Thursday, Apr 25th

Last update12:39:09 AM GMT

RSS

اٹالین خبریں

سوجورنو کا کنٹریکٹ ختم کر دیا گیا


روم ۔۔۔ گزشتہ تین سالوں سے اٹلی میں ایک قانون جاری کیا گیا ہے ، جس کے مطابق وہ نجی ادارے جو کہ ملازم کو بھرتی کرتے ہیں ، ان پر لازمی ہے کہ وہ انٹرنیٹ کے زریعے ایک متحدہ پیغام تمام اداروں کو روانہ کر دیں ۔ اصل میں بھرتی کا یہ اعلان صرف ایک جگہ کیا جاتا ہے اور اس کے بعد یہاں سے تمام ان اداروں یا سرکاری دفاتر کو بھیج دیا جاتا ہے جو کہ ملازمین کی بھرتی کے بارے میں براہ راست منسلک ہوتے ہیں ۔ ان میں انپس، اینائل اور روزگار کے دفاتر شامل ہیں ۔ اس طریقہ کار سے بہت زیادہ لوگوں کی مشکلات آسان ہوگئی ہیں لیکن غیر ملکی ملازمین یا مزدورں کو اس آسانی میں شامل نہیں کیا گیا ۔ غیر ملکی ملازمین کے لیے ضروری ہے کہ ان کے مالکان ایک فارم Q پر کرتے ہوئے تھانے کے متحدہ دفتر یا سپورتیلو انیکو میں روانہ کریں ، اس کیو فارم کے زریعے مالک مزدور یا ملازم سے کام کا کنٹریکٹ یا contratto di soggiorno کرتا ہے ۔ کیو فارم میں مالک اور غیر یورپین غیر ملکی ملازم اپنی شناخت کے  خانے پر کرتے ہیں ۔ کنٹریکٹ کی قسم اور شرائط درج کی جاتی ہیں ۔ اس کے علاوہ لازمی خانے بھی پر کیے جاتے ہیں ۔ اس فارم میں مالک یہ ظاہر کرتا ہے کہ ملازم کے پاس ایک رہائش موجود ہے اور ملک بدر ہونے کی صورت میں وہ حکومت کو اپنے وطن واپس جانے کی رقم خود ادا کرے گا ۔ 30 اپریل سے ایک اور فارم لازمی قرار دیدیا گیا ہے جسے اونی لیو یا unilav فارم کہتے ہیں ۔ اس فارم میں مزید دو نئے خانے پیدا کیے گئے ہیں جس میں یہ لکھا جائے گا کہ اگر ملازم غیر یورپین ہے تو وہ یہ ظاہر کرے گا کہ اس  کے پاس ایک رہائش موجود ہے اور ملک بدر ہونے کی صورت میں وہ حکومت کو اپنے وطن واپس جانے کی رقم خود ادا کرے گا۔ کام کی وزارت کے مطابق اونی لیو فارم اس صورت میں پر کیا جائے گا ، جب کیو فارم استعمال نہیں کیا جائے گا ۔ یہ خانے اس وقت بھرے جائیں گے جب کسی غیر ملکی کو بھرتی کیا جائے گا ۔ اس نئے فارم کے شامل ہونے سے سوجورنو کا کنٹریکٹ ختم کر دیا گیا ہے ۔ وزارت روزگار نے ایک سرکولر کے زریعے واضع کر دیا ہے کہ اب صرف unilav فارم استعمال کیا جائے گا ۔ یعنی مالکان ڈاک کے زریعے Q فارم پر کرتے ہوئے روانہ نہیں کریں گے ،اب وہ صرف ایک کمونیکیشن کے زریعے ورکر کی بھرتی کے بارے میں بتا دیں گے ۔ unilav فارم نے کیو فارم کی جگہ لے لی ہے ۔ یہی قانون ڈومیسٹک ملازمین کے لیے بھی رائج کیا گیا ہے ۔ یہ لوگ انپس کے دفتر میں بھرتی کا پیغام روانہ کریں گے جو کہ متحدہ دفتر کے لیے بھی ویلڈ ہو گا ۔ unilav فارم اور کیو فارم میں ہر چیز دو دفغ لکھی جاتی تھی اور روزگار کے ایکسپرٹوں نے وزارت سے اپیل کی تھی کہ وہ کیو فارم کو ختم کر دیں کیونکہ اسکی کوئی ضرورت نہیں رہی ۔

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

اٹلی میں نیا کوٹہ جاری نہیں کیا جائے گا ، فورلانی

دسمبر 2011 ۔۔۔ اٹلی میں کوٹہ سسٹم کا مستقبل کا کیا ہو گا ۔ اس سلسلے میں آزاد کی انٹرنیٹ کی سائٹ استرانیری ان اطالیہ نے اٹلی کی وزارت روزگار کے امیگریشن کے ڈائریکٹر forlani سے انٹرویو کیا ہے ۔ فورلانی امیگریشن آفس کے ڈائریکٹر ہیں ۔ اٹلی کے امیگریشن کے قانون میں تبدیلی کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ اب وقت آگیا ہے کہ موجودہ نظام کو بہتر بنایا جائے ۔ اس وقت اٹلی میں 2 لاکھ 80 ہزار غیر ملکی بے روزگار ھو چکے ہیں اور ان میں سے آدھے وہ غیر ملکی ہیں جو کہ سوشل لینے سے گزارا کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ 2008 میں بے روزگار غیر ملکی صرف 80 ہزار کے قریب تھے  ۔ اگر ہم نے انکے لیے کام تلاش نہ کیا تو یہ سب اپنی پرمیسو دی سوجورنو کھو بیٹھیں گے ، ہمیں چاہئے کہ ہم کوٹے جاری کرنے سے قبل ان کے لیے کوئی پروگرام بنائیں ۔ اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو ان ورکروں کی حاصل شدہ کام کی مہارت غائب ہو جائی گی اور غیر قانونی کام میں اضافہ ہو گا ۔ یہ لوگ کم پیسوں پر کام کرنے کے لیے تیار ہو جائیں گے اور اسکے علاوہ غیر قانونی کام سے انکے ورکر کے حقوق بھی سلب ہوں گے  ۔ اس وقت اٹلی میں رسمی کوٹوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ نئے کوٹے پروفیشنل کاریگروں کے لیے مختص کیے جائیں گے ۔ سب سے پہلے اٹلی میں موجود بے روزگار غیر ملکیوں کے لیے پروگرام بنایا جائے گا ۔ اس کے علاوہ کوٹہ سسٹم کے لیے بھی ہمیں نئے ممالک کی طرف راغب ہو نا ہو گا اب مشرقی یورپ کی بجائے ایشیا کے ممالک کے لیے کوٹوں کا رجحان بڑہ رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال ہم نے ایک لاکھ کا کوٹہ جاری کیا تھا لیکن اس سال صرف ماہر ، ایکٹر، آرٹسٹ اور دیگر کیٹاگری کے لیے صرف موسمی ملازمین کا قلیل کوٹہ جاری کیا جائے گا لیکن عام بڑا کوٹہ روک دیا جائے گا کیونکہ اس سال کوشش کی جائے گی کہ ان غیر ملکیوں کو کام میسر کیا جائے جو کہ اٹلی میں موجود ہیں ۔ ہم نے ایک سوال میں کہا کہ اٹلی میں کوٹہ سسٹم روکنے سے ان ممالک کا کیا بنے گا جو کہ اٹلی کے ساتھ غیر قانونی امیگریشن کو روکنے کے لیے معاہدہ کر چکے ہیں اور اس کے علاوہ وہ لوگ جو اٹلی آنے کا انتظار کر رہے ہیں ۔ انہوں نے جواب دیا کہ انہیں ممالک کے بیشتر غیر ملکی اٹلی میں بے روزگار ہو چکے ہیں اور اس کے علاوہ اٹلی میں 5 لاکھ غیر ملکی ایسے ہیں ، جن کے پاس سوجورنو نہیں ہے ۔ اب اٹلی کے تمام علاقوں میں بے روزگار غیر ملکی ورکر موجود ہیں ۔ جب کسی فرم کو انکی ضرورت ہو گی وہ ان سے رابطہ کر سکے گا کیونکہ یہ لوگ کئی کاموں میں مہارت رکھتے ہیں اور ان غیر ملکیوں سے بہتر ہیں جو کہ اٹلی سے باہر سے منگوائے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس سال کوٹوں کے اعلان کے خلاف ہیں لیکن اگر نئی حکومت کوٹوں کے بارے میں کوئی لائحہ عمل تیار کرے گی تو وہ ان کا سیاسی فیصلہ ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ 2010 کے کوٹے ایک لاکھ کے قریب تھے اور درخواستیں پانچ لاکھ کے قریب دی گئی تھیں لیکن اس سال ہم نئے کوٹے نہ جاری کرنے کے لیے فیصلہ کر چکے ہیں ۔

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

دوسری نسل کے غیر ملکیوں کو شہریت کا اجلاس

روم ، تحریر، ریما نعیم محمد  ۔۔۔ 20 دسمبر کے روز اٹلی کی قومی اسمبلی کے ایک ہال میں دوسری نسل کےalt غیر ملکیوں کو شہریت دینے کا اجلاس منعقد کیا گیا ۔ یہ اجلاس آزاد کے اخبار کے ادارے استرانیری ان اطالیہ ، Libertiamo e Nuovi italiani del PD کے تعاون سے عمل میں آیا ۔ استرانیری ان اطالیہ کے ڈائریکٹر جان لوکا لوچیانو نے اجلاس کی قیادت کی اور اس میں اٹلی کی بڑی سیاسی جماعتیں پی ڈی ، یو ڈی چی اور اسبملی کے سپیکر جان فرانکو فینی کی پارٹی کے اراکین کے نے شرکت کی ۔ پی ڈی کی نمائندگی سابقہ وزیر لیویا تورکو نے کی ۔ انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ ابھی تک دوسری نسل کے غیر ملکیوں کو شہریت دینے کے جتنے بھی قانون پیش کیے گئے ہیں ، انہیں ختم کرتے ہوئے ان تمام پارٹیوں کو بھی شامل کرنے کی ضرورت ہے جو کہ اس وقت ہمارے اجلاس میں شامل نہیں ہیں ، ان کا اشارہ اٹلی کی سب سے بڑی سیاسی جماعت برلسکونی کی پارٹی پی ڈی ایل کی طرف تھا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے دوسری نسل کے غیر ملکیوں کے لیے ماضی میں کئی تجاویز اسمبلی میں پیش کی تھیں اور ان پر اب تک کوئی عمل نہیں کیا گیا ۔ اب وقت آگیا ہے کہ اٹلی کی تمام سیاسی جماعتیں ملکر ایک مجموعی لائحہ عمل تیار کریں ، جس پر بحث کی جائے اور اسے حتمی شکل دیتے ہوئے اسبملی میں پیش کیا جا سکے اور اگلے چند مہینوں میں دوسری نسل کے غیر ملکیوں کے لیے شہریت کا قانون بنایا جا سکے ۔ انہوں نے کہا کہ اب تک شہریت کے متعلق جتنی بھی تجاویز اسمبلی میں پیش کی گئی ہیں ، ان کو پاس کروانا بہت مشکل ہے ، اب وقت آگیا ہے کہ موجودہ حکومت اپنے محدود عرصے کے دوران باہمی دلچسپی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک عمدہ قانون بنا دے ۔ اجلاس میں قومی اسمبلی کے ممبر پی ڈی کے سروبی اور فینی کی پارٹی کے غرناطہ بھی شامل تھے ۔ یاد رہے کہ اسمبلی میں ان دونوں ممبران کا قانون Sarubbi –Granata پیش کی گیا تھا اور اس پر تمام پارٹیوں کے اسمبلی کے 50 ممبران نے دستخط کیے تھے ۔ غرناطہ نے اپنی تقریر کے دوران کہا کہ میں تورکو کی تقریر کے الفاظ پر مکمل یقین رکھتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ مستقبل میں تمام پارٹیوں کا ایک اجلاس بلایا جائے اور اس قانون پر بحث کرتے ہوئے حتمی نتیجہ حاصل کیا جائے ۔ اجلاس میں سپیکر فینی نے بھی شرکت کی اور یقین دلایا کہ وہ اس قانون کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور انہوں نے موجودہ امیگریشن کے وزیر ریکاردی سے بھی ملاقات کی ہے اور ان سے باہمی دلچسپی کے امور پر بحث بھی کی گئی ہے ۔ فینی کی پارٹی کے اسمبلی کے صدر ویدووا بینے دیتو نے اپنی تقریر میں کہا کہ اٹلی اس وقت اپنے معاشی بحران میں پھنسا ہوا ہے ۔ اس وقت اٹلی کو ایسی انرجی یا قوت کی ضرورت ہے جو کہ اسے بحران سے باہر نکال سکے ۔ اٹلی کی دوسری نسل کے غیر ملکی 10 لاکھ کے برابر ہیں ، اگر انہیں قومیت فراہم کر دی جائے تو یہ جوان معیشت میں اپنا کردار ادا کرنا شروع کر دیں گے ۔ خواہ یہ جوان رنگ و نسل سے مختلف ہیں لیکن ان میں ایک ایسی قوت موجود ہے جو کہ اٹلی کو بحران سے نکالنے کے لیے بروئے کار لائی جا سکتی ہے ۔ اس لیے ہمیں چاہئے کہ ہم شہریت کے قانون پر بحث تیز کر دیں اور اسے قبول کروانے کے لیے تمام تر کوششیں عمل میں لے آئيں ۔ انہوں نے زور دیا کہ پی ڈی ایل پارٹی کے ممبران سے بحث کرنا بہت ضروری ہے ۔ یو ڈی سی کے اسبملی کے رکن روبیربو راؤ نے کہا کہ ہمارے ملک میں رہنے والی دوسری نسل کے غیر ملکیوں کے لیے ہمیں مہم چلانی ہوگی ، یہ بچے دوسرے درجے کے شہری نہیں بلکہ ہمارے بچوں کی طرح پہلے درجے کے شہری ہیں ۔ ہم اپنے بچوں کو کیسے سمجھائیں کہ تمھارے ساتھ بنچوں پر بیٹھنے والے بچے تمہارے جیسے نہیں ۔ ہمیں چاہئے کہ ہم نئی حکومت کی موجودگی سے فائدہ اٹھائیں اور شہریت کے قانون میں تبدیلی لانے کے لیے کوشش کریں ۔ یورپ کے تمام ممالک میں شہریت کا قانون بن چکا ہے لیکن اٹلی میں اس قانون پر بہت دیر کی جا رہی ہے ۔ اندریا سروبی نے اپنی تقریر میں کہا کہ پی ڈی ایل پارٹی میں بھی ایسے اراکین موجود ہیں جو کہ شہریت کے قانون پر نرم گوشہ رکھتے ہیں اور اسے تبدیل کرنے کے لیے اپنا ووٹ دینے کے لیے تیار ہیں اور بعض ایسے ہیں جو کہ اس قانون پر بحث کرنے کے لیے تیار ہیں ۔ انہوں نے لیگا نورد پارٹی سے مذاق کرتے ہوئے کہا کہ مجھے یقین تھا کہ آج اس پارٹی کے اراکین تشریف نہیں لائیں گے ، اس لیے میں نے سبز رنگ کی ٹائی پہن رکھی ہے ۔ یاد رہے کہ سبز رنگ لیگا نورد پارٹی کا رنگ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس قانون کا نام تبدیل بھی کر دیا جائے تو مجھے کوئی فکر نہیں ہو گی ۔ بعض سیاست دان یہ کہتے ہیں کہ ابھی دوسری نسل کے غیر ملکیوں کو شہریت دینے کا وقت نہیں آیا تو میں انہیں جواب دیتا ہوں کہ آج سے 10 سال پہلے بھی یہی لوگ یہ کہتے تھے کہ ابھی وقت نہیں آیا ۔ پی ڈی پارٹی کے واحد افریقہ نژاد قومی اسمبلی کے ممبر توادی نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ اس قانون کو تبدیل کیا جائے ۔ ملک نئے قانون کا انتظار کر رہا ہے ۔ ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم اس قانون کو جنوری میں اسبملی کے کیلنڈر میں شامل کردیں ۔ ہمیں یقین دلانا ہوگا کہ اس موقع کے بغیر جمہوریت نہیں ہے ۔ اٹلی کے صدر ناپولیتانو نے بھی اپنی تقریر کے دوران اس بات پر زور دیا ہے کہ دوسری نسل کے غیر ملکیوں کو شہریت دینا ایک ماڈرن جزو ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ جوان اٹلی کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے سے قاصر ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کسی کے پیدا ہونے پر یا اس کی موت پر اسکی تقدیر کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا ، اس عرصے کے دوران ان جوانوں کی زندگی شامل ہوتی ہے ۔ اٹالین ہر جگہ اپنے ملک کو جمہوری اور کھلے زہن کا ملک بتاتے ہیں ۔ یہاں غیر قانونی امیگرنٹس کو علاج کرنے کی اجازت ہے اور غیر قانونی بچوں کو سکول کی تعلیم حاصل کرنے کی اجازت فراہم کی گئی ہے لیکن اب وقت آگیا ہے کہ ان جوانوں کو بھی شہریت انکی پیدائش کے فوری بعد دی جائے جو کہ اٹلی میں پیدا ہوتے ہیں یا پھر چھوٹی عمر میں اٹلی میں آتے ہیں اور یہاں تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔ فینی کی پارٹی کے نائب صدر بوکینو نے اپنی تقریر میں کہا کہ اٹلی کی تاریخ اسکی امیگریشن سے بھری پڑی ہے اور اسکے علاوہ یہ ایک کیتھولک ملک ہے اس لیے بہت ضروری ہے کہ یہ ملک اپنے دل کے دروازے کھول دے ۔ ہمیں چاہئے کہ ہم پہلی جنریشن کے تارکین وطن کی بجائے دوسری نسل کے تارکین وطن کی طرف توجہ دیں ۔ امریکہ میں اگر ہمارے اٹالین نیو تارک کے میئر بن جاتے ہیں تو اسی طرح اٹلی کے شہر روم میں بھی ایک غیر ملکی اس شہر کا میئر بن سکتا ہے لیکن یہ سب اس وقت ہو گا جب انہیں شہریت دی جائے گی ۔ یو ڈی سی کے رکن پیسوتو نے مزاح کا پہلو استعمال کرتے ہوئے کہا کہ آج اگر کوئی اپنے آّپ کو بیرگامو کا خالص شہری کہتا ہے تو اسکا کیا مطلب ہے ۔ اس شہر سے کئی قومیں گزری ہیں اور ہر قوم نے اپنے قوانین رائج کیے ہیں اور انکا خون بیرگامو کے خون سے زم ہوا ہے ۔ اگر لیگا نورد کے ممبران خون کا معاملہ اٹھاتے ہیں تو اس پر بحث کی جا سکتی ہے ۔ اصل میں جب یہ لوگ خالص خون کی بات کرتے ہیں تو انکی بحث سے نسل پرستی کا جزو ٹپکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں چاہئے کہ ہم اٹلی کے آئين پر دیہان دیں ۔ جس میں لکھا ہے کہ اٹلی میں رہنے والے تمام انسان برابر ہیں ۔ اس برابری کے قانون پر عمل کرتے ہوئے ہمیں ان جوانوں کو شہریت دینی ہوگی جو کہ اس ملک میں پیدا ہوئے ہیں ۔ ہمیں چاہئے کہ ہم پی ڈی ایل کے ساتھ بحث کے علاوہ اپنے علاقوں میں اور اپنے حلقوں میں بھی شہریت کے متعلق بحث کو مقبول کریں اور اس معاملے میں رائے عامہ کو مضبوط کریں ۔

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت پیر, 02 جنوری 2012 21:47

مزدور یونین نے امیگریشن کھولنے کی اپیل کر دی

alt
روم ، اٹلی کی سب سے بڑی تنظیم سی جی ای ایل نے حکومت سے امیگریشن کھولنے کی اپیل کر دی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پرانی سیاست کو خیرباد کہا جائے اور امیگریشن کے متعلق سنجیدگی سے فیصلہ کیا جائے ۔ کوٹہ سسٹم دوبارہ جاری کیا جائے ، وہ غیر ملکی جو کہ اٹلی میں کام کر رہے ہیں انہیں پر میسو دی سوجورنو جاری کی جائے اور اسکے علاوہ کام تلاش کرنے کی سوجورنو کی مدت کو 6 ماہ سے بڑھا کر زیادہ کیا جائے ۔ وہ غیر ملکی یا سیاسی پناہ گزین جو کہ لیبیا اور تیونس سے آئے ہیں ، انہیں کام کرنے کی اجازت دی جائے ۔ یاد رہے کہ امیگرنٹس اس ملک کی معیشت کی ریڑہ کی ہڈی بن گئے ہیں اس لیے ضروری ہے کہ امیگریشن کے قوانین پر توجہ دی جائے ۔ سی جی ای ایل کے امیگریشن کے ڈائریکٹر پیترو سولدینی نے کہا کہ ہماری خواہش ہے کہ موجودہ حکومت کے ساتھ گول میز کانفرنس کی جائے اور امیگریشن کے متعلق لائحہ عمل تیار کیا جائے ۔ مزدور یونین اور سوشل اداروں کے بغیر امیگریشن کے قوانین بنانے سے مازی میں کافی مشکلات پیدا ہوئی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ کوٹہ سسٹم پر دوبارہ غور کیا جائے ۔ حالیہ سسٹم فیل ہو چکا ہے ۔ کوٹہ سسٹم تین سالہ ہونا ضروری ہے اور اسے تشکیل دینے کے لیے پروگرام بنانا ضروری ہے ۔ اٹلی میں ورکروں کی کھپت اور دوسرے ممالک سے انکی آمد پر دوبارہ سوچنا ضروری ہے ۔  انہوں نے کہا کہ موجودہ معاشی بحران کے دوران غیر ملکی اٹالین سے زیادہ بے روزگار ہوئے ۔ اٹلی کے اٹالین ورکر 9 فیصد بے روزگار ہوئے ہیں جبکہ غیر ملکی 12 فیصد تک بے روزگار ہوئے ہیں ۔ اس کے علاوہ غیر ملکیوں کو کام تلاش کرنے کے لیے 6 ماہ کی سوجورنو دی جاتی ہے جو کہ بہت کم عرصہ ہے ۔ اسکی مدت بڑھانا ضروری ہے ۔ غیر قانونی امیگرنٹس کی تعداد اٹلی میں بڑہ رہی ہے اور انہیں غیر قانونی کام کرنا پڑتا ہے ، جس سے ورکروں کے حقوق سلب ہوتے ہیں ۔ غیر قانونی امیگریشن کیوجہ سے حکومت کو کم ٹیکس جاتے ہیں اور معاشی بحران میں مزید اضافہ ہوتا ہے ۔ اگر تمام غیر ملکیوں کو سوجورنو جاری کر دی جائے تو حکومت کے خزانے میں 3 سے 6 بلین یورو جمع ہو سکتے ہیں اور اٹلی معاشی بحران سے آزاد ہو سکتا ہے ۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ اٹلی کے سنٹروں میں لیبیا اور تیونس سے آئے ہوئے غیر ملکی کسی پروگرام کے بغیر رہ رہے ہیں ۔ انکی سوجورنو کو کام کی سوجورنو میں تبدیل کرنے سے یہ لوگ بھی ورک کی مارکیٹ میں داخل ہوسکتے ہیں ۔ تحریر، ایلویو پاسکا

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

سماجی مدد کے لیے غیر ملکیوں کے برابر کے حقوق

alt
روم، تحریر، ایلویو پاسکا ۔۔۔ اٹلی میں سماجی مدد یا Assistenza sociale حاصل کرنے کے لیے اٹالین اور غیر ملکیوں کے برابر کے حقوق ہیں ۔ اس کے باوجود کئی کمونے اور ریجن اس معاملے میں غیر ملکیوں سے غیر امتیازی سلوک کرتے ہوئے انکے حقوق سلب کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ غیر ملکیوں کو سماجی حقوق دینا غیر قانونی ہے ۔ اٹلی میں موجود کئی غیر ملکی قانونی طور پر رہائش پزیر ہونے کے باوجود اپنے حقوق حاصل کرنے سے قاصر ہیں ۔ اٹلی کے برابر کے حقوق کے ادارے UNAR یعنی نسل پرستی کے خلاف ادارہ نے اعلان کیا ہے کہ بعض کمونے اپنی مرضی سے ان غیر ملکیوں کو سماجی مدد میسر نہیں کر رہے جنہیں اس مدد کی اشد ضرورت ہے ۔ اٹلی کے امیگریشن کے قانون کے آرٹیکل 41 کے مطابق وہ غیر ملکی جن کے پاس ایک سال کی مدت سے زیادہ کی پر میسو دی سوجورنو موجود ہے ، وہ اٹلی کے تمام سرکاری اور نجی اداروں سے اٹالین شہریوں کی طرح سروس یا مدد حاصل کرسکتے ہیں ۔ بعض ایسے کمونے ہیں جو کہ غیر ملکیوں پر ریزیڈنس کی شک لگاتے ہوئے انہیں سماجی مدد فراہم نہیں کرتے ۔ اونار دفتر کے ڈائریکٹر مونانی نے کہا کہ ایسا کوئی قانون موجود نہیں ہے ۔ ہم نے ایک تمام سرکاری اداروں کو واضع کر دیا ہے کہ وہ نسلی امتیاز سے ہوشیار رہیں اور کسی کو اسکی قومیت اور مختلف ہونے کی بنیاد پر تنگ نہ کریں ۔ تمام غیر ملکیوں کو یہ باور کیا جاتا ہے کہ وہ سماجی مدد حاصل کر سکتے ہیں ۔ اٹلی میں غیر ملکی سمجھ کر بعض اوقات منفی سلوک کیا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اٹلی کے کمونے، صوبے اور ریجن کے دفاتر میں کنٹرول گروپ بنا دیے ہیں ۔ ہم پہ در پہ ان دفاتر کا معائنہ کریں گے اوراگر کسی قسم کا غیر مساوی سلوک نظر آیا تو اسے فوری طور پر دور کرنے کی کوشش کریں گے ۔ یاد رہے کہ یہ دفتر یورپ کے تمام ممالک میں غیر مساوی سلوک کے خلاف بنایا گیا ہے ۔

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com