Friday, Feb 22nd

Last update12:39:09 AM GMT

RSS

کمونٹی کی خبریں

اٹلی میں پاکستانی مرد



اٹلی میں امیگرنٹس کی آمد کب شروع ہوئی یہ فیصلہ کرنا بہت مشکل ہے۔اٹلی ایک ایسا ملک ہے جس نے دوسری جنگِ عظیم تک صرف اور صرف بیرونی حملہ آوروں کا سامنا کیا ہے۔ جس کا آغاز حضرت عیسیٰ ؑ کی پیدائش سے پہلے شروع ہوا جو ہٹلر اور مُوسولینی کے دور تک جاری رہا۔ پھر امریکہ نے جنگ بندی کا اعلان کرکے اٹلی کو ایک آزاد ملک قرار دیا لیکن حقیقت میں امریکی فوجی جنگ ختم ہونے کے بعد اٹلی میں وارد ہوئے تھے۔وہ روسی فوجوں کو روکنے کے لیئے یورپ میں داخل ہوئے تھے جو تیزی یورپ کی طرف بڑھ رہی تھیں۔ جن کا ارادہ اٹلی کے راستے داخل ہوکے پورے یورپ پر قبضہ کرنا تھا۔ اطالوی لوگ اب بھی یہی سمجھتے ہیں کہ امریکی فوجیں ہمیں آزادی دلوانے کے لیئے آئی تھیں۔ اس طرح دوسری جنگِ عظیم کے بعد اٹلی ایک آزاد ملک اور ہمیشہ کے لیئے امریکہ کی غلامی میں چلا گیا۔ ۱۹۴۸میں جب جنگ ختم ہوئی تو اٹلی میں پانے(اطالوی روٹی، جو اتنی سخت ہوتی ہے کہ اس پر ہاتھی بھی کھڑا ہوجائے تو نہیں ٹوٹتی لیکن اطالوی لوگوں کے دانت اسے کاٹ لیتے تھے کیونکہ بھوک اور غربت دانت تیز کردیتی ہے) اور وائن (انگوروں کی بنی ہوئی شراب) کچھ نہ بچا تھا۔کچھ امریکی لوٹ کے گئے اور کچھ مُوسولینی اور ہٹلر کی وجہ سے ملک تباہ ہوگیا۔ اس ملک کے لوگوں نے سوچا کیوں نہ بہتر مستقبل کے لیئے ،بہتر روزگار کے لیئے کہیں چلے چلیں۔ اس طرح اٹالینز کی ایک بڑی تعداد دوسرے ممالک میں ہجرت کرگئی۔ جن میں امریکہ، آسٹریلیا ء، انگلینڈ، جرمنی ،سوئٹزرلینڈ، فرانس حتیٰ کہ جہاں جہاں آلو اور پیاز تھا وہاں وہاں اٹالین تھے۔ یہ لوگ تیونس اور مراکش تک گئے۔ امریکہ کے سایہءِ عاطفت میں اٹلی کو یہ فائدہ ہوا کہ عالمی بینک نے انہیں آسان اقساط پے قرضے دیئے۔ جس سے یہ ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوا۔ اس کے علاوہ یورپ کے تمام ممالک میں اٹلی واحد ملک ہے جہاں تاریخی آثاثے ہیں جس میں فنونِ لطائف کے متعلق تمام چیزیں آجاتی ہیں۔مثلاً فنِ تعمیر، خطاطی، مصوری، عجائبات وغیرہ۔اٹلی کے بارے میں کہتے ہیں، ’’یہاں کا ہر پتھر تاریخی اہمیت رکھتا ہے‘‘۔ ان تمام قیمتی اور نایاب چیزوں کو دوبارہ بحال کرنے کے لیئے یونائیٹڈ نیشنز نے بہت زیادہ امداد کی۔ جس کی وجہ سے اٹلی کی سیاحت کی صنعت کو فروغ ملا۔ اب سیا حت ،اٹلی کی صنعت کی حیثیت رکھتی ہے۔ نہ صرف امریکہ بلکہ یورپ کے دیگر ممالک نے بھی اٹلی کی مدد کی جسے عرفِ عام میں یورپیئن یونین کہتے ہیں۔
جنگِ عظیم کے بعد قریباً تیس سال میں اٹلی نے ایک مقام بنا لیا۔ اٹلی سے جو لوگ ہجرت کرکے جاچکے تھے اب وہ واپس آنے لگے تھے۔
۱۹۷۰سے لے کر ۱۹۸۰تک بیشمار لوگ واپس آئے۔ انہوں نے یہاں آکر فیکٹریاں لگائیں۔مختلف قسم کے کاروبار کیئے۔ جس سے ملک کی تعمیر میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔اس عرصے میں لوگوں کا رجحان یورپ کے دیگر ممالک کی طرف تھا لیکن اِکا دُکا غیرملکی یہاں بھی آکر رکے۔ ۱۹۸۷میں اٹلی ان لوگوں کو لیگل کیا جو یہاں بناکاغذات کے رہ رہے تھے۔ ان کی تعداد بہت کم تھی۔ اس دوران چند لوگوں نے کاغذات حاصل کیئے جن میں پاکستانی بھی تھے لیکن ان کی تعداد بہت کم تھی۔
صحیح معنوں میں اٹلی میں غیرملکیوں کی آمد
۱۹۹۰میں ہوئی۔ جس میں پاکستانیوں کی ایک کثیر تعداد نے کاغذات حاصل کیئے۔ یورپ کے تمام ممالک سے لوگ یہاں پر آئے۔ اب جو جس ملک سے بھی آیا تھا وہاں کے قصے سنانے لگا۔ شروع میں ان سب لوگوں نے بہت زیادہ تکالیف دیکھیں لیکن آہستہ آہستہ مسائل حل ہوتے گئے۔ سب کے سر پے ایک ہی دھن سوار تھی۔ بس کسی طرح سجورنو مل جائے۔لوگوں کو جیسے جیسے سجورنو ملتی گئی لوگ بکھرتے گئے۔ کوئی کس شہر میں اور کوئی کس شہر میں۔ ان کی زیادہ تعداد واپس انہی ملکوں میں چلی گئی جہاں سے یہ آئے تھے۔ اس کی وجہ صرف اتنی تھی کہ وہاں پے ان کے پاس کام تھا، رہنے کاٹھکانا تھا۔ اس لیئے اٹلی میں ان کا دل ہی نہیں لگتا تھا۔ پھر سجورنو کی تجدید کے لیئے لوگوں کو واپس آنا پڑتا۔ یہ وہ واحد وجہ تھی کہ لوگ اٹلی میں مستقل رہنے پر مجبور ہوگئے۔ بہت سے لوگ پاکستان چلے گئے۔ کیونکہ کئی لوگوں کو گھر چھوڑے ہوئے اپنا ملک چھوڑے ہوئے کئی کئی سال ہو چلے تھے۔ شروع میں لوگوں کو زباں نہیں آتی تھی۔ اس لیئے انہیں اپنی بات سمجھانے میں بڑی دقت ہوتی تھی۔ اٹالین زبان تھی بھی مشکل۔ اس طرح یہاں پر آنے والے پاکستانیوں کو بیشمار مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔
**************
اٹلی میں امیگرنٹس کی آمد کو سالوں کے حساب سے تقسیم کیا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ ۱۹۸۷،۱۹۹۰،۱۹۹۶،۱۹۹۸،۲۰۰۲۔یہ وہ سال ہیں جن جن سالوں میں اٹلی نے ان غیر ملکیوں کے لیئے جو اٹلی میں غیر قانونی طور پہ مقیم تھے انہیں لیگل کیا۔ انہیں رہنے کا اجازت نامہ دیا ۔یعنی پرمیسو دی سجورنو دی۔ اس طرح لوگ ایک دوسرے کو جاننے کے لیئے سالوں کے حساب سے تعارف کرواتے اور کرواتے ہیں ۔یعنی یہ ۹۰کا ہے یہ ۹۶کا ہے یا یہ۲۰۰۲کا ہے۔ اس کے علاوہ بے شمار لوگ فلُسی پر بھی آئے۔ جس کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔
۱۹۸۷میں پاکستانیوں کی تعداد زیادہ نہ تھی لیکن ۱۹۹۰میں پاکستانیوں کی ایک کثیر تعداد نے کاغذات حاصل کیئے۔ یہ لوگ اٹلی کے مختلف شہروں میں پھیل گئے۔ پہلے پہل سب پاکستانی تھے لیکن آہستہ آہستہ لوگ گروپوں میں تقسیم ہونے لگے ۔جیسا کہ گجرات گروپ، جہلم گروپ، منڈی بہاؤالدین گروپ، سیالکوٹ گروپ وغیرہ۔ جب شہری تعصب سے فرصت ملی تو مذہبی تعصب کی طرف چل پڑے۔ سنی ،شیعہ، وہابی۔ اس طرح زیادہ لوگوں کارجحان مذہبی تنظیموں کی طرف مائل ہوگیا۔ جو کہ مذہب کے بارے میں کم اور سیاست چمکانے کا زیادہ پرچار کرتیں اور کرتی ہیں۔
***************
۱۹۸۷سے لیکر ۲۰۰۷تک اس بات کو بیس سال ہوجائیں گے۔ یہ ایک لمبا عرصہ ہوتا ہے۔اس عرصے میں ایک نسل جوان ہوجاتی ہے لیکن اٹلی میں رہنے والے پاکستانیوں کا ذہن جوان نہیں ہوا۔ یعنی ذہنی نشوؤنماء نہیں ہوئی۔
ابتداء میں کسی پاکستانی کو یہ خیال نہ آیا کہ وہ مسلمان ہیں یا فلاں فلاں شہر سے تعلق رکھتے ہیں اور فلاں فلاں ہمارا فرقہ ہے۔ ایک دھن سوار تھی،بس کسی طرح کاغذات مل جائیں۔ کاغذات ملتے ہی ،کام ملتے ہی لوگوں نے اپنی جون بدلی۔ آہستہ آہستہ سب کو خیال آنے لگا کہ وہ تو چوھدری ہیں، ملک ہیں، راجے ہیں، سنی ہیں، وہابی ہیں، شیعہ ہیں۔ قوموں اور فرقوں کے حساب سے لوگوں کی گروہ بندی ہونے لگی۔
ابتداء میں پاکستانی تمام یورپی تفریحات سے محظوظ ہوتے تھے۔ لطف اندوز ہوتے تھے۔ جس میں ڈسکو تھیک جانا، شراب و شباب سے لطف اندوز ہونا۔اٹلی میں چونکہ ریڈ لائٹ ایریاز(لال بتی والے علاقے۔یورپ کے تمام بڑے شہروں میں لال بتی والے علاقے ہوتے ہیں۔ اگر آپ کا ان گلیوں سے گزر ہو تو آپ دیکھیں گے کہ جن جن کھڑکیوں میں لال بتی جل رہی ہے اس کا مطلب ہے وہاں وہاں جسم بیچنے والی عورت موجود ہے۔ پاکستان جیسے اسلامی ملک میں ،ہر شہر میں ہیرا منڈی ہے۔پاکستان کی سب سے مشہور ہیرا منڈی لاہور میں ہے) نہیں ہیں۔یہاں جسم فروشی پے پابندی ہے اس لیئے یہاں یہ کام چھپ کرکیا جاتا اور پورے یورپ کی نسبت یہاں یہ کام بہت زیادہ ہے۔ یہاں نہ صرف گوری اپسرائیں ہوتی ہیں بلکہ کالی اپسرائیں بھی بکثرت ہیں۔ کچھ لوگ جوئے کے بھی شوقین تھے وہ جواء خانوں میں جانے لگے۔ اس طرح یہ سلسلہ چلتا رہا۔
۱۹۹۰سے لیکر ۱۹۹۶تک یہ لوگ اسی ڈگر پے چلتے رہے۔ جب ۱۹۹۶میں اٹلی نے دوبارہ امیگریشن کھولی تو ایجنٹوں کا بازار گرم ہوگیا۔ جو لوگ تھوڑے بہت قدم جماچکے تھے ۔انہوں نے دھڑا دھڑا بکرے قابو کرنے شروع کردیئے۔ کوئی بلزانو کے سٹیشن پے گھات لگائے بیٹھاہے کوئی روما ترمینی پے مورچہ سنبھالے ہوئے ہے۔ اس طرح بنا محنت کے جس جس شہر میں جس جس کے ہاتھ جتنی رقم بھی لگی وہ اس حساب سے مالدار ہوگئے۔ میں ان لوگوں کی بات کررہا ہوں جن کے اندر دوسروں کا مال اپنا سمجھنے کی ہمت ہوتی ہے۔ ورنہ کوئی بھی باضمیر شخص اس طرح کی کمائی کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ ویسے تو اس حمام میں سبھی ننگے ہیں۔
اس طرح لوگوں نے آہستہ آہستہ دکانیں کھولنی شروع کردیں۔ پھر کچھ لوگوں نے اپنے بیوی بچوں کو بھی بلالیا۔ اب صفا چٹ (یعنی کلین شیو) مرد جو اٹلی میں
۱۹۹۰میں وارد ہوئے تھے انہوں نے اپنی مونچھیں اور ڈارھیاں بڑھانی شروع کردیں۔ انہیں بیوی بچوں کی آمد کے بعد پتا چلا کہ یہ تو مسلمان ہیں۔ مسجد کمیٹی کا وجود، داڑھی کا بڑھانا،موت کمیٹی کی بنیاد۔انہیں ان مسائل سے دوچار ہونا پڑا جو کہ بظاہر مسائل نہیں ہوتے۔ پھر صوبائی ،علاقائی،لسانی گروپوں کے علاوہ فرقہ وارانہ گروپ بھی بننے لگے۔ گفتگو میں تبدیلی آنے لگی۔ شلوار ،قمیص کا استعمال ہونے لگا۔ پہلے جب لوگ پیاتزے میں اکھٹے ہوتے تھے تو کچھ اور مسائل پے گفت و شنید کیا کرتے تھے۔اب لوگ مذہبی گروہ بندی کے حوالے بحث و تمحیص کرنے لگے۔ ابھی دو سال ہی گزرے ہوں گے کہ ۱۹۹۸میں اٹلی نے پھر امیگریشن کھول دی۔اب تو لوگوں کو اس بات کا پکا یقین ہوگیا کہ یورپ میں اٹلی واحد ملک ہے جو ہر دوسال بعد امیگریشن کھولتا ہے ۔پھر لوگ جوک در جوک اٹلی آنے لگے۔ اس دفعہ ایجنٹوں نے پہلے ہی اعلان کردیا ان کا ریٹ کیا ہوگا۔ کہنے کو تو سارے کارِ خیر کررہے تھے لیکن پانچ لاکھ سے کم کسی نے نہ لیئے۔ ان میں تو کچھ لوگ ایسے بھی تے جن کی اٹلی کے تھانوں میں تصاویر آویزان کردی گئیں۔ اس کے باوجود انہیں میں سے کچھ لوگ مسجد کمیٹیوں کے صدور بنے اور اور کچھ پاکستانی فیڈریشنز کے صدر بنے۔
۱۹۹۸سے لیکر ۱۹۹۹تک اٹلی میں ٹیلی فون کارڈز کا انقلاب آیا۔ یہ پری پیڈ ٹیلی فون جنگل کی آگ کی طرح پورے اٹلی میں پھیل گئے۔ جسے دیکھو ٹیلی فون کارڈ جارے کرنے لگا ہوا ہے۔ ۱۹۹۸میں جن لوگوں نے امیگریشن سے کمائی کی وہ پی سی او کھولنے لگے۔ چھوٹے چھوٹے بے شمار کاروباری حضرات وجود میں آگئے۔ اس کے ساتھ ساتھ اٹلی میں لوگ فلُسی پے بھی لوگ آنے لگے۔ ان کا اپنا ریٹ تھا۔
اس دوران بے شمار تنظیمیں بنیں۔ کئی مذہبی جماعتیں وجود میں آئیں۔ مذہب کا بڑھ چڑہ کے پرچار ہونے لگا۔ اس کی آڑ میں لوگ فلُسی پے لوگ اپنے بندوں کو بلانے لگے ۔داڑھیاں لمبی ہوتی گئیں۔اس دوران ایک پاکستانی مذہبی جماعت کو یورپ میں بڑی شہرت ملی۔ امیگریشن کے نام پے پیسہ کمانے والی ایسی تمام کالی بھیڑوں نے اس جماعت کے بِلے لگا کے ،داڑھیاں بڑھا کے اپنے تمام گناہ دھلوا لیئے ،جیسے کرسچن ،پادری کے سامنے اپنے تمام گناہ قبول کرکے پاک صاف ہوجاتے ہیں ۔یعنی کونفیس کرلیتے ہیں۔ بے شمار مسجدیں وجود میں آئیں۔ ان مسجدوں میں کچھ ایسی بھی تھیں جن کا کام مسجدِ ضرار جیسا تھا۔ اب مسجد ضرار کی تفصیل لکھوں تو اس کے لیئے بھی تھوڑا سا تاریخ کا آئینہ دکھانا پڑے گا۔ یہ مسجد یہودیوں نے مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے لیئے بنائی ۔اسی مسجد کے بارے اقبال صاحب کہتے ہیں،
’’مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے
من اپنا پرانا پاپی ہے برسوں میں نمازی بن نہ سکا‘‘
تمام بڑے بڑے ایجنٹ مسجدوں اور مذہبی تنظیموں کے سرکردہ رکن بن گئے۔ بالکل ایسا لگنے لگا جیسے اسلام نے اٹلی میں دوسرا جنم لیا ہو۔اس دوران خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ ۱۱ستمبر ۲۰۰۱میں امریکہ جڑوا عمارت گرادی گئی۔ اس کا الزام مسلمانوں کے سر تھوپا گیا۔ چونکہ اٹالینز سیاسی طور پہ امریکہ کے غلام ہیں اس لیئے انہوں نے تمام مذہبی تنظیموں پے سختی شروع کردی۔ اس طرح بیشمار مذہبی تنظیمیں جن کے وجود کا اصل مقصد کچھ اور تھا ثقافتی تنظیموں میں تبدیل ہوگئیں۔
پرمیسو دی سجور نو سب کو پیاری ہوتی ہے اسے کوئی بھی کھونا نہیں چاہتا۔ جیسے ہی پکڑ دھکڑ شروع بڑے بڑے ایجنٹ جو مسجدوں اور تنظیموں کے کرتا دھرتا بنے ہوئے تھے مستعفےٰ ہوگئے۔ لیکن کاروبار کی طرف رجحان جاری رہا۔
۲۰۰۰،۲۰۰۱،۲۰۰۲،۲۰۰۳،۲۰۰۴،۲۰۰۵تک لوگ اٹلی میں فلُسی پے بھی تشریف لاتے رہے۔ اس کے علاوہ ۲۰۰۲میں ایک بار پھر امیگریشن کھلی تو اس میں بھی ایجنٹوں نے خوب مال بنایا۔ اب لوگوں کی توجہ پی سی او سے ہٹ کر ڈونر کباب کی طرف ہوگئی۔ پاکستانیوں کو اس بات اندازہ ذرا دیر سے ہوا کہ پی سی او کے مقابلے میں ڈونر کباب میں زیادہ بچت ہے۔ جن جن لوگوں کے پاس سرمایہ تھا وہ تیزی ڈونر کباب کھولنے لگے۔
***************
اس دوران یعنی
۲۰۰۲میں اٹلی میں پہلا اردو اخبار وجود میں آیا۔ جس کا نام ہے ’’آزاد ‘‘۔ اس کے ایڈیٹر ’’اعجاز احمد ‘‘ ہیں ۔یہ اخبار روم سے اب تک شائع ہوتا ہے لیکن اس کی اشاعت کبھی کبھی روک دی جاتی کیوں کہ اس اخبار کا تعلق کسی گروپ سے نہیں۔جس کی وجہ سے اسے اشتہارات نہیں ملتے۔اس اخبار میں ہر ماہ سجورنو سے متعلق خبریں اور بیشمار معلومات ہوتیں ہیں۔ اعجاز صاحب بڑی محنت سے کئی صفحات پر مشتمل یہ خبریں اطالوی زبان سے ترجمہ کرکے تیار کرتے ہیں اور اخبار کی نظر کرتے ہیں۔اس کے علاوہ تین چار آن لائن اخبار بھی شروع ہوئے ہیں۔ لیکن ان میں نقص یہ ہے کہ یہ علاقیت پر مبنی ہیں۔ بہر حال کسی نا کسی طرح اردو زبان کی خدمت کررہے ہیں۔
اب لوگوں نے لمبی لمبی داڑھیاں تراش کے چھوٹی کرلی ہیں۔ لوگوں کو لوٹنے کے لیئے مذہب کے بجائے ثقافت کا سہارا لیتے ہیں۔یہ ہے اٹلی میں رہنے والے پاکستانیوں کی کہانی۔
SARFRAZ BAIG ( یہ ای میل پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے ) {3200127522}
arezzo 03/01/2007

 

www.baigsarfraz.blogspot.com

 

 

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

اٹلی اور سویٹزرلینڈ کے بارڈر پر ایک پاکستانی گرفتار

روم۔ 5 فروری 2013 ۔۔۔۔ اٹلی کی پولیس نے سویٹزرلینڈ کے بارڈر پر ایک پاکستانی گرفتار کرتے ہوئے دوبارہ سوئس پولیس کے حوالے کردیا ہے ۔ پولیس کی رپورٹ کے مطابق یہ پاکستانی سویٹزرلینڈ سے آرہا تھا اور غیر قانونی طور پر اٹلی میں داخل ہونا چاہتا تھا ۔ اسکے پاس اٹلی کا ویزہ اور پرمیسو دی سوجورنو نہیں تھی ۔ جب ٹرین اٹلی کے شہر Domodossolaکے قریب پہنچی تو اس نے ٹرین سے چھلانگ لگاتے ہوئے فرار ہونے کی کوشش کی ۔ پولیس نے چند میٹر کے فاصلے پر اسے گرفتار کرلیا اور اسکی تفتیش کرنے کے بعد پتا چلا کہ اسکے پاس ویزہ نہیں تھا اور یہ غیر قانونی طور پر سوئس سے اٹلی میں داخل ہونے کی کوشش کررہا تھا ۔ بین الاقوامی قانون کے مطابق غیر قانونی غیر ملکی اسی ملک کے حوالے کر دیا جاتا ہے ، جہاں سے یہ داخل ہوتا ہے ۔ اب اٹالین پولیس نے اس پاکستانی کو سوئس پولیس کے حوالے کردیا ہے اور اسے جنیوا روانہ کردیا گیا ہے ۔ تصویر میں دومودوسولا کا اسٹیشن

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

قاضی حسین احمد پاکستان کے مخلص لیڈر تھے، عبدالرؤف خان

روم۔ 3 فروری 2013 ۔۔۔ گزشتہ دنوں پاکستان کے ایک عظیم لیڈر قاضی حسین احمد دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے ہیں اور ملک کی لیڈرشپ میں ایک اور خلا پیدا کرگئے ہیں ۔ پاکستان پشتون ایسوسی ایشن اٹلی کے صدر عبدالرؤف خان نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نوشہرہ کے قریب پیدا ہونے والے فاضی حسین احمد ملک کے مخلص لیڈر تھے ۔ انہوں نے جماعت اسلامی کی نمائندگی کرتے ہوئے ہمیشہ پاکستان کی سالمیت اور اصلاح کے لیے جنگ لڑی تھی ۔ انکی وفات سے صوبہ پختونخواہ ایک بڑے لیڈر سے محروم ہوگیا ہے ۔ قاضی حسین نے ہمیشہ ملک دشمن بیرونی طاقتوں کے خلاف آواز اٹھائی تھی اور تمام سیاسی پارٹیوں کو متحد کرنے کے لیے زندگی گزاری تھی ۔ قاضی صاحب صرف پشتونوں کے نہیں بلکہ پوری دنیا کے مسلمانوں کے عظیم لیڈر تصور کیے جاتے تھے ۔ انکی کاوشوں سے جماعت اسلامی نے کافی مقبولیت حاصل کی اور یہی وجہ ہے کہ انکی نماز جنازہ میں پاکستان کے تمام سیاسی لیڈر موجود تھے ۔

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

بریشیا میں جشن عید میلاد النبی کا جلوس ، 10 ہزار مسلمانوں کی شرکت

روم۔ 27 جنوری 2013 ۔۔۔۔ آج بریشیا میں جشن عید میلاد النبی کا عظیم الشان جلوس نکالا گیا ۔ جلوس میں پورے شمالی اٹلی کے مسلمانوں اور خاص طور پر پاکستانیوں نے شرکت کرتے ہوئے فاران کی چوٹیوں پر طلوع ہونے والے سورج کی آمد اور پیدائش کی خوشی کا اظہار کیا ۔ یاد رہے کہ بریشیا میں پاکستانی کمونٹی اکثریت میں آباد ہے اور یہاں محمدیہ ایسوسی ایشن اور محمدیہ مسجد کی جانب سے ہر سال عید میلاد النبی کے جلوس کا انعقاد کیا جاتا ہے ۔ محمدیہ ایسوسی ایشن کے ترجمان سید سجاد حسین نے اٹالین صحافیوں کو بتایا کہ ہمارے جلوس میں شمالی اٹلی کے تمام مسلمانوں نے شرکت کی ہے اور محبت رسولۖ اور ایمان کے جذبے کو بلند کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جلوس کے انعقاد سے قبل بریشیا کے نائب میئر اور لیگا نوردپارٹی کے رکن Fabio Rolfiنے کوشش کی تھی کہ وہ اس جلوس کو رکوانے کی کوشش کریں لیکن پولیس نے ہمیں اجازت فراہم کردی ہے اور ہم جشن عید میلاد النبی کی خوشیاں منا رہے ہیں ۔ جلوس via Sardegnaمیں نکالا گیا جو کہ شہر سنٹر سے دور ہے ۔ یعنی مسلمانوں کو شہر کے سنٹر میں جلوس نکالنے کی اجازت نہ فراہم کی گئی ۔ لندن سے علاؤالدین صدیقی کے بیٹے اور نور ٹیوی کے اسلام کے ایکسپرٹ نے جلوس میں شرکت کی اور اپنی تقاریر کے زریعے عاشقان رسولۖ  کے دل جیت لیے ۔ جلوس میں بینر اٹالین زبان میں بھی بنائے گئے تھے ، جن پر رسول پاک ۖ کے قول درج تھے ۔ جلوس کا سب سے بڑا نعرہ " دنیا میں امن " پر مبنی تھا ۔

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

پیزا ڈلیوری کے دوران حادثہ ، پاکستانی جاں بحق

روم۔ 24 جنوری 2013 ۔۔۔ اٹلی کے شہر بلونیا میں پیزا ڈلیوری کے دوران ایک پاکستانی نوجوان ٹریفک حادثے کا شکار ہوکر خالق حقیقی سے جا ملا ہے ۔ تفصیل کے مطابق لالہ موسی سے تعلق رکھنے والا اسد نامی نوجوان گزشتہ کچھ عرصے سے موٹر سائیکل پر پیزا ڈلیوری کا کام کر رہا تھا ۔ 20 جنوری بروز اتوار کام کے دوران اسد کی موٹر سائیکل ایک کار کے ساتھ ٹکرا گئی ۔ حادثہ Via Corticella  پر پیش آیا ۔ اسد حادثہ میں شدید زخمی ہوتے ہوئے دم توڑ گیا ۔ یاد رہے کہ بلونیا میں سینکڑوں پاکستانی پیزا ڈلویری کے کام سے منسلک ہیں ۔ گزشتہ چند برسوں میں مختلف اقوام کے نوجوان اس کام میں زخمی یا جاں بحق ہو چکے ہیں اور ان میں پاکستانی بھی شامل ہیں ۔ اسد کے انتقال کے بعد بلونیا کی پاکستانی کمونٹی نے شدید رنج و غم کا اظہار کیا اور اسد کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کرتے ہوئے دعائے مغفرت کی  ۔ خدائے بزرگ و برتر اسد کو جنت الفردوس میں جگہ دے اور اسکے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے ۔ تحریر، خرم شریف از بلونیا

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com