Saturday, Mar 28th

Last update02:30:52 AM GMT

RSS

کمونٹی کی خبریں

دو دھاری تلوار

 

سائرہ آج بہت خوش تھی اور ہوتی بھی کیوں نہ ، آج پورے چھ ماہ بعد اس کا بھائی ،بھابھی اور بچے جو اس کے گھرآرہے تھے۔ اتنے قریب رہتے ہوئے بھی وہ اتنے عرصے بعدایک دوسرے سے مل رہے تھے۔فون پے تو خیر اکثر بات ہوجایا کرتی تھی لیکن آمنے سامنے بیٹھ کر بات کرنے کا مزہ ہی کچھ اور ہوتا ہے۔
سائرہ ٹینچ بھاٹہ کے قریب گلریز کالونی میں رہتی تھی۔ تین کمروں پر مشتمل یہ چھوٹا مگر خوبصورت گھر تھا۔ دو بیڈ روم، ڈرائینگ روم ، چھوٹا سا کچن اور چھوٹا سا لان جسے سائرہ نے بہت خوبصورتی سے مختلف پھولوں سے سجایا ہوا تھا۔ لان کے ایک طرف چنبیلی ،گلاب اور موگرے کے پھو ل اپنی بہار دکھا رہے تھے اور دوسری طرف سائرہ نے دھنیہ ، پودینہ، ہری مرچیں اور ٹماٹر کے پودوں سے لان کو سجایا ہوا تھا۔ اسے سبزیاں اگانا بہت پسند تھا۔ سکول میں جب سے اس نے ہوم اکنامکس پڑھی تھی تبھی سے اْسے گھرداری کا بڑا شوق تھا۔ لان کے بعد وہ اپنے ڈرائینگ روم پے سب سے زیادہ توجہ دیتی تھی۔ اس کے ڈرائینگ روم میں سب سے خوبصورت وہ لکڑی کا جھولا تھا جسے اْس نے پلاسٹک کے لال گلاب کے پھولوں سے سجایا ہوا تھااور ایک طرف بلیک لیدر کا شاندار صوفہ تھا(جو اس نے اپنی کمیٹی کے روپوں سے خریدا تھا)۔ درمیان میں ایک کانچ کا نئے انداز کا ٹیبل اور اس کے او پر ایک چھوٹا سا جار جس میں اْس نے مختلف قسم کی چاکلیٹس رکھی ہوئی تھیں۔ دیوار کے درمیان میں ایک بڑا سا سبز رنگ کا فریم لٹکا ہوا تھا۔ جس میں چار قل لکھے ہوئے تھے اور اس سے پورا کمرہ ایسے ہوگیا تھا جیسے سارے کمرے میں نور ہی نور پھیل گیا ہو۔ سائرہ خود بھی پانچ وقت کی نماز پابندی سے ادا کرتی تھی۔ اس کا شوہر قیصر بھی نماز کی پابندی کرتا تھا۔ قیصر 502 ورکشاپ میں ایک کلرک تھا۔ وہ اپنی بیوی کا بہت خیال رکھتا تھا کیوں نہ رکھتا ، ایک تو وہ سائرہ کا خالہ کا بیٹا تھا اور ان دونوں کی پسند کی بھی شادی تھی۔
ان کی شادی کو چھ سال ہوچکے تھے اور وہ ابھی تک اولاد کی نعمت سے محروم تھے لیکن وہ اللہ کی رضا پے خوش تھے۔ سائرہ نے اکثر دبے دبے لفظوں میں قیصر کو دوسری شادی کی اجازت بھی دے دی تھی لیکن قیصر ہر بار ہنس کر ٹال دیا کرتا کیونکہ وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ سائرہ اْسے دوسری شادی کی اجازت دے تو رہی ہے لیکن جس دن اس نے دوسری شادی کرلی وہ اس شادی کو برداشت بھی نہیں کرسکے گی۔ ویسے بھی ایک دوسرے سے اتنا پیار کرتے تھے اور دونوں ایک دوسرے کے لیئے بچے ہی بنے رہتے تھے۔ صبح قیصر جب کام کے لیئے جاتا تو سائرہ اسے گیٹ تک چھوڑنے کے لیئے ضرور جاتی اور اس کے گلی کے موڑ مڑنے تک اسے دیکھتی رہتی۔ سارا دن خود کو گھر کے کاموں میں الجھائے رکھنے کے باوجود اس کا وقت بہت مشکل سے کٹتا۔ خیر جیسے ہی پانچ بجتے وہ خوش ہوجاتی اور سوچتی ایک بور دن قیصر کے بغیر گزر گیا۔ دونوں شام کی چائے پیتے وقت ایک دوسرے کو پورے دن کے کاموں سے بھی آگاہ کرتے ۔
آج جب قیصر شام کو کام سے گھر واپس آیا تو اسے گھر کی فضاء کچھ بدلی بدلی سی لگی اور آج فضاء خوشگوار ہوتی بھی کیوں نا، سائرہ کے بھائی ،بھابھی اور بچے جو گھر آئے ہوئے تھے۔
آج رات کھانے کے بعد قیصر ، سائرہ، اس کا بھائی فاروق اور بھابھی رقیہ کافی دیر تک باتیں کرتے رہے۔ رات بارہ بجے انہیں خیال آیا کہ ان چاروں کے علاوہ یہاں دو بچے حیدر اور اِرج بھی موجود ہیں جنہیں کافی دیر سے انہوں نے نہیں دیکھا۔ سائرہ ایک دم اٹھی کہ جاؤں اور بچوں کو دیکھ آؤں۔ جب وہ ڈرائینگ روم میں داخل ہوئی تو یہ دیکھ کر حیران ہوگئی کہ دونوں بچے صوفے پر کھیلتے کھیلتے سوگئے اور اس کی نظر ٹیبل پے پڑی تو وہ اپنی ہنسی نہ روک سکی کیونکہ چاکلیٹ سے بھرا جار خالی ہوچکا تھا اور جابجا چاکلیٹ کے ٹکڑے اور ریپر ز پھیلے ہوئے تھے۔ اور ارِج اور حیدر کے منہ پے بھی چاکلیٹ لگی ہوئی تھی۔
سائرہ اور رقیہ نے دونوں بچوں کو اٹھایا ان کے ہاتھ منہ دھلوا کر انہیں دوبارہ سلادیا۔ رات کافی ہوچکی تھی ، انہوں نے سونے کو ترجیح دی کیونکہ ویسے بھی انہوں نے صبح ایوب پارک جانے کا پروگرام بنایا تھا اور سائرہ نے تو مہمانوں کے آتے ہی بھائی سے کہہ دیا تھا کہ وہ ہفتہ اور اتوار کو بھی یہیں رہیں گے اور بچوں کے ساتھ مل کر خوب سیر بھی کرینگے۔ ْ ْْْْْْْْ
دو دن کیسے گزر گئے اور پتا بھی نہ چلا۔ مہمانوں کے جانے کے بعد گھر ایک دم ویران ساہوگیا تھا۔ بچوں کا شور، نند بھابھی کی باتیں۔ سالے بہنوئی کی باتوں میں ہلکی ہلکی چٹکیاں ایک ہفتہ تو سائرہ اور قیصر کا یہی باتیں سوچ سوچ کہ گزر گیا۔
آہستہ آہستہ دونوں دوبارہ سے اپنی معمول کی زندگی پے آگئے لیکن بچہ نہ ہونے کی کمی ایک بار پھر شدت اختیار کرگئی۔ آج وہ حسبِ عادت رات کا کھانا کھا کے چہل قدمی کے لیئے باہر نکلے تو راستے میں انہیں خالہ زینب( ان کی پڑوسن )مل گئی۔ باتونی ہونے کی وجہ سے خالہ زینب نے انہیں راستے میں ہی ایک گھنٹے تک روکے رکھا۔ پہلے تو وہ سائرہ سے بھائی ، بھابھی اور بچوں کے بارے میں بات کرتی رہی بعد میں سائرہ اور قیصر کو وہ بچے نہ ہونے کے میٹھے میٹھے طعنے دینے لگی۔ دونوں بڑی مشکل سے خالہ زینب سے جان چھڑا کر گھر پہنچے ہی تھے کہ گلی میں شور سن کر دونوں باہر آگئے۔
باہر آکر کیا دیکھتے ہیں کہ خالہ زینب کے ہاتھ میں ایک نومولود بچہ اٹھایا ہوا ہے اور باقی محلے والے ارد گرد جمع ہوکے اس بچے کے بارے میں باتیں کر رہے ہیں۔ قیصر نے پاس جاکے معاملے کو سمجھنے کی کوشش کی تو پتا چلا کہ ابھی دس منٹ پہلے ہی کوئی یہ بچہ گلی کی نکڑ پے پھینک گیا ہے۔ بچے کو دیکھ کر لگتا تھا جیسے اسے دنیا میں آئے ہوئے ابھی چند گھنٹے ہی گزرے ہیں۔ اب محلے والے پریشان ہیں کہ یہ نا معلوم بچہ کس کا ہے اور اسے کون یہاں چھوڑ گیا ہے۔ اب اس بچے کا کیا کرنا چاہیئے۔ کسی نے مشورہ دیا ،ایدھی سنٹر چھوڑ آتے ہیں۔ کسی نے کہا پولیس کو اطلاع کرتے ہیں۔ کسی نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ بچے کو یہیں پڑا رہنے دیں۔ صبح جو ہوگا دیکھا جائے گا۔ کسی نے یہ نہ سوچا کہ بچے کو بھوک لگی ہوگی یا اس کے تن کو ڈھانپنے کے لیئے کوئی کپڑا ہی لے آئیں۔ غرض بچہ ایک اور فیصلہ کرنے والے کئی۔ سب ہی اپنے اپنے حساب سے مشورے دے رہے تھے کہ اچانک خالہ زینب کی نظر سائرہ کے چہرے پر پڑی۔ سائرہ کی آنکھوں سے گرے ہوئے آنسوشاید یہ کہہ رہے تھے کہ بچہ خدا نے اس کے لیئے بھیجا ہے۔ خالہ زینب فوراً بھانپ گئی وہ بچہ لے کر سائرہ کے پاس گئی اور بولی ، ’’اگر تم چاہو تو سب کا منہ بند کرسکتی ہو۔ اس بچے کو گود لے کر‘‘۔
دونوں میاں بیوی یہ بات سن کر حیران اور پریشان ہوگئے کہ کیا کیا جائے۔ جیسے ہی خالہ زینب نے یہ بات سب کو بتائی تو سارے خوش ہوگئے اور ابھی جو سب بچے سے جان چھڑانے کے بارے میں سوچ رہے تھے ان کے لیئے اس بچے سے جان چھڑانے کا اس سے بہتر حل اور کیا ہوسکتاتھا کہ سائرہ اور قیصر کو یہ بچہ دیا جائے۔
بس اب کیا تھا کسی نے سائرہ اور قیصر کو سنبھلنے کا موقع ہی نہ دیا اور مبارک بادیں دینی شروع کردیں جیسے یہ بچہ انہیں کا ہو۔ بچے کو ماں باپ مل گئے اور سائرہ اور قیصر کو بچہ۔ دونوں خوشی خوشی بچے کو لیکر گھر چلے گئے۔
صبح ہوتے ہی قیصر نے سارے محلے میں مٹھائی بانٹی ۔ محلے والے باری باری آکے انہیں مبارک باد دینے لگے اور ساتھ ساتھ ان کے بڑکپن کی تعریف بھی کرنے لگے کہ انہوں نے ایسے بچے کو اپنایا جسے عام طور پے دنیا ناجائز کے نام سے پکارتی ہے۔ دونوں نے بچے کا نام نعمت قیصر رکھا۔ یہ بچہ ان کے لیئے کسی نعمت سے کم نہیں تھا۔ دونوں میاں بیوی اب جب بھی باہر جاتے تو بچے کوساتھ لے کر جاتے اور جب کوئی محلے والا دیکھتا تو تینوں کو ضرور دعائیں دیتا۔ شاید ان میاں بیوی کی قسمت میں کسی ایسے ہی بچے کا ماں باپ ہونا لکھا تھا۔ جوبھی تھا آخر وہ دونوں ماں پاب بن تو گئے یہ خوشی ان سے سنبھالے نہ سنبھلتی تھی۔ اب تو دونوں کو وقت گزرنے کا پتا ہی نہ چلتا۔ بچے کی شاپنگ ، اس کے ساتھ کھیلنا، باہر لے کر جانا۔ اس میں ایک سال کیسے گزرگیا پتا ہی نہ چلا۔
آج نعمت کی سالگرہ تھی۔ دونوں میاں بیوی نے سارے محلے کو سالگرہ کی دعوت دی تھی۔ سائرہ کی فیملی بھی اس خوشی میں شریک تھی۔ کیک کاٹا گیا، انواع و اقسام کے کھانوں سے سب کو خوش کیا گیا۔
آہستہ آہستہ تقریباً سب ہی مہمان چلے گئے۔ بس دو چار ہی رہ گئے ۔ جن کے ساتھ بچے تھے۔ وہ بھی اس لیئے رک گئے تھے کیونکہ بچے ضد کررہے تھے کہ ہم نعمت کو ملے ہوئے تحفے دیکھ کر جائیں گے۔ کافی وقت ہوچکا تھا اس لیئے سائرہ نے سوچا کہ پہلے تحفے کھول لیئے جائیں تانکہ سب اپنے اپنے گھر چلے جائیں۔ تحفے کھلنے کے ساتھ ساتھ باتیں بھی ہورہی تھیں کہ اچانک خالہ زینب نے یہ کہہ کر سب کو چپ کرا دیا کہ سائرہ اگر تمہارا اپنا بچہ ہوتا تب تو تم سالگرہ پے اس سے زیادہ خرچہ کرتے نا۔ لیکن ابھی اتنا خرچہ کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ یہ تمہارا اپنا بچہ تو ہے نہیں۔کل کو بڑا ہوگا۔ اسے پتا چلے گا کہ تم اس کے اصلی ماں باپ نہیں ہو تو یہ تمہیں چھوڑ کے چلا جائے گا اور ویسے بھی ایسے بچے کا کیا اعتبار جس کے ماں باپ کا کوئی اتا پتہ نہ ہو۔ پتا نہیں اس کے ماں باپ تھے بھی کہ نہیں۔ یا یہ ایسے ہی کسی کی دل لگی نہ ہو۔
یہ سننا تھا کہ سب نے ہی بولنا شروع کردیا اور سائرہ کو سمجھانے لگے کہ اس بچے کے ساتھ اتنا پیار نہ کریں۔ یہ بچہ ضرور انہیں دھوکا دے گا۔ اس سے پہلے کہ یہ بچہ تم دونوں کو چھوڑ کے چلا جائے تم دونوں خود ہی اس بچے کو چھوڑ دو۔ کسی یتیم خانے میں جاکے دے آؤ۔ اس بچے کے حوالے سے سب اپنی اپنی باتیں کرکے چلے گئے۔ لیکن ان دونوں میاں بیوی کے لیئے کئی سوال چھوڑ گئے۔ ان دونوں کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا کریں۔ پہلے لوگوں ہی کے کہنے میں آکر وہ اس بچے کو گھر لائے تھے اور اسے اپنا نام دیا تھا۔ اب یہ لوگ اس بچے سے نام واپس لینے کے لیئے کہہ رہے ہیں۔ قیصر تو بچے کو گود میں لے کر بچے کی طرف سے نظریں ہی نہیں ہٹا رہا تھا۔ اور سائرہ کا تورو رو کر برا حال تھا۔ وہ اللہ تعالی سے گلہ کررہی تھی کہ سب کیا ہورہا ہے۔ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے۔ بچہ اپنے پاس رہنے دیں یا کسی یتیم خانے میں چھوڑ آئیں۔ غرض ساری رات دونوں میاں بیوی کبھی روتے، کبھی بچے کو دیکھتے، کبھی خدا سے گلہ کرتے اور کبھی اللہ تعالی سے رو رو کر دعا کرتے کہ وہ انہیں صحیح راستہ دکھائے۔ ساری رات اسی کشمکش میں گزر گئی۔ صبح ہوئی ۔دونوں نے نماز پڑھ کر خدا سے اپنے گناہوں کی معافی مانگی اور تھوڑی دیر بعد بچے کو لے
کر وہ باہر نکل گئے۔ پانچ چھ گھنٹے بعد بوجھل قدموں سے جب وہ واپس تو وہ دوبارہ دو تھے۔ ان کا بچہ ان کے ساتھ نہیں تھا کیونکہ وہ بچہ ایدھی سنٹر چھوڑ آئے تھے۔
وہ دونوں جانتے تھے کہ وہ بچے کی اچھی پرورش کریں گے لیکن یہ لوگ اس بچے کو ناجائر کہہ کہہ کر اس کا جینا حرام کردیں گے۔
سائرہ اور قیصر آنسوؤں سے بھیگی ہوئی ایک دوسرے کی آنکھوں میں اپنے سوالوں کا جواب ڈھونڈ رہے تھے جن کا جواب کسی کے پاس نہیں تھا کہ انہوں جو کیا صحیح کیا یا غلط لیکن سائرہ کو ایک بات سمجھ آگئی کہ یہ دنیا ایک دو دھاری تلوار ہے اور اس تلوار نے دونوں صورتوں میں اسے کاٹ کے رکھ دیا تھا۔


روما  اریزو /03/2013 22

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

جعلی شناخت پر پاکستانی پر کیس

روم۔ 26 مارچ 2013 ۔۔۔ اٹلی کے شہر لوکا میں ایک 22 سالہ پاکستانی پر جعلی شناخت استعمال کرنے پر پاکستانی پر کیس کر دیا گیا ہے ۔ اصل میں یہ پاکستانی آخری امیگریشن کے کھلنے سے پہلے اٹلی میں آیا تھا اور امیگریشن سے پہلے اسے اٹالین فوڈ کی دکان پر کام مل گیا تھا ۔ وہاں کام کرنے کے لیے اس نے اپنے گھر میں رہنے والے ایک دوسرے پاکستانی کی پرمیسو دی سوجورنو یا ورک پرمٹ استعمال کیا ۔ اس پاکستانی کی عمر اور شکل اس سے ملتی جلتی تھی ۔ دکان والے نے اس سے کام کا کنٹریکٹ کرلیا اور اسکے بعد اس دکان کا دیوالیہ ہو گیا اور اٹالین نے اس پاکستانی کو کام سے نکال دیا ۔ اس پاکستانی نے اس دوران کھلنے والی امیگریشن میں اپنے اصل نام وغیرہ سے درخواست دیدی۔ اسی دوران دکان والے نے اپنے دیوالیے کا کیس مکمل کروانے کے لیے پاکستانی لڑکے کی گواہی حاصل کی اور اسکے بعد پولیس نے دریافت کرلیا کہ اس پاکستانی نے اپنی شناخت بدل لی ہے ۔ اس پاکستانی نے محض کام کرنے کے لیے یا اٹلی میں ریگولر ہونے کے لیے یہ جرم کیا ہے لیکن پولیس والوں نے اسکی امیگریشن کی درخواست مسترد کرتے ہوئے اس پر فراڈ کا کیس کردیا ہے ۔

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت منگل, 26 مارچ 2013 21:54

روم میں بولی ووڈ ڈانس کے آپسرا سکول کا قیام

روم، 23 مارچ 2013 ۔۔۔ اٹلی کی مشہور بولی ڈانس یا بھنگڑا کی ایکسپرٹ والینتینا مندوقی نے روم میں بولی ووڈ ڈانس کے آپسرا سکول کا قیام کیا ہے ۔ اگر آپ انڈین پاکستانی ڈانس سیکھنے کے خواہشمند ہیں تو آپ ہم سے جلد رابطہ کریں ۔ اسکے علاوہ پاکستانیوں کے فنگشنوں کی رونق دوبالا کرنے کے لیے آپسرا سکول آپکو ڈانس گروپ مہیا کرسکتا ہے ۔ ہم پورے اٹلی کے علاوہ دنیا کے مختلف ممالک میں ڈانس شو کرتے ہوئے شہرت حاصل کر چکے ہیں ۔ ڈانس ماسٹروں میں انڈین اور اٹالین شامل ہیں ۔ ہم سے جلد رابطہ کریں ۔

Phone

320 293 0720

Email

یہ ای میل پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے

Website

http://www.apsarasdance.com

Press Contact

یہ ای میل پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے

Booking Agent

یہ ای میل پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے ; یہ ای میل پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت ہفتہ, 23 مارچ 2013 19:21

پاکستان ایمبیسی روم میں یوم پاکستان کی تقریب میں شرکت کی دعوت

روم، 19 مارچ 2013 ۔۔۔۔ روم میں موجود پاکستانی سفارتخانے میں 23 مارچ بروز ہفتہ یوم پاکستان کی تقریب منائی جارہی ہے ۔ اس روز پرچم کشائی ہو گی اور صدر و وزیر اعظم کے پیغامات اہل وطن تک پہنچائے جائیں گے ۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی صبح 10 بجے تقریب کا آغاز کیا جائے گا ۔ روم اور اس کے نواح میں آباد تمام پاکستانیوں کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ خود اور اپنے خاندانوں کے ہمراہ تشریف لاتے ہوئے تقریب کی رونق کو دوبالا کریں ۔ ایسی تقریبات سے اٹلی میں پیدا ہونے والے بچے بھی ہمارے ملک کی اقدار اور تاریخ سے واقفیت حاصل کرتے ہیں اور اسکے علاوہ ایسے مواقعوں سے محب الوطنی میں اضافہ ہوتا ہے ۔

 23مارچ 1940 کو لاہور کے منٹو پارک موجودہ اقبال پارک میں قرارداد پاکستان منظور ہوئی اور اسی دن 1956 میں پاکستان کا پہلا آئین منظور ہوا۔ اس روز کو یوم پاکستان کے طور پر منانے کا اعلان سرکاری طور پر ہوا۔ اس روز وفاقی دارالحکومت اور صوبائی دارالحکومتوں میں فوجی پریڈ منعقد ہوتی ہے۔ پورے ملک میں پاکستان کے قیام پر بحثیں منعقد ہوتی ہیں اور ہر طرف سفید اور سبز پرچم لہراتا نظر آتا ہے ۔

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

یونانی اور امیگرنٹس کے بچوں کی کلاسیں علیحدہ کی جائیں ، آلبا دوراتا

روم، 16 مارچ 2013 ۔۔۔۔ یونان یا گریس کی فاشسٹ پارٹی کے قومی اسمبلی کے  ممبر  Matthaiopouloنے ایک تچویز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے سکولوں میں غیر ملکی اور یونانی بچوں کی کلاسیں علیحدہ کی جائیں۔ یاد رہے کہ چند ماہ قبل اسی پارٹی کے کارکنوں نے ہمارے ایک جوان پاکستانی کو ہلاک کردیا تھا ۔ یہ پارٹی غیر ملکیوں کے خلاف ہے اور یونان کے بحران کا رشتہ غیر ملکیوں سے جوڑتی ہے ۔ عام طور پر جب بھی کسی ملک پر آفت آتی ہے تو اس آفت کا دشمن عام طور پر باہر والا تصور کیا جاتا ہے ۔ کسی دوسرے کو قصور وار ٹھہرانے والا تصور آسان اور جاہلوں کو قائل کرنے کے لیے بہترین آلا سمجھا جاتا ہے ۔ کئی بار جب اٹلی میں بھی امیگریشن کھولی جاتی ہے تو چند پرانے غیر ملکی اس امیگریشن کو پسند نہیں کرتے کیونکہ انہیں ڈر ہوتا ہے کہ یہ ہمارے دائرے کار پر حملہ آور ہونگے ۔ خیر آلبا دوراتا کے اس فیصلے پر یونان کی تمام سیاسی جماعتوں نے احتجاج کیا ہے اور چند ممبران قومی اسمبلی سے واک آؤٹ کرگئے ہیں ۔ بائیں بازو کی سیاسی جماعت نے کہا ہے کہ یہ جمہوری ملک ہے اور جمہوریت کے چند اصول ہوتے ہیں ۔ آلبا دوراتا جنگل کا قانون نافذ نہیں کرسکتی ۔

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت ہفتہ, 16 مارچ 2013 10:55