Friday, Feb 22nd

Last update12:39:09 AM GMT

RSS

اٹالین خبریں

انسانی اسمگلنگ کے نتیجے میں پاکستانی ہلاک

روم۔ 22 جون 2013 ۔۔۔ اٹلی کے شہر سینی گالیا اور ریجن مارکے میں ایک پاکستانی کی میت کی شناخت کرلی گئی ہے ۔ 10 جون کے روز سینی گالیا کی کی سڑک کی پارکنگ میں ایک پاکستانی کی میت پائی گئی ۔ پولیس نے جائے وقوع پر پہنچ کر تفتیش شروع کردی ۔ اس میت کے ساتھ کوئی کاغذات وغیرہ موجود نہیں تھے اور پولیس کے مطابق یہ ایک تارک وطن کی میت تھی ، جو کہ غیر قانونی طور پر کسی ملک میں جا رہا تھا ۔ پولیس نے تفتیش شروع کردی اور اسکی تصویر کو تمام انٹرنیشنل تفتیش کے اداروں کو روانہ کردیا ۔ اس میت کی شناخت فیس بک سے گئی ۔ فوت ہونے والے پاکستانی کا نام راجی خیل نور شاہ ہے اور اسکی عمر 20 سال ہے ۔ پولیس نے بتایا کہ یہ لڑکا غیر قانونی طریقے سے یونان میں داخل ہوا تھا اور اسکے بعد اٹلی کی بندرگاہ انکونا پر اترا تھا اور اسکے بعد ایک ٹرک کے زریعے جرمنی جا رہا تھا ، جہاں اسکا چچا جو کہ سالوں سے آباد ہے ، اسکا انتظار کررہا تھا ۔ ہوسکتا ہے کہ ٹرک میں یہ سخت بیمار ہو گیا ہو ، یا پھر وہیں فوت ہو گیا ہو ۔ ٹرک والوں نے اس میت کو سڑک پر پھینک دیا اور فرار ہو گئے۔ پولیس نے انسانی اسمگلنگ کے افراد کی تفتیش شروع کردی ہے ۔ نور شاہ کے چچا نے سینی گالیا میں آکر اسکی میت کو دیکھا اور وہیں بیہوش ہو گئے ، انہیں ہسپتال لیجایا گیا اور اسکے بعد انہوں نے کہا کہ یہ نور شاہ کی لاش ہے ۔ ادھر پاکستان میں بھی نور شاہ کے والد نے بیٹے کی خبر نہ ملنے پر اٹلی کے شہر فروسی نونے میں آباد ایک پاکستانی ترجمان کو فون کیا اور بیٹے کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی ۔ اب نورشاہ کی میت کو پاکستان روانہ کردیا گیا ہے۔ تصویر میں راجی خیل نور شاہ نظر آرہا ہے  ۔ تحریر، اعجاز احمد

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

شہباز حسین کھوکھر کی الوداعی پارٹی

روم۔ 3 جون 2013 ۔۔۔ کل شام روم میں موجود پاکستانی ایمبیسی میں سابق ہیڈ آف چانسری شہباز حسین کھوکھر کی الوداعی پارٹی دی گئی ۔ اس محفل میں روم کے علاوہ پورے اٹلی کی مشہور پاکستانی شخصیات تشریف لائیں اور انہوں نے شہباز کھوکھر کے ان چار سالوں کی بہت تعریف کی ۔ پروگرام کا آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا ۔ اسکے بعد دردانہ ارسلان شاہ نے کمنٹری کے فرائض انجام دیتے ہوئے مقررین کو دعوت دی ۔ اٹلی کی مشہورو معروف شخصیت چوہدری بشیر امرہ نے کہا ہے کہ شہباز حسین کھوکھر جیسی شخصیت کبھی کبھی پیدا ہوتی ہے ۔ انہوں نے اپنے دور میں رشوت ستانی اور سفارش جیسی لعنتوں کو ختم کرتے ہوئے کمونٹی کے لیے ایمبیسی کے دروازے کھول دیے۔ انہوں نے کمونٹی کو متحد کیا اور سالانہ میلہ، بسنت اور دوسرے تہواروں میں تمام پاکستانیوں کی شمولیت کے لیے دن رات کاوش کی ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں افسوس ہے کہ میلان کونصلیٹ میں شہباز حسین کھوکھر جیسا افسر نہیں آیا اور وہاں کمونٹی سے غیر انسانی سلوک کیا جاتا ہے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہاں بھی روم کی طرح مہمان نوازی اور بھائی چارے جیسا سلوک عمل میں آئے ۔ چوہدری بشیر نے کہا کہ میلان سے پی آئی اے کی تیسری فلائٹ شروع کی جارہی ہے لیکن روم سے ایک فلائٹ بھی نہیں ہے ۔ ان کی تقریر کے بعد کرسچن کمونٹی کے صدر سرور بھٹی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے شہباز حسین کھوکھر کے ان چار سالوں کی طرف روشنی ڈالی ۔ بعد میں عارف شاہ نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور شعر سناتے ہوئے شہباز حسین کھوکھر کی جدائی کا دکھ بیان کیا ۔ ایمبیسڈر تہمینہ جنجوعہ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہو‏ئے کہا کہ شہباز حسین کھوکھر کمونٹی کے ہر دلعزیز تھے اور ہم کوشش کریں گے کہ انکے منصوبوں کو جاری رکھا جائے ۔ یاد رہے کہ غالب اقبال کے بعد شہباز حسین کا نام کمونٹی میں مقبول ہوا ہے ۔ اس محفل میں ناپولی کے مشہور بزنس مین چوہدری شبیر بھی موجود تھے۔ آل اٹلی فیڈریشن کے صدر چوہدری ساجد بھی اسپیشل طور پر اریزو سے تشریف لائے تھے ۔ شہباز حسین کھوکھر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں کمونٹی سے کوئی شکا‏یت نہیں ۔ یہ پاکستان میں ایک کنبہ چھوڑ کر آئے تھے اور اٹلی میں آکر انہیں بڑا کنبہ مل گیا جسے پاکستانی کمونٹی کہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کمونٹی کے ایڈریس مکمل طور پر ہمارے پاس موجود نہیں ہیں ، اس وجہ سے ہمیں کافی مشکلات پیدا ہوتی ہیں ، اگر ہم تمام کمونٹی کے ایڈریس ایک جگہ لکھ لیں تو اس سے کافی مسائل حل ہو سکتے ہیں ۔ آکو‏یلہ اور مودینا میں زلزلہ کے دوران جب مجھے وہاں جانا پڑا تو ایڈریس نہ ہونے کیوجہ سے کافی مسائل پیدا ہوئے ۔ سفاتکارہ تہمینہ جنجوعہ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہباز حسین کھوکھر تین آدمی تھے ، یعنی شہباز، حسین اور کھوکھر۔ یہ تین آدمیوں کا کام کرتے تھے ۔ ہم انکی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھیں گے ۔ تقاریر کے بعد علی بابا گروپ کی جانب سے کھانا پیش گیا اور کمونٹی کے خواتین و حضرات اور بچوں نے خوب لطف اٹھایا ۔ شہباز حسین کھوکھر کی جگہ اقوام متحدہ کے دفتر نیویارک سے ایک نئے افسر آرہے ہیں اور شہباز کھوکھر اپنے بیمار والد کے قریب رہنے کے لیے  اسلام آباد فارن آفس میں شفٹ ہو رہے ہیں  تحریر، اعجاز احمد از روم

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

ریجو امیلیا کی کاروباری شخصیت چوہدری ذوالفقار علی کے خیالات

3 جون 2013 ۔۔۔ چوہدری ذوالفقار علی کا تعلق بھمبر کوٹلہ ( گجرات ) کے نواحی گاؤں بنگیال سے ہے ۔ آپ ریجو امیلیا کی سماجی اور کاروباری شخصیت کے نام سے مشہور ہیں ۔ ضلع بھمبر آزاد کشمیر ڈگری کالج سے 1988 میں گریجوایشن کی اور اسی سال بہتر روزگار کی تلاش میں یورپ آگئے ۔ مختلف ممالک میں قسمت آزمائی کی اور آخرکار قسمت 1990 میں انہیں اٹلی لے آئی اور پھر یہیں مستقل ڈیرے ڈال لیے اور آج اٹلی کی مشہور و معروف شخصیت بن چکے ہیں ۔ شروع شروع میں فیکٹریوں میں کام کیا لیکن ساتھ ساتھ اپنا کاروبار کرنے کے لیے بھی گراؤنڈ تعمیر کرتے رہے ۔ یوں انہوں نے 1999 میں ریجو امیلیا کی پہلی گروسری سٹور کی بنیاد رکھی اور اللہ تعالی کے فضل سے دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کی ۔ چوہدری ذوالفقار علی علاقہ میں ایک سرگرم شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں ۔ پاکستانی کمونٹی کی ترقی اور مسائل کے حل کے لیے خصوصی دلچسپی لیتے ہیں ۔ کمونٹی اور انکی زاتی کاوشوں کی بدولت 2005 میں پاک محمدیہ اسلامک سنٹر گواستالہ ریجو امیلیا کا قیام وجود میں آیا ، جس کا بنیادی مقصد علاقہ میں مقیم کمونٹی کے بچوں کو دینی تعلیم سے روشناس کرانا ہے اور آج سینکڑوں کی تعداد میں بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں ۔ یہ اسلامک سنٹر کمونٹی کا مرکز بن چکا ہے ، جس میں اٹالین اور پاکستانی اداروں کے سرکردہ افراد وزٹ کرتے رہتے ہیں ۔ چوہدری ذوالفقار علی نے کہا کہ وہ زاتی کاروبار کو ترجیح دیتے ہیں ۔ نوجوان نسل کی کھیلوں کے لیے بھی انکی خدمات قابل زکر ہیں اور کھیلوں کے انتظامی امور میں اہم کردار ادا کررہے ہیں اور مالی معاونت میں بڑہ چڑہ کر حصہ لیتے ہیں ۔ چوہدری ذوالفقار علی نے پاکستانی کمونٹی سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ دیار غیر میں مثبت سوچ کے ساتھ ساتھ محنت اور دیانتداری سے اپنا اور ملک کا نام روشن کریں۔ تصویر میں چوہدری ذوالفقار علی  ۔ تحریر و انٹرویو سید مسعود شیرازی از ریجو امیلیا

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت جمعرات, 06 جون 2013 20:29

اعجاز احمد کی میونسپل کمیٹی کے الیکشن میں ناکامی

روم۔ یکم جون 2013 ۔۔۔۔ پیارے دوستو۔ میں ان تمام بہن بھائیوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں ، جنہوں نے میری کمپین کے دوران دعائیں مانگیں اور میری حوصلہ افزائی کی ۔ اٹلی جیسے ملک میں ایک غیر ملکی کا الیکشن میں کھڑا ہونا بڑی ہمت کی بات ہے ۔ میں نے چند دنوں کی کمپین کے دوران 120 ووٹ حاصل کیے ہیں ، جو کہ میونسپل کمیٹی کی اسمبلی میں داخل ہونےکے لیے ناکافی ہیں ۔ مجھے مزید 96 ووٹ اور مل جاتے تو میں کونصلر بن جاتا ۔ خیر ایسا نہیں ہو سکا " گرتے ہیں شہسوار ہی میدان جنگ میں " ۔ اب میں کوشش کررہا ہوں کہ بائیں بازو کے میئر اور میری میونسپل کمیٹی کے صدر 10 اور 11 جون کے روز کامیاب ہو جائیں ۔ اگر وہ کامیاب ہو گئے تو ہو سکتا ہے کہ میری میونسپل کمیٹی میں امیگریشن کا دفتر بن سکے ۔ یاد رہے کہ موجودہ دائیں بازو کی پارٹی نے اس دفتر کو ختم کردیا تھا اور یہاں سے ثقافتی ترجمان کی سیٹ کینسل کردی گئی تھی۔ یاد رہے کہ روم کمونے اور میونسپل کمیٹی کے الیکشن میں غیر ملکی اٹالین شہری کامیاب نہیں ہو سکے ۔ دس کے قریب غیر ملکی الیکشن میں کمپین میں موجود تھے لیکن ان میں سے ایک بھی کامیاب نہیں ہو سکا ۔ تریویزو میں مراکش کا ایک دوسری نسل کا غیر ملکی کونصلر بننے میں کامیاب ہوا ہے  ۔ تحریر، اعجاز احمد

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آلیساندرو کا پاکستان کا وزٹ کامیاب رہا

روم۔ 27 مئی 2013 ۔۔۔ مشہور شخصیت Alessandro Battilocchioاپنا پاکستان کا وزٹ مکمل کرنے کے بعد اٹلی واپس پہنچ گئے ہیں ۔ انہوں نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ ہم نے پاکستان کے انتخابات اپنی آنکھوں سے دیکھے اور اسکے بعد نواز شریف کو وزیر اعظم بنتے دیکھا ۔ پاکستان کے الیکشن کافی خطرناک تھے لیکن اسکے باوجود یہ دور بھی مکمل ہو گیا ۔ ہم نے مختلف پارٹیوں کے لیڈران سے ملاقاتیں کیں اور اسکے علاوہ اسلام آباد میں موجود اٹالین ایمبیسڈر سے بھی ملے ۔ ہماری اٹالین ایسوسی ایشنیں اور او این جی بھی پاکستان میں باہمی منصوبوں پر اہم کردار ادا کررہی ہیں ۔ ہم نے ان سے بات چیت کی اور مکمل جائزہ لیا ۔ آلیساندرو نے مانسہرہ میں 30 عورتوں کو بزنس مین کا ایوارڈ دیا ۔ ان عورتوں نے سنگ مرمر کے ڈیزائن بنانے کا کاروبار ایجاد کیا ہے اور یہ اٹالین ایجنسی سے منسلک ہے ۔ ہم مستقبل میں اٹلی میں موجود پاکستانی سفارتکارہ تہمینہ جنجوعہ کو بھی اپنے کمونے Tolfaمیں دعوت دیں گے اور باہمی منصوبوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے بات چیت کی جائے گی ۔ جون کے مہینے میں آلیساندرو اٹلی کی وزرات خارجہ اور پاکستانی وزارت خارجہ کے ساتھ ملکر ڈیفنس کے معاملے میں کام کریں گے ۔ یاد رہے کہ اٹالین فوج اور پاکستانی فوج مختلف منصوبوں پر کام کررہی ہے ۔ یاد رہے کہ اٹلی کی مشہور سرکاری فرم ENIپاکستان میں گیس نکالنے پر پہلی فرم ہے اور یہی فرم بلوچستان میں پٹرول دریافت کرنے پر بھی کردار اداد کررہی ہے ۔

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com