Saturday, Mar 28th

Last update02:30:52 AM GMT

RSS

کمونٹی کی خبریں

منڈی بہاؤالدین

1506عیسوی میں صوفی صاحب بہاؤالدین ، پنڈی شاہ جہانیاں سے اس علاقہ میں آئے تو انہوں نے ایک بستی کی بنیاد رکھی جس کا نام پنڈی بہاؤالدین رکھا گیا جسے اب پرانی پنڈی کے نام سے جانا جاتا ھے-انیسویں صدی میں یہ علاقہ برطانوی حکومت کے زیر تسلط آیا -اس علاقے میں کچھ زمین بنجر اور غیر آباد پڑی تھی-

1902 میں انگریز سرکار نے آبپاشی کے نطامکا ایک بڑا منصوبہ شروع کیا تو اسی منصوبے کے تحت نہر لویر جھلم بھی کھودی گئی اور اس سے علاقے کو سیراب کیا گیا-علاقے کی چک بندی کی گئی- اکاون چک بنائےگے اور زمین ان لوگوں میں تقسیم کی گئی جنہوں نے سلطنت برطانیہ کے لیے کام کیا تھا-علاقے کو گوندل بار کا نام دیا گیا- چک نمبر51  مرکزی چک قرار پایا جو کہ آج منڈی بہاوالدین کے نام سے مشہور ہے-پلان کے مطابق اس کی تعمیر کی گئی اور یہاں پر غلہ منڈی قائم کی گئی- بیسویں صدی کے اغاز میں مسلمان،ہندو اور سکھ تاجر و زمیندار یہاں آ کر آباد ہونے لگے- 1916ء میں حکومت برطانیہ نے اپنے دفاعی اور تجارتی مفاد میں پنڈی بہاوالدین ریلوے سٹیشن قائم  کیا- 1920ء میں چک نمبر 51 کو منڈی بہاوالدین (مارکیٹ بہاوالدین) کا نام دینے کا اعلان کیا گیا- 1923ء میں قصبہ کی ماسٹر پلان کے مطابق دوبارہ تعمیر کرتے ھوئے گلیوں اور سڑکوں کو سیدھا اور کشادہ کیا گیا- 1924ء میں پنڈی بہاوالدین ریلوے سٹیشن کا نام منڈی بہاوالدین رکھا گیا- 1937ء میں ٹاؤن کمیٹی کا درجہ دیا گیا اور 1941ء میں میونسپل کمیٹی بنا دیا گیا- 1946ء میں نو دروازے اور چار دیواری تعمیر کی گئ-1947ء میں پاکستان معرض وجود میں آیا تو ھندو اور سکھ بھارت چلے گے جبکہ بھارت سے نقل مکانی کر کے پاکستان آنے والے بہت سے مسلمان یہاں آباد ھوئے-1960ء میں سب ڈویژن کا درجہ دیا گیا- 1963ء میں رسول بیراج اور رسول قادرآباد لنک نھر کا منصوبہ شروع کیا گیا - منصوبے سے متعلقہ سرکاری ملازمین اور غیر ملکی ٹھییکیداروں کے لیے منڈی بہاوالدین کے نزدیک ایک بڑی کالونی قائم  کی گئی-1968ء میں یہ منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچا- یہ منصوبہ منڈی بہاوالدین کی کاروباری نشوونما میں اضافے کا سبب بنا- 1993ء میں وزیر اعلئ پنجاب میاں منظور احمد وٹو نے منڈی بہاوالدین کو ضلع کا درجہ دینے کا اعلان کیا- 326 قبل مسیح میں سکندر اعظم اور راجہ پورس کے درمیان مشھور اور تاریخی لڑائی منڈی بہاوالدین کے مغرب میں دریائے جہلم کے جنوبی کنارے کھیوا کے مقام پر لڑی گئ- اس لڑائی میں راجہ پورس کو شکست ھوئ جس کے نتیجہ میں سکندر اعظم کو دو شہر ملے ایک اس جگہ پر تھا جہاں ان دنوں مونگ ہے اور دوسرا ممکنہ طور پر جہاں پھالیہ ھے- پھالیہ سکندر اعظم کے گھوڑے بیوس پھالس کے نام کی بگڑی ھوئی شکل ھے- کچھ مورخین کے خیال کے مطابق وہ دو شہر جلالپور اور بھیرہ والی جگہ پر تھے- منڈی بہاوالدین سے تھوڑے فاصلے پر چیلیانوالہ کا وہ تاریخی مقام ھے جہاں انگریزوں اور سکھوں کے درمیان 1849ء میں دوسری لڑائی ہوئی تھی-چیلیانوالہ کے نزدیک رکھ مینار میں اس جنگ میں کام آنے والے کئی انگریز افسر اور سپاھی دفن ھیں- منڈی بہاوالدین صوبہ پنجاب کا خوبصورت اور مشہور شہر ھے- اس کے شمال مغرب میں دریائے جھلم اسے ضلع جھلم سے الگ کرتا ھے جبکہ جنوب مشرق سے دریائے چناب اسے گجرات ،گوجرانوالہ اور حافط آباد سے علیحدہ کرتا ھے-مغرب میں ضلع سرگودھا واقع ھے- رقب2673 مربع کلو میٹر اور سطح سمندر سے بلندی 204 میٹر ھے- ضلع میں تین تحصیلیں منڈی بھاوالدین ، پھالیہ اور ملکوال ہیں جبکہ یونین کونسلز کی تعداد 65 ھے- بڑے قصبے چیلیانوالہ،گوجرہ،ھیلاں،کٹھیالہ شیخاں،مانگٹ،مونگ،میانوال رانجھا،پاہڑیانوالا،قادراباد،رسول اور واسو ھیں- سب سے زیادہ آبادی جٹ قبیلہ کی ھے- آرائیں،گجر،کہوٹ،کشمیری،راجپوت،شیخ،مرزا اور سید قبیلوں کے لوگ بھی آباد ھیں-زیادہ بولی جانے والی زبانیں پنجابی اور اردو ہیں- اھم فصلیں گندم،دھان،گنا،آلو،تمباکو ھیں جبکہ چارہ کے لیے جوار،باجرہ،مکئ اور برسیم وغیرہ بھی کاشت کیے جاتے ھیں- صنعتی یونٹوں کی تعداد نو سو کے قریب ھے- شہر کے نزدیک شاہ تاج شوگر مل واقع ہے جس کا رقبہ بیس ایکڑ پر محیط ھے- اس کا شمار علاقے کی بڑی ملوں میں ھوتا ھے معیاری چینی تیار کر کے ملکی ضروریات کو پورا کرنے میں اپنا بھر پور کردار ادا کر رھی ھے-۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یاد رہے کہ اٹلی میں منڈی بہاوالدین کے تارکین وطن کی تعداد قابل زکر ہے ۔

(حاجی وحید پرویز ،بریشیا، اٹلی- موبایل ونڈ00393398705106)- تصاویر میں منڈی کی تاریخی عمارتیں

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

ناحیدہ خان کا تعارف

روم، 12 اپریل 2013 ۔۔۔۔ روم میں پیدا ہونے والی جوان لڑکی ناحیدہ خان کہتی ہیں کہ اٹلی میں شہریت کا قانون تبدیل ہونا لازمی ہے ۔ ناحیدہ خان کے والد پاکستانی ہیں اور اسکی والدہ کا تعلق مراکش سے ہے ۔ ناحیدہ اٹلی میں پیدا ہوئی اور یہاں ہی جوان ہوئی ۔ اس نے اٹالین اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ 18 سال کی عمر تک اسکے پاس پرمیسو دی سوجورنو تھی ۔ ناحیدہ خان نے کہا کہ میں پاکستان اور مراکش میں صرف چھٹیوں میں جایا کرتی ہوں لیکن میرا ملک اٹلی ہے ۔ میرے ملک نے مجھے 18 سال کی عمر تک غیر ملکی سمجھ رکھا تھا ۔ بالغ عمر پوری کرنے کے بعد میں نے فوری طور پر اٹالین شہریت حاصل کرلی اور اب میں اپنے آپ کو اصل اٹالین شہری سمجھتی ہوں ۔ اس نے کہا کہ میرے جیسے 10 لاکھ ایسے جوان ہیں جو کہ اٹلی میں پیدا ہوئے ہیں یا پھر کمسن عمر میں اٹلی میں آئے تھے ۔ ان جوانوں کو شہریت نہ دینا زیادتی ہے کیونکہ یہ اپنے آپ کو اٹالین تصور کرتے ہیں اور والدین کے ملک میں صرف چھٹیوں کے لیے جاتے ہیں ۔ ناحیدہ خان نے کہا کہ وہ روم میں کئی کام کرنے کے بعد تھک گئی تھی اور ایک مہذب کام نہ ہونے کیوجہ سے پریشان تھی ۔ اسی اثنا میں اس نے فوٹوگرافی کا کورس کیا اور 2012 میں فوٹو گرافری کا پہلا انعام حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی ۔ ناحیدہ خان اب گزشتہ 3 سالوں سے روم کے ساحلی علاقے لادسپولی میں رہ رہی ہے اور دوسری نسل کے جوانوں کی آواز بن گئی ہے ۔ نیچے ناحیدہ خان اور اسکی فوٹوگرافری کی تصاویر 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

ایک ہندوستانی امیگرنٹ نے اٹالین بیوی اور بیٹی کو قتل کر دیا

روم، 7 اپریل 2013 ۔۔۔ کل شام روم کے قریبی شہر چستیرنا دی لاتینا میں  ایک ہندوستانی امیگرنٹ نے اٹالین بیوی اور بیٹی کو قتل کر دیا ہے ۔ ہندوستانی کا نام کمار ہے اور اسکی عمر 35 سال ہے ۔ اس نے اپنی اٹالین بیوی سے انڈیا میں 2008 میں شادی کی تھی اور اسکے بعد اٹلی میں مستقل رہائش کے بعد ان دونوں میں لڑائی جھگڑا رہتا تھا ۔ بیوی نے آخری بار کمار سے رقم مانگی تھی کیونکہ وہ کوئی کام نہیں کرتی تھی ۔ کمار کی بیوی اور اسکی 19 سالہ منہ بولی بیٹی بے روزگار تھیں اور سستے کرائے کے مکان میں آباد تھیں ۔ کمار کی بیوی اس سے قبل تین شادیاں کر چکی تھی ۔ کمار ان سے تنگ تھا ۔ 6 اپریل کی شام کمار اپنی بیوی کے گھر آیا اور اس نے چھری سے پہلے بیوی کو اور اسکے بعد بیٹی کو مار دیا ۔ ہمسائیوں نے پولیس کو بتادیا۔ کمار فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا لیکن پولیس نے اسکے موبائل سے اسے ٹریس کرلیا اور گرفتار کرلیا ۔ کمار کے منہ پر ناخنوں کے زخم تھے۔ کچھ دیر بعد کمار نے اقرار جرم کر لیا اور اب اسے جیل میں روانہ کردیا گیا ہے ۔ یاد رہے کہ کل اٹلی کے شہر ماچیراتا میں بھی میاں بیوی نے بے روزگاری سے تنگ آکر خود کشی کرلی ہے اور بیوی کے بھائی نے اس خودکشی کا سن کر سمندر میں ڈوب کر خودکشی کرلی ہے ، یعنی ایک ہی خاندان میں 3 لوگوں نے خودکشی کی ہے ۔ آج پورے اٹلی میں انڈین کے قتل اور خاندان کے قتل کے سلسلے میں بحث ہو رہی ہے کیونکہ موجودہ معاشی بحران کے نتیجے میں بے شمار لوگ بے روزگار ہونے کے بعد بے بس ہوتے جا رہے ہیں ۔ کافی پاکستانی بھی بے روزگاری کی لپیٹ میں آگئے ہیں اور ہمارے مشہور ڈیروں پر 10 بندوں میں سے صرف ایک یا دو کام کر رہے ہیں ۔ تحریر، اعجاز احمد

 

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

روم میں 2 نابالغ پاکستانیوں پر پولیس کیس

روم، 4 اپریل 2013 ۔۔۔ آج روم کے زون پیاسا بلونیا کی فوجی پولیس کارابنیری نے 2 نابالغ پاکستانیوں پر پولیس کیس  کردیا ہے ۔ ان پاکستانیوں کی عمر 17 سال ہے اور یہ ایک بےبی گینگ کے ساتھی تھے ۔ یہ گینگ اپنے میڈیم سکول کے پرانے دوستوں سے جگا ٹیکس لیتے تھے اور انکو منشیات فروش کرتے تھے ۔ اسکے علاوہ یہ گینگ اپنے دوستوں کو یرغمال بناتے ہوئے انکی مار پیٹ بھی کرتا تھا ۔ اس گینگ کا سردار ایک اٹالین تھا اور اس میں 2 نابالغ پاکستانی، ایک مصری اور ایکواڈور کے لڑکے شامل تھے ۔ پولیس نے اٹالین کو گرفتار کرلیا ہے اور باقی تمام نابالغ افراد پر کیس کردیا گیا ہے ۔ بے بی گینگ اپنے امیر دوستوں کو اپنے ہی گھر میں چوری کرنے کے لیے کہتے تھے اور گھر کا سامان، قیمتی کپڑے، زیور اور رقم چوری کرواتے تھے ۔ امیر دوستوں کی عمر 16 سال تھی اور یہ لڑکے بے بی گینگ کے ساتھ میڈیم سکول میں پڑھتے رہے تھے ۔ ان لڑکوں میں سے ایک نے پولیس کو اطلاع کردی اور اسکے بعد تفتیش شروع کردی گئی ۔ گینگ والے فیس بک کے زریعے مارنے کی دھمکی بھی دیتے تھے ۔

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

خصوصی دعا کی اپیل

اسلام وعلیکم ۔ میری تمام تارکین وطن سے درخواست ہے کہ ہمارے معزز دوست محمد اشتیاق ان دنوں بہت بیمار ہیں اور اس وقت اٹلی کے شہر بولونیا کے بودریو ہسبتال میں زیرعلاج ہیں، ان کے لیے دعا کی جائے کہ ہمارے پروردگار ان کو جلدازجلد تندرستی عطاء فرمائیں آمین ثم آمین

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com