Tuesday, Jun 19th

Last update12:39:09 AM GMT

RSS

اٹالین خبریں

میلان میں ہومانیتاس یونیورسٹی کا افتتاح اور ایک پاکستانی لڑکی کی کامیابی

 

14 نومبر 2017 ۔۔۔۔ آج بروز منگل میلان میں ہومانیتاس یونیورسٹی کے کیمپس کا افتتاح اٹلی کے صدر سیرجو متاریلا نے کیا ۔ اس موقع پر ملک کے وزرا ، علاقائی سیاسی لیڈران اور سول سوسائٹی کی مشہور و معروف شخصیات موجود تھیں ۔ صدر مملکت عام طور پر کسی پرا‏‏ئیویٹ یونیورسٹی کا افتتاح کرنے کے لیے تشریف نہیں لاتے ، اس لیے یہ ایک اہم موقع تھا ۔ اسی یونیورسٹی میں ایک پاکستانی لڑکی جویرا علی بھی سال چہارم کی طالبہ ہیں۔ میلانو کے میئر جوزپے سالا نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہومانیتاس یونیورسٹی صرف ایک عام یونیورسٹی نہیں ہے بلکہ ایک اہم ریسرچ سنٹر، ہسپتال اور بین الاقوامی درس گاہ کے طور پر ابھر رہی ہے ، یہی وجہ ہے کہ اسکے افتتاح کے لیے صدر مملکت خود تشریف لائے ہیں ۔ میئر نے کہا کہ ہمارے شہر میں 13 ہزار غیر ملکی اسٹوڈنٹس تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور یہ غیر ملکی اس شہر کو اپنا شہر سمجھتے ہیں ۔

صدر مملکت نے اپنی تقریر میں کہا کہ ریسرچ دنیا کی تقدیر بدل رہی ہے ۔ آپ میری عمر ہی دیکھ لیں، یہ سب سا‏ئنس کی ترقی کی بدولت ہے ورنہ میری عمر کے لوگ پہلے اتنے صحت مند نہیں ہوتے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ میلانو اٹلی کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے اور اس شہر میں ترقی یافتہ ، جدید اور ڈیجیٹل انڈسٹری فروغ پا رہی ہے ۔ صدر کی تقریر کے بعد مختلف مقررین نے اس جدید یونیورسٹی کے بارے میں روشنی ڈالی۔ یونیورسٹی کی تقریب کے دوران صرف ایک اسٹوڈنٹ نے صدر مملکت اٹلی کے سامنے تقریر کی اور وہ ہماری پاکستانی لڑکی جویرا علی تھیں ۔ جویرا نے کہا کہ میرے دادا چاہتے تھے کہ میں ڈاکٹر بنو ۔ میں نے سکول اور کالج میں اچھی پوزیشن حاصل کی اور اسکے بعد اس یونیورسٹی میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئی ۔ یہاں تمام پروفیسر اور سٹاف ہم سے محبت کرتے ہیں ، میں چوتھے سال میں ہوں اور جلد تعلیم مکمل کرنے کے بعد عورتوں کی اسپیشلسٹ بننے کا خواب دیکھتی ہوں ۔ میں امید پرست ہوں اور اپنا اور اپنے یونیورسٹی فیلو کا مستقبل روشن تصورکرتی ہوں ۔ جویرا علی کے والد نعمت علی کا تعلق گوجرانوالہ سے ہے اور وہ ریجو امیلیا شہر میں بزنس کرتے ہیں ۔ دونوں والدین اس عظیم الشان تقریب میں موجود تھے اور اپنی بیٹی پر فخر کرتے نظر آرہے تھے ۔  اسکے بعد ہومانیتاس یونیورسٹی کے پروفیسروں نے حاضرین کو بتایا کہ دنیا کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ اسکے شہری بھی صحت مند ہوں ۔ ہمیں چاہئے کہ ہم کینسر کا علاج تلاش کریں ۔ دنیا میں موٹاپاپن بڑہ رہا ہے، دنیا کے کافی ملکوں میں شہری اچھی خوراک نہیں کھا پاتے اور کمزور ہوتے جا رہے ہیں ۔ ہم نے دل کی کافی بیماریوں پر عبور حاصل کر لیا ہے ۔ ہمارے ہسپتال میں 80 فیصد مریض سرکاری سسٹم کے زریعے علاج کروانے کے لیے آتے ہیں ۔ پورے اٹلی اور دنیا کے مختلف ممالک سے لوگ ہمارے پاس اس لیے آتے ہیں کیونکہ ہمارے علاج کا سسٹم انتہائی جدید اور میسر ہے ۔ ہماری یونیورسٹی میں 12 سو زائد اسٹوڈنٹس ہیں اور ان ميں سے 44 فیصد غیر ملکی ہیں ۔ ہم نے ایک لا‏ئبریری، ریسرچ سنٹر اور کانفرنس ہال تعمیر کیا ہے اور اب ایک نیا کیمپس بھی بنا رہے ہیں ۔ ہمارے ہاں میڈیکل تعلیم کے علاوہ ریسرچر بھی دنیا کے مختلف ممالک سے آتے ہیں ۔ ہماری یونیورسٹی میں انگلش زبان میں تعلیم فراہم کی جاتی ہے اور اسکے علاوہ اٹالین بھی سکھائی جاتی ہے ۔ میلانو شہر اٹلی کا انتہائی خوبصورت شہر ہے ، جس میں جھیلیں، قدیم عمارات، ڈیزائن اور فیشن کی فرمیں موجود ہیں ۔ غیر ملکی اسٹوڈنٹس یہاں بہت خوش رہتے ہیں اور تعلیم کے ساتھ ساتھ ہمارے کلچر سے بھی متعارف ہوتے ہیں ۔ اگر آپ اٹلی میں میڈیکل تعلیم حاصل کرنے کے لیے آنا چاہتے ہیں تو ہومانیتاس یونیورسٹی آپکے لیے آ‏‏ئیڈیل ثابت ہو سکتی ہے ، اسکی سالانہ فیس 20 ہزار یورو کے لگ بھگ ہے لیکن اسکے وظیفے 6 سے 12 ہزار یورو تک دیے جاتے ہیں ، اس یونیورسٹی کے پروفیسر اٹلی کے مشہور پروفیسر ۔ ان میں سے دو پروفیسر نوبل پرائز ہیں ۔ یونیورسٹی میں داخلہ حاصل کرنے کے لیے آپ انکی انٹرنیٹ کی سا‏ئٹ سے رابطہ کرسکتے ہیں ۔

 

Humanitas University

Via Rita Levi Montalcini, 4, 20090 Pieve Emanuele Milano, Italy

www.hunimed.eu, Telephone: 0039-0282243777, یہ ای میل پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے

 

 

 

 

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت ہفتہ, 27 جنوری 2018 13:04

خواتین و حضرات

 

کافی مدت بعد ہم آزاد کو دوبارہ شروع کر رہے ہیں ۔ ہماری کوشش ہو گی کہ آپ کو وہ تمام معلومات فراہم کی جائیں جو کہ کسی طرح آپکے لیے سود مند ثابت ہو سکتی ہیں ۔ اعجاز احمد 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

اٹلی کی موجودہ امیگریشن کی رپورٹ

روم، 22 اکتوبر 2015 ۔۔۔۔۔۔ یہ رپورٹ Centro Studi e Ricerche IDOS  کی جانب سے شائع کی گئی ہے ۔ ایک ریسرچ کے مطابق دنیا میں 2015 میں تارکین وطن کی تعداد 23 کروڑ 70 لاکھ کے قریب ہو گئی ہے ۔ یورپ میں امریکہ میں تارکین وطن کی تعداد میں زیادہ اضافہ ہوا ہے ۔ تارکین وطن کی ملک بدری کیوجہ عدم مساوی حقوق ہیں ۔ دنیا کی 48 فیصد دولت پر 1 فیصد لوگوں کا قبضہ ہے ۔ 46،5 فیصد پر 20 فیصد لوگ اور 5،5 فیصد دولت پر باقی تمام لوگ مالک ہیں ۔ دولت کی غلط تقسیم کے علاوہ دنیا کے سیاسی بحران، فوجی جنگیں اور قدرتی عذاب بھی اہم قرار دیے جاتے ہیں ۔ 2014 میں 6 کروڑ تارکین وطن اپنا ملک چھوڑ کر کہیں دوسری جگہ چلے گئے ہیں ( جو کہ گزشتہ سال سے 80 لاکھ زیادہ ہیں ) ، ان میں سے 60 فیصد کے قریب تارکین وطن اپنے ہی ملک میں ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے پر مجبور ہوئے ہیں ۔ 2 کروڑ کے قریب تارکین وطن نے سیاسی پناہ کی درخواست دی ہے ۔ ان لوگوں کے لیے سیاسی پناہ حاصل کرنا بھی مشکل ہوگیا ہے کیونکہ دنیا کے بیشتر ممالک میں سیاسی پناہ کے بین الاقوامی قوانین پر عمل نہیں کیا جاتا اور دنیا کے مختلف ممالک میں 65 نئی دیواریں غیر ملکیوں کو روکنے کے لیے بنائی جا رہی ہیں ۔ اس رپورٹ میں اٹلی اور یورپ بھی شامل ہیں ۔ جنوری 2014 تک یورپ میں قانونی تارکین وطن کی تعداد 3 کروڑ 39 لاکھ تھی ۔ یہ تعداد یورپ کی تمام آبادی کا 6،7 فیصد حصہ ہے ۔ ان میں سے 2 کروڑ کا تعلق غیر یورپین ممالک سے ہے جبکہ 1 کروڑ 40 لاکھ کا تعلق یورپین ممالک سے ہے ۔ ان میں سے سیاسی پناہ حاصل کرنے والوں کی تعداد 6 لاکھ 26 ہزار 710 ہے۔ اٹلی یورپ کے ان بڑے ممالک میں شامل ہوتا ہے ، جن میں زیادہ تارکین وطن موجود ہیں۔ 2014 میں اٹلی میں غیر ملکیوں کی تعداد50 لاکھ 14 ہزار ہوگئی ہے ۔ گزشتہ سال کے برعکس تعداد میں 92 ہزار غیر ملکیوں کا اضافہ ہوا ہے ۔ اس کے برعکس ایک لاکھ 50 ہزار اٹالین نے تارکین وطن ہوئے ہیں ، یعنی انہوں نے اٹلی چھوڑ دیا ہے ۔ پوری دنیا میں اٹالین تارکین وطنوں کی تعداد 46 لاکھ سے زیادہ ہوگئی ہے ۔ اٹلی کی قل آبادی میں 8،2 فیصد غیر ملکی شامل ہیں ، جوکہ یورپین ممالک کی تعداد سے زیادہ تصور کیا جا رہا ہے ۔ IDOSکی سالانہ رپورٹ دوسیر کے مطابق اٹلی میں غیر ملکیوں کی تعداد 54 لاکھ سے زیادہ ہے کیونکہ ایسے غیر ملکی بھی موجود ہیں ، جن کے پاس اٹالین کاغذات نہیں ہیں ۔ اٹلی میں موجود غیر ملکیوں کی اکثریت کا تعلق یورپین ممالک سے ہے ۔ یعنی 26 لاکھ غیر ملکی یورپین ممالک سے تعلق رکھتے ہیں ۔ ان میں سے 30 فیصد یعنی 15 لاکھ کا تعلق یورپین یونین کے ممالک سے ہے ۔ اٹلی میں سب سے زیادہ تارکین وطن کا تعلق رومانیہ سے ہے ، جو کہ 11 لاکھ  31ہزار 839 پر مشتمل ہے ۔ البانیہ کے غیر ملکی 4 لاکھ 90 ہزار ، مراکش 4 لاکھ 49 ہزار، چین 2 لاکھ 65 ہزار اور یوکرائن کے غیر ملکی 2 لاکھ 26 ہزار پر مبنی ہیں ۔ اڈوس کے مطابق ان میں سے 27 لاکھ کرسچن ہیں ، 16 لاکھ مسلمان ہیں اور باقی دوسرے مذاہب اقلیتی طور پر موجود ہیں ۔ اٹلی کی وزارت داخلہ کے مطابق 2014 میں 30 ہزار سے زائد غیر ملکی گرفتار ہوئے ہیں ، جن میں سے 15 ہزار سے زائد کو ملک بدر کردیا گيا ہے ۔ سمندر سے غیر قانونی طور پر 2014 میں ایک لاکھ 70 ہزار غیر ملکی اٹلی میں داخل ہوئے ہیں ۔ 2014 میں 64 ہزار سے زائد غیر ملکیوں نے اٹلی میں سیاسی پناہ کی درخواست دی ہے ۔ 2015 میں 30 ہزار سے زائد غیر ملکیوں نے اٹلی میں سیاسی پناہ کی درخواست دی ہے۔ جون 2015 تک 79 ہزار غیر ملکیوں کی سیاسی پناہ کی درخواست حاصل کرتے ہوئے ان میں سے 19 ہزار کو sprarاور باقی لوگوں کو عارضی کمپوں میں روانہ کیا گيا ہے ۔  2014 میں 1 لاکھ 887۔29 ہزار غیر ملکیوں کو اٹالین شہریت جاری کی گئی ہے جو کہ گزشتہ سال 2013 سے 29 فیصد زیادہ ہے ، اس کے برعکس یورپین اور غیر ملکیوں میں شادیوں کے رجحان میں کمی واقع ہوئی ہے ۔ 2014 میں گزشتہ سال کی طرح غیر ملکی خاندانوں نے 75 ہزار 067 بچے پیدا کیے ہیں جو کہ قل تعداد کا 14 فیصد سے زائد حصہ تصور کیا جاتا ہے ۔ اٹلی میں 11 لاکھ غیر ملکی بچے ہیں ، جن میں 8 لاکھ 14 ہزار سکول میں داخل ہیں ۔ گزشتہ سال کے برعکس انکی تعداد میں 11 ہزار کا اضافہ ہوا ہے ۔ اس کے برعکس اٹالین والدین کے بچوں کی تعداد میں کمی واقع ہو رہی ہے ۔ معزور غیر ملکی بچوں کی تعداد 26 ہزار 626 ہے جو کہ اٹالین معزور بچوں سمیت 1،11 فیصد بنتی ہے ۔ 2014 میں 22 لاکھ 94 ہزار غیر ملکی قانونی طور پر ملازمت کر رہے ہیں ، ان میں سے 12 لاکھ 38 ہزار مرد ہیں اور 10 لاکھ 56 ہزار عورتیں ہیں ۔ یعنی 10 فیصد سے زائد ملازمین غیر ملکیوں پر مشتمل ہیں ۔ 2014 میں 1 لاکھ 56 ہزار غیر ملکی بے روزگار ہوئے ہیں اور انکی پرمیسو دی سوجورنو ختم ہوگئی ہے  جو کہ 2013 کی نسبت 6 فیصد زیادہ ہے  ۔ 35 ہزار 740 غیر ملکیوں نے 2014 میں پنشن حاصل کی ہے ، اسکے بعد سوشل پنشن حاصل کرنے والے غیر ملکیوں کی تعداد 51 ہزار 361 ہے ۔ غیر ملکی اٹالین خزانے میں 6،16 عرب یورو جمع کرواتے ہیں اور اس میں سے 13،5 عرب خرچ کرتے ہیں ، یعنی اٹالین خزانے میں ہر سال 3،1 عرب یورو غیر ملکیوں کے کام اور بزنس کی بدولت آتے ہیں ۔ ملک کے سالانہ بجٹ میں غیر ملکی 123 عرب یورو جمع کرواتے ہیں ۔ اٹلی میں امتیازی سلوک کے ادارے انار کے مطابق 2014 میں ایک ہزار کے قریب غیر ملکیوں کے ساتھ انکی نسل، مذہب، رنگ اور ملکی کیوجہ سے غیر انسانی سلوک کیا گیا ہے۔

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت ہفتہ, 31 اکتوبر 2015 19:03

اٹلی میں موجود پاکستانی دہشت گرد گروہ گرفتار

روم، 24 اپریل 2015۔۔۔۔۔ کل شام سے لیکر آج صبح تک دہشت گرد گروہ کے 9 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور باقی 9 افراد کی تلاش جاری ہے ۔ اٹالین پولیس کے مطابق اس گروہ کا گھڑسردینیا صوبہ تھا اور یہ پورے اٹلی میں پھیلے ہوئے تھے ۔ گروہ کا تعلق القاعدہ، تحریک طالبان اور دوسری دہشت گرد تنظیموں سے بتایا جاتا ہے ۔ ان میں سے 2 دہشت گرد اسامہ بن لادن سے براہ راست منسلک بھی تھے ۔ یہ گروہ موجودہ پاکستانی حکومت کے خلاف بھی کام کر رہا تھا اور ان کی خواہش تھی کہ موجودہ حکومت طالبان کے خلاف کاروائی نہ کرے اور امریکہ سے تعلقات ترک کردے ۔ اس گروہ نے 2010 میں ویٹیکن میں دہشت گردی کرنے کی کوشش بھی کی تھی ۔ 9 دہشت گردوں کی تلاش جاری ہے لیکن کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ اٹلی سے فرار ہو چکے ہیں ۔ اس آپریشن میں اٹلی کے 7 صوبے شامل ہیں ۔ اس گروہ پر دہشت گردی، غیر قانونی امیگریشن کی کمائی اور دوسرے الزامات عائد کیے گئے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ اس گروہ نے شمالی اٹلی میں ایک عورت کو بھی قتل کیا تھا ۔ گروہ کے افراد نے ٹیلی فون پر بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ عورت کے قتل کی ویڈیو میں چھری نظر نہیں آرہی ۔ اس ویڈیو کی تلاش جاری ہے لیکن ابھی تک مل نہیں سکی ۔ اٹلی کے جزیرے سردینیا کے شہر اولبیا سے پاکستانی کمونٹی کے مذہبی لیڈر سلطان ولی خان عمر 39 سال کوگرفتار کر لیا گیا ہے ۔ سلطان ولی خان کو اس وقت گرفتار کیا گیا ، جب وہ اولبیا سے چویتا ویکیا کے لیے سفر کر رہا تھا ۔ کہا جاتا ہے کہ سلطان خان اس گروہ کا سب سے بڑا لیڈر ہے ۔ سلطان خان مسجد کا سربراہ بھی ہے اور اولبیا میں اسکی ایک دکان بازار کے نام سے مشہور ہے ۔ پولیس کے مطابق اسکی دکان سے ایک کاغذ بھی ملا ہے ، جس پر فارسی میں لکھا ہوا ہے کہ " شہادت لازمی ہے " ۔ یہ گروہ جزیرے کی مساجد سے چندہ حاصل کرتے ہوئے القاعدہ، تحریک طالبان، تحریک نفاز اور شریعت محمدی جیسی تنظیموں کی مدد کرتا تھا ۔ پولیس کے مطابق سلطان خان کے بعد گروہ کا نائب حافظ محمد ذوالفقار تھا ، جوکہ بیرگامو میں آباد ہے اور آج اسے بھی گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ حافظ ذوالفقار بھی مختلف گروہوں کو رقم ارسال کرتا تھا  اور اسکی عمر 43 سال ہے ۔  حافظ بیرگامو اور بریشیا میں عسکریت پسندی اور دہشت گردی کا پراپیگنڈہ کرتا تھا اور جوانوں کو اکساتا تھا ۔  اسکے بعد امتیاز خان عمر 40 سال، نیاز میر عمر 41 سال، صدیق محمد عمر 37 سال کو بھی اولبیا میں گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ ایک افغانی شہری یحیی خان عمر 37 سال کو فوجیا میں گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ اسکے علاوہ اٹلی کے شمالی شہر چویتا نووے مارکے سے زبیر شاہ عمر 37 سال اور شیر غنی عمر 57 سال کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ ان میں سے دو دہشت گرد  پاکستان میں اسامہ بن لادن کے محافظ بھی رہے ہیں ۔ اس گروہ نے پاکستان میں بھی مختلف دہشت گردی کی وارداتیں انجام دی ہیں ، جن میں 28 اکتوبر 2009 میں پشاور کے مینا بازار کی واردات شامل ہے ، جس میں 100 سے زائد معصوم شہری شہید ہوئے تھے ۔ اس گروہ نے غیر قانونی امیگریشن کے زریعے اپنے افراد پورے یورپ میں پھیلا دیے تھے ۔ ان لوگوں کو جعلی کاغذات فراہم کیے جاتے تھے اور انکو سیاسی پناہ بھی دلوائی جاتی تھی ۔ گروہ کے افراد حوالہ کا بزنس بھی کرتے تھے اور اس رقم سے مختلف مقاصد پورے کیے جاتے تھے ۔ ویٹیکن کے ترجمان فادر فیدیریکو نے کہا کہ اس گروہ نے 2010 میں ویٹیکن میں دہشت گردی کرنے کی کوشش کی تھی لیکن انکی کوشش کو ناکام بنا دیا گیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ طور پر گروہ کے پروگرام میں ویٹیکن کو خطرہ لاحق نہیں تھا ۔ گروہ کے افراد پاکستان میں دہشت گردی کے حملے کرنے کے بعد اٹلی کے جزیرے میں واپس آجاتے تھے ۔ اس گروہ کے افراد کا تعلق تبلیغ و دعوہ سے بتایا جاتا ہے ۔ حافظ محمد ذوالفقار بیرگامو اور بریشیا میں تبلیغ کرتے ہوئے رقم اکٹھی کرتا تھا اور پاکستانی اور افغانی کمونٹی میں کافی مقبول تھا ۔ اس نے حال ہی میں روم کے ائر پورٹ کے زریعے 55 ہزار یورو غیر قانونی طور پر روانہ کیے تھے اور کسٹم کے حکام نے اس کا سراغ لگا لیا تھا اور اس رقم کو ضبط کر لیا گیا تھا ۔ پولیس نے بتایا کہ گروپ کے افراد کا تعلق پشتون کمونٹی سے ہے اور انکی موبائل فون کی بات چیت کی مخبری کرنے کے لیے پشتون ترجمانوں کی مدد حاصل کی گئی تھی ۔ پولیس کے مطابق انکی زبان سمجھنا کافی مشکل تھا اور اس خاطر ہم نے ایکسپرٹ ترجمان حاصل کیے تھے ۔ وزیر داخلہ الفانو نے کہا کہ اس گروہ کی تفتیش 2009 میں شروع ہوئی تھی اور اب اس آپریشن کو مکمل کر لیا گیا ہے ۔ یہ گروہ اٹلی میں بھی دہشت گردی کے حملوں کے لیے تیاری کر رہا تھا ۔ تصویر میں پولیس ملزمان کو گرفتار کر رہی ہے ۔

 

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت منگل, 28 اپریل 2015 19:40

روم میں ملٹی کلچرل میلے کی نمائش

 

روم۔ 5 فروری 2015۔۔۔ پیارے قارئین آپ سے التماس کی جاتی ہے کہ آپ ہمارے میلے میں شمولیت اختیار کرتے ہوئے اسے بارونق بنائیں۔ اس میلے کا مقصد روم کمونے سے ایک بلڈنگ حاصل کرنا ہے ، جس میں روم کی تمام غیر ملکی ایسوسی ایشنیں اپنے دفتر قائم کر سکیں اور اپنے تہوار ، کانفرنسیں اور دوسرے عوامل کے لیے استعمال کر سکیں ۔ میلے کا ایڈریس تصویر میں موجود ہے ۔ یہ میلہ ایک تھیٹر

  میں منعقد کیا جا رہا ہے ۔ ہفتے کی صبح 10 بجے سے لیکر دوپہر 2 بجے تک مختلف شو پیش کیے جائیں گے ۔ ضرور تشریف لائیں ۔ teatro dei Servi

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com