے شہزاد بے روزگار تھا اور پریشان حال تھا ۔ اس نے کچھ عرصہ قبل پاکستان میں جا کر شادی کی تھی اور اسکا کا بیٹا بھی تھا ۔ 18 ستمبر کی رات وہ اس خونی گلی میں گاتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ وہ  پاکستانی ہے اور مسلمان ہے ۔ اسی اثنا میں ایک سترہ سالہ اٹالین اسکے پاس آیا اور اس نے کہا تم کیا گا رہے ہو ۔ شہزاد نے دوبارہ یہی گانا شروع کردیا کہ وہ پاکستانی ہے اور مسلمان ہے ۔ اس بات پر یہ اٹالین ناراض ہو گیا اور اس نے اسے مارنا پیٹنا شروع کردیا ۔ اسکے بعد اس اٹالین لڑکے کا والد بھی آگیا اور اس نے بھی اسے مارنے کے لیے کہا ۔ گلی کی دوسری منزل سے ایک اٹالین نے آواز دی کہ اس غریب کو مت مارو تو لڑکے کے والد نے اسکے دروازے پر لات مارتے ہوئے کہا کہ اگر تم خاموش نہیں رہو گے تو ہم تمہیں بھی مار دیں گے ۔ دور سے بنگالی لڑکے دوڑتے ہوئے آئے لیکن بہت دیر ہو چکی تھی ۔ محمد شہزاد اس وحشی دنیا کو چھوڑ کر اپنے  محبوب سے جا ملا تھا ۔ اسکے بعد بنگالی لڑکوں نے ثقلین علی کے کباب پر جا کر اطلاع دی تو فوری طور پر ثقلین ، چوہدردی شبیر امرے والا، راؤف خان جائے وقوع پر پہنچ گئے اور انہوں نے ایمبیسی آف پاکستان روم کے افسر احمد فاروق کو بھی بلا لیا ۔ ساری رات لاش وہاں پڑی رہی اور باپ بیٹے کو گرفتار کرلیا گیا ۔ اٹالین اخبارات اور ٹیوی نے یہ خبر دی ہے کہ یہ کیس نسل پرستی کا نہیں ہے اور محمد شہزاد کو اٹالین کمسن  لڑکے نے اس لیے قتل کیا ہے کیونکہ اس نے اسکے منہ پر تھوک پھینکی تھی اور یہ نشے میں تھا ۔ حقیقت کو چھپا دیا گیا ہے اورمحمد شہزاد کو ایک پاگل اور ظالم انسان کے طور پر پیش کیا گیا ہے ۔

اب ایک سال کی تاریخوں کے بعد عدالت اعلی نے 12 ججوں کی موجودگی میں قاتل کے باپ کو 21 سال کی قید کا فیصلہ سنا دیا ہے ۔ محمد شہزاد خان کے قتل کی پیروائی اسکے کزن محمد عزیز خان نے کی ہے ۔ محمد عزیز خان شہزاد کو اٹلی لیکر آئے تھے اور انہوں نے اسکی سوجورنو وغیرہ بنوائی تھی ۔ محمد عزیز اب انگلینڈ میں آباد ہیں لیکن وہ شہزاد کے کیس کے لیے اکثر اٹلی آتے رہے ہیں ۔ محمد عزیز خان نے بتایا کہ شہزاد کے قتل کے بعد انکے خاندان والے سخت پریشانی کا سامنا کر رہے ہیں اور انکے مالی حالات بھی کافی خراب ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اٹالین انصاف کے اداروں کا شکریہ ادا کرتے ہیں ، جنہوں نے شہزاد کے قاتل کو اصل سزا سنائی ہے ۔ محمد عزیز نے کہا کہ انہوں نے انگلینڈ میں اپنا کاروبار خراب کرنے کے باوجود کیس کی پیروائی کی ہے اور انصاف حاصل کیا ہے ۔ آج جب عدالت نے قاتل کے والد ماسی ملیانو کو 21 سال کی سزا سنائی تو اس بدمعاش خاندان نے عدالت کی کرسیاں توڑنی شروع کردیں اور ججوں گالیاں دیں ۔ انہوں نے مجھے بھی مارنے کی کوشش کی لیکن پولیس نے مجھے عدالت کے پچھلے دروازے سے نکال کر اپنی گاڑی میں بٹھا کر وہاں سے باحفاظت نکال لیا ۔

عدالت نے گزشتہ دنوں قاتل دانیل کو بھی 8 سال کی قید سنائی تھی لیکن بعد میں اسے ایک ایسے سنٹر میں روانہ کر دیا تھا ، جہاں اسے تعلیم و تربیت دی جائے گی ۔ یاد رہے کہ اٹلی میں کم سن کو جیل کی قید نہیں دی جاتی ۔ اصل قاتل اسکا والد ہے کیونکہ اس نے بیٹے کو اکسایا تھا اور ثبوت چھپانے کے لیے اسکے کپڑے اور جوتے بھی پولیس کے پہنچنے سے قبل تبدیل کروا دیے تھے ۔ تصویر میں مرحوم محمد شہزاد اور اسکے کزن محمد عزیزخان اپنے دوستوں کے ہمراہ 

 

 

 

                                                                                                                

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت منگل, 15 دسمبر 2015 20:33

اٹلی سے ایک اور پاکستانی دہشت گردی کے الزام میں ملک بدر

روم۔ 24 اپریل 2015 ۔۔۔ اٹلی کے شہر پراتو سے ایک پاکستانی یار اقبال عمر 27 کو دہشت گردی کے الزام میں ملک بدر کردیا گیا ہے ۔ یاد رہے کہ پیرس میں دہشت گردی کے واقع کے بعد اب تک تین پاکستانیوں کو ملک بدر کیا جا چکا ہے ۔ یار اقبال اٹلی میں 1999 سے آباد تھا اور قانونی طور پر رہائش پذیر تھا ۔ اقبال اپنے بھائی اور والد کے ہمراہ آباد تھا لیکن کچھ عرصے سے وہ ان سے علیحدہ رہ رہا تھا ۔ پولیس کے مطابق اقبال فیس بک پر جہادی پروگرام دیکھتا تھا اور وہ مذہبی لیڈران کی تقاریر گھنٹوں تک سنتا رہتا تھا ۔ اقبال پراتو کالینسانو میں ایک فرم میں ورکر تھا اور کافی مذہبی ہونے کے بعد جنونی بنتا جا رہا تھا ۔ پولیس نے اسے وزیر داخلہ کے اسپیشل آرڈر کے بعد 22 اپریل کو گرفتار کیا اور اسکے بعد 23 اپریل کو ملک بدر کردیا ہے ۔ اسے روم ائر پورٹ کے زریعے کراچی روانہ کردیا گیا ہے ۔ پولیس نے کہا کہ اسکے گھر سے کوئی اسلحہ وغیرہ نہیں ملا اور نہ اس کا تعلق کسی گروہ سے تھا لیکن اس کی دلچسپی جہادمیں بڑہ رہی تھی اور یہ کسی وقت بھی فارن فائٹر کے طور پر شام جیسے ملک میں جا کر جہادی فوجی بن سکتا تھا ۔ اقبال پراتو میں ویا فرارا کی مسجد میں نماز پڑھتا تھا ۔ یاد رہے کہ آج سردینیا میں پاکستانیوں کا ایک بڑا گروہ دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے ، جس میں 17 پاکستانی اور ایک افغان شہری موجود ہے ۔ تصویر میں یار اقبال

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت جمعہ, 24 اپریل 2015 21:57

فرانس میں دہشت گردی کے واقع کے بعد مسلمانوں کے حالات

روم۔ 18 جنوری 15 ۔۔۔۔ فرانس میں دہشت گردی کے واقع کے بعد یورپین مسلمانوں کے حالات سنگین ہوتے جا رہے ہیں ۔ اٹالین اخباراب کے مطابق شمالی اٹلی میں موجود ہماری پاکستانی مساجد پر نظر رکھی جا رہی ہے اور ہم پر بے جا شک کیا جا رہا ہے ۔ اٹالین سیاسی پارٹی لیگا نورد نے لومبردیا میں ہماری مساجد کی تمام تر کاروائیاں، کرنٹ اکا‎‌ؤنٹ، مساجد کی کمیٹی کے نام اور ہر قسم کی مذہبی کاروائی کا رجسٹر بنانے کا قانون پیش کیا ہے ۔ شمال اٹلی میں منہاج القرآن یورپ کے صدر ارشد شاہ نے اٹالین اخبارات کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ خفیہ پولیس ہمارے اداروں کو چیک کر رہی ہے ۔ پورے اٹلی میں ہمارے 35 ادارے ہیں جو کہ پورے اٹلی میں پھیلے ہوئے ہیں ۔ آج تک پولیس ہمارے کسی بھی ادارے سے عسکریت پسندی، بنیاد پرستی یا انتہا پسندی کے لوازمات تلاش نہیں کر سکی ۔ انہوں نے کہا کہ میرا پیچھا کیا جاتا ہے اور یہ دیکھا جاتا ہے کہ میں کہاں جاتا ہوں ، کس سے بات کرتا ہوں لیکن جب خفیہ ادارے یہ دیکھتے ہیں کہ مجھ میں کوئی خامی نہیں تو وہ خود بخود چلے جاتے ہیں ۔ فرانس میں چارلی ہیبدو کے کارٹونسٹوں کی موت کے بعد پورے یورپ میں مسلمانوں کی کاروائیوں کو شک کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے ۔ مشرق اور مغرب کی تاریخی لڑائی دوبارہ سامنے آرہی ہے ۔ بیشتر اسلامی ممالک میں فرانس کے خلاف جلسے اور جلوس نکالے جا رہے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ پورے یورپ میں چارلی ہیبدو کی فروخت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے ، اب تک 50 لاکھ کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں ۔ اس اخبار کے علاوہ فرانسیسی مصنف ہولبیک کی کتاب undermissionبھی شا‏ئع ہو چکی ہے اور اسکی 1 لاکھ 20 ہزار کی اشاعت ہو چکی ہے ۔ یہ کتاب ایک افسانہ ہو ، جس میں یہ دکھایا گیا ہے کہ 2022 میں فرانس کا صدر ایک مسلمان ہو گا اور عورتیں پردہ کریں گی ۔ اس کتاب پر بھی مختلف حلقوں میں کافی تنقیدی بحث کی جا رہی ہے ۔ تحریر، اعجاز احمد

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

روم ایمبیسی میں شام سوگ کا اہتمام

18 دسمبر 2014 ۔۔۔۔۔ آج شام روم ایمبیسی میں شام سوگ کا اہتمام کیا گیا ۔ 16 دسمبر کی صبح کو پشاور میں ہونے والے المناک دہشت گردی کے واقع کی مذمت کرنے کے لیے روم میں موجود ہمارے سفارت خانے میں شام سوگ منایا گیا ۔ شام چار بجے کے قریب قرآن خوانی کروائی گئی اور اسکے بعد سفارت خانے کے صحن میں 145 شہیدوں کی یاد میں 145 شمعیں روشن کی گئیں ۔ ایمبیسڈر تہمینہ جنجوعہ کی آنکھیں نم تھیں اور ہر پاکستانی اور غیر ملکی جو وہاں موجود تھا ، انتہائی غم و صدمے کا اظہار کر رہا تھا ۔ ایمبیسی کے سیکنڈ سیکرٹری  عامر سعید نے مائیک تھامتے ہوئے سب سے پہلے کرسچن کمونٹی کے صدر سرور بھٹی کے دعوت دی کہ وہ المناک سانحہ پشاور پر اپنا اظہار خیال کریں ۔ اسکے بعد مسیحی پادری پاسچر اعظم خان نے اپنے مذہب کے مطابق شہید ہونے والے بچوں کی یاد میں اور انکے خاندان والوں کے لیے دعا کی ۔ اسکے بعد پاکستان فیڈریشن کے صدر چوہدری بشیر امرے والا نے غم و دکھ اور غصے کا اظہار کیا ۔ ڈپٹی ہائی کمشنر اشتیاق عاقل نے شہید ہونے والے بچوں کے لیے دعا کی ۔ آخر میں ایمبیسڈر تہمینہ جنجوعہ نے غیر ملکی مہمانان گرامی کے احترام کے لیے اردو کی بجائے انگریزی میں تقریر کی اور کہا کہ میں عورت ہوں اور ان ماؤں کے بارے میں جانتی ہوں جنکے بچے شہید ہو چکے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ تین دنوں سے پورے اٹلی سے لوگ افسوس کرنے کے لیے ایمبیسی میں آرہے ہیں ۔ یاد رہے کہ پشاور کے واقع نے پورے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے اور پاکستان کے ہر علاقے میں سوگ منایا جا رہا ہے ۔ موم بتیاں جلائی جا رہی ہیں اور مسجدوں میں دعائے مغفرت کروائی جا رہی ہے ۔ سفارت خانے میں سینکڑوں پاکستانیوں نے شرکت کی ۔ جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے ۔

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

روم میں محمد شہزاد کو وحشیانہ طور پر قتل کردیا گیا

روم۔ 19 ستمبر 2014 ۔۔۔۔ تحریر ، اعجاز احمد ۔ کل رات اٹلی کے دارالخلافہ روم کے ایک علاقے تور پنیاتارا میں اٹالین باپ بیٹے نے محمد شہزاد کو وحشیانہ طور پر قتل کردیا گیا ہے ۔ یہ واقع تورپنیا تارے کی گلی Via Ludovico Pavoni  میں رات پونے بارہ بجے کے قریب پیش آیا ۔ جائے وقوع پر پولیس پہنچ گئی اور انہوں نے قاتلوں کو گرفتار کرلیا ۔ بقلم خود نے آج اس محلے کا وزٹ کیا اور لوگوں سے بات چیت کی ۔ محمد شہزاد خان کا تعلق آزاد کشیمر کے گاؤں باغ سے تھا اور اسکی عمر 28 سال تھی ۔ محمد شہزاد روم کے انڈین پاکستانی کھانوں کے مشہور باورچی محمد عزیز کا کزن تھا اور اٹلی میں گزشتہ 4 سالوں سے مقیم تھا ۔ محمد شہزاد کے پاس پرمیسو دی سوجورنو تھا اور کبھی کبھار پاکستانی ریسٹورنٹوں میں کام بھی کرتا رہا تھا ۔ اب چند ماہ سے شہزاد بے روزگار تھا اور پریشان حال تھا ۔ اس نے کچھ عرصہ قبل پاکستان میں جا کر شادی کی تھی اور اسکا 5 ماہ کا بیٹا بھی تھا ۔ دوستوں کی گواہی کے مطابق شہزاد واپس پاکستان جانے کی خواہش ظاہر کرتا تھا لیکن اسکے مالی حالات کافی خراب تھے ۔ ایک سنٹر میں رہتا تھا اور سڑک پر چند چیزیں بیچ کر گزارا کرتا تھا ۔ کل رات وہ اس خونی گلی میں گاتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ وہ  پاکستانی ہے اور مسلمان ہے ۔ اسی اثنا میں ایک سترہ سالہ اٹالین اسکے پاس آیا اور اس نے کہا تم کیا گا رہے ہو ۔ شہزاد نے دوبارہ یہی گانا شروع کردیا کہ وہ پاکستانی ہے اور مسلمان ہے ۔ اس بات پر یہ اٹالین ناراض ہو گیا اور اس نے اسے مارنا پیٹنا شروع کردیا ۔ اسکے بعد اس اٹالین لڑکے کا والد بھی آگیا اور اس نے بھی اسے مارنا شروع کردیا ۔ گلی کی دوسری منزل سے ایک اٹالین نے آواز دی کہ اس غریب کو مت مارو تو لڑکے کے والد نے اسکے دروازے پر لات مارتے ہوئے کہا کہ اگر تم خاموش نہیں رہو گے تو ہم تمہیں بھی مار دیں گے ۔ دور سے بنگالی لڑکے دوڑتے ہوئے آئے لیکن بہت دیر ہو چکی تھی ۔ محمد شہزاد اس وحشی دنیا کو چھوڑ کر اپنے پیارے محبوب سے جا ملا تھا ۔ اسکے بعد بنگالی لڑکوں نے ثقلین علی کے کباب پر جا کر اطلاع دی تو فوری طور پر ثقلین ، چوہدردی شبیر امرے والا، راؤف خان جائے وقوع پر پہنچ گئے اور انہوں نے ایمبیسی آف پاکستان روم کے افسر احمد فاروق کو بھی بلا لیا ۔ ساری رات لاش وہاں پڑی رہی اور باپ بیٹے کو گرفتار کرلیا گیا ۔ اٹالین اخبارات اور ٹیوی نے یہ خبر دی ہے کہ یہ کیس نسل پرستی کا نہیں ہے اور محمد شہزاد کو اٹالین کمسن لڑکے نے اس لیے قتل کیا ہے کیونکہ اس نے اسکے منہ پر تھوک پھینکی تھی اور یہ نشے میں تھا ۔ حقیقت کو چھپا دیا گیا ہے اورمحمد شہزاد کو ایک پاگل اور ظالم انسان کے طور پر پیش کیا گیا ہے ۔ میں تمام اہل وطن سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ محمد شہزاد کو اپنا بیٹا یا بھائی سمجھ کر اسکے کیس کی پیروائی کریں اور سچائی کو سامنے لانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں ۔ تصویر میں محمد شہزاد خان

سراہنے شہزاد کے آہستہ بولو

ابھی سوگیا ہے روتے روتے

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت جمعہ, 19 ستمبر 2014 20:28