Thursday, Apr 25th

Last update12:39:09 AM GMT

RSS

اٹالین خبریں

امیگریشن کی تازہ خبر

روم۔ 17 اپریل 2013 ۔۔۔ کافی دنوں سے آزاد کے قارئین یہ سوال کررہے تھے کہ موجودہ امیگریشن کے بارے میں کیا رپورٹ ہے اور ہماری درخواست کی کیا نوعیت ہے ؟ ان تمام سوالوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے وزارت داخلہ سے رابطہ کیا ہے اور انہوں نے 9 اپریل 2013 تک کی رپورٹ جاری کردی ہے ۔ موجودہ امیگریشن میں 1 لاکھ 34 ہزار درخواستیں جمع ہوئی تھیں اور انہیں جمع کروانے کے لیے گزشتہ سال 15 ستمبر سے لیکر 15 اکتوبر کا وقت دیا گیا تھا ۔ وزیر اعظم مونتی کے موجودہ قانون کے مطابق وہ غیر ملکی اس قانون کے بعد غیر قانونی کام کریں گا یا پھر اٹلی میں غیر قانونی طور پر رہیں گے ، انہیں اور انکے مالکان کو سخت جرمانے اور سزائیں دی جائیں گی ۔ وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ اب تک 82190 درخواستوں کی پڑتال کی گئی ہے اور ان پر مختلف دفاتر کام کررہے ہیں۔ یاد رہے کہ غیر ملکی کی درخواست پر تھانے کا امیگریشن کا دفتر اسکے بعد روزگار کا دفتر اور علاقے کا تھانہ کام کرتے ہیں ، یعنی تین دفاتر جب رپورٹ جاری کرتے ہیں تو اسکے بعد غیر ملکی اور مالک کو بلا کر سوجورنو کا کنٹریکٹ کیا جاتا ہے اور پرمیسو دی سوجورنو جاری کی جاتی ہے ۔ ان درخواستوں میں سے 23 ہزار پر مثبت رائے قائم کرتے ہوئے سوجورنو جاری کردی گئی ہے اور 13 ہزار درخواستیں لوازمات پورے نہ ہونے کیوجہ سے مسترد کردی گئی ہیں ۔ یاد رہے کہ مسترد ہونے والی درخواستوں میں مالک کی سالانہ بچت، غیر ملکی کا اٹلی میں 2011 سے موجود ہونے کا ثبوت اور ٹیکسوں کی ادائیگی وغیرہ ۔ 10 ہزار ایسی درخواستیں ہیں ، جن میں مالکان کو اطلاع کی گئی ہے کہ وہ لوازمات پورا کریں ۔ چند مالکان تھانے میں جا کر لوازمات نہیں دے رہے ، اس صورت میں غیر ملکی کی درخواست مسترد کردی جائے گی ۔ باقی تمام غیر ملکی جن کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے ، وہ انتظار کریں اور حوصلہ نہ ہاریں ۔ میلانو میں 15 ستمبر سے لیکر 30 ستمبر تک کی درخواستوں پر کام ہورہا ہے ۔ یاد رہے کہ زیادہ درخواستیں اکتوبر کے مہینے میں جمع کروائی گئی تھیں ۔ اٹلی کی مزدور یونین کے ڈائریکٹر Maurizio Boveنے کہا کہ امیگریشن پر کام ہورہا ہے لیکن اس کا سسٹم سست ہے ۔ وہ کام کے مالکان جو کہ فوت ہو جائیں گے یا پھر کام والا ادارہ معاشی بحران کیوجہ سے بند ہو جائے گا ، اس صورت میں غیر ملکی کو کام تلاش کرنے کی پرمیسو دی سوجورنو جاری کردی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ چند پریفی تورے یا تھانے غیر ملکیوں کا معمولی ثبوت مان لیتے ہیں اور بعض اسے مسترد کردیتے ہیں ، اس وجہ سے بھی درخواستیں مسترد کی جا رہی ہیں ۔ نیچے امیگریشن کی درخواستوں کی نوعیت کی رپورٹ۔ ( پیارے بھائیو ، جب آپ لوگ مجھے اپنی درخواست کے بارے میں سوال کرتے ہو ، تو میرے لیے ہر بندے کو جواب دینا مشکل ہو جاتا ہے ، میں اخبار کے علاوہ نجی ادارے میں کام کرتا ہوں ، اس لیے وہ لوگ جو میرے جواب سے قاصر رہتے ہیں ، میں ان سے معافی مانگتا ہوں )

STATO DI AVANZAMENTO PROCEDURE EMERSIONE 2012
fonte: Ministero dell’Interno
"Alla data del 9 aprile 2013, sono state lavorate 82.190 domande così suddivise:
 
-          23.255 definite con la firma del contratto di soggiorno e la richiesta del permesso di soggiorno;
-          10.817 già convocati
-          9.746 in fase di integrazione
-          13.417 rigettate
-          183  rinunce
-          24.772  valutate positivamente dalla DTL e dalla Questura calendarizzate per la convocazione
"

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

تمام کمونوں سے دوسری نسل کے غیر ملکیوں کی اپیل

روم ، تحریر، ایلویو پاسکا ۔۔۔ اٹلی میں اس سال 15 ہزارکے قریب  ایسے دوسری نسل کے غیر ملکی موجود ہیں جو کہ 17 سے 18 سال کے ہو چکے ہیں ۔ یہ وہ غیر ملکی ہیں جو کہ امیگرنٹس والدین سے اٹلی میں پیدا ہوئے ہیں ۔ یہ تمام 2013میں اٹالین شہریت حاصل کریں گے ۔ اٹلی کی ایسوسی ایشن ANCI, Save the Children e Rete G2نے ملکر ایک کمپین چلائی ہے ، جس کے مطابق سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ان غیر ملکی بچوں کو شہریت کی اطلاع کریں ۔ اس اپیل میں کہا گیا ہے کہ اٹلی کے کمونوں کے تمام میئر ان لڑکے لڑکیوں کو ایک نوٹس کے زریعے اطلاع کریں جو کہ 18 سال کی عمر کے ہوگئے ہیں ۔ اٹلی میں پیدائش کے بعد غیر ملکی بچے کا حق ہوتا ہے کہ وہ 18 سال کی عمر پوری کرنے پر اٹالین شہریت کی درخواست دے سکے ۔ اٹلی کے چند کمونوں نے غیر ملکیوں کو اطلاع کرنی شروع کر دی ہے ، جس میں میلانو کا کمونہ شامل ہے ۔ موجودہ قانون کے مطابق وہ غیر ملکی بچے جو کہ اٹلی میں پیدا ہوئے ، وہ اٹالین شہری بن سکتے ہیں بشرطیکہ ان کا اندراج کمونے کے دفتر اناگرافے میں ہوا ہو ، یہ قانونی طور پر اٹلی میں 18 سال کی عمر تک  رہائش پزیر ہوں اور انہوں نے اپنے اس ریذیڈنس کے دوران گیپ نہ ڈالا ہو ۔ یعنی یہ مسلسل سالوں تک کسی دوسرے ملک میں نہ گئے ہوں ۔ یہ کوائف پورے کرنے کے بعد ان جوانوں کے لیے لازمی ہوتا ہے کہ یہ اپنے رہائش والے کمونے میں شہریت کی درخوست 19 سال میں دیں ۔ اٹلی میں آباد بہت سارے ایسے جوان ہیں ، جنہیں پتا نہیں کہ شہریت حاصل کرنے کے لیے ان کے پاس صرف ایک سال کا وقت درکار ہوتا ہے ۔ اس لیے اوپر درج کردہ ایسوسی ایشنوں نے ایک مہم چلائی ہے ، جس کے مطابق تمام کمونوں سے اپیل کی ہے کہ وہ جوانوں کو 18 سال کی عمر میں ایک خط روانہ کریں ، جس میں تمام تر معلومات موجود ہوں ، اٹلی کی دوسری نسل کی ایسوسی ایشن G2نے ایک آن لائن گائیڈ بھی بنا دی ہے ۔ جس میں شہریت حاصل کرنے کی تمام تر معلومات درج ہیں ۔ اٹلی میں دوسری نسل کے جوانوں میں سال در سال اضافہ ہورہا ہے ، اس اہمیت کو مرنظر رکھتے ہوئے یہ مہم چلائی گئی ہے ۔ اٹلی کے مردم شماری کے ادارے استات کے مطابق 2010 میں اٹلی میں 78 ہزار غیر ملکی  بچے پیدا ہوئے تھے جو کہ ٹوٹل بچوں کا 9،13 فیصد بنتا ہے ۔ اور یہ گزشتہ سال سے 3،1 فیصد زیادہ تھا ۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ آج اٹلی کے سکولوں میں 10 لاکھ غیر ملکی بچے بنچوں پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کر رہے ہیں ۔ تصویر میں پاکستانی نژاد بچیاں روم کے ایک تہوار میں ۔

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت پیر, 15 اپریل 2013 19:45

پوپ فرانسیسکو کی بانکی مون سے ملاقات

روم۔ 10 اپریل 2013 ۔۔۔۔ اٹلی میں موجود ویٹیکن اسٹیٹ میں پوپ فرانسیسکو کی بانکی مون سے ملاقات ہوئی ۔ جس میں بین الاقوامی امیگریشن ، سیاسی پناہ اور جلاوطنی کے بارے میں بحث ہوئی ۔ اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری بانکی مون نے پہلی دفع  پوپ فرانسیسکو سے ملاقات کی ۔ پوپ فرانسیسکو سابقہ پوپ بینیڈکٹ کے استعفی کے بعد پوپ بنے ہیں ۔ موجودہ ملاقات میں حالات حاضرہ پر بحث ہوئی اور خاص طور پر تارکین وطن سے اچھا سلوک کرنے کے بارے میں سوچا گیا ۔ بانکی مون نے کہا کہ دنیا کے کافی ممالک میں ملکی استحکام اور امن خطرے میں ہیں ۔ شام میں جنگ کے دوران لاکھوں لوگ جلاوطن ہورہے ہیں ۔ افریقہ کے کافی ممالک میں امن اور ملکی سالمیت نہ ہونے کیوجہ سے لوگ فرار ہورہے ہیں ، اسی طرح شمالی کوریا کی حالت بھی قابل زکر ہے ۔ اب وقت آگیا ہے کہ غیر ملکیوں کے متعلق جمہوری قوانین بنائے جائیں اور انہیں خوش آمدید کہنے کے لیے ہر قسم کے دروازے کھولے جائیں ۔ بعض ایسے ممالک ہیں جو کہ غیر ملکیوں کو اور خاص طور پر سیاسی پناہ گزینوں کو روکنے کے لیے سخت قوانین بنا رہے ہیں ، ایسے حالات میں مدد اور مہمان نوازی جیسی قدریں ختم ہو رہی ہیں ۔ اگر غیر ملکیوں کے متعلق مثبت قوانین اور اصول نہ بنائے گئے تو دنیا میں ابتری ، جنگ اور بے چینی بڑہ جائے گی ۔ پوپ نے کہا کہ ویٹیکن نے ہمیشہ تارکین وطن کی مدد اور بہتر سلوک کے بارے میں سوچا ہے ۔

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

سہیلیاں


ابھی حال ہی میں انعم کے والد صاحب کی ٹرانسفر لال کرتی میں ہوئی تھی۔انعم یہاں آکہ بالکل بھی خوش نہیں تھی کیونکہ اس کی ساری سہیلیاں ، کزنز، فیملی لاہور میں تھے۔ انعم بہت ہی شوخ و چنچل لڑکی تھی۔ دوستی کرنے میں وہ ہمیشہ پہل کرتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ یہاں اس کی کافی زیادہ سہیلیاں بن گئی تھیں۔ محلے میں بھی اور کلاس میں بھی۔ اس کی کلاس کئی لڑکیاں تھیں اور اس کی تقریباً سبھی لڑکیوں سے دوستی ہوگئی تھی سوائے ایک کے وہ تھی نازیہ۔ نازیہ اور انعم کی عادتوں میں زمین آسمان کا فرق تھا۔ انعم جتنی باتونی تھی نازیہ اتنی ہی چْپ۔لیکن اس کے باوجود جب دونوں میں دوستی ہوئی تو سب سے زیادہ گہری اور پکی۔ انعم کو ملا کے انعم وغیرہ چاہ بہن بھائی تھے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ وہ بہت باتونی تھی۔ اس کے برعکس نازیہ اکلوتی تھی اس وجہ سے وہ بہت اداس اور چپ رہتی تھی۔ نازیہ اور انعم کی اچھی دوستی کی وجہ سے انکے خاندانوں کا بھی آپس میں میل جول بڑھ گیا تھا۔ دونوں فیملیز اکثر ایک دوسرے کے گھر آنے جانے لگی تھی۔ انعم نے تو دل ہی دل میں نازیہ کو اپنی بھابھی بنانے کا بھی سوچ لیا تھا۔ ایک دن انعم نے نازیہ کو اپنی خالہ کے آنے کی خوشخبری سنائی ۔ خوشخبری اس لیئے کہ خالہ اپنے بیٹے کے لیئے انعم کا رشتہ مانگنے آئی تھیں۔ ان کا ارادہ تھا کہ ابھی منگنی کردی جائے اور دو تین سال بعد شادی۔ انعم بہت خوش تھی کیونکہ وہ اپنے کزن احسن کو پسند بھی کرتی تھی۔ آج نازیہ ،انعم کے گھر اس کی خالہ کو ملنے گئی۔ خالہ کو نازیہ بہت پسند آئی۔ نازیہ بہت کم گْو تھی لیکن اس کے چہرے میں کچھ ایسی کشش تھی کہ قبول صورت ہونے کے باوجود کسی پری کی طرح لگتی تھی۔ ابھی انعم ،اسکی امی، خالہ اور نازیہ چائے سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ باتیں کرہی رہے تھے کہ احسن آگیا ۔ احسن چائے کا بہت شوقین تھا ۔ اس لیئے چائے پینے کے لیئے وہ بھی ان کے ساتھ بیٹھ گیا۔ اس دوران اس کی نظر تین چار بار نازیہ پہ پڑی۔اس طرح یہ ایک چھوٹی اور مختصر ملاقات تھی نازیہ اور احسن کی جس میں اس نے نازیہ کو پہلی دفعہ دیکھا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خالہ پورے ایک مہینے کے لیئے آئی تھیں۔ اس دوران نازیہ کی چار پانچ بار خالہ اور احسن سے ملاقات ہوچکی تھی۔ آج سب گھروالوں جیسے ہی انعم اور احسن کے رشتے کی بات چھیڑی تو احسن نے یہ کہہ کر سب کو حیران کردیا کہ وہ انعم سے نہیں بلکہ نازیہ سے شادی کرنا چاہتا ہے۔ گھر میں ایک ہنگامہ برپا ہوگیا۔ سب نے احسن کو سمجھانے کی کوشش کی کہ ان کا یہ رشتہ بچپن میں طے ہوگیا تھا اس لیئے اب وہ انکار نہیں کرسکتالیکن احسن تو کسی کی بات سمجھنے کے لیئے تیارہی نہیں تھا۔ اس نے اتنی ضد کی کہ نازیہ کے گھر جا کے رشتہ مانگا جائے ورنہ وہ کسی سے بھی شادی نہیں کرے گا۔ نہ چاہتے ہوئے بھی سب کو احسن کی بات ماننی پڑی۔ نازیہ کے گھروالے بھی بڑی مشکل سے اس رشتے کے لیئے مانے کیونکہ وہ بھی نہیں چاہتے تھے کہ یہ شادی ہو کیونکہ احسن اور انعم کی بات بچپن میں ہی طے ہوگئی تھی۔ خیر جیسے تیسے یہ رشتہ طے ہوگیا۔ انعم اپنی جگہ ناراض تھی اور اب وہ نازیہ کو اپنی سہیلی کے بجائے دشمن سمجھتی تھی۔ نازیہ بھی اس رشتے سے خوش نہیں تھی کیونکہ اپنی سہیلی کے ساتھ زیادتی کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔ پر احسن کی ضد اوربزرگوں کے فیصلے نے سب کے جذبات اور خیالات پے پابندی لگادی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انعم سے احسن سے بچھڑنے کا دکھ برداشت ہی نہیں ہورہا تھا اس لیئے جس دن احسن اور نازیہ کی منگنی تھی انعم نے اسی دن خود کشی کرلی۔ خوشی کا ماحول ایک دم ماتم کے ماحول میں بدل گیا۔ جوان بیٹی کی اس طرح موت انعم کی ماں سے برداشت ہی نہیں ہورہی تھی۔ وہ روتی جاتیں اور نازیہ کو بد دعائیں دیتی۔ جاتیں۔ نازیہ سے ایک تو اپنی سہیلی کی موت کا دکھ برداشت کرنا ہورہا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ سب ہی اس کو برا بھلا بھی کہہ رہے تھے۔ انعم کی موت کا ذمہ دار بھی اسی کو سمجھا جارہا تھا۔ ان سب الزامات سے بچنے کے لیئے نازیہ بھی موت کی وادی میں جا چھپی۔
گھر میں ایک کہرام مچ گیا۔ اب جو لوگ نازیہ کو برابھلا کہہ رہے تھے خود کو نازیہ کی موت کا ذمہ دار سمجھنے لگے۔ انعم کی امی زور زور سے چیخ رہی تھیں۔ انعم انعم اٹھو کالج نہیں جانا، انعم ہربڑا کر اٹھی ،پنے ارد گرد کے ماحول کو دیکھا تووہ اپنے کمرے میں تھی۔ چند لمحوں میں وہ سمجھ گئی کہ اس نے کوئی بھیانک خواب دیکھا ہے۔ اس نے اللہ تعالی کا شکر ادا کیاکہ یہ ایک خواب ہی تھااور شاید خدا نے اسے اس خواب کے ذریعے صحیح راستہ دکھایا تھا۔ وہ اچھی طرح سمجھ گئی کہ اب اس نے کیا کرنا ہے۔ اس نے نازیہ کو فون کرکے کالج جانے سے منع کردیا اور اپنے آنے کی اطلاع دے دی۔

انعم نے اپنی امی اور خالہ سے تیار ہوکے نازیہ کے گھر جانے کے لیئے کہا۔ راستے میں انعم کی امی اور خالہ سوچتی رہیں کہ پتا نہیں اب کونسا نیا ہنگامہ ہونے والا ہے۔ خیر ان کے گھر پہنچ کر تینوں نے اپنے آپ کو ہر طرح کے حالات کے لیئے ذہنی طور پے تیار کرلیا تھا۔ اِدھر اْدھر کی باتیں کرنے کے بعد انعم نے یہاں آنے کا مدعا بیان کیا ۔ سب کے چہروں پے خوشی ، پریشانی اور حیرانی کی ملی جلی کیفیت صاف نظر آرہی تھی۔ کیونکہ بات ہی ایسی کہہ دی گئی تھی۔ ایک سہیلی دوسری سہیلی کا رشتہ لے کر آئی تھی۔ انعم اپنی پیاری سی سہیلی کے لیئے اپنے کزن احسن کا رشتہ لے کر آئی تھی۔ سب بہت خوش تھے لیکن کسی کو یہ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کل تک تو انعم سب سے زیادہ مخالفت کررہی تھی اور آج وہ خود ہی اس رشتے کے لیئے بات کرنے چلی آئی تھی۔ سب کی پریشانی بھانپتے ہونے اس نے سب کو اپنے رات کے خواب کی تفصیل بتائی اور ساتھ ہی معافی بھی مانگی کیونکہ جب اللہ تعالی نے احسن اور نازیہ کی جوڑی بنادی تھی تو انعم کون ہوتی ہے ان دونوں کو الگ کرنے والی۔ سب ہی انعم کی اس بات پے خوش ہوئے کہ سب سے چھوٹی ہونے کے باوجود اس نے اتنے بڑے مسئلے کو کتنی آسانی سے سلجھادیا۔ سب سے زیادہ تو نازیہ خوش تھی ۔ اسے ایک ساتھ دو خوشیاں ملی تھیں۔ ایک یہ کہ اس کی احسن سے شادی ہونے والی تھی کیونکہ وہ دل ہی دل میں احسن کو پسند کرنے لگی تھی لیکن انعم سے دوستی کی وجہ سے اس نے اپنی اس خواہش کو دل ہی میں دبا دیا تھا اور دوسری وجہ یہ تھی کہ اسے اانعم جیسی بہت ہی اچھی اور سمجھدار دوست ملی تھی اور اب تو سہیلی ہونے کے ساتھ ساتھ وہ ایک دوسرے کے رشتہ دار بھی بننے والے تھیں۔

رْوما بیگ ، اریزو

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

سماجی مدد کے لیے غیر ملکیوں کے برابر کے حقوق

روم، تحریر، ایلویو پاسکا ۔۔۔ اٹلی میں سماجی مدد یا Assistenza socialeحاصل کرنے کے لیے اٹالین اور غیر ملکیوں کے برابر کے حقوق ہیں ۔ اس کے باوجود کئی کمونے اور ریجن اس معاملے میں غیر ملکیوں سے غیر امتیازی سلوک کرتے ہوئے انکے حقوق سلب کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ غیر ملکیوں کو سماجی حقوق دینا غیر قانونی ہے ۔ اٹلی میں موجود کئی غیر ملکی قانونی طور پر رہائش پزیر ہونے کے باوجود اپنے حقوق حاصل کرنے سے قاصر ہیں ۔ اٹلی کے برابر کے حقوق کے ادارے UNARیعنی نسل پرستی کے خلاف ادارہ نے اعلان کیا ہے کہ بعض کمونے اپنی مرضی سے ان غیر ملکیوں کو سماجی مدد میسر نہیں کر رہے جنہیں اس مدد کی اشد ضرورت ہے ۔ اٹلی کے امیگریشن کے قانون کے آرٹیکل 41 کے مطابق وہ غیر ملکی جن کے پاس ایک سال کی مدت سے زیادہ کی پر میسو دی سوجورنو موجود ہے ، وہ اٹلی کے تمام سرکاری اور نجی اداروں سے اٹالین شہریوں کی طرح سروس یا مدد حاصل کرسکتے ہیں ۔ بعض ایسے کمونے ہیں جو کہ غیر ملکیوں پر ریزیڈنس کی شک لگاتے ہوئے انہیں سماجی مدد فراہم نہیں کرتے ۔ اونار دفتر کے ڈائریکٹر مونانی نے کہا کہ ایسا کوئی قانون موجود نہیں ہے ۔ ہم نے ایک تمام سرکاری اداروں کو واضع کر دیا ہے کہ وہ نسلی امتیاز سے ہوشیار رہیں اور کسی کو اسکی قومیت اور مختلف ہونے کی بنیاد پر تنگ نہ کریں ۔ تمام غیر ملکیوں کو یہ باور کیا جاتا ہے کہ وہ سماجی مدد حاصل کر سکتے ہیں ۔ اٹلی میں غیر ملکی سمجھ کر بعض اوقات منفی سلوک کیا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اٹلی کے کمونے، صوبے اور ریجن کے دفاتر میں کنٹرول گروپ بنا دیے ہیں ۔ ہم پہ در پہ ان دفاتر کا معائنہ کریں گے اوراگر کسی قسم کا غیر مساوی سلوک نظر آیا تو اسے فوری طور پر دور کرنے کی کوشش کریں گے ۔ یاد رہے کہ یہ دفتر یورپ کے تمام ممالک میں غیر مساوی سلوک کے خلاف بنایا گیا ہے ۔

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com