Friday, Feb 22nd

Last update12:39:09 AM GMT

RSS

کمونٹی کی خبریں

پاکستان کے خلاف غلط پراپیگنڈہ

روم۔ 29 دسمبر 2012 ۔۔۔۔ 27 دسمبر کو’Associazione dei Pakistani Cristiani in Italiaکے بانی شاہد مبین نے ریڈیو ویٹیکن کو ایک انٹرویو دیا ہے ، جس میں انہوں نے پاکستان پر غلط پراپیگنڈہ کرتے ہوئے یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ سوچ اور دلیل کی گلی سے کوچ کرچکے ہیں ۔ شاہد مبین جو کہ تصویر میں بھی نظر آرہے ہیں  اپنے آپ کو پروفیسر کہتے ہیں لیکن ان کے انٹرویو سے لگتا ہے کہ وہ منفی سوچ کے حامل ہیں  ۔ بعض اوقات یورپین ممالک میں پاکستان کے متعلق منفی رائے قائم کرنے کے لیے ایسا پراپیگنڈہ کیا جاتا ہے جو کہ چند افراد اور گروپوں کے حق میں ہوتا ہے اور جب انہیں اسی ملک کے شہری بھی مل جائیں جو کہ انکی ہاں میں ہاں ملاتے ہوں تو انکے جھوٹ کو سچ بنانا آسان ہوجاتا ہے ۔ شاہد مبین نے اپنے انٹرویو میں کہا ہے کہ پاکستان میں ہر سال مسلمان لڑکے 700 ہندو اور کرسچن لڑکیوں کو اغوا کرنے کے بعد انکی عزت لوٹتے ہیں اور  اسکے بعد انہیں مسلمان بنایا جاتا ہے ۔ وزیر اکرم نے سینٹ اور پارلیمنٹ میں لڑکیوں کو زبردستی مسلمان بنانے کے خلاف ایک قانون پیش کیا ہے لیکن حکام نے اس بارے میں کوئی واضع کاروائی نہیں کی ۔ موجودہ حکومت آسیہ بی بی کے لیے کوئی مثبت قدم نہیں اٹھا رہی اور توہین رسالت کے حق میں 40 مذہبی گروپ اور تمام سیاسی جماعتیں اعلان کرچکی ہیں کہ وہ اس قانون کو تبدیل نہیں کریں گی ۔ پروفیسر شاہد مبین کو یاد ہونا چاہئے کہ توہین رسالت کے قانون کیوجہ سے مسلمان دوسری اقلیتوں کی نسبت زیادہ جیلوں میں بند ہیں ۔ اسکے بعد جہاں تک لڑکیوں کا سوال ہے ، اسکے بارے میں بھی کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں ہیں ۔ میں انسانی حقوق کی پاسداری کرتا ہوں لیکن زبردستی لڑکیوں کو اغوا، ریپ اور اسکے بعد مسلمان بنانے والی خبر تو بالکل غلط اور منگھڑت ہے ۔ ایسی خبر ایمنسٹی انٹرنیشنل والے فوری طور پر دے دیتے ہیں لیکن انہوں نے بھی کوئی ایسی خبر نہیں دی ۔ عسکریت پسندی اور بنیاد پرستی سے سب سے زیادہ نقصان مسلمانوں کو ہورہا ہے ، خودکش حملوں میں سینکڑوں پاکستانی شہید ہوجاتے ہیں، ہماری فوج کے تین ہزار سے زیادہ فوجی دہشت گردی کے خلاف اپنی جانیں دے چکے ہیں ۔ جہاں تک آسیہ بی بی کا تعلق ہے تو وہاں ہمارے مسلمان گورنر سلمان تاثیر کرسچن لڑکی کے لیے جان دے چکے ہیں اور انکا بیٹا اغوا ہو چکا ہے ۔ انکا زکر ریڈیو ویٹکن میں کیوں نہیں کیا گیا ۔ ہماری روم میں موجود ایمبیسی کرسچن برادری کے لیے کرسمس کا اعشائیہ دے چکی ہے ، اس کا زکر ریڈیو ویٹکن میں کیوں نہیں کیا گیا ۔ پاکستان کی سول سوسائٹی اپنی جان کی بازی لگاتے ہوئے ملالہ یوسفزائی اور رمشا مسیح کے لیے ایک مہم چلا چکی ہے ، اس کا زکر ریڈیو ویٹکن میں کیوں نہیں کیا گیا۔ میں پروفیسر شاہد مبین سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ پورے ملک سے نفرت کا اظہار نہ کریں بلکہ ان عناصر کے خلاف آواز بلند کریں جو کہ ہمارے ملک کی نشو و نما کے خلاف ہیں لیکن اگر ہم اپنی شہرت کے لیے 18 کروڑ عوام کے خلاف بیان دیں گے تو اس سے ملک کو مزید نقصان ہوگا اور ہمارے ہندو، کرسچن اور مسلمان بچوں کو پولیو کے ٹیکے نہیں لگیں گے ، ملالہ سکول نہیں جائے گی اور سول سوسائٹی خاموشی اختیار کرلے گی اور جاہل ہمارے ملک پر افغانستان کی طرح قابض ہو جائیں گے ۔ پھر ہم کسے انٹرویو دیں گے ۔ شاہد مبین کا انٹرویو اٹالین زبان میں ہے ، اسے سننے کے لیے نیچے کلک کریں۔ تحریر، اعجاز احمد ایڈیٹر آزاد

http://it.radiovaticana.va/news/2012/12/27/pakistan:_aumentano_le_conversioni_forzate_di_ragazze_all%27islam._campa/it1-650935

 

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت جمعہ, 28 دسمبر 2012 23:56

اٹلی کی فرم Eniپاکستان میں مزید منصوبوں پر کام کرے گی

روم۔ 26 دسبمر 2012 ۔۔۔ اٹالین اخبارات نے واضع کیا ہے کہ اٹلی کی فرم Eniپاکستان میں مزید منصوبوں پر کام کرے گی ۔ اٹلی کی مشہور پٹرولیم کی فرم اینی اس سے قبل بلوچستان میں تیل تلاش کرنے اور تیل نکالنے کے منصوبوں پر کام کررہی ہے ۔ اب اس فرم نے پاکستان پٹرولیم OGDCLکے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے اور سندہ میں دریائے سندہ سے ملنے والے سمندر کے علاقے میں قدرتی زرائع یعنی تیل اور گیس تلاش کرنے کے لیے کام شروع کرنے کا عہد کیا ہے ۔ اینی فرم نے اس معاہدے میں 25 فیصد شیئر خریدے ہیں ، اس معاہدے کے تحت اٹلی کی فرم Indus Block Gکے ساتھ ملکر کام کرے گی ۔ یہ فرم 7.500کلومیٹر کے علاقے میں کام کرے گی۔ یادر ہے کہ پاکستان میں گیس اور پٹرول کے کافی زخائر موجود ہیں اور ہمارا ملک قدرتی زرائع میں ایران اور عراق سے بھی زیادہ اہم ہوتا جا رہا ہے ۔ حال ہی میں اینی کے ایک وفد نےسندہ یونیورسٹی اور سندہ عجائب گھر کا وزٹ کیا ہے ۔ وفد کے اراکین نے کہا کہ وہ سندہ یونیورسٹی میں جیالوجی اور سائنس کے دوسرے شعبوں کو مضبوط بنانے کے لیے مدد کریں گے ۔ وفد کے ہیڈ کو دعوت دی گئی کہ وہ اسٹوڈنٹس کو اینی فرم کے متعلق لیکچر دیں ۔ وائس چانسلر پروین شاہ نے وفد کا والہانہ استقبال کیا اور یونیورسٹی کے 54 شعبوں کے متعلق معلومات فراہم کی گئيں ۔ اسکے بعد وفد نے سندیالوجی کا میوزیم دیکھا ۔ جس کا نام شہید بے نظیر بھٹو رکھا گیا ہے ۔ تصویر میں اینی کا وفد سندہ یونیورسٹی کی وائس چانسلر کے ساتھ ملاقات کر رہا ہے ۔ انکے کندھوں پر سندھی چادر پاکستان کی مہمان نوازی کی عکاسی کرتی ہے ۔ 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

دوسرے ملک کے کارتا دی سوجورنو سے اٹلی میں کام کرنا

روم۔ 17 دسمبر 2012 ۔۔۔۔ کارتا دی سوجورنو یا permesso di soggiorno CEایک ایسا اجازت نامہ ہے ، جس کو حاصل کرنے کے بعد کسی بھی یورپ کے ملک میں کام کیا جا سکتا ہے ۔ اسے لمبی مدت کی سوجورنو بھی کہتے ہیں ۔ اگر آپ نے ایک یورپین ملک سے کارتا دی سوجورنو حاصل کیا ہے تو اسکے بعد آپ اس ملک میں یا پھر یورپ کے کسی بھی ملک میں کام کر سکتے ہیں ، بشرطیکہ آپ انکی شرائط پوری کریں۔ یورپین ممالک روزگار کے قوانین کو مدنظر رکھتے ہوئے کارتا دی سوجورنو کے غیر ملکیوں کو اپنے ممالک میں کام کرنے کی اجازت فراہم کرتے ہیں ۔ اٹلی میں ہر سال غیر ملکی ورکروں کو حاصل کرنے کے لیے کوٹے جاری کیے جاتے ہیں اور یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس سال کتنے کارتا دی سوجورنو والے غیر ملکی اٹلی میں کام کرنے کے لیے آسکتے ہیں ۔ اٹلی میں ایک منی کوٹہ جاری کیا گیا ہے ، جسےDecreto del Consiglio dei Ministri del 16.10.2012کہتے ہیں اور اس کوٹے میں دوسرے ممالک سے کارتا دی سوجورنو حاصل کرنے والے بھی کام کرنے کے لیے تشریف لاسکتے ہیں ۔  یہ کوٹہ 750 نشستوں پر مشتمل ہے ، یعنی 500 ورکروں کے لیے ہے اور 250 کا کوٹہ بزنس مینوں کے لیے ہے ۔ اگر آپ  کے پاس کسی دوسرے یورپین ملک کا کارتا دی سوجورنو موجود ہے اور آپ اٹلی میں کام کرنا یا بزنس کرنا چاہتے ہیں تو آپکو یہاں کی وزرات داخلہ کی انٹرنیٹ کی سائٹ www.interno.itمیں اندراج کروانا ہوگا اور ٹیلی میٹک طریقے سے اپنی درخواست یعنی انٹرنیٹ کے زریعے روانہ کرنا ہوگی ۔ وزارت داخلہ کو کوٹوں کو مدنظر رکھتے ہوئے آپکو نلا اوستا یا این او سی جاری کردے گی ۔ درخواست کو ٹیلی میٹک طریقے سے روانہ کرنے کے لیے اسی سائٹ میں پی ڈی ایف فائل کے زریعے درخواست پر کرنے کا طریقہ کار بھی بتایا گیا ہے ۔ اگر آپ نے اٹلی میں ورکر کے طور پر کام کرنا ہے تو اس سلسلے میں آپکو فارم modulo LSاستعمال کرنا ہوگا ۔ فارم میں مالک اپنا نام وغیرہ اور کام کے بارے میں درج کرے گا ، اسکے بعد ملازم کا نام وغیرہ اور اسکے کارتا دی سوجورنو کے بارے میں لکھا جائے گا ۔ مالک یہ بھی لکھے گا کہ یہ غیر ملکی کب سے اٹلی میں موجود ہے ، کام کے کنٹریکٹ اور لیول کے بارے میں درج کیا جائے گا ، اگر کسی وجہ سے غیر ملکی کو اٹلی سے ملک بدر کرنا ہوگا تو مالک اس ملازم کے تمام تر سفر کے اخراجات برداشت کرے گا اور کام کا کنٹریکٹ ختم کرنے کے بارے میں بھی رپورٹ دے گا ۔ یہ درخواست تھانے کے امیگریشن کے دفتر Sportello Unico per l’Immigrazioneکو روانہ کی جائے گی ۔ تھانے والے اس درخواست کی پڑتال کریں اور تمام تر کنٹرول کرنے کے بعد مالک اور ملازم کو اپوائنٹ منٹ دیں گے ۔ جہاں یہ دونوں سوجورنو کا کنٹریکٹ کریں گے اور ملازم کو تمام فارم حوالے کردیے جائیں گے جو کہ اسے پرمیسو دی سوجورنو کے لیے درکار ہونگے ۔ اگر آپ بزنس مین ہیں اور یورپ کے کسی دوسرے ملک سے کارتا دی سوجورنو حاصل کر چکے ہیں تو آپکو بزنس یعنیLavoro autonomoکے لیے اپلائی کرناہوگا اور اپنے بزنس کے تمام تر کاغذات روانہ کرنا ہونگے ۔ بزنس مین خود درخواست روانہ کرے گا اور درخواست بھیجنے سے قبل اسے وزارت داخلہ کی انٹرنیٹ کی سائٹ میں اندراج کروانا ہوگا ۔ اگر آپ پرائیویٹ بزنس کرنا چاہتے ہیں ، کنسلٹنٹ، اردو کے ٹیچر، کسی فرم کے ڈائریکٹر یا پھر کوئی دوسرا پرائیویٹ کام کرنے کے خواہشمند ہیں تو آپکودرخواست امیگریشن کے دفتر Sportello Unico per l’Immigrazioneکو روانہ کرنی ہوگی ۔ تھانے میں ملاقات والے دن آپ تمام ثبوت لیکر جائیں گے ۔ ۔ تھانے والے اس درخواست کی پڑتال کریں اور تمام تر کنٹرول کرنے کے بعد مالک اور ملازم کو اپوائنٹ منٹ دیں گے۔ پرمیسو دی سوجورنو کام والی یا بزنس والی جاری کی جائے گی ۔  ۔ اس قانون کو  کہتے ہیں۔

Direttiva Europea n. 2003/109/CE, recepita in Italia dal D.Lgs. n. 3 del 2007.

 


 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

خاندان کے چیک کی رقم تبدیل کر دی گئی

روم ۔۔۔ اٹلی میں اٹالین اور غیر ملکی ورکروں کے لیے خاندان کے چیک کی رقم تبدیل کر دی گئی ہے ۔ نئے چیک کی رقم اب آن لائن ایک گراف کے زریعے بیان کی گئی ہے ۔ اٹلی کے ٹیکس اور پنشن کے دفتر inpsنے نئی لسٹ جاری کردی ہے ۔ خاندان کا چیک یا ASSEGNO FAMILIAREصرف ان ورکروں کو ادا کیا جاتا ہے جو کہ ملازمت کرتے ہیں ، پنشن شدہ ہیں اور انہوں نے ورکر یہ ملازم کی حیثیت سے کام کیا ہے ، وہ ورکر جو کہ کسی دوسرے محکمے یا ادارے

کے لیے کام کر رہے ہیں ، انہیں parasubordinatoملازمین کہتے ہیں ، ان میں وہ ملازمین بھی شامل ہوتے ہیں جو کہ انپس کے رجسٹر میں موجود ہوتے ہیں اور انہیں پروفیشنل ملازمین کہا جاتا ہے ۔ خاندان کا چیک اس صورت میں ادا کیا جاتا ہے ، جب ملازم کی سالانہ بچت اس رقم سے کم ہو جو کہ انپس کے دفتر نے تہہ کی ہے ۔ اس چیک کے زریعے ورکر کی مدد کی جاتی ہے تا کہ وہ اپنے خاندان والوں کا خرچہ برداشت کر سکے اور اپنی زندگی آسان بنا سکے ۔ خاندان کے چیک کی رقم حاصل کرنے کے لیے کام کے مالک کے زریعے درخواست دی جاتی ہے ۔ وہ ملازم جو کہ ڈومیسٹک کام یا زراعت کا کام کرتے ہیں ۔ یہ خود براہ راست انپس کے دفتر میں درخواست جمع کروائیں گے ۔ پہلی صورت میں کام کا مالک بوستا پاگا یا پے سلپ کے زریعے ملازم کو خاندان کے چیک کی رقم ادا کرے گا ۔ دوسری صورت میں ملازم کو انپس والے خود چیک ادا کریں گے ۔ اپنی پنشن کی پوزیشن اور چیک کے لیے انپس کی سائٹ کو چیک کریں ۔

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

کوالیفائید اہلکاروں کو بلو کارڈ دینے کا طریقہ کار

روم، تحریر، ایلیویو پاسکا 12 دسمبر 2012 ۔۔۔ وزرا کی کونصل نے کوالیفائید امیگرنٹس کو بلو کارڈ دینے کا قانون پاس کر دیا ہے ۔ یہ قانون یورپین یونین کے حکم سے پاس کیا گیا ہے ۔ اب یہ قانون قومی اسمبلی نے بھی پاس کر دیا  ہے ۔ وہ غیر ملکی جو کہ کوئی مہارت رکھتے ہیں ، انکے لیے اور انکے خاندان کے لیے ایک علیحدہ قانون بنا دیا گیا ہے ۔ وزرا کی کونصل نے ایک ایسا قانون پاس کیا ہے جسے decreto legislativoکہتے ہیں ، اسکے مطابق وہ غیر ملکی جو کہ اٹلی میں ہائی لیول کی نوکری کرنے کے لیے تشریف لائیں گے ، ان کی پرمیسو دی سوجورنو علیحدہ طور پر بنائی جائے گی اور انکی اٹلی میں رہائش کے قانون بھی دوسرے غیر ملکیوں کی نسبت مختلف ہونگے ۔ وہ غیر ملکی جو کہ اٹلی میں غیر یورپین ممالک سے تشریف لائیں گے ، انہیں پرمیسو دی سوجورنو کی بجائے ایک بلو کارڈ فراہم کیا جائے گا جس کے قوانین سوجورنو سے مختلف ہونگے ۔ اسے Blue Card’کہیں گے ۔ یہ کارڈ انتظار کرنے کے بغیر جاری کیا جائے گا ۔ یہ کارڈ کام کے کنٹریکٹ کے مطابق ویلڈ ہو گا اور اسے رینیو کراویا جا سکے گا ۔ اس کارڈ سے غیر ملکی کو یورپین شہری جیسے حقوق میسر کیے جائیں گے ۔ ان ماہرین کا خاندان جب اٹلی میں آنے کا خواہشمند ہو گا تو انکے لیے بھی قوانین مزید آسان ہونگے ۔ ۔ بلو کارڈ بنوانے کے لیے اٹلی میں کام کا مالک براہ راست کوٹوں کے انتظار کے بغیر اپنے ملازم کو بلا سکے گا ۔ مالک کو شہر کے امیگریشن کے تھانے میں درخواست دینی ہوگی اور اسکے علاوہ غیر ملکی کے تمام تر کاغذات فراہم کرنا ہونگے ۔ بلو کارڈ سے پہلے 2 سال کوئی دوسرا کام نہیں کیا جائے گا لیکن ملازم کو نوکری تبدیل کرنے کی اجازت ہوگی لیکن یہ نوکری ہائی کوالیفائڈ ہونی ضروری ہوگی ۔ وہ غیر ملکی جو کہ ہائی کوالیفائڈ ہیں اور اٹلی میں آباد ہیں ، یہ بھی بلو کارڈ کے لیے اپلائی کرسکتے ہیں انکی سوجورنو کو بلو کارڈ میں تبدیل کر دیا جائے گا ۔ بلوکارڈ رکھنے والے افراد کے حقوق عام شہریوں کے برابر ہونگے ۔ ایسے پروفیشنل افراد کو سال کا ٹیکس ا ادا کرنا ہوگا ، جس کی رقم صحت کی انشورنس سے تین گنا ہوگی یعنی یہ سال میں  24.789یورو ٹیکس جمع کروائیں گے ۔ اب صحت کی رقم 8.263یورو ہے ۔ ان ملازمین کے لیے ضروری ہوگا کہ ان کا مالک ان سے کم از کم 1 سال کا کنٹریکٹ کرے ۔ وزارت داخلہ نے کہا کہ وہ ادارے جو کہ کوالیفائید پروفیشنل لوگوں کو بلانے کے خواہشمند ہیں ، انہیں انکے متعلقہ وزارت میں درخواست دینی ہوگی ۔ یعنی اگر کسی ادارے نے کوئی کھلاڑی بلانا ہے تو اسے کھیلوں والی وزارت میں غیر ملکی کھلاڑی کی تمام تر سندوں اور ڈپلوموں کے ساتھ درخواست دینی ہوگی ، اگر آپ نے کسی ڈاکٹر کو بلانا ہے تو فرم وزارت صحت میں درخواست دے گی ۔ یاد رہے کہ غیر ملکی کے لیے ضروری ہے کہ اس نے اپنے ملک میں 3 سالہ اعلی تعلیم حاصل کی ہو اور اس کا 2 سال کا تجربہ ہو ۔ غیر ملکی کے ڈپلوموں کا اٹالین میں ترجمہ ہونا لازمی ہے اور یہ اٹیسٹ ہونے چاہئیں ۔ غیر ملکی کا لیول نیچے دیے گئے گراف کے مطابق ہونا لازمی ہے ۔ اس پر کلک کرتے ہوئے قانون کے متعلق مکمل معلومات حاصل کریں۔

 

livelli 1, 2 e 3 della classificazione Istat delle professioni CP 2011 (qui un prospetto completo)

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com