Monday, Jul 15th

Last update12:39:09 AM GMT

RSS

کمونٹی کی خبریں

روم میں Broastفاسٹ فوڈ کا افتتاح

روم، یکم اگست 2013 ۔۔۔ آج شام روم کے مشہور زون بوچیا میں Broastفاسٹ فوڈ کا افتتاح کردیا گیا ہے ۔ Broastفاسٹ فوڈ امریکہ کی مشہور کمپنی ہے جو کہ فوڈ کے بزنس میں 1954 سے کام کررہی ہے اور انہوں نے پوری دنیا میں اپنی شاخیں کھولتے ہوئے کامیابی حاصل کرلی ہے ۔ پاکستان میں بھی بروسٹ کافی کامیاب ہوا ہے ۔ اب روم میں بھی انکی پہلی شاخ کھول دی گئی ہے اور اسکے مالکان میں بنگالی اور پاکستانی ہیں ، جن میں فاسٹ فوڈ کی دنیا کی مشہور شخصیت حاجی نسیم، ملک عادل از سیالکوٹ، علاؤالدین اور ناھید حسن شامل ہیں ۔ کیشئر عدیل اصغر اعلی تعلیم یافتہ ہیں اور عربی، انگلش اور اٹالین بولنے کے ماہر ہیں ، انہوں نے بتایا کہ وہ اپنی فیس بک کی کمونٹی کے زریعے بروسٹ کو متعارف کروانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں ۔ حاجی نسیم نے آزاد سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ہاں صرف حلال فوڈ میسر ہو گا اور الکوہل والے بیوریج فروخت نہیں کیے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم روم شہر میں بروسٹ کی مزید 4 شاخیں کھول رہے ہیں ، جن کا افتتاح چند ماہ میں کردیا جائے گا ۔ بروسٹ فوڈ ایک خاص طریقے سے بنایا جاتا ہے جو کہ دوسرے فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹوں سے مختلف ہے ، اسے پریشر کوکنگ کہتے ہیں اور اسکی مشینیں بھی مختلف ہیں ۔ فوڈ کی قدرتی حالت قائم رہتی ہے اور ہمارے ہاں آٹا، گوشت اور دوسرے اجزا خاص فرموں سے خریدے جاتے ہیں ۔ ہمارا فرائی چکن، فرنچ فرائز، برگر، چاول اور دوسرے کئی فلیور اس قسم سے تیار کیے جاتے ہیں ، جن سے انکی تازگی قائم رہتی ہے اور چکناہٹ نظر نہیں آتی ۔ یہ سب ماڈرن مشینوں کا کمال ہے ۔ یاد رہے کہ Broastفرم دنیا کی اہم فرم ہے اور یہی وجہ ہے کہ اگلے ماہ امریکہ سے انکی ٹیم روم کے بروسٹ کا وزٹ کرنے کے لیے تشریف لا رہی ہے ۔ روم والے بروسٹ میں کھانا کھانے کے لیے آپ میٹرو Aسے Cornelia  کے سٹاپ پر اتریں گے اور نکلتے ہی بروسٹ آپ کے سامنے ہو گا ۔ افتتاح کے روز بروسٹ ریسٹورنٹ کو غباروں اور ریبنوں سے سجایا گیا تھا اور سارا دن مفت فوڈ تقسیم کیا گیا تھا ۔ سینکڑوں لوگوں نے قطاروں میں لگ کر بروسٹ کے فلیور ٹیسٹ کیے اور انہوں نے مالکان کو مبارکباد دی ۔ روزے کے وقت تمام مسلمانوں کو افطاری کروائی گئی ۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ بروسٹ اس لیے بھی کامیاب ہو گا کیونکہ اسکی ٹیم میں تمام مہمان نواز ورکر موجود ہیں۔ بروسٹ کھولنے کے لیے آپ ان سے رابطہ کر سکتے ہیں اور مزید معلومات کے لیے انکی سائٹ کا وزٹ کرسکتے ہیں ۔

Broast

Via Domenico Tardini 5 / c,b , Roma

Mob: 333.6086073 Tel: 06.6626233

 

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

پوپ فرانچیسکو نے لامپے دوزا کا تاریخی دورہ کیا

روم۔ 8 جولائی 2013 ۔۔۔۔ آج ویٹیکن کے پوپ فرانچیسکو نے اٹلی کے جزیرے لامپے دوزا کا دورہ کیا ۔ لامپے دوزا وہ جزیرہ ہے ، جہاں افریقہ اور ایشیا کے تارکین وطن کشتیوں کے زریعے سے آتے ہیں ۔ یہ جزیرہ افریقہ کی سرحدوں کے قریب ہے اور اسے اٹلی کا ایلس آئی لینڈ کہا جاتا ہے ۔ اس جزیرے تک پہنچنے کے لیے سمندر اور افریقہ کے ممالک سے گزرنا پڑتا ہے اور اب تک ہزاروں کے غیر ملکی راستے تہہ کرنے کے دوران جاں بحق ہو چکے ہیں ۔ ان میں سینکڑوں پاکستانی بھی شامل ہیں ، صرف ایک بحری کشتی میں 1998 میں ڈیڑہ سو کے قریب پاکستانی موجود تھے اور یہ کشتی ڈوب گئی تھی اور ان میں سے 140 کے قریب پاکستانی اپنی جان کھو بیٹھے تھے ۔ پوپ نے جزیرے کا تاریخی وزٹ کرتے ہوئے پورے اٹلی اور یورپ میں بحث چھیڑ دی ہے اور اب ہر کوئی پوپ کے حق میں اور انکے وزٹ کے خلاف بحث کر رہا ہے ۔ لیگا نورد کے ایک لیڈر بوزے نے کہا ہے " غیر ملکیوں کی کشتی ڈوبنی چاہئے اور انہیں مرنا چاہئے ۔ اسکے برعکس اٹلی کی سول سوسائٹی نے اس دورے کو خوش آئند قرار دیا ہے ۔ پوپ نے جزیرے میں 10 ہزار لوگوں کے سامنے عبادت کی اور اسکے بعد سمندر میں پھولوں کا گل دستہ پھینکنے کے لیے گئے ۔ انہوں نے 50 کے قریب نئے پہنچنے والے غیر ملکیوں سے ملاقات کی ، جن میں اکثریت مسلمانوں پر مبنی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے مفادات کی خاطر غریب تارکین وطن کی جان لے لی ۔ اگر ہم ان سے ہمدردی کرتے تو آج ہزاروں کی تعداد میں مرنے والے غیر ملکی زندہ ہوتے ۔ یہ لوگ جنگ اور غریبی سے تنگ آکر ہمارے ممالک کی طرف رجوع کرتے ہیں اور ہمیں جاہئے کہ ہم غیر ملکیوں کے لیے انسانی ہمدردی کے قوانین عمل میں لائیں ۔

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

نور شاہ کی موت اور میری پریشانی میں اضافہ

روم، 24 جون 2013 ۔۔۔۔ جب میں پاکستان میں تھا تو غیر انصافی کے خلاف تھا، میرے پاس کوئی طاقت نہیں تھا جس سے میں اس بھیانک رسم کو جلا سکتا اور اسکی راکھ کو کسی گند کے ڈھیر میں دفن کر سکتا لیکن میں ہمیشہ سے کمزور انسان کے طور پر اپنا تعارف کرواتا رہاہوں ۔ خود ہی اپنے دل میں جلتا رہا ہوں اور اکیلا بیٹھ کر روتا رہا ہوں ۔ جب میں نے راجی خیل نور شاہ کا آرٹیکل لکھا تو میرے ہاتھ کانپ پڑے ۔ مجھے نور شاہ اپنا بیٹا لگا اور میں نے آنسو بہائے اور مزید اداسی کے اندھیروں میں دھنس گیا ۔ آج میں نے حوصلہ کرتے ہوئے نور شاہ کی زندگی کو بیان کرنے کے لیے قلم اٹھایا اور میرے زہن میں آیا ۔ شمالی پاکستان میں پیدا ہونے والا یہ بچہ اتنا خوبصورت تھا کہ ماں نے اسکا نام نور رکھ دیا کیونکہ اسکی پیدائش کے بعد پورے گھر میں روشنی پھیل گئی ہو گی ۔ ہر طرف لڈو بانٹے گئے ہوں گے اور پورے محلے نے مبارکیں دی ہونگی ۔ نور شاہ نے پتنگ بازی کی ہو گی اور سکول میں اپنا مقام بنایا ہو گا ، اسکی صحت سے لگتا ہے کہ وہ کھیل میں بھی اپنے جوہر دکھاتا تھا اور چھاتی تان کر گلی میں بھی چلتا تھا ۔ والدین کا پیارا تھا اور بہن بھائیوں کی زندگی بہتر بنانے کے لیے قربانی دینے کے لیے بھی تیار تھا ۔ اس نے اس کالے سفر کا عہد بھی کیا تھا اور اپنی تمام تر ایک جوان لڑکے کی مصروفیات چھوڑ کر پیارے وطن کو چھوڑنے کا دعوہ بھی کیا تھا ۔ نور کے اس دن کو یاد کرتے ہوئے میرا ایک اور آنسو بہا ، جب اسے اسکا والد آخری سلام کرنے کے لیے آیا تھا اور لازمی بات ہے کہ نور نے اپنی والدہ سے کہا ہوگا ، ماں تم مت رونا ، میں جلد کامیاب ہو کر واپس اؤں گا اور ہمارے گھر میں بھی یورو راج کرے گا ۔ نور کو کیا پتا تھا کہ قاتل اس کا انتظار کر رہے ہیں ، جنہوں نے اسکے والدین سے لمبی رقم لیتے ہوئے اسے مارنا ہے اور اور پھر اسکی لاش کو سڑک پر پھینکنا ہے ۔ اٹلی کے قبرستانوں میں اور سسلی کے سمندر میں ہزاروں نور بے نام ہونے کیوجہ سے جنازے کے بغیر دفن ہیں اور پاک ہستی سے انصاف طلب ہیں ۔ انکے نام پر ایک یادگار دیوار بھی تعمیر کی گئی ہے  جو کہ تصویر میں دکھائی دے رہی ہے ۔ اس دیوار پر مرنے والے غیر ملکیوں کی تصاویر، جوتے ، کپڑے اور دوسری یادیں نسب کی گئی ہیں ۔ تحریر، اعجاز احمد

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت پیر, 24 جون 2013 19:22

وچنزا میں غلام مرتضے کو جنسی زیادتی کے جرم میں گرفتار کر لیا گیا

روم۔ 4 جون 2013 کل رات وچنزا میں غلام مرتضے کو جنسی زیادتی کے جرم میں گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ غلام مرتضے کی عمر 34 سال ہے اور وہ وچنزا میں قانونی طور پر رہائش پزیر ہے اور اس نے اس پہلے کبھی بھی کوئی جرم نہیں کیا ۔ پولیس کے مطابق کل رات ایک اٹالین لڑکی جس کی عمر 25 سال ہے ، اپنے دوستوں کو رات 2 بجے کے قریب سلام کرتے ہوئے گھر واپس جا رہی تھی کہ اسے پیشاپ آگیا اور یہ قریبی باغ میں جھاڑیوں کے پیچھے چھپ کر پیشاپ کرنے کے لیے گئی اور اس نے اپنا پرس قریبی بنچ پر رکھ دیا ۔ اسی دوران ایک شخص اسکے پرس سے پیسے نکالنے کے لیے کوشش میں تھا کہ اس نے فوری طور پر اسے روکنے کی کوشش کی ۔ اس شخص یعنی غلام مرتضے نے لڑکی سے جنسی زیادتی کرنے کی کوشش کی اور اسے طوائف سمجھتے ہوئے رقم دینے کا دعوہ کرتا رہا ۔ لڑکی نے شور مچایا اور اس پر غلام مرتضے نے اسے مارنا پیٹنا شروع کردیا اور اس کا ایک دانت توڑ دیا ۔ اسی اثنا میں ایک راہی نے پولیس کو بلالیا ۔ غلام مرتضے بھاگنے میں کامیاب ہو گیا لیکن قریبی سڑک پر اسے گرفتار کر لیا گیا ۔ پولیس نے بتایا کہ اسکی پینٹ کے بٹن کھلے ہوئے تھے اور اسکے کپڑوں پر مٹی کے نشان تھے ۔ غلام مرتضے کو جیل میں روانہ کردیا گیا ہے اور اب اس پر زنا، ڈاکہ اور مارپیٹ کا کیس چلے گا ۔ اسی مہینے میں ناپولی شہر میں ایک 23 سالہ غیر قانونی پاکستانی کو جعلی عینکیں اور عورتوں کے مفلر بیچنے پر گرفتار کر لیا گیا ہے ۔  تصویر میں وہ پارک نظر آرہا ہے ، جس میں غلام مرتضے نے لڑکی کے ساتھ زیادتی کی  ہے ۔

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

منہاج القرآن پیرس کا اجلاس


۳۱مئی ۲۰۱۳جمعے کی شام ، آٹھ بجے پیرس کے مضافاتی علاقے لا کورنیو میںمنہاج القران پیرس ،فرانس کے زیرِ اہتمام ایک خوبصورت شام حضورﷺکی شان میںہدیہ عقیدت پیش کرنے کے لیئے مختص کی گئی۔ تقریب کے مہمان خصوصی صاحبزادہتسلیم احمد صابری تھے اور اس تقریب میں دو مشہور ومعروف اور عالمی شہرتیافتہ نعت خواں بھی تشریف لائے شہباز قمر فریدی پاک پتنوی اور محمد قدیراحمد خان جو بارسلونا سپین سے تشریف لائے۔
استقریب کا اہتمام پیرس میں منہاج القران کے لا کورنیو سیٹر ریو پریویتے لاکورنیو میں کیا گیا۔ ہال کی دونوں منازل کو بڑی خوبصورتی سجایا گیا۔ نچلیمنزل مردوں اور میڈیاء کے لیئے مختص تھی اور اوپر والی منزل عورتوں اوربچوں کے لیئے تھی اور اسی ہال کے ایک کونے میں راؤ خلیل احمد نے جو کہمنہاج القران فرانس کے میڈیاء کورڈینیٹر اور صدر بھی ہیں پریس والوں کےلیئے مختص کی ہوئی تھی جہاں انہیں انتہائی عزت و تکریم سے بٹھایا گیاتھا۔جن میں راؤ خلیل احمد، زاہد مصطفی ، بابر مغل ، سرفراز بیگ اور دیگرشرکاء موجود تھے۔
تقریبکا آغاز تلاوت کلامِ پاک سے ہوا ۔ اس کے بعد عاشقانِ رسول نے حضور ﷺکیعقیدت میں نعت کی صورت میں تعریف و توصیف کا سلسلہ شروع کیا۔ سب سے پہلےتصور ساغر نے ہدیہ عقیدت پیش کیا جو سارسل سے تشریف لائے تھے۔ حاضرین مجلسنے ان کی نعت کو بہت توجہ سے سنا اور اس کے بعد سٹیج سیکریٹری سفیان اسلمنے چنداشعار کے ساتھ ایک ننھے مجاہد کو دعوت دی کہ وہ آکرکے حضور ﷺکی شانمیں نعت رسولِ مقبو ل پیش کریں۔ ننھے نعت خواں کی نعت سن کر حاضرینِ مجلسنے دل کھول کر داد دی اور سبحان اللہ کے آوازوں سے دونوں ہال گونج اٹھے۔ اسکے بعد سفیان اسلم نے جو کہ منہاج القران کے جوائنٹ سیکریٹری بھی ہے دعوتکلام منصور علی بٹ کو دی اور اس کے ساتھ ساتھ یہ سلسلہ جاری رہا۔ اسرار نعتپڑھنے آئے۔ جب زاہد محمود چشتی حضور ﷺکی شان میں ہدیہ عقیدت پیش کرنے آئےتو سارے ہال میں خاموشی طاری ہوگئی۔ ان کی آواز میں اتنا درد تھا بالکلایسا لگتا تھا ان کی آواز لا کورنیو کی گلیوں سے ہوتی ہوئی مدینے تلک پہنچرہی ہے۔ انہوں اس خوبصورتی سے نعت پیش کی سب لوگوں کا دل یہی چاہ رہا تھایہ مزید عقیدت کے پھول نچھاور کریں لیکن وقت کی کمی کے باعث وہ
مزیدکچھ نہ پیش نہ کرسکے لیکن کافی دیر تک ان نعت لوگوں کے دماغ میں گونجتیرہی اور سننے والوں کے دل و دماغ پے ایک ایسا گہرا عکس چھوڑ گئی کہ وہ بعدمیں کبھی خاموش بیٹھے گیں اور اس کی یاد آئے گی تو اس کو یاد کرکے لطفاندوز ہوں گے ۔ اس کے بعد اسلم ، سید شبیر حسین شاہ، علامہ رازق حسین(جو کہسارسل سے تشریف لائے) نے حضور ﷺکی شان میں عقیدت کے پھول نچھاور کیئے۔قاری محمد نعیم ، محمد نعیم اور عامر نعیم نے بہت خوبصورت اور سادہ اندازمیں نعت رسولِ مقبول پیش کیں۔
نعتخوانی کے دوران مہمانِ گرامی تشریف لائے جن میں مہمانِ خصوصی صاحبزادہتسلیم احمد صابری جن کا تعلق کیو ٹی وی سے ہے، شہاز قمر فریدی جو کہپاکستان کے صفِ اول کے نعت خوانوں میں شمار کیئے جاتے ہیں۔ جنھوں نے ۲۳دسمبر کو علامہ طاہر القادری کی شان میں ایک ترانہ بھی پیش کیا تھا اورپوری دنیا میں اپنی آواز کا لوہا منوایا تھا، عبدالقدیر خان جن کا تعلقسپین کے شہر باسلونا ہے تشریف لائے۔ اس کے علاوہ شبیر احمد اعوان صدر منہاجالقران، قاضی محمد ہارون جنرل سیکریٹری،
حافظاقبال عظیم ڈائیریکٹرمنہاج القران یورپ سٹیج پر تشریف لائے اور ہال میںموجود سب لوگوں نے اس کا پر زور خیر مقدم کیا۔ ہال میں موجود احمد نے جو کہڈائی ہارڈ قسم کے جیالے ہیں گاہے گاہے کھڑے ہوکر حاضرین مجلس میں اپنی جگہپے کھڑے ہوکر شہادت کی اٹھا کر لوگوں کے جذبات کو گرمانے کے اپنی پرزورآواز میں نعرہ بلند کرتے اور کھڑے کھڑے ایک چکر سالگاتے اور ان کے نعرے کیگونج اس طرح ہوتی جیسے گھمسان کا رن پڑا ہے اور عساکر کی حوصلہ افزائی کےلیئے کوئی نعرہ بلند کرتا اور اس کی گونج میمنا و میسرہ تلک جاتی ہے بالکلاسی طرح ان کے نعرے کی گونج پورے ہال میں گونجتی اور اس کے جواب میں لوگبھرپور انداز میں جواب دیتے ۔ تھوڑی دیر کے لیئے ایسا لگتا کہ انسان مدینےکی گلیوں میں گھو م رہا ہے۔ مہمان گرامی کے مسند نشین ہوتے ہی اس سلسلے کومزید تقویت ملی اور اس کے بعد مائیک حافظ محمد اقبال اعظم نے سنبھال لیا ۔
انہوںنے مہناج القران کے حوالے سے چند باتیں بتائیں اور اس کے بعد قاری محمدصدیق نے اپنی خوبصورت آواز میں تلاوت کلام پیش کی اور اس کا ترجمہ اس تقریبکے مہمانِ خصوصی صاحبزادہ تسلیم احمد صابری نے اپنی خوبصورت آواز میں پیشکیا۔ لوگ ان کو ٹی وی پے تو سنتے ہی رہتے ہیں لیکن لوگوں کی محفل اور وہبھی عاشقانِ رسول کی محفل میں کلام پاک کا ترجمہ سنانا اس کا الگ ہی لطفتھا۔ صابزادہ تسلیم صابری نے جو ترجمہ پیش کیا وہ علامہ طاہر القادری کاترجمہ ءِ قران ہے جو انہوں پورے قران کا ترجمہ ریکارڈ کروایا ہے جبکہ یہاںاس محفل میں اس کے کچھ اقتباس سنائے۔ قاری تسلیم اورصاحبزادہ تسلیم صابریکو انتہائی عقیدت سے سنتے رہے اور اس دوران احمد اپنی بھرپور نعروں سےلوگوں کے جذبات کے گرماتے رہے ۔
استقریب کی کوریج چینل نائینٹی ٹو اور اے آر وائی کے ذریعے لائیو دکھائیجارہی تھی اور طاہر القادری کینیڈا میں اسے بالکل ایسے ہی دیکھ رہے تھےجیسے وہ اس تقریب میں موجود ہوں۔ اس کے بعد انہوں ٹیلی فونک رابطہ قائم کیا۔ہال میں موجود مہمانِ خصوصی اور دیگر افراد کا شکریہ ادا کیا۔
اسکے بعد نعتِ رسولِ مقبول پیش کرنے کے لیئے مشہور عالم نعت خواں تشریف لائےجن کو اس محفل کے لیئے خاص طور پر دعوت دی گئی تھی۔ شہباز قمر فریدی نے اسنداز میں حضور ﷺکی شان میں عقیدت کے پھول نچھاور کیئے کہ ہال میں موجودتمام لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ سب کا دل چاہتا تھا کہ قمر فریدی نعتوںکا یہ سلسلہ جاری رکھیں لیکن ایسا ممکن نہیں تھا ۔اس کے بعد سپین سے تشریفلائے ہوئے نعت خواں عبدل قدیر خان کو دعوت دی گئی ۔ انہوں نے اپنے مخصوصانداز میں نعت پیش کی ۔یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ عاشقانِ رسول کی کمی نہیںتھی اور ایک سے بڑھ کے ایک تھا۔ اصل مقصد حضورﷺکی شان میں ہدیہ عقیدت پیشکرناتھا جس میں سب نے اپنی اپنی حیثیت کے مطابق حصہ پیش کیا۔تقریب کا سلسلہرات گئے تک جاری رہا اور آخر میں طعام کا انتظام تھا۔
آخرمیں میں ان لوگوں کا ذکرکرنا ضروری سمجھتا ہوں اگر یہ لوگ نہ ہوتے تو یہاتنی کامیاب تقریب کبھی بھی منعقد نہ ہوپاتی ۔ جن میں صوفی نیاز احمد جو کہدیارِ غیرمیں تارکین وطن کی تجہیز و تدفین میں لوگوں کی مدد کرتے ہیں اوربے لوث خدمت کرتے ہیں، چوھدری محمد اشرف جو کہ منہاج القران کے وائسپریڈینٹ ہیں، چوھدری ظفر اقبال، بابر بٹ، تیمور رزاق اور حافظ اقبال اعظم ۔اس طرح یہ تقریب اپنے اختتام کو پہنچی اور عاشقان رسول پیرس میں مقیم لاکورنیو، مہناج القران کے سینٹر میں یہ بات ثابت کرنے میں کامیاب ہوگئے کہدیارِ غیر میں رہ کر بھی ان کے دلوں میں حضور ﷺکی عزت و تکریم بالکل اسیطرح قائم ہے جو کسی بھی مسلمان کے دل میں ہونی چاہیئے خواہ وہ دنیا کے کسیبھی کونے میں ہوِ خواہ وہ یورپ ہو افریقہ ہو، امریکہ یا جاپان ۔
سرفراز بیگ ، پیرس
0753250877





 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت پیر, 03 جون 2013 17:53