Thursday, Apr 25th

Last update12:39:09 AM GMT

RSS

کمونٹی کی خبریں

ناحیدہ خان کا تعارف

روم، 12 اپریل 2013 ۔۔۔۔ روم میں پیدا ہونے والی جوان لڑکی ناحیدہ خان کہتی ہیں کہ اٹلی میں شہریت کا قانون تبدیل ہونا لازمی ہے ۔ ناحیدہ خان کے والد پاکستانی ہیں اور اسکی والدہ کا تعلق مراکش سے ہے ۔ ناحیدہ اٹلی میں پیدا ہوئی اور یہاں ہی جوان ہوئی ۔ اس نے اٹالین اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ 18 سال کی عمر تک اسکے پاس پرمیسو دی سوجورنو تھی ۔ ناحیدہ خان نے کہا کہ میں پاکستان اور مراکش میں صرف چھٹیوں میں جایا کرتی ہوں لیکن میرا ملک اٹلی ہے ۔ میرے ملک نے مجھے 18 سال کی عمر تک غیر ملکی سمجھ رکھا تھا ۔ بالغ عمر پوری کرنے کے بعد میں نے فوری طور پر اٹالین شہریت حاصل کرلی اور اب میں اپنے آپ کو اصل اٹالین شہری سمجھتی ہوں ۔ اس نے کہا کہ میرے جیسے 10 لاکھ ایسے جوان ہیں جو کہ اٹلی میں پیدا ہوئے ہیں یا پھر کمسن عمر میں اٹلی میں آئے تھے ۔ ان جوانوں کو شہریت نہ دینا زیادتی ہے کیونکہ یہ اپنے آپ کو اٹالین تصور کرتے ہیں اور والدین کے ملک میں صرف چھٹیوں کے لیے جاتے ہیں ۔ ناحیدہ خان نے کہا کہ وہ روم میں کئی کام کرنے کے بعد تھک گئی تھی اور ایک مہذب کام نہ ہونے کیوجہ سے پریشان تھی ۔ اسی اثنا میں اس نے فوٹوگرافی کا کورس کیا اور 2012 میں فوٹو گرافری کا پہلا انعام حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی ۔ ناحیدہ خان اب گزشتہ 3 سالوں سے روم کے ساحلی علاقے لادسپولی میں رہ رہی ہے اور دوسری نسل کے جوانوں کی آواز بن گئی ہے ۔ نیچے ناحیدہ خان اور اسکی فوٹوگرافری کی تصاویر 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

ایک ہندوستانی امیگرنٹ نے اٹالین بیوی اور بیٹی کو قتل کر دیا

روم، 7 اپریل 2013 ۔۔۔ کل شام روم کے قریبی شہر چستیرنا دی لاتینا میں  ایک ہندوستانی امیگرنٹ نے اٹالین بیوی اور بیٹی کو قتل کر دیا ہے ۔ ہندوستانی کا نام کمار ہے اور اسکی عمر 35 سال ہے ۔ اس نے اپنی اٹالین بیوی سے انڈیا میں 2008 میں شادی کی تھی اور اسکے بعد اٹلی میں مستقل رہائش کے بعد ان دونوں میں لڑائی جھگڑا رہتا تھا ۔ بیوی نے آخری بار کمار سے رقم مانگی تھی کیونکہ وہ کوئی کام نہیں کرتی تھی ۔ کمار کی بیوی اور اسکی 19 سالہ منہ بولی بیٹی بے روزگار تھیں اور سستے کرائے کے مکان میں آباد تھیں ۔ کمار کی بیوی اس سے قبل تین شادیاں کر چکی تھی ۔ کمار ان سے تنگ تھا ۔ 6 اپریل کی شام کمار اپنی بیوی کے گھر آیا اور اس نے چھری سے پہلے بیوی کو اور اسکے بعد بیٹی کو مار دیا ۔ ہمسائیوں نے پولیس کو بتادیا۔ کمار فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا لیکن پولیس نے اسکے موبائل سے اسے ٹریس کرلیا اور گرفتار کرلیا ۔ کمار کے منہ پر ناخنوں کے زخم تھے۔ کچھ دیر بعد کمار نے اقرار جرم کر لیا اور اب اسے جیل میں روانہ کردیا گیا ہے ۔ یاد رہے کہ کل اٹلی کے شہر ماچیراتا میں بھی میاں بیوی نے بے روزگاری سے تنگ آکر خود کشی کرلی ہے اور بیوی کے بھائی نے اس خودکشی کا سن کر سمندر میں ڈوب کر خودکشی کرلی ہے ، یعنی ایک ہی خاندان میں 3 لوگوں نے خودکشی کی ہے ۔ آج پورے اٹلی میں انڈین کے قتل اور خاندان کے قتل کے سلسلے میں بحث ہو رہی ہے کیونکہ موجودہ معاشی بحران کے نتیجے میں بے شمار لوگ بے روزگار ہونے کے بعد بے بس ہوتے جا رہے ہیں ۔ کافی پاکستانی بھی بے روزگاری کی لپیٹ میں آگئے ہیں اور ہمارے مشہور ڈیروں پر 10 بندوں میں سے صرف ایک یا دو کام کر رہے ہیں ۔ تحریر، اعجاز احمد

 

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

روم میں 2 نابالغ پاکستانیوں پر پولیس کیس

روم، 4 اپریل 2013 ۔۔۔ آج روم کے زون پیاسا بلونیا کی فوجی پولیس کارابنیری نے 2 نابالغ پاکستانیوں پر پولیس کیس  کردیا ہے ۔ ان پاکستانیوں کی عمر 17 سال ہے اور یہ ایک بےبی گینگ کے ساتھی تھے ۔ یہ گینگ اپنے میڈیم سکول کے پرانے دوستوں سے جگا ٹیکس لیتے تھے اور انکو منشیات فروش کرتے تھے ۔ اسکے علاوہ یہ گینگ اپنے دوستوں کو یرغمال بناتے ہوئے انکی مار پیٹ بھی کرتا تھا ۔ اس گینگ کا سردار ایک اٹالین تھا اور اس میں 2 نابالغ پاکستانی، ایک مصری اور ایکواڈور کے لڑکے شامل تھے ۔ پولیس نے اٹالین کو گرفتار کرلیا ہے اور باقی تمام نابالغ افراد پر کیس کردیا گیا ہے ۔ بے بی گینگ اپنے امیر دوستوں کو اپنے ہی گھر میں چوری کرنے کے لیے کہتے تھے اور گھر کا سامان، قیمتی کپڑے، زیور اور رقم چوری کرواتے تھے ۔ امیر دوستوں کی عمر 16 سال تھی اور یہ لڑکے بے بی گینگ کے ساتھ میڈیم سکول میں پڑھتے رہے تھے ۔ ان لڑکوں میں سے ایک نے پولیس کو اطلاع کردی اور اسکے بعد تفتیش شروع کردی گئی ۔ گینگ والے فیس بک کے زریعے مارنے کی دھمکی بھی دیتے تھے ۔

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

خصوصی دعا کی اپیل

اسلام وعلیکم ۔ میری تمام تارکین وطن سے درخواست ہے کہ ہمارے معزز دوست محمد اشتیاق ان دنوں بہت بیمار ہیں اور اس وقت اٹلی کے شہر بولونیا کے بودریو ہسبتال میں زیرعلاج ہیں، ان کے لیے دعا کی جائے کہ ہمارے پروردگار ان کو جلدازجلد تندرستی عطاء فرمائیں آمین ثم آمین

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

دو دھاری تلوار

 

سائرہ آج بہت خوش تھی اور ہوتی بھی کیوں نہ ، آج پورے چھ ماہ بعد اس کا بھائی ،بھابھی اور بچے جو اس کے گھرآرہے تھے۔ اتنے قریب رہتے ہوئے بھی وہ اتنے عرصے بعدایک دوسرے سے مل رہے تھے۔فون پے تو خیر اکثر بات ہوجایا کرتی تھی لیکن آمنے سامنے بیٹھ کر بات کرنے کا مزہ ہی کچھ اور ہوتا ہے۔
سائرہ ٹینچ بھاٹہ کے قریب گلریز کالونی میں رہتی تھی۔ تین کمروں پر مشتمل یہ چھوٹا مگر خوبصورت گھر تھا۔ دو بیڈ روم، ڈرائینگ روم ، چھوٹا سا کچن اور چھوٹا سا لان جسے سائرہ نے بہت خوبصورتی سے مختلف پھولوں سے سجایا ہوا تھا۔ لان کے ایک طرف چنبیلی ،گلاب اور موگرے کے پھو ل اپنی بہار دکھا رہے تھے اور دوسری طرف سائرہ نے دھنیہ ، پودینہ، ہری مرچیں اور ٹماٹر کے پودوں سے لان کو سجایا ہوا تھا۔ اسے سبزیاں اگانا بہت پسند تھا۔ سکول میں جب سے اس نے ہوم اکنامکس پڑھی تھی تبھی سے اْسے گھرداری کا بڑا شوق تھا۔ لان کے بعد وہ اپنے ڈرائینگ روم پے سب سے زیادہ توجہ دیتی تھی۔ اس کے ڈرائینگ روم میں سب سے خوبصورت وہ لکڑی کا جھولا تھا جسے اْس نے پلاسٹک کے لال گلاب کے پھولوں سے سجایا ہوا تھااور ایک طرف بلیک لیدر کا شاندار صوفہ تھا(جو اس نے اپنی کمیٹی کے روپوں سے خریدا تھا)۔ درمیان میں ایک کانچ کا نئے انداز کا ٹیبل اور اس کے او پر ایک چھوٹا سا جار جس میں اْس نے مختلف قسم کی چاکلیٹس رکھی ہوئی تھیں۔ دیوار کے درمیان میں ایک بڑا سا سبز رنگ کا فریم لٹکا ہوا تھا۔ جس میں چار قل لکھے ہوئے تھے اور اس سے پورا کمرہ ایسے ہوگیا تھا جیسے سارے کمرے میں نور ہی نور پھیل گیا ہو۔ سائرہ خود بھی پانچ وقت کی نماز پابندی سے ادا کرتی تھی۔ اس کا شوہر قیصر بھی نماز کی پابندی کرتا تھا۔ قیصر 502 ورکشاپ میں ایک کلرک تھا۔ وہ اپنی بیوی کا بہت خیال رکھتا تھا کیوں نہ رکھتا ، ایک تو وہ سائرہ کا خالہ کا بیٹا تھا اور ان دونوں کی پسند کی بھی شادی تھی۔
ان کی شادی کو چھ سال ہوچکے تھے اور وہ ابھی تک اولاد کی نعمت سے محروم تھے لیکن وہ اللہ کی رضا پے خوش تھے۔ سائرہ نے اکثر دبے دبے لفظوں میں قیصر کو دوسری شادی کی اجازت بھی دے دی تھی لیکن قیصر ہر بار ہنس کر ٹال دیا کرتا کیونکہ وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ سائرہ اْسے دوسری شادی کی اجازت دے تو رہی ہے لیکن جس دن اس نے دوسری شادی کرلی وہ اس شادی کو برداشت بھی نہیں کرسکے گی۔ ویسے بھی ایک دوسرے سے اتنا پیار کرتے تھے اور دونوں ایک دوسرے کے لیئے بچے ہی بنے رہتے تھے۔ صبح قیصر جب کام کے لیئے جاتا تو سائرہ اسے گیٹ تک چھوڑنے کے لیئے ضرور جاتی اور اس کے گلی کے موڑ مڑنے تک اسے دیکھتی رہتی۔ سارا دن خود کو گھر کے کاموں میں الجھائے رکھنے کے باوجود اس کا وقت بہت مشکل سے کٹتا۔ خیر جیسے ہی پانچ بجتے وہ خوش ہوجاتی اور سوچتی ایک بور دن قیصر کے بغیر گزر گیا۔ دونوں شام کی چائے پیتے وقت ایک دوسرے کو پورے دن کے کاموں سے بھی آگاہ کرتے ۔
آج جب قیصر شام کو کام سے گھر واپس آیا تو اسے گھر کی فضاء کچھ بدلی بدلی سی لگی اور آج فضاء خوشگوار ہوتی بھی کیوں نا، سائرہ کے بھائی ،بھابھی اور بچے جو گھر آئے ہوئے تھے۔
آج رات کھانے کے بعد قیصر ، سائرہ، اس کا بھائی فاروق اور بھابھی رقیہ کافی دیر تک باتیں کرتے رہے۔ رات بارہ بجے انہیں خیال آیا کہ ان چاروں کے علاوہ یہاں دو بچے حیدر اور اِرج بھی موجود ہیں جنہیں کافی دیر سے انہوں نے نہیں دیکھا۔ سائرہ ایک دم اٹھی کہ جاؤں اور بچوں کو دیکھ آؤں۔ جب وہ ڈرائینگ روم میں داخل ہوئی تو یہ دیکھ کر حیران ہوگئی کہ دونوں بچے صوفے پر کھیلتے کھیلتے سوگئے اور اس کی نظر ٹیبل پے پڑی تو وہ اپنی ہنسی نہ روک سکی کیونکہ چاکلیٹ سے بھرا جار خالی ہوچکا تھا اور جابجا چاکلیٹ کے ٹکڑے اور ریپر ز پھیلے ہوئے تھے۔ اور ارِج اور حیدر کے منہ پے بھی چاکلیٹ لگی ہوئی تھی۔
سائرہ اور رقیہ نے دونوں بچوں کو اٹھایا ان کے ہاتھ منہ دھلوا کر انہیں دوبارہ سلادیا۔ رات کافی ہوچکی تھی ، انہوں نے سونے کو ترجیح دی کیونکہ ویسے بھی انہوں نے صبح ایوب پارک جانے کا پروگرام بنایا تھا اور سائرہ نے تو مہمانوں کے آتے ہی بھائی سے کہہ دیا تھا کہ وہ ہفتہ اور اتوار کو بھی یہیں رہیں گے اور بچوں کے ساتھ مل کر خوب سیر بھی کرینگے۔ ْ ْْْْْْْْ
دو دن کیسے گزر گئے اور پتا بھی نہ چلا۔ مہمانوں کے جانے کے بعد گھر ایک دم ویران ساہوگیا تھا۔ بچوں کا شور، نند بھابھی کی باتیں۔ سالے بہنوئی کی باتوں میں ہلکی ہلکی چٹکیاں ایک ہفتہ تو سائرہ اور قیصر کا یہی باتیں سوچ سوچ کہ گزر گیا۔
آہستہ آہستہ دونوں دوبارہ سے اپنی معمول کی زندگی پے آگئے لیکن بچہ نہ ہونے کی کمی ایک بار پھر شدت اختیار کرگئی۔ آج وہ حسبِ عادت رات کا کھانا کھا کے چہل قدمی کے لیئے باہر نکلے تو راستے میں انہیں خالہ زینب( ان کی پڑوسن )مل گئی۔ باتونی ہونے کی وجہ سے خالہ زینب نے انہیں راستے میں ہی ایک گھنٹے تک روکے رکھا۔ پہلے تو وہ سائرہ سے بھائی ، بھابھی اور بچوں کے بارے میں بات کرتی رہی بعد میں سائرہ اور قیصر کو وہ بچے نہ ہونے کے میٹھے میٹھے طعنے دینے لگی۔ دونوں بڑی مشکل سے خالہ زینب سے جان چھڑا کر گھر پہنچے ہی تھے کہ گلی میں شور سن کر دونوں باہر آگئے۔
باہر آکر کیا دیکھتے ہیں کہ خالہ زینب کے ہاتھ میں ایک نومولود بچہ اٹھایا ہوا ہے اور باقی محلے والے ارد گرد جمع ہوکے اس بچے کے بارے میں باتیں کر رہے ہیں۔ قیصر نے پاس جاکے معاملے کو سمجھنے کی کوشش کی تو پتا چلا کہ ابھی دس منٹ پہلے ہی کوئی یہ بچہ گلی کی نکڑ پے پھینک گیا ہے۔ بچے کو دیکھ کر لگتا تھا جیسے اسے دنیا میں آئے ہوئے ابھی چند گھنٹے ہی گزرے ہیں۔ اب محلے والے پریشان ہیں کہ یہ نا معلوم بچہ کس کا ہے اور اسے کون یہاں چھوڑ گیا ہے۔ اب اس بچے کا کیا کرنا چاہیئے۔ کسی نے مشورہ دیا ،ایدھی سنٹر چھوڑ آتے ہیں۔ کسی نے کہا پولیس کو اطلاع کرتے ہیں۔ کسی نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ بچے کو یہیں پڑا رہنے دیں۔ صبح جو ہوگا دیکھا جائے گا۔ کسی نے یہ نہ سوچا کہ بچے کو بھوک لگی ہوگی یا اس کے تن کو ڈھانپنے کے لیئے کوئی کپڑا ہی لے آئیں۔ غرض بچہ ایک اور فیصلہ کرنے والے کئی۔ سب ہی اپنے اپنے حساب سے مشورے دے رہے تھے کہ اچانک خالہ زینب کی نظر سائرہ کے چہرے پر پڑی۔ سائرہ کی آنکھوں سے گرے ہوئے آنسوشاید یہ کہہ رہے تھے کہ بچہ خدا نے اس کے لیئے بھیجا ہے۔ خالہ زینب فوراً بھانپ گئی وہ بچہ لے کر سائرہ کے پاس گئی اور بولی ، ’’اگر تم چاہو تو سب کا منہ بند کرسکتی ہو۔ اس بچے کو گود لے کر‘‘۔
دونوں میاں بیوی یہ بات سن کر حیران اور پریشان ہوگئے کہ کیا کیا جائے۔ جیسے ہی خالہ زینب نے یہ بات سب کو بتائی تو سارے خوش ہوگئے اور ابھی جو سب بچے سے جان چھڑانے کے بارے میں سوچ رہے تھے ان کے لیئے اس بچے سے جان چھڑانے کا اس سے بہتر حل اور کیا ہوسکتاتھا کہ سائرہ اور قیصر کو یہ بچہ دیا جائے۔
بس اب کیا تھا کسی نے سائرہ اور قیصر کو سنبھلنے کا موقع ہی نہ دیا اور مبارک بادیں دینی شروع کردیں جیسے یہ بچہ انہیں کا ہو۔ بچے کو ماں باپ مل گئے اور سائرہ اور قیصر کو بچہ۔ دونوں خوشی خوشی بچے کو لیکر گھر چلے گئے۔
صبح ہوتے ہی قیصر نے سارے محلے میں مٹھائی بانٹی ۔ محلے والے باری باری آکے انہیں مبارک باد دینے لگے اور ساتھ ساتھ ان کے بڑکپن کی تعریف بھی کرنے لگے کہ انہوں نے ایسے بچے کو اپنایا جسے عام طور پے دنیا ناجائز کے نام سے پکارتی ہے۔ دونوں نے بچے کا نام نعمت قیصر رکھا۔ یہ بچہ ان کے لیئے کسی نعمت سے کم نہیں تھا۔ دونوں میاں بیوی اب جب بھی باہر جاتے تو بچے کوساتھ لے کر جاتے اور جب کوئی محلے والا دیکھتا تو تینوں کو ضرور دعائیں دیتا۔ شاید ان میاں بیوی کی قسمت میں کسی ایسے ہی بچے کا ماں باپ ہونا لکھا تھا۔ جوبھی تھا آخر وہ دونوں ماں پاب بن تو گئے یہ خوشی ان سے سنبھالے نہ سنبھلتی تھی۔ اب تو دونوں کو وقت گزرنے کا پتا ہی نہ چلتا۔ بچے کی شاپنگ ، اس کے ساتھ کھیلنا، باہر لے کر جانا۔ اس میں ایک سال کیسے گزرگیا پتا ہی نہ چلا۔
آج نعمت کی سالگرہ تھی۔ دونوں میاں بیوی نے سارے محلے کو سالگرہ کی دعوت دی تھی۔ سائرہ کی فیملی بھی اس خوشی میں شریک تھی۔ کیک کاٹا گیا، انواع و اقسام کے کھانوں سے سب کو خوش کیا گیا۔
آہستہ آہستہ تقریباً سب ہی مہمان چلے گئے۔ بس دو چار ہی رہ گئے ۔ جن کے ساتھ بچے تھے۔ وہ بھی اس لیئے رک گئے تھے کیونکہ بچے ضد کررہے تھے کہ ہم نعمت کو ملے ہوئے تحفے دیکھ کر جائیں گے۔ کافی وقت ہوچکا تھا اس لیئے سائرہ نے سوچا کہ پہلے تحفے کھول لیئے جائیں تانکہ سب اپنے اپنے گھر چلے جائیں۔ تحفے کھلنے کے ساتھ ساتھ باتیں بھی ہورہی تھیں کہ اچانک خالہ زینب نے یہ کہہ کر سب کو چپ کرا دیا کہ سائرہ اگر تمہارا اپنا بچہ ہوتا تب تو تم سالگرہ پے اس سے زیادہ خرچہ کرتے نا۔ لیکن ابھی اتنا خرچہ کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ یہ تمہارا اپنا بچہ تو ہے نہیں۔کل کو بڑا ہوگا۔ اسے پتا چلے گا کہ تم اس کے اصلی ماں باپ نہیں ہو تو یہ تمہیں چھوڑ کے چلا جائے گا اور ویسے بھی ایسے بچے کا کیا اعتبار جس کے ماں باپ کا کوئی اتا پتہ نہ ہو۔ پتا نہیں اس کے ماں باپ تھے بھی کہ نہیں۔ یا یہ ایسے ہی کسی کی دل لگی نہ ہو۔
یہ سننا تھا کہ سب نے ہی بولنا شروع کردیا اور سائرہ کو سمجھانے لگے کہ اس بچے کے ساتھ اتنا پیار نہ کریں۔ یہ بچہ ضرور انہیں دھوکا دے گا۔ اس سے پہلے کہ یہ بچہ تم دونوں کو چھوڑ کے چلا جائے تم دونوں خود ہی اس بچے کو چھوڑ دو۔ کسی یتیم خانے میں جاکے دے آؤ۔ اس بچے کے حوالے سے سب اپنی اپنی باتیں کرکے چلے گئے۔ لیکن ان دونوں میاں بیوی کے لیئے کئی سوال چھوڑ گئے۔ ان دونوں کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا کریں۔ پہلے لوگوں ہی کے کہنے میں آکر وہ اس بچے کو گھر لائے تھے اور اسے اپنا نام دیا تھا۔ اب یہ لوگ اس بچے سے نام واپس لینے کے لیئے کہہ رہے ہیں۔ قیصر تو بچے کو گود میں لے کر بچے کی طرف سے نظریں ہی نہیں ہٹا رہا تھا۔ اور سائرہ کا تورو رو کر برا حال تھا۔ وہ اللہ تعالی سے گلہ کررہی تھی کہ سب کیا ہورہا ہے۔ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے۔ بچہ اپنے پاس رہنے دیں یا کسی یتیم خانے میں چھوڑ آئیں۔ غرض ساری رات دونوں میاں بیوی کبھی روتے، کبھی بچے کو دیکھتے، کبھی خدا سے گلہ کرتے اور کبھی اللہ تعالی سے رو رو کر دعا کرتے کہ وہ انہیں صحیح راستہ دکھائے۔ ساری رات اسی کشمکش میں گزر گئی۔ صبح ہوئی ۔دونوں نے نماز پڑھ کر خدا سے اپنے گناہوں کی معافی مانگی اور تھوڑی دیر بعد بچے کو لے
کر وہ باہر نکل گئے۔ پانچ چھ گھنٹے بعد بوجھل قدموں سے جب وہ واپس تو وہ دوبارہ دو تھے۔ ان کا بچہ ان کے ساتھ نہیں تھا کیونکہ وہ بچہ ایدھی سنٹر چھوڑ آئے تھے۔
وہ دونوں جانتے تھے کہ وہ بچے کی اچھی پرورش کریں گے لیکن یہ لوگ اس بچے کو ناجائر کہہ کہہ کر اس کا جینا حرام کردیں گے۔
سائرہ اور قیصر آنسوؤں سے بھیگی ہوئی ایک دوسرے کی آنکھوں میں اپنے سوالوں کا جواب ڈھونڈ رہے تھے جن کا جواب کسی کے پاس نہیں تھا کہ انہوں جو کیا صحیح کیا یا غلط لیکن سائرہ کو ایک بات سمجھ آگئی کہ یہ دنیا ایک دو دھاری تلوار ہے اور اس تلوار نے دونوں صورتوں میں اسے کاٹ کے رکھ دیا تھا۔


روما  اریزو /03/2013 22

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com