Monday, Dec 09th

Last update12:39:09 AM GMT

RSS

کمونٹی کی خبریں

بادانتے


میں شانتی کو گزشتہ چھ سال سے جانتا ہوں۔ مجھے اریزو شہر میں رہتے ہوئے بھی چھ سال ہوچلے ہیں اس لیے میں شانتی کو چھ سال سے جانتا ہوں۔ شانتی ایک سریلنکن عورت ہے جو مذہب کے اعتبار سے ہندو ہے۔ مجھے جب پتا چلا کہ شانتی کودل کا دورہ پڑا ہے تو میں بڑا حیران ہوا کیونکہ میں نے جب بھی اسے دیکھا وہ تیز تیز چل رہی ہوتی۔ یعنی وہ ہر وقت چاک و چوبند رہتی تھی۔ شانتی اس وقت اریزو شہر کے ہسپتال سان دوناتو
(SAN DONATO)
میں زیرِ علاج ہے۔ عین ممکن ہے کہ اُسے مزید علاج کے لیے سینا
(Siena)
یا میلانو
(Milano) بھیج دیا جائے۔ میری یہ دعا ہے کہ وہ جلد صحت یاب ہوجائے۔
پہلے میں آپ کو یہ بتاتا چلوں کہ بادانتے
(BADANTE)
یا کولف
(COLF)
کیاہوتا ہے۔ اٹلی میں کسی بھی معذورشخص، بوڑھے شخص یا ذہنی مریض کی دیکھ بھال کرنے والے کو بادانتے کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈومیسٹک جاب
(domestic job)
یا بے بی سٹنگ
(baby sitting)
کاکام بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔ یہاں کتوں کی دیکھ بھال کا کام بھی اسی شعبےکا ایک حصہ ہے۔ اب آتے ہیں شانتی کی طرف۔ آج سے کئی سال پہلے شانتی نہ جانے کس طرح یورپ پہنچی اور اس نے آکر کے ڈیرہ اٹلی میں جمایا۔ جب آئی توزبان سے ناواقف تھی، گھر نہیں تھا، کام نہیں تھا، کاغذ نہیں تھے۔ اتنے سارےمسائل کاسامنااسے ایک ساتھ ہی کرنا پڑا۔ یہ اکیلی نہیں تھی بلکہ پورے یورپ میں ایسے کئی لوگ ہیں جن کے پاس کاغذات نہیں ہوتے اور اپنی زندگی کے کئی قیمتی سال کاغذات کے حصول کے لیے صَرف کردیتے ہیں۔ میں یہاں پر ایک بات واضح کرنا چاہتا ہوں ان لوگوں کے لیے جو یہ سمجھتے ہیں کہ پانچ لاکھ روپےادا کرکے وہ یورپ آتے ہیں تو کوئی بہت بڑا معرکۃالآراء کام کرتے ہیں۔ حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہے۔ یورپ آنے سے پہلے انسان کو ذہن میں ایک بات بٹھالینی چاہیے کہ یہاں کاغذات کا طریقہ رائج ہے۔ ہمارے ملکوں کی طرح نہیں کہ آپ جب چاہیں جس وقت چاہیں جہاں چاہیں کام کرلیں۔ یہاں جب آپ سیر کے ویزے پرآتے ہیں، یا پڑھنے کے لیے آتے ہیں یا کاروبار کے لیے تو آپ کی قانونی نوعیت اور ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اگر غیر قانونی طریقے سے داخل ہوتے ہیں توآپ کی قانونی حیثیت اور ہوتی ہے۔ اگر آپ یورپ کے کسی بھی ملک میں غیرقانونی طور پر داخل ہوتے ہیں تو آپ ان ملکوں کے قانون کے مطابق بنا کاغذات کےہوتے ہیں۔ یورپ کے ہر ملک کا اپنا قانون ہے لیکن غیرقانونی کا لفظ ہر اسشخص کے لیے استعمال ہوتا ہے جس کے پاس رہنے کا اجازت نامہ نہیں ہوتا۔ ایسانہیں ہے کہ آپ کسی بھی یورپین ملک میں داخل ہوں تو آپ کو آتے ہی کام ملجائے گایا کاغذات مل جائیں۔ سب سے پہلے تو سر چھپانے کی جگہ چاہیے ہوتی ہے،پھر کام اور اس کے بعد کاغذات کی تگ و دو۔ جس کے کئی طریقے ہیں۔ سیاسی پناہ، شادی کرنا، یا وہ ملک جہاں آپ رہ رہے ہیں اس کی امیگریشن کھل جائے۔
بات ہورہی تھی شانتی کی۔ شانتی کو ان تمام مسائل کا سامنا کرنا پڑا جن کا میںنے اوپر ذکر کیا ہے۔ شانتی کی عمر پچاس سال ہوگی۔ جسامت، دبلی پتلی، شکل واجبی، رنگ کالا، قد چھوٹا، آنکھیں چھوٹی چھوٹی جو بمشکل کھلتی تھیں۔آنکھوں کے گرد سیاہ کالے نشان، (حلقے) اس کی وجہ شاید نیند کا پورا نہ ہونا، تھکن اور ذہنی تناؤ۔ تیز تیز چلتی ہے اور باتوں میں ایک عجیب قسم کاکرب۔
شانتی جب اٹلی وارد ہوئی تو اس کی کوئی ہم وطن اریزو شہر میں رہتی تھی۔ قسمت کی ماری اس کے پاس چلی آئی۔ چونکہ انگلینڈ کے علاوہ یورپ کے تمام ملکوں میں پولیس کو کاغذات چیک کر نے کی اجازت ہے اس لیے اس کی سہیلی نے اسے بہت ڈرایا دھمکایا تھا کہ یہاں پولیس کاغذات چیک کرتی ہے، اس لیے اِدھر اُدھرآوارہ نہ گھوما کرو۔ شانتی ڈرپوک تھی اس لیے اس نے اپنی سہیلی کی بات پرعمل کرتے ہوئے کبھی کسی سے زیادہ بات نہیں کی اور نہ ہی کہیں آتی جاتی۔ وہ گھر کا سارا کام کرتی، کھانا بناتی اور گھر میں چاندی کی چھوٹی چھوٹی زنجیروں کو جوڑ جوڑ کے اپنے اخراجات پورے کرتی۔ اس دوران شانتی کی ہم وطن نے اس کے لیے ایک گھر میں کام ڈھونڈ لیا۔ یہاں ایک بوڑھا آدمی اور اس کی بیوی رہتے تھے۔ شانتی یہاں رہنے لگی۔ انہوں نے شانتی کو ایک کمرہ دیا۔ وہ تمام گھر کی صفائی کرتی، ان بوڑھوں کے لیے کھانا بناتی۔ اس کے بدلے شانتی کو کھانے کوملتا اور سر چھپانے کی جگہ۔ شانتی کو یہاں کام کرتے ہوئے پوراسال گزر گیا اور اسے پتا ہی نہ چلا کہ اس کی سہیلی اس کی تنخواہ ایک سال سےان بوڑھوں سے وصول کررہی ہے۔ شانتی یہی سمجھتی رہی کہ چونکہ وہ یہاں اِللیگل ہے اس لیے اسے تنخواہ نہیں مل سکتی۔ اس دوران اس بوڑھی عورت کامیاں چل بسا۔ اب شانتی کا کام بھی کم ہوگیا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کی تنخواہ بھی آدھی ہوگئی۔ اب شانتی تھوڑی تھوڑی اٹالین بولنے لگی تھی۔ اس نے آہستہ آہستہ باہر کی دنیا میں قدم رکھا اور لوگوں سے جان پہچان بڑھائی۔ شانتی بہت کم گو اور محنتی تھی۔ اس لیے اِسے ایک اور جگہ بے بی سٹنگ کا کام مل گیا۔اس بوڑھی عورت کے پاس اس نے اپنی ایک ہم وطن کو چھوڑا۔ لیکن اس نے اس کےساتھ اپنی سہیلی کی طرح نہ کیا۔ یعنی اس کی تنخواہ کبھی وصول نہ کی۔
ابجہاں شانتی کام کرتی تھی یہ لوگ بہت امیر تھے۔ ان کا بہت بڑا گھر تھا۔انہوں نے اریزو میں بطور مشغلہ ایک دوکان کھول رکھی تھی۔ حالانکہ ان کولوگوں اس کی ضرورت نہیں تھی۔ شانتی کو اچھا کھانے کو ملتا اور اچھا پہننےکو ملتا۔ اس کے علاوہ معقول تنخواہ بھی۔ شانتی یہاں زیادہ عرصہ کام نہ کرسکی۔ اس کی وجہ بچے تھے جن کی وہ دیکھ بھال کرتی تھی۔ بچوں کو گورے رنگوالی بے بی سٹر چاہیے تھی۔ اس لیے انہوں نے ایک انٹرنیشنل ایجنسی کے ذریعےایک پولش لڑکی کا انتظام کرلیا اور شانتی کی چھٹی کردی۔ شانتی نے پہلے سےہی کام ڈھونڈا ہوا تھا۔ اسے ایک ریٹائرڈ فوجی کے ہاں کام مل گیا جس نے شادی نہیں کی تھی۔ وہ جوڑوں کے مرض میں مبتلا تھا۔ چل پھر نہیں سکتا تھا۔ زیادہ وقت وہیل چیئر پر ہی گزارا کرتا۔ رات کو شانتی اسے بستر پر لٹا دیا کرتی۔یہاں بھی شانتی کو چوبیس گھنٹے اس کے پاس رہنا پڑتا۔ رات کو وہ سوجاتا لیکن کبھی پانی پینا ہو یا پیشاب کرنا ہو تو شانتی کو گھنٹی بجا کے بلا لیاکرتا۔ شانتی خوش تھی کیونکہ وہ اس سے زیادہ
تکلیف دیکھ چکی تھی۔ شانتی کو اٹلی آئے ہوئے ابھی بمشکل دو سال ہوئے ہوں گے کہاٹلی کی امیگریشن کھل گئی۔ یہ ریٹائرڈ فوجی اچھا آدمی تھا، اس نے شانتی کےکاغذات جمع کروادیئے۔ حتیٰ کہ ٹیکس بھی ادا کیا۔ جسے اطالوی زبان میں کونتریبیوتی
(contributi)
کہتےہیں۔ وہ کیوں نہ اس کی مدد کرتا، شانتی تھی ہی اتنی اچھی۔ وہ کبھی کبھی اسے خوش بھی کردیا کرتی۔ شانتی کو یہی ڈر تھا کہ اگر اس کی بات نہ مانی توجمع کروائے ہوئے کاغذات واپس لے لے گا۔ حالانکہ وہ یہ نہیں جانتی تھی کہاگر مالک اس کے کاغذات واپس لے لے تو وہ مالک پر کیس کرسکتی ہے۔ اس طرح اسےچھ ماہ کی پرمیسو دی سجورنو
(permesso di soggiorno)
مل جائے گی اور اس دوران اسے نیا کام ڈھونڈنا ہوگا۔ شانتی نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ ٹھیک سال بعد پرفیتورا دی اریزو
(prefettura di arezzo)
نے شانتی کو پرمیسو دی سجورنو
(permesso di soggiorno)
جاری کردی۔ وہ بڑی خوش ہوئی۔ اس نے کئی خواب بُن رکھے تھے۔ سری لنکا جائے گی۔اپنے بچوں سے ملے گی۔ اپنے خاوند کا علاج کروائے گی۔ یہ باتیں وہ دن میںکئی بار سوچتی۔ اب ایسا ممکن تھا۔ اس نے اس فوجی سے بات کی۔ وہ کہنے لگا،مجھے کوئی اعتراض نہیں، لیکن تمہیں صرف ایک ماہ کی اجازت ہوگی۔ کیونکہ مجھےتمہاری وجہ سے کافی آرام ہے۔ اور ہاں، اپنی جگہ کسی اچھی سی لڑکی کو چھوڑجانا۔ شانتی نے کہا، میں ایسا ہی کروں گی۔ ابھی شانتی کے جانے میں کافی دنباقی تھے۔
وہ روز کی طرح آج صبح بھی اس بوڑھے فوجی کی وہیل چیئر کو دھکیلتی ہوتی جوتو پارک
(Giotto)
پہنچی۔ اس نے وہیل چیئر اس چھوٹے سے حوض کے پاس روکی جہاں سفید رنگ کی دو خوبصورت سوانز
(swans)
بھی ہوتی ہیں۔ اس نے انگلی کے اشارے سے سوانز کو بلایا۔ ایک لحظے میں شانتی نےاپنا ہاتھ واپس کھینچا اور دل پر رکھ لیا۔ وہ دھڑام سے زمین پر آگری۔ وہ بوڑھا فوجی سوچنے لگا کہ وہ شانتی کی مدد کیسے کرے وہ تو خود معذور ہے۔وہاں سے گزرتے کچھ لوگوں نے یہ منظر دیکھا تو فوراً ایمبولنس کو بلایا۔ وہ لوگ شانتی کو ہسپتال لے گئے۔ اس بوڑھے فوجی کو اس کے گھر چھوڑ آئے۔ ایک عددنرس بھی اس کے پاس رکی جب تک کوئی دوسرا انتظام نہیں ہوجاتا۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ شانتی کو آئی این پی ایس (انپس
"INPS",
اٹلی میں یہ ایک ایسا ادارہ ہے اگر آپ بیمار پڑجائیں تو یہ ادارہ جب تک آپ ٹھیک نہ ہوجائیں آپ کو چھ ماہ تک تنخواہ دیتا رہتا ہے) والے پیسے دیں گے یا آئیاین اے آئی ایل (اننائیل،
"INAIL"
یہ ایک ایسا اطالوی ادارہ ہے جو کام کے دوران اگر آپ کو چوٹ لگ جائے یا آپ کے ساتھ کام
کےدوران کوئی حادثہ پیش آجائے تو آپ کی مدد کرتا ہے۔ لیکن یہ دونوں اس صورت میں آپ کی مدد کرتے ہیں جب آپ کا مالک ایمانداری سے آپ کا ٹیکس ادا کررہاہو) والے۔ ویسے تو یہ انفورتونی (کام کے دوران حادثہ پیش آنا یا چوٹ لگنااطالوی زبان میں انفورتونی کہلاتا ہے) ہے لیکن اطالوی قانون کے بارے میں کچھ کہنا ذرا مشکل ہے۔ میری تو یہ دعا ہے کہ شانتی جلدی ٹھیک ہوجائے۔ انسانکے ہاتھ پاؤں سلامت ہوں تو بندا دوبارہ کام کرسکتا ہے لیکن ایک بات طے ہےکہ شانتی اب بادانتے کا کام نہیں کرے گی۔ کیونکہ دل کا مریض تو خود دوسروں کی مدد کا محتاج ہوتا ہے، وہ کسی کی دیکھ بھال کیا کرے گا ۔تحریر سرفراز بیگ

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت اتوار, 26 مئی 2013 21:14

اعجاز احمد روم کی میونسپل کمیٹی کے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں

تحریر، شیر علی ۔ آزاد کے ایڈیٹر اعجاز احمد روم کی میونسپل کمیٹی دوئم کے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں ۔ روم میں آباد تمام پاکستانیوں سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ اعجاز احمد کی کمپین میں حصہ لیتے ہوئے انہیں کامیاب بنائیں ۔ اعجاز احمد 23 سال سے اٹلی میں آباد ہیں اور آزاد کے اخبار کے علاوہ ثقافتی ترجمان کا کام بھی کرتے ہیں اور پاکستانی ثقافت و اسلام کی پروموشن کے لیے یورپ اور اٹلی میں بقول صحافی اور میڈیا کمنٹیٹر کے طور پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں ۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ وہ پاکستانی جو کہ اٹالین پاسپورٹ حاصل کرچکے ہیں ، انہیں چاہئے کہ وہ اٹلی کی سیاست میں بھرپور شرکت کریں ۔ دوسری کمونٹیوں کے غیر ملکی تیزی سے اٹلی کی سیاست میں اپنا نام کمارہے ہیں ۔ میں نے روم کی میونسپل کمیٹی دوئم کے الکیشن میں حصہ لیا ہے ۔ روم میں کمونے اور میونسپل کمیٹی کے الیکشن 26 اور 26 مئی کو کرائے جا رہے ہیں ۔ میں نے Lista Civica per Marinoکی لسٹ کے زریعے کونصلر کے الیکشن میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس میونسپل کمیٹی کی آبادی 1 لاکھ 50 ہزار ہے اور اسے Municipio IIکہتے ہیں ۔ میں نے اپنی کمپین شروع کردی ہے اور فیس بک پر ایک صفحہ بھی بنا دیا ہے ۔ میرا تعارف میری وہ خدمات ہیں ، جن کے زریعے مجھے وزارت داخلہ کی اسلامی کونصل میں شامل کیا گیا ہے اور اگر آپ وکی پیڈیا میں جائیں تو اٹلی کے پاکستانیوں میں آپکو میرا نام ملے گا ۔ میں نے ہمیشہ پاکستان اور پاکستانیوں کی شناخت اور پرچار کے لیے کاوشیں کی ہیں ۔ آپ میرے فیس بک کے صفحے کو کلک کرتے ہوئے میری کمپین میں حصہ لیں ۔ فیس بک پر Ti Piace پر کلک کریں ۔ شکریہ

https://www.facebook.com/pages/Ahmad-EJAZ/509011259160238

 

 

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت اتوار, 05 مئی 2013 11:21

میلان قونصلیٹ جنرل کا نیا پتہ

بریشیا (حاجی وحید پرویز) میلان قونصلیٹ جنرل آف پاکستان نئی بلڈنگ میں شفٹ ٰہو کر کام شروع کر چکا ہے-نئی عمارت پہلی سے ذیا دہ کشادہ ہونے کی وجہ سے قونصلیٹ میں آنے والے لوگ بہتر محسوس کر رہے ہیں- پرانا فون نمبر 0266703271 بحال ہو چکا ہے- نیا پتہ یہ ہے

Bovisa  11,Via Rosa Massara de capitani20158 Milano

 - میلان سنٹرل اسٹیشن سے بس نمبر 91 اور 92 پر جا سکتے ہیں- قونصلیٹ سوموار تا جمعہ کھلتا ھے- صبح نو سے بارہ بجے تک کاغذات جمع کیے جاتے ہیں اور شام پانچ بجے واپس کرنے شروع کیے جاتے ہیں- کمپیوٹرائزڈ پاسپورٹ بننےابھی شروع نہیں ہوئے ہیں،  یہ صرف پاکستان ایمبیسی روم میں ہی بنتے ہیں۔

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

ڈرائیونگ سکول میں داخلہ لیے بغیر لائسنس (بی) کا امتحان پاس کرنا

1) وزارت ٹرانسپورٹ کی برانچ موتو ریساسیونے سول(Motorizzazione civile) کے علاقاںی دفتر سے معلومات اور فارم 2112TTلے کر پر کر لیا جاے اور درخواست دھندہ اس پر اپنے دستخط کرے-

 2) ڈاکخانہ میں اکاؤنٹ نمبر 901 میں بھیجے گئے  24 یورو کی رسید اور اکاؤنٹ نمبر 4028 میں بھیجے گئے  14,62 یورو کی دو رسیدیں درخواست کے ساتھ منسلک کریں-

3) اپنے فیملی ڈاکٹرسے میڈیکل سرٹیفکیٹ بنوانا ھوگا جس کی فیس کم و بیش 50 یورو ھے- یہ سرٹیفکیٹ محکمہ صحت کے مقرر کردہ ڈاکٹر جو کہ عام طور پر آزل (ASL ) کا ڈاکٹر ھوتا ھے کو پیش کیا جائے  گا تو وہ اسے اپنے پاس رکھ لے گا اور میڈیکل سرٹیفکیٹ جاری کرے گا جس پر درخواست دہندہ کی فوٹو اور  14,62کی ٹکٹ لگی ہو گی- 40 یورو علاوہ ازیں ادا کرنے ھوں گے- اس سرٹیفکیٹ کو 3 ماہ کے اندر استعمال کرنا ضروری ھے- ڈاکٹر کے ساتھ آزل کے علاقائی دفتر کے علاوہ ضلعی دفتر میں بھی ملاقات کا وقت مقرر کیا جا سکتا ھے- یہ سرٹیفکیٹ بمع فوٹو کاپی درخواست کے ساتھ منسلک کرنا ھوتا ھے-

4) علاوہ ازیں 2 عدد فوٹو، اطالوی شناختی کارڈ (Carta d identità ) کی 2 فوٹو کاپیاں، کو دیچے فیسکالے اور پرمیسو دی سجورنو کی ایک ایک فوٹو کاپی بھی منسلک کریں- اگر تھیوری کی تیاری ھے تو درخواست جمع کرواتے وقت ھی امتحان کی تاریخ لے سکتے ہیں ورنہ بعد میں لے لیں- یاد رھے امتحان پاس کرنے کے لیے حسب ضرورت اطالوی زبان کا جاننا ضروری ھے- تیاری کے لیے کتاب۔ انٹر نیٹ کے علاوہ ایسے اشخاص سے مدد لی جا سکتی ھےجو امتحان پاس کر کے لاہیسینس لے چکے ھوں-اگر بغیر سکول میں داخلہ لیے پہلی دفعہ امتحان پاس ھو جاے تو اخراجات کم ھو کر تقریبا“ نصف رہ جائیں گے-

5) تھیوری کا امتحان پاس کرنے کے بعد فولیو روزا (Foglio Rosa ) جاری کیا جاے گا جو کہ 6 ماہ کے لیے کار آمد ھوتا ھے - یہ ڈرائیونگ کی مشق کرنے کا اجازت نامہ ھے- اگر ذاتی گاڑی میں پریکٹس کرنی ھے تو ایک ایسا شخص جس کے پاس کم از کم10 سال پرانا لائیسنس ہو اور اس کی عمر 65 سال سے زیادہ نہ ھو لازمی ساتھ ھونا چاھیے -علاوہ ازیں گاڑی میں واضح طور پر ایک کاغز آویزاں کیا جاے گا جس پر پی (P ) یعنی

Participante  لکھا ھو گا- اس سے سڑک پر موجود دیگر لوگوں کو معلوم ھوتا ھے کہ ڈرائیور سیکھنے کے عمل سے گزر رھا ھے- نیا شخص15  سے 20 گھنٹوں کی مشق سے امتحان دینے کے قابل ہو جاتا ھے- تیاری ہونے پر تاریخ تہہ کر کے امتحان دیا جا سکتا ھے -یاد رھے امتحان صرف ڈبل کمانڈ والی گاڑی سے ھی دیا جا سکتا ھے جو کہ سکول کے پاس ھوتی ھے- اگر زاتی گاڑی کی سہولت نھیں ھے تو سکول کے زریعے تیاری کر کے امتحان دیا جا سکتا ہے-اپنی رھائیش کے نزدیک ایسے سکول کا انتخاب کریں جس کا ریٹ مناسب ہو اور شہرت اچھی ہو- ماہرین کا مشورہ ہے کہ سکول کے انسٹرکٹر کے ساتھ چند گھنٹے کی مشق ہر حال میں کرنی چا ہیئے کیونکہ وہ ایک کوالیفائڈ شخص ھوتا ہے-جب سکول میں جائیں گے تو سب سے پہلے وہ کوڈ تبدیل کروانے کے لیے9 یورو وزارت ٹرانسپورٹ کو ادا کریں گے اس کے بعد مشق اور امتحان کے مرحلے آئیں گے- (حاجی وحید پرویز- بریشیا)-

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

منڈی بہاؤالدین

1506عیسوی میں صوفی صاحب بہاؤالدین ، پنڈی شاہ جہانیاں سے اس علاقہ میں آئے تو انہوں نے ایک بستی کی بنیاد رکھی جس کا نام پنڈی بہاؤالدین رکھا گیا جسے اب پرانی پنڈی کے نام سے جانا جاتا ھے-انیسویں صدی میں یہ علاقہ برطانوی حکومت کے زیر تسلط آیا -اس علاقے میں کچھ زمین بنجر اور غیر آباد پڑی تھی-

1902 میں انگریز سرکار نے آبپاشی کے نطامکا ایک بڑا منصوبہ شروع کیا تو اسی منصوبے کے تحت نہر لویر جھلم بھی کھودی گئی اور اس سے علاقے کو سیراب کیا گیا-علاقے کی چک بندی کی گئی- اکاون چک بنائےگے اور زمین ان لوگوں میں تقسیم کی گئی جنہوں نے سلطنت برطانیہ کے لیے کام کیا تھا-علاقے کو گوندل بار کا نام دیا گیا- چک نمبر51  مرکزی چک قرار پایا جو کہ آج منڈی بہاوالدین کے نام سے مشہور ہے-پلان کے مطابق اس کی تعمیر کی گئی اور یہاں پر غلہ منڈی قائم کی گئی- بیسویں صدی کے اغاز میں مسلمان،ہندو اور سکھ تاجر و زمیندار یہاں آ کر آباد ہونے لگے- 1916ء میں حکومت برطانیہ نے اپنے دفاعی اور تجارتی مفاد میں پنڈی بہاوالدین ریلوے سٹیشن قائم  کیا- 1920ء میں چک نمبر 51 کو منڈی بہاوالدین (مارکیٹ بہاوالدین) کا نام دینے کا اعلان کیا گیا- 1923ء میں قصبہ کی ماسٹر پلان کے مطابق دوبارہ تعمیر کرتے ھوئے گلیوں اور سڑکوں کو سیدھا اور کشادہ کیا گیا- 1924ء میں پنڈی بہاوالدین ریلوے سٹیشن کا نام منڈی بہاوالدین رکھا گیا- 1937ء میں ٹاؤن کمیٹی کا درجہ دیا گیا اور 1941ء میں میونسپل کمیٹی بنا دیا گیا- 1946ء میں نو دروازے اور چار دیواری تعمیر کی گئ-1947ء میں پاکستان معرض وجود میں آیا تو ھندو اور سکھ بھارت چلے گے جبکہ بھارت سے نقل مکانی کر کے پاکستان آنے والے بہت سے مسلمان یہاں آباد ھوئے-1960ء میں سب ڈویژن کا درجہ دیا گیا- 1963ء میں رسول بیراج اور رسول قادرآباد لنک نھر کا منصوبہ شروع کیا گیا - منصوبے سے متعلقہ سرکاری ملازمین اور غیر ملکی ٹھییکیداروں کے لیے منڈی بہاوالدین کے نزدیک ایک بڑی کالونی قائم  کی گئی-1968ء میں یہ منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچا- یہ منصوبہ منڈی بہاوالدین کی کاروباری نشوونما میں اضافے کا سبب بنا- 1993ء میں وزیر اعلئ پنجاب میاں منظور احمد وٹو نے منڈی بہاوالدین کو ضلع کا درجہ دینے کا اعلان کیا- 326 قبل مسیح میں سکندر اعظم اور راجہ پورس کے درمیان مشھور اور تاریخی لڑائی منڈی بہاوالدین کے مغرب میں دریائے جہلم کے جنوبی کنارے کھیوا کے مقام پر لڑی گئ- اس لڑائی میں راجہ پورس کو شکست ھوئ جس کے نتیجہ میں سکندر اعظم کو دو شہر ملے ایک اس جگہ پر تھا جہاں ان دنوں مونگ ہے اور دوسرا ممکنہ طور پر جہاں پھالیہ ھے- پھالیہ سکندر اعظم کے گھوڑے بیوس پھالس کے نام کی بگڑی ھوئی شکل ھے- کچھ مورخین کے خیال کے مطابق وہ دو شہر جلالپور اور بھیرہ والی جگہ پر تھے- منڈی بہاوالدین سے تھوڑے فاصلے پر چیلیانوالہ کا وہ تاریخی مقام ھے جہاں انگریزوں اور سکھوں کے درمیان 1849ء میں دوسری لڑائی ہوئی تھی-چیلیانوالہ کے نزدیک رکھ مینار میں اس جنگ میں کام آنے والے کئی انگریز افسر اور سپاھی دفن ھیں- منڈی بہاوالدین صوبہ پنجاب کا خوبصورت اور مشہور شہر ھے- اس کے شمال مغرب میں دریائے جھلم اسے ضلع جھلم سے الگ کرتا ھے جبکہ جنوب مشرق سے دریائے چناب اسے گجرات ،گوجرانوالہ اور حافط آباد سے علیحدہ کرتا ھے-مغرب میں ضلع سرگودھا واقع ھے- رقب2673 مربع کلو میٹر اور سطح سمندر سے بلندی 204 میٹر ھے- ضلع میں تین تحصیلیں منڈی بھاوالدین ، پھالیہ اور ملکوال ہیں جبکہ یونین کونسلز کی تعداد 65 ھے- بڑے قصبے چیلیانوالہ،گوجرہ،ھیلاں،کٹھیالہ شیخاں،مانگٹ،مونگ،میانوال رانجھا،پاہڑیانوالا،قادراباد،رسول اور واسو ھیں- سب سے زیادہ آبادی جٹ قبیلہ کی ھے- آرائیں،گجر،کہوٹ،کشمیری،راجپوت،شیخ،مرزا اور سید قبیلوں کے لوگ بھی آباد ھیں-زیادہ بولی جانے والی زبانیں پنجابی اور اردو ہیں- اھم فصلیں گندم،دھان،گنا،آلو،تمباکو ھیں جبکہ چارہ کے لیے جوار،باجرہ،مکئ اور برسیم وغیرہ بھی کاشت کیے جاتے ھیں- صنعتی یونٹوں کی تعداد نو سو کے قریب ھے- شہر کے نزدیک شاہ تاج شوگر مل واقع ہے جس کا رقبہ بیس ایکڑ پر محیط ھے- اس کا شمار علاقے کی بڑی ملوں میں ھوتا ھے معیاری چینی تیار کر کے ملکی ضروریات کو پورا کرنے میں اپنا بھر پور کردار ادا کر رھی ھے-۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یاد رہے کہ اٹلی میں منڈی بہاوالدین کے تارکین وطن کی تعداد قابل زکر ہے ۔

(حاجی وحید پرویز ،بریشیا، اٹلی- موبایل ونڈ00393398705106)- تصاویر میں منڈی کی تاریخی عمارتیں

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com