Thursday, Apr 25th

Last update12:39:09 AM GMT

RSS

اٹالین خبریں

اس سال سمندر کے راستےسے 119 پاکستانی اٹلی میں داخل ہوئے ہیں

روم ۔ 6 مارچ 2013 ۔۔۔ اٹلی کی پولیس نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اس سال سردی کے باوجود سمندر کے راستےسے 119 پاکستانی اٹلی میں داخل ہوئے ہیں۔یعنی صرف تین مہینوں میں اور خراب موسم میں 119 پاکستانیوں کا اٹلی میں غیر قانونی طور پر داخل ہونا ایک ریکارڈ ہے ۔  یاد رہے کہ یہ پاکستانی عام طور پر لیبیا یا ترکی سے غیر قانونی طور پر مافیا یا ایجنٹوں کی مدد سے اٹلی میں داخل ہوتے ہیں ۔ عام طور پر ترکی سے اٹلی آنے کے لیے غیر ملکی 3000 ڈالر کشتی والے کو ادا کرتے ہیں اور اپنی جان خطرے میں ڈالتے ہیں ۔ اٹلی کے جنوبی سمندر Salentoمیں 40 پاکستانیوں کو ایک کشتی والا کنارے پر چھوڑ کر غا‏ئب ہو گیا تھا اور یہ تارکین وطن سردی کیوجہ ٹھٹھر رہے تھے ۔ پولیس نے انکی شناخت کرتے ہوئے ایک سنٹر میں روانہ کردیا ہے اور پولیس کے مطابق یہ سب پاکستانی ہیں اور بالغ ہیں ۔ 7 فروری کے روز بھی سمندر کے کنارے 37 پاکستانی پائے گئے تھے ، یہ لوگ بھی سردی کیوجہ سے موت کی کشمکش میں تھے ، جب پولیس نے انہیں سنٹر میں روانہ کیا اور انہیں ابتدائی طبی امداد دی ۔ یاد رہے کہ سردیوں میں اٹلی کا سمندر کافی خطرناک ہوتا ہے اور کئی کشتیاں پانی میں ڈوب جاتی ہیں یا پھر کئی غیر ملکی تیراکی نہ جاننے کیوجہ سے مر جاتے ہیں ۔ تصویر میں غیر ملکیوں کا سنٹر

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت بدھ, 06 مارچ 2013 21:30

شمالی افریقہ کی ایمرجنسی ختم کردی گئی

روم۔ 3 مارچ 2013 ۔۔۔۔ اٹلی کی حکومت نے شمالی افریقہ کی ایمرجنسی ختم کردی گئی ہے ، اب ہزاروں محاجرین جو کہ لیبیا اور تیونس کی جنگ کے خوف سے فرار ہوتے ہوئے اٹلی آئے تھے ، انہیں حکومت کے دیے گئے سنٹر چھوڑنے ہونگے اور انکی مزید مدد نہیں کی جائے گی ۔ وزارت داخلہ کنچلیری نے بھی موجودہ حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ ان غیر ملکیوں کے بارے میں کچھ سوچے ۔ آرچی ایسوسی ایشن کے صدر نے آزاد کی انٹرنیٹ کی سائٹ استرانیری ان اطالیہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایمرجنسی ابھی ختم نہیں ہوئی ۔ بیشتر غیر ملکیوں کو انسانی ہمدردی کی سوجورنو جاری کردی گئی ہے لیکن انکی حفاظت اور اخراجات کے لیے حکومت اپنے فرائض پورے نہیں کر رہی ۔ ایسے حالات میں ان لوگوں کی مدد نہ کرنے سے اٹلی میں کافی سوشل مسائل پیدا ہو جائيں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے  امبریا کے سنٹروں سے نکلنے والے محاجرین کے لیے جون تک 500 یورو کے کرایہ کا بجٹ حاصل کرلیا ہے ۔ یاد رہے کہ اگر ان غیر ملکیوں کی مدد کی جائے تو یہ جلد نوکری اور گھر تلاش کرلیں گے ۔ یاد رہے کہ ان غیر ملکیوں میں ہمارے سینکڑوں پاکستانی بھی موجود ہیں جو کہ لیبیا کی جنگ کے دوران فرار ہو کر اٹلی آئے تھے ۔ یہ تمام پاکستانی سخت پریشان ہیں کیونکہ ان میں عورتیں اور خاندان بھی موجود ہیں ۔

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

پاکستان کے عظیم دوست ڈاکٹر ویتو وفات پاگئے

روم۔ 25 فروری 2013 ۔۔۔ اٹلی کے مشہور دانشور اور پاکستان کے عظیم دوست ڈاکٹر ویتو وفات پاگئے ہیں ۔ انکی عمر 78 سال تھی اور اچانک بیمار ہونے کے بعد آج انکی موت میلانو میں واقع ہوگئی  ہے ۔ ڈاکٹر ویتو سالی ایرنو علامہ اقبال کے پیروکار تھے اور علامہ اقبال کی تحریروں سے انتہائی محبت کرتے تھے ۔ ڈاکٹر ویتو سالی ایرنو یورپ کی اقبال فاؤنڈیشن کے صدر بھی تھے اور انہوں نے علامہ اقبال کی کتابوں کا پہلی بار اٹالین میں ترجمہ کیا تھا ۔ ڈاکٹر ویتو سالی ایرنو کافی سال قبل کراچی میں موجود اٹالین کونصلیٹ میں کونصلر بھی رہ چکے ہیں ۔ انہوں نے حال ہی میں میلانو میں 2009 اور 2010 میں اقبال پر کانفرنسیں کروائی تھیں ، جس میں دنیا کے مختلف ممالک سے علامہ اقبال کے چاہنے والے  تشریف لائے تھے ۔ چند ماہ قبل روم میں اردو اور پاکستانی ادب پر روم کمونے میں پاکستان ایمبیسی روم کی جانب سے کانفرنس منعقد کی گئی تھی ، جس میں ڈاکٹر ویتو سالی ایرنو بھی تشریف لائے تھے ۔ تصویر میں وہ اسی کانفرنس میں علامہ اقبال کے اٹلی میں وزٹ پر بحث کر رہے ہیں ، جس میں بقلم خود بھی شامل تھا ۔یاد رہے کہ اٹلی میں موجود پاکستانی کمونٹی سے بھی کافی محبت کرتے تھے اور شمالی اٹلی میں آباد چوہدری اصغر محمود کی دعوت پر وہ ہماری کئی محفلوں میں تشریف لاتے تھے ۔ ڈاکٹر ویتو سالی ایرنو نے دنیا میں منعقد کی جانے والی علامہ اقبال کانفرنسوں میں حصہ لیا تھا اور لاہور میں موجود علامہ اقبال اکیڈمی کا کافی دفغ دورہ کیا تھا ۔ انکی وفات کی خبر سن کر پاکستان کے صدر آصف علی زرداری، وزیر اعظم اور وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے دلی افسوس کیا ہے ۔ انہوں نے اپنے پیغام میں لکھا ہے کہ ڈاکٹر ویتو سالی ایرنو پاکستان کے لیے انتہائی اہم تھے اور انکی علامہ اقبال کے لیے جو خدمات ہیں جنکی جتنی بھی تعریف کی جائے وہ کم ہے ۔ یاد رہے کہ حکومت پاکستان  کی جانب سے انہیں تمغہ قائد اعظم نوازا گیا تھا ۔ تحریر، اعجاز احمد

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

کل اٹلی میں قومی الکیشن کی ووٹنگ ہوگی

روم۔ 23 فروری 2013 ۔۔۔ کل پورے اٹلی میں قومی الکیشن کی ووٹنگ ہوگی۔ 47 ملین اٹالین ووٹ کاسٹ کریں گے ۔ یہ ووٹنگ 24 اور 25 فروری کے روز مکمل کی جائے گی ۔ 47 ملین اٹلی میں موجود ووٹروں کے علاوہ 35 لاکھ اٹالین جو کہ دوسرے ممالک میں ریذیڈنٹ ہیں ، اپنا ووٹ کاسٹ کریں گے ۔ اٹلی کی قومی اسمبلی اور سینٹ کے لیے 47.154.711ووٹر اپنا ووٹ ڈالیں گے ، ان میں 22.644.738مرد اور  24.509.973عورتیں شامل ہیں ۔ تمام ووٹر 618 قومی اسبملی کے ممبر اور 309 سینٹ کے ممبر منتخب کریں گے ۔ پورے اٹلی میں 61.598پولنگ اسٹیشن قائم کیے جائیں گے ۔ اٹلی سے باہر رہنے والے اٹالین 12 قومی اسمبلی کے ممبران اور 6 سینٹ کے ممبران اٹلی میں روانہ کریں گے ۔ یاد رہے کہ پوری دنیا میں پاکستانیوں کی تعداد ایک کروڑ کے برابر ہے لیکن ہمارا ووٹ ہر بار ضائع ہوجاتا ہے کیونکہ ہماری حکومتوں نے تارکین وطن کو ووٹ ڈالنے کے انتظامات نہیں کیے ۔ الکیشن کی ووٹنگ 24 فروری کے روز صبح 8 بجے سے لیکر رات 10 بجے تک اور سوموار 25 فروری کو صبح 7 بجے سے لیکر شام 3 بجے تک ہو گی ۔ گلابی کاغذ پر قومی اسمبلی کے لیے ووٹ ڈالا جائے گا اور اسکے لیے کم سے کم عمر 18 سال ہونی ضروری ہے ۔ سینٹ کے لیے پیلا کاغذ یا فارم استعمال ہو گا اور سینٹ میں ووٹ ڈالنے کے لیے کم سے کم عمر 25 سال ہونی لازمی ہے ۔ آپ جس پارٹی کے لیے ووٹ کاسٹ کریں گے ، اس پارٹی کے نشان پر xکا یا کراس لگائیں گے ۔ اٹلی کے صدر کا حق ہے کہ وہ ایسے 5 اٹالین شہریوں کو ساری زندگی کے لیے سینٹر مقرر کر دے ، جنہوں نے سائنس، سوسائٹی، آرٹ اور ادب میں قوم کا نام روشن کیا ہے ۔ اٹلی کی قومی اسمبلی میں ممبر بننے کے لیے 25 سال کی عمر ہونی لازمی ہے اور سینٹ کا ممبر بننے کے لیے کم سے کم عمر 40 سال ہونی ضروری ہے ۔ وہ پاکستانی جن کے پاس اٹالین شہریت ہے ، وہ کل ووٹ ڈالنے کے لیے جا سکتے ہیں ، ان کے پاس الکیشن کا کارڈ اور اٹالین شہریت ہونے کا شناختی کارڈ ہونا لازمی ہے ۔ پولنگ اسٹیشن کے لیے آپ اپنے الیکشن کارڈ پر پڑہ سکتے ہیں کیونکہ اس پر پولنگ اسٹیشن کا نمبر درج ہوتا ہے ۔



 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

دوسری جنگ عظیم کے دوران اٹلی میں 5727 ہندوستانی فوجی شہید ہوئے تھے

روم، 22 فروری 2013 ۔۔۔۔ یاد رہے کہ دوسری جنگ عظیم کے دوران اٹلی سے ہٹلر کی نازی اور فاشسٹ فوجوں کو شکست دینے کے لیے انگریزوں کی فوج میں ہندوستانی فوجی بھی جنگ لڑنے کے لیے آئے تھے اور کامن ویلتھ کے مطابق مرنے والے ہندوستانی فوجیوں کی تعداد 5727 ہے ۔ ان فوجیوں میں ہندو، سکھ اور مسلمان شامل تھے ۔ اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ جب بھی اٹلی میں کسی پاکستانی یا ہندوستانی کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جائے تو انہیں یہ یاد کروایا جائے کہ ہم اس قوم سے تعلق رکھتے ہیں ، جس نے دوسری جنگ عظیم میں اٹلی کو آزاد کروایا تھا، اس لیے اٹلی کی معاشی ترقی اور جمہوریت کے فروغ میں ہمارا خون شامل ہے ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اب ہر سال انڈین ایمبیسی اٹالین حکام سے ملکر ان فوجیوں کی برسی مناتی ہے ۔ یعنی اس ساری قربانی کا سہرا آج والے انڈیا نے اپنے سر پر رکھ لیا ہے حالانکہ ان فوجیوں میں مسلمان فوجیوں کی تعداد قابل زکر ہے اور فسینو، فورلی اور رمنی کے قبرستانوں میں اس کی گواہی موجود ہے ۔ ان قبروں پر تمام نام مسلمانوں کے ہیں اور انکی جگہ پیدائش بھی درج ہے ، ان کی جگہ پیدائش میں ملتان، لاہور، پشاور، حیدرآباد اور دوسرے ایسے علاقوں کا زکر ہے جو کہ آج پاکستان میں ہیں ۔ شمال میں رہنے والے تمام پاکستانیوں سے گزارش کی جاتی ہے کہ وہ ان قبرستانوں کا وزٹ کریں اور دیکھیں کہ کیسے ہمارے بزرگوں نے اٹلی کو آزاد کروانے کے لیے اپنا خون بہایا تھا ۔ انڈین ایمبیسی کے ساتھ ساتھ ہمیں بھی چاہئے کہ ہم اس برسی میں برابر کے شریک ہوں کیونکہ کسی ملک کے لیے جان قربان کرنا انٹیگریشن کی سب سے بڑی مثال ہے ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ہم نے کبھی اس موزوں پر بحث نہیں کی ۔ یاد رہے کہ ہندو اور سکھ فوجیوں کی میت کو جلا دیا جاتا تھا لیکن مسلمان دفن کیے جاتے تھے ، اس لیے انکی قبریں آج بھی ہماری گواہی کا انتظار کررہی ہیں ۔ میں کمونٹی اور پاکستانی ایمبیسی سے گزارش کرتا ہوں کہ ہم فوری طور پر اس برسی کو منانے کے لیے ان قبرستانوں کا وزٹ کریں ۔ ہم تمام تر معلومات اٹلی کی وزارت دفاع سے حاصل کرسکتے ہیں ۔ تحریر، اعجاز احمد ۔۔۔ تصویر میں سکھ اور اٹالین حکام فورلی کے قبرستان میں برسی منا رہے ہیں ۔

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com