Thursday, Apr 25th

Last update12:39:09 AM GMT

RSS

کمونٹی کی خبریں

امیگریشن کے ٹیکس 16 نومبر سے قبل جمع کروائے جائیں

روم۔ 15 نومبر 2012 ۔۔۔ وہ نجی ادارے یا مالکان جنہوں نے 15 ستمبر سے لیکر 15 اکتوبر 2012 والی امیگریشن میں غیر ملکی ملازم کو لیگل کروانے کے لیے درخواست دی ہے ، اب ان کا فرض ہے کہ وہ اس ملازم کے امیگریشن کے ٹیکس 16 نومبر سے قبل جمع کروادیں ۔ یہ ٹیکس وہ مالکان جمع کروائیں گے ، جنہوں نے ملازم سے فل ٹائم کا کنٹریکٹ کیا ہے اور وہ ایک نجی ادارے یعنی ، کسی دکان، کارخانہ یا کاروبار کے مالک ہیں ۔ یہ مالکان ملازم کے 6 ماہ کے ٹیکس یعنی IRPEFجمع کروائیں گے ۔ یہ ٹیکس مئی 2012 سے لیکر اکتوبر 2012 تک یعنی 6 مہینوں کے ٹیکس ہونگے ۔ اگر آپ نے ملازم کو اس عرصے سے قبل لیگل کرنے کا لکھا تھا تو اس صورت میں تمام عرصے کے ٹیکس جمع کروانے ہونگے ۔ قانون decreto legislativo 209/2012 کے تحت لازمی ہے کہ مالکان ملازم کے ٹیکس جمع کروادیں ۔ ان ٹیکسوں کیوجہ سے اس امیگریشن میں بہت کم مالکان نے یا بہت کم غیر ملکیوں نے درخواست دی ہے ۔ یہ ٹیکس وہ مالکان جمع نہیں کروائیں گے جنہوں نے ڈومیسٹک ملازم کے لیے درخواست دی تھی ۔ یہ ٹیکس وہ مالکان جمع کروائیں گے ، جو کہ کسی بھی کاروبار کے مالک ہیں ، جس میں انڈسٹری، کمرشل کاروبار اور زراعت شامل ہیں ۔ ایسے مالکان کی تعداد 18 ہزار ہے ، جنہوں نے غیر ملکی ملازم کو لیگل کروانے کے لیے درخواست دی ہے ۔ تمام مالکان سے گزارش ہے کہ وہ اپنے ملازم کے ٹیکس retribuzioni e contributi previdenzialiجمع کروادیں ۔ جب مالکان کو تھانے میں ملازم کے ساتھ بلایا جائے گا تو اسے حلفیہ بیان کے تحت بتانا ہوگا کہ اس نے ملازم کے ٹیکس جمع کروادیے ہیں ۔ اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو ملازم کو پرمیسو دی سوجورنو جاری نہیں کی جائے گی اور اسے بھی چالان بھگتنا ہوگا ۔ تحریر، ایلویو پاسکا

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

اٹلی میں سیاسی پناہ حاصل کرنے میں پاکستانی اولیت حاصل کرگئے ۔

روم۔ 14 نومبر 2012 ۔۔۔ اٹلی میں سیاسی پناہ حاصل کرنے والوں میں گزشتہ سال کی نسبت 78 فیصد کمی واقع ہوئی ہے ۔ اس کے برعکس 2012 میں اٹلی میں سیاسی پناہ حاصل کرنے میں پاکستانی اولیت حاصل کرگئے ہیں ۔ اس سال اٹلی کے سیاسی پناہ کے کمیشن میں 6 ہزار 800 غیر ملکیوں کو سیاسی پناہ دی گئی ہے ۔ گزشتہ سال 34 ہزار غیر ملکیوں کو سیاسی پناہ جاری کی گئی تھی ۔ یورپ کے 27 ممالک میں 69 ہزار 930 سیاسی پناہ کی درخواستیں دی گئی ہیں ۔ 2012 میں اٹلی میں سیاسی پناہ گزین بہت کم درخواستیں جمع کروا رہے ہیں اسکے برعکس یورپ کے دوسرے ممالک میں درخواستیں زیادہ جمع کروائی جا رہی ہیں ۔ فرانس اور جرمنی میں 13 ہزار کے قریب درخواستیں جمع کروائی گئی ہیں ۔ بیلجئم میں 7 ہزار کے قریب سیاسی پناہ کی درخواستیں دی گئی ہیں ۔ انگلینڈ میں 6 ہزار 4 سو کے قریب درخواستیں دی گئی ہیں ۔ سویڈن میں 9 ہزار کے قریب درخواستیں دی گئی ہیں ۔ آخری 12 مہینوں میں جرمنی میں 59 ہزار سیاسی پناہ گزینوں نے درخواست دی ہے ۔ فرانس میں 56 ہزار، سویڈن میں 32 ہزار ، بیلجئم میں 27 ہزار اور انگلینڈ میں 27 ہزار کے قریب سیاسی پناہ کی درخواستیں دی گئی ہیں ۔ اٹلی میں آخری 12 مہینوں میں 19 ہزار کے قریب درخواستیں دی گئی ہیں ۔ اٹلی میں سب سے زیادہ درخواستیں جمع کروانے میں پاکستانی 18 فیصد، سینیگال 12 فیصد، نائیجیریا 8 فیصد ، تیونس 7 فیصد ، گھانا 6 فیصد شامل ہیں ۔ درخواستیں جمع کروانے والوں میں 74 فیصد کی عمر 18 سے 34 سال ہے ، 6،3 فیصد کی عمر 0 سے 13 سال ہے اور 3،5 فیصد کی عمر 14 سے 17 سال ہے ۔ درخواست جمع کروانے والوں میں سے 75 فیصد سیاسی پناہ حاصل کرنے والوں کی درخواست مسترد کردی جاتی ہے ، صرف 25 فیصد سیاسی پناہ یا انسانی ہمدردی یا انسانی حفاظت کی سوجورنو حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں ۔

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

مراکش کے شہری نے اپنے 2 بچوں کو قتل کردیا

8 نومبر 2012 ۔۔۔ اٹلی کے شہر پیروجا کے نواح میں ایک  مراکش کے شہری نے اپنے 2 بچوں کو کل رات قتل کردیا ہے ۔ اس کا نام مصطفے حجاجی ہے اور اسکی عمر 44 سال ہے ۔ حجاجی نے اپنے 8 سالہ بیٹے اور 12 سالہ بیٹی کو گلہ کاٹتے ہوئے قتل کردیا ہے ۔  مصطفے کو یہ غصہ تھا کہ اسکی بیوی نوئیل نے اس سے علیحدگی اختیار کرلی ہے ۔ نوئیل نے پولیس کو بتایا کہ وہ اسے مارتا پیٹتا تھا اور اس ظلم کے خلاف اس نے علیحدگی اختیار کرلی تھی ۔ مصطفے کو یہ بھی اعتراض تھا کہ اسکی بیوی پردہ نہیں کرتی ۔ نوئیل کے اس بیان کے بعد اٹلی کے تمام اخباروں میں یہ خبر فوری طور پر شائع کردی گئی ہے کہ بچوں کے قتل کیوجہ تنگ نظر اسلام ہے ۔ اصل کہانی یوں ہے کہ مصطفے دوسرے ایسے مردوں جیسا ہے جو کہ اپنی بیوی کی علیحدگی کو اپنی شکست تصور کرتے ہیں اور اپنی عزت کی خاطر کوئی بھی حربہ استعمال کرنے سے گریز نہیں کرتے ۔ ایسے جرائم میں اسلام کا کوئی تعلق نہیں ہوتا لیکن اٹلی کے ماس میڈیا چونکہ اسلام کی تعلیمات سے واقف نہیں ، اس لیے وہ تمام تر بوجھ بیچارے اسلام پر ڈال دیتے ہیں ۔ نوئیل کے رشتہ داروں نے بتایا کہ بچوں کے قتل میں اسلام کا کوئی جواز نہیں کیونکہ مصطفے عسکریت پسند انسان نہیں تھا ۔ وہ راج مزدوری کا کام کرتا تھا اور اپنی بیوی سے جنونی کی حد تک محبت کرتا تھا ۔ پورے اٹلی میں اس خبر کا مطلب ظالم اسلام سے منصوب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ تصویر میں مصطفے حجاجی اور بچوں کی لاشیں برآمد کرنے والی پولیس

 

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت جمعہ, 09 نومبر 2012 20:35

کینڈا کے پاکستانی آزاد پڑھنے میں اول

روم۔ 7 نومبر 2012 ۔۔۔ چند مہینے قبل ہم نے آزاد اخبار کی انٹرنیٹ کی سائٹ کا آغاز کیا ۔ شروع شروع میں ہر کام کی طرح چند مسائل کا سامنا تھا لیکن بعد میں آزاد کی سائٹ میں خبریں شائع کرنے کا سلسلہ دلچسپ ہونے لگا ۔ اب دنیا کے مختلف ممالک سے آزاد کو پڑھنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے ۔ بقلم خود آزاد کو پڑھنے والوں کی تعداد اور انکے ممالک کا معائنہ کر رہا تھا تو پتا چلا کہ اس وقت دنیا کے بیشتر ممالک میں بہت کم تعداد آزاد کو کلک کرتی ہے لیکن کینڈا، فرانس، چین، یونان، جرمنی، کویت اور پاکستان میں آزاد کو کلک کرنے والوں کی تعداد قابل زکر ہے ۔ شروع میں امریکہ سے بھی کلک کی تعداد قابل زکر تھی لیکن وہاں سے کلک کم ہو رہی ہے ۔ سب سے زیادہ کلک اٹلی سے ہوتی ہے کیونکہ آزاد اخبار اٹلی میں آباد پاکستانیوں کی نمائندگی کرتا ہے ۔ اٹلی کے بعد کینڈا کی باری آتی ہے ۔ میں کینڈا میں آباد اہل وطن سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ہمیں ای میل یا پھر اس خبر کے نیچے فیس بک کے زریعے یہ بتائیں کہ انہیں آزاد اخبار کیوں دلچسپ لگتا ہے ۔ ہم تو صرف اٹلی کی خبریں شائع کرتے ہیں ، یہاں کے قوانین، کرائم، اٹلی کے پاکستانی اور امیگریشن کی خبریں شائع کرتے ہیں ، لازمی بات ہے کہ کینڈا میں رہنے والے جو آزاد کو کلک کرتے ہیں ، وہ پاکستانی ہیں ۔ ہم یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ انہیں اٹلی پسند ہے ، یہاں کی امیگریشن میں دلچسپی رکھتے ہیں یا پھر کوئی دوسرا مقصد اہم قرار دیتے ہیں ۔ ان سوالات کے علاوہ میں اور آزاد کی ٹیم کینڈا کے پاکستانیوں کو مبارکباد پیش کرتی ہے کیونکہ وہ اٹلی میں آباد پاکستانیوں کے اخبار کو اہمیت دیتے ہیں ۔ تحریر، اعجاز احمد۔ تصویر ایک پاکستانی بچی کینڈا اور پاکستان دوستی کا اظہار کررہی ہے

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

ناپولی میں چوہدری احمد خان کے چکن ہٹ کا افتتاح

4 نومبر 2012 ناپولی۔ از بلال گجر ۔۔۔۔ ناپولی کی مشہور شخصیت اور کمونٹی کے لیڈر چوہدری احمد خان نے اپنے چکن ہٹ کا افتتاح کردیا ہے ۔ اٹلی کے دوسرے شہروں میں چند پاکستانی چکن ہٹ بنانے کا تجربہ حاصل کرچکے ہیں لیکن ناپولی جیسے تاریخی شہر میں احمد خان نے ایک خوبصورت اور کشادہ چکن ہٹ بنانے کا اعزاز حاصل کرلیا ہے ۔ چکن ہٹ میں حلال گوشت استعمال کیا جاتا ہے اور اسکی ڈیکوریشن اٹلی کے تمام چکن ہٹوں سے زیادہ خوبصورت ترتیب دی گئی ہے ۔ چکن ہٹ میں کوالٹی اور قیمت کا خاص خیال رکھا گیا ہے ۔ ناپولی میں آباد تمام پاکستانیوں کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ  چوہدری احمد خان کے چکن ہٹ کا وزٹ کریں ۔ چوہدری احمد خان بزنس مین ہونے کے علاوہ کمونٹی کی مدد کرنے کے لیے اپنی سوشل خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور سیاسی طور پر بھی اعلی  کردار ادا کر رہے ہیں ۔ زمان کھٹانہ کی جانب سے چوہدری احمد خان کو چکن ہٹ بنانے پر خصوصی مبارکباد پیش کی گئی ہے ۔

Ch Ahmed khan mobile 3278872023

Piazza Garibaldi numero 74 , Napoli

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com