Friday, Feb 22nd

Last update12:39:09 AM GMT

RSS

کمونٹی کی خبریں

گواستالہ میں سلنڈر پھٹنے سے دھماکہ

9 مارچ 2013  ۔۔۔ ریجو امیلیا ( مسعود شیرازی سے ) آج صبح بارہ بجے کے قریب ہفتہ وار مارکیٹ گواستالہ میں سلنڈر پھٹنے سے دھماکہ ہوا ہے ، جس کے نتیجے میں بدقسمتی سے 3 اٹالین آگ کی لپیٹ میں آتے ہوئے جاں بحق ہو گئے ہیں ، ان میں سے ایک فرد جو کہ مرغی کے ٹکڑے بنا رہا تھا ، آگ بھڑکنے پر جان بچانے میں کامیاب ہو گیا ہے ۔ 11 افراد شدید زخمی ہونے کی صورت میں ہسپتال پہنچا دیے گئے ہیں ، دیگر زخمیوں میں کثیر تعداد اٹالین پر مشتمل ہے جبکہ 2 پاکستانی محمد صفدر جو کہ خود بھی مارکیٹ میں کپڑے کا کام کرتے ہیں ، زخمی ہو گئے ہیں ، دوسرا پاکستانی زخمی عبدالغفور ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ انکی حالت خطرے سے باہر ہے ۔

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

شہر میں ایک لڑکی

 

                  

حنا سید از بلونیا ۔۔۔۔ ہر لڑکی کی طرح میں بھی جب اٹلی میں آئی تو اپنے ساتھ بہت سارے خواب لے کر آئی ۔ ان خوابوں میں سب سے بڑا خواب یہ تھا کہ میں یہاں پڑہ لکھ کر باشعور بنوں گی لیکن جب میں نے خوابوں کی دنیا سے حقیقت کی دنیا میں قدم رکھا تو حقیقت اسکےمتضاد نکلی ۔ اٹلی میں رہنے والی لڑکی کو پنجرے کی مینا کہنا غلط نہ ہوگا ۔ میری طرح اور بھی بہت ساری لڑکیاں ہونگی جو کہ پڑھنا چاہتی ہیں لیکن اپنے گھر کی چاردیواری میں بند ہو کر رہ جاتی ہیں ۔ جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ اٹلی میں رہنے والوں کی اکثریت کا تعلق دیہاتی ماحول سے ہے ۔ یہ لوگ اپنی سوچ بدلنا نہیں چاہتے اور اگر کوئی انکی سوچ بدلنے کی کوشش کرے تو اسے بری نگاہوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ لڑکیوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ نہ کرنے کی سب سے بڑی وجہ لوگوں کی سنی سنائی باتیں ہیں ۔ دیہاتوں کے عادی ہمارے تارکین وطن جب اٹلی کا آزاد ماحول دیکھتے ہیں تو ان کو یہ لوگ عجوبہ دکھائی دیتے ہیں اور اس مثال کو دیکھنے کے بعد یہ اپنی بیٹی کی تعلیم پر اس لیے پابندی لگا دیتے ہیں کہ کہیں یہ بھی ان جیسی نہ ہو جائے ۔ دیہات کے یہ لوگ پاکستانی لباس کو اسلامی لباس تصور کرتے ہیں اور جب کوئی شلوار قمیض پہنے تو اسے اسلامی ایڈریس میں ملبوس عورت قرار دیتے ہیں ۔ یہ لوگ اپنی بیٹیوں کو جینز پہننے سے منع کرتے ہیں اور خود جینز کی پینٹ پہنتے ہیں اور اسے یہ جائز قرار دیتے ہیں ۔ ایک ایسے ملک میں رہنا ، جہاں قومی لباس جینز اور شرٹ ہے ، وہاں جب پاکستانی لڑکیاں شلوار قمیض پہن کر باہر نکلتی ہیں تو ہر اٹالین انکی طرف دیکھتا ہے اور سوچتا ہے کہ یہ کسی دوسری دنیا سے آئی ہیں اور دیکھنے والے کی نظر انہیں منفی زاویے کی روشنی میں تصور کرتی  ہے ۔ پاکستانی لڑکیاں ایسی صورت میں بے زبان سی لگتی ہیں کیونکہ انکے والدین نہ تو انہیں اٹالین زبان سیکھنے کی اجازت دیتے ہیں اور نہ ہی سکول روانہ کرتے ہیں ۔ جب اٹلی میں پاکستانی لڑکیاں پیدا ہوتی ہیں تو انہیں پاکستان روانہ کردیا جاتا ہے ، وہیں پر انکی تعلیم مکمل ہوتی ہے اور جب وہ واپس آتی ہیں تو انکے والدین انہیں اٹالین سکول میں داخل نہیں کرواتے اور نہ ہی انہیں ایسا کرنے کی اجازت ہوتی ہے ۔ ایسے والدین بھی موجود ہیں جو کہ باشعور ہیں اور عورت کی برابری کے حقوق میں یقین رکھتے ہیں لیکن میری تنقید ایسے والدین سے منسلک ہے جو کہ ہمیں عورت سمجھ کر ہمارے حقوق کا استحصال کرتے ہیں ، میں ایسے والدین سے تین سوال کرتی ہوں ۔

 

کیا ہماری قوم کبھی ترقی نہیں کرے گی ؟

کیا آج بھی ہم پرانی روائیت کے ساتھ چلتے رہیں گے ؟

کیا ایک لڑکی کو تعلیم حاصل کرنے کا کوئی حق نہیں ؟

http://facebook.com/mahi.ali28jan1997

یہ ای میل پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

ڈاکٹر جاوید کنول کی صحت یابی کے لیے دعا خیر کی اپیل

روم، 24 فروری 2103 ۔۔۔ اٹلی کے شہر بلزانو میں آباد ڈاکٹر جاوید کنول کی صحت یابی کے لیے دعا خیر کی اپیل کی جاتی ہے ۔ تمام تارکین وطن اس محب وطن پاکستانی کی صحت کے لیے دعا کریں ۔ ڈاکٹر جاوید کنول کا تعلق ساہیوال سے اور وہ اٹلی میں جیو نیوز کے رپورٹر ہیں ۔ انہوں نے اٹلی میں آباد پاکستانی کمونٹی کی سرگرمیوں کو اجاگر کرنے کے لیے بے لوث خدمت کی ہے اور انکی آواز جیو ٹیوی کے زریعے پاکستان کے اعوانوں تک پہنچائی ہے ۔ ڈاکٹر جاوید کنول کو ریڑہ کی ہڈی کا مسئلہ ہے اور انکی شوگر بھی کافی ہائی ہے ، اسی سلسلے میں انہیں بلزانو کے ہسپتال سے منتقل کرتے ہوئے بریسن کے ہسپتال میں داخل کیا جا رہا ہے ۔ آزاد سے ٹیلی فون پر بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ کافی بیمار ہیں لیکن امید کرتے ہیں کہ اللہ تعالی انہیں صحت عطا فرمائے گا ۔ تصویر میں جاوید کنول ایک موقع پر بہترین صحافت کا ایوارڈ حاصل کر رہے ہیں ۔ ڈاکٹر جاوید کنول کا موبائل نمبر نوٹ فرمائیں 3398355743

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

ندیم کی کہانی

تحریر، اعجاز احمد ۔۔۔۔ ۔ جوزپے وکیل نے ایک نابالغ پاکستانی کا کیس لڑنا تھا ۔ یہ پاکستانی غیر قانونی طور پر اٹلی میں داخل ہوا تھا اور اس نے سیاسی پناہ کے کمیشن میں انٹرویو کے لیے جانا تھا ۔ ندیم نے اپنی کہانی سناتے ہوئے کہا کہ اس کا تعلق آزاد جموں کشمیر سے ہے اور اسکی عمر 17 سال ہے ۔ اپنے سفر کی کہانی سناتے ہوئے اس نے بتایا کہ میں ایک سال سے اٹلی میں آباد ہوں اور اٹالین بول لیتا ہوں ، اس لیے مجھے ترجمان کی ضرورت نہیں ۔ میں نابالغ غیر ملکیوں کے سنٹر میں آباد ہوں اور اٹالین زبان سیکھ چکا ہوں ۔ اب میں ہائی سکول میں جیومیٹری کا کورس کررہا ہوں اور ساتھ ساتھ پیزا بنانے کا کورس بھی کر رہا ہوں ۔ میں روم کے نواح میں موجود سنٹر میں رہتا ہوں ۔ ندیم نے بتایا کہ میرا گھر کشمیر کے ایک گاؤں میں ہے ۔ یہ گاؤں سرحد سے دور ہے اور یہاں ہم صرف سیکورٹی کے طور پر رہتے ہیں ۔ ہمارا اصل گھر بارڈر کے قریب ہے اور وہاں جنگ کیوجہ سے اکثر ہمیں فرار ہونا پڑتا ہے ۔ میرے والد ماضی میں پٹواری تھے لیکن انہوں نے کشمیر کو آزاد کروانے کے لیے نوکری چھوڑ دی اور مجاہدبن گئے ۔ میرے والد اکثر مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین کے ساتھ جاتے ہیں اور کشمیر کو آزاد کروانے کے لیے انڈین آرمی کے خلاف جنگ کرتے ہیں ۔ اسی جنگ میں میرا ایک بھائی شہید ہو چکا ہے ۔ میرے والد کی خواہش تھی کہ اب میں بھی مجاہد بنوں ۔ اسی سلسلے میں انہوں نے مجھے ایک مدرسے میں ٹرینگ کے لیے روانہ کردیا تھا ۔ اس مدرسے میں ٹیچر ہمیں یہ بتاتے تھے کہ کشمیریوں پر ظلم ہو رہے ہیں اور صاف الفاظ میں ہمیں زہنی طور پرجنگ کے لیے  تیار کیا جاتا تھا ۔ میں نے انکے حکام ماننے سے انکار کیا تو انہوں نے مجھے مارنا شروع کردیا ۔ میں نے اس مدرسے سے فرار ہونے کی کوشش کی تو انہوں نے میری ہڈیاں توڑ دیں ۔ میں علاج کے بہانے گھر آگیا اور میری والدہ نے تمام زیورات بیچ کر مجھے یورپ روانہ ہونے کے لیے کہا ۔ ہم نے ایجنٹوں کو 5 ہزار ڈالر دیے اور میرا سفر شروع ہوا ۔ میں ایک ٹرک کے زریعے کراچی پہنچا اور اسکے بعد تین دن تک وہاں رہنے کے بعد ہم گوادر سے ہوتے ہوئے سرحد پر پہنچے  ۔ یہاں سے ہم ایران کے بارڈر سے قریبی شہر میں پہنچ گئے ۔ یہاں پولیس نے مجھے گرفتار کرلیا اور دوبارہ پاکستان روانہ کردیا ۔ مجھے گوادر کے قریب جیل میں ڈال دیا گیا ۔ چند دنوں بعد مجھے رہا کردیا گیا اور اسکے بعد ایجنٹوں نے دوبارہ مجھے حاصل کرتے ہوئے ایران کے شہر تہران میں پہنچا دیا ۔ یہاں 8 دن رہنے کے بعد ہم ترکی کی سرحد کے قریب پہنچ گئے ۔ یہ سفر ہم نے گاڑی سے کیا ۔ اسکے بعد پیدل ہم نے مختلف ایجنٹوں کے زریعے ترکی کا بارڈر کراس کیا ۔ ہم ترکی کے مختلف شہروں سے ہوتے ہوئے استنبول پہنچ گئے ۔ یہاں پولیس نے مجھے دوبارہ گرفتار کرلیا اور 4 ماہ کی جیل کے بعد چھوڑ دیا ۔ یہاں ایجنٹوں کو مزید رقم دیتے ہوئے میں یونان پہنج گیا ۔ یہاں کچھ عرصہ رہنے کے بعد ایک کشتی کے زریعے ہمیں اٹلی پہنچا دیا گیا ۔ اس کشتی میں مختلف ممالک کے غیر ملکی موجود تھے اور ایجنٹ ترکی تھے ۔ اٹلی میں پہنچ کر میں نے اپنی عمر 18 سال سے زیادہ بتائی کیونکہ مجھے مشورہ دیا گیا تھا کہ کمسن ہونے کے بارے میں نہ بتانا ۔ مجھے آہستہ آہستہ روم کے ایک سنٹر میں منتقل کردیا گیا اور مجھے پتا چلا کہ یہاں نابالغ ہونے کے کافی فوائد ہیں تو میں نے سنٹر والوں کو بتایا کہ میں نابالغ ہوں ۔ میرا کیس بدل گیا اور مجھے نابالغ سنٹر میں منتقل کردیا گیا ۔ میری تعلیم ، صحت اور کیس کے بارے میں بھی سنٹر کا رویہ تبدیل ہو گیا ۔ یاد رہے کہ اٹلی میں نابالغ بچے یا بچی کو اسپیشل پروٹیکشن دی جاتی ہے ۔ ( یاد رہے کہ ندیم کی کہانی فرضی ہے )

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

میلانو میں امیگریشن سنٹر کا قیام

روم۔ 18 فروری 2013 ۔۔۔۔ اٹلی کے شمالی شہر میلانو میں امیگریشن سنٹر کا قیام کیا جا رہا ہے ۔ میلانو کے میئر پیزاپیا نے اعلان کیا ہے کہ اس شہر میں غیر ملکیوں کی سہولت اور انٹیگریشن کے لیے ایک خاص قسم کا سنٹر بنایا جائے گا ۔ اس سنٹر کا نام Immigration Centerرکھا گیا ہے اور اس پر ستمبر میں کام شروع ہو جائے گا ۔ امید کی جاتی ہے کہ اسے 2015 سے قبل مکمل کرلیا جائے گا ۔ اس سنٹر میں غیر ملکیوں کے تمام تر شہر کے دفاتر منتقل کردیے جائیں گے اور اسکے بعد ایک غیر ملکی شہر کے چکر لگانے کی بجائے ایک ہی جگہ سے تمام تر کام کروالے گا ۔ اس سنٹر میں صحت، امیگریشن، تھانہ اور دوسرے دفاتر منتقل کیے جائیں گے ، اس سلسلے میں میلانو کے پریفی تورا، آزل اور تھانے کے حکام سے بات چیت کرلی گئی ہے ۔ امیگریشن سنٹر میں غیر ملکی کو وہ تمام تر معلومات دی جائیں گی جن کی اسے ضرورت ہوتی ہے ۔ اس کے علاوہ دوسرے ممالک سے روانہ ہونے والے غیر ملکی ، میلانو میں نئے آنے والے غیر ملکی اور کچھ عرصہ تک رہنے والے غیر ملکی اس سروس سے مستفید ہو سکیں گے ۔ ان غیر ملکیوں کو شہر کی انٹیگریشن کی بنیادی خصوصیات ،یعنی صحت کا دفتر، پولیس کا دفتر، تعلیم کا دفتر ، چیمبر آف کامرس کا دفتر اور دوسرے تمام دفاتر سے روشناس کروایا جائے گا جو کہ اس کے لیے اہم ہونگے ۔ امیگریشن سنٹر کے زریعے انٹرکلچرل پراجیکٹ ، امتیازی سلوک اور ویلفئر کے پراجیکٹ بھی عمل میں آئیں گے ۔ میئر نے کہا کہ شہر کے مختلف علاقوں میں پھیلے ہوئے امیگریشن سے متعلق دفاتر غیر ملکی کے لیے مسائل کھڑے کرتے ہیں اور اس کا وقت برباد کرتے ہیں ۔ ایک ہی جگہ پر امیگریشن سنٹربنانے سے کافی مسائل حل ہو جائیں گے ۔ اسی دفتر میں ایک کانفرنس ہال عمل میں آئے گا ، جہاں تمام دفاتر آپس میں میٹنگ کرتے ہوئے اس سروس کو مزید مضبوط بنائیں گے ۔ امیگریشن سنٹر کی انٹرنیٹ کی سائٹ بھی ہو گی ، جس سے اس شہر کے تمام غیر ملکی اور اٹالین شہریوں کو اس سروس کے بارے میں بتایا جائے گا ، اس سائٹ کا نام portale dell’integrazioneہو گا ۔

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com