Sunday, Jan 20th

Last update12:39:09 AM GMT

RSS

قومی خبریں

امیگریشن2012میں کاغذات جمع کروانے والوں کے لئے اچھی خبر

 بریشیا(حاجی وحید پرویز) امیگریشن 2012میں کاغذات جمع کروانے والوں کے لئے اچھی خبر یہ ہے کہ 26جون کو حکومت نے ایک ایسے مسودے کی منظوری دی ہے جس میں ان درخواست دہندگان کو ریلیف دیا گیا ہے جن کی درخواستوں پر کاروائی کرنے سے اس وجہ سے انکار کر دیا گیا تھا کہ آجر شرائط پر پورا نہیں اترتا،درخواست کی پیروی نہیں کر ربا یا درخواست پر کاروائی کے مراحل مکمل ہونے سے پہلے ملازم کو کام سے نکال چکا ہے- اس حکم نامے کے مطابق اگر آجر مطلوبہ شرائط (مثلا“آمدن) پر پورا نہیں اترتا یا درخواست کی پیروی کرنا چھوڑ دیتا ہے لیکن 1000یورو اور دیگر ٹیکس و واجبات ادا کئے جا چکے ہوں اور ورکر کے پاس 2011میں اطالیہ میں موجودگی کا پروف بھی موجود ہے تو اس صورت میں کام تلاش کرنے کے عرصہ کی سجورنو (Attesa occupazione) جاری کر دی جائے گی جس کی مدت ایک سال ہے اور کام ملنے پر کام کی سجورنو میں تبدیل کروائی جا سکتی ہے-اگر مالک درخواست پر کاروائی مکمل ہونے سے پہلے ملازم کو کام سے نکال دیتا ہے تو ملازم کے پاس اطالیہ میں موجودگی کا پروف ہونے کی صورت میں اسے کام تلاش کرنے کے عرصہ کی سجورنو جاری کر دی جائے گی جبکہ نئے آجر کی طرف سے کام کی پیشکش کی صورت میں براہ راست کام کی سجورنو جاری کی جائے گی- کام سے نکالنے سے پہلے کے واجبات پرانا مالک ادا کرے گا جس نے درخواست جمع کروائی تھی۔ وہ مالک جنہوں نے معزور ہونے کی صورت میں اپنی دیکھبال کرنے کے لیے بادانتے کو کام پر رکھنے کے کاغذات جمع کروائے تھے ، ان پر لازم نہیں کہ یہ اپنی آمدنی شو کریں ، ان مالکان کو معزور ہونے کا سرٹیفیکٹ مہیا کرنا ہوگا جو کہ ان کا فیملی ڈاکٹر مہیا کرے گا ، اگر وہ یہ سرٹیفکٹ مہیا نہیں کریں گے تو انہیں سالانہ آمدنی شو کرنا ہوگی ۔ ایک اور اچھی خبر یہ ہے کہ وہ مالکان جنہوں نے ایک سے زیادہ ڈومیسٹک ملازمین کی درخواست دے رکھی ہے ، ان کی بچت ہر ملازم کی بجائے انکے کیس پر منحصر ہو گی ، یعنی ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ وزرات داخلہ اور وزارت روزگار نے یہ قانون ان غیر ملکیوں کے لیے نرم کیے ہیں جو کہ سوجورنو کا انتظار کررہے ہیں ۔ اسکے علاوہ رہائش کا سرٹیفیکٹ مہیا نہ کرنے کی صورت میں پہلے درخواست مسترد کردی جاتی تھی لیکن اب وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ اگر غیر ملکی یعنی idoneità alloggiativa مہیا نہ کرسکے تو اسکی درخواست کو مسترد نہ کیا جائے ۔

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت جمعہ, 12 جولائی 2013 20:51

چوتھا سالانہ اردو ادب سمینار اور مشاعرہ


(نمائندہ خصوصی)مجلسِ مسیحی مصنفین جنوبی ایشیا ( ساکواہ، اٹلی) کے زیر اہتمام چوتھا سالانہ اردو ادب سمینار اور مشاعرہ جولائی 14بروز اتوار ، 2013 (۔ اٹلی کے شہر بیرگمو((Bergamoمیں بوقت دوبجے دو پہر بمقام: "Casa del Giovan gavazzeni 13, Bergamo,Italy.منعقد ہو رہا ہے جس میں’’ مسیحی مسلم رابطہ وقت کی اہم ضرورت‘‘ کے موضوع پر اظہارِ خیال جناب محمود اصغر چوہدرری ایڈیٹر جذبہ انٹرنیشنل کریں گے دوسرے سیشن میں محترمہ شازیہ نورین کے مجموعہ  کلام ’’ فصیل ِ جبر‘‘ کی تقریب رونمائی ہو گی جس کی مہمانانِ گرامی: ڈاکٹر فاطمہ حسن(پاکستان) ،جناب سرفراز تبسم(سپین)جبکہ صدارت زکریا غوری (پاکستان)کریں گے۔  بوقت چاربجے دو پہرتیسرے سیشن میں "بین الاقوامی اردو اور پنجابی مشاعرہ" ہو گا جس کی صدارت جناب جیم فے غوری کریں گے اور مہمانِ خصوصی جناب اسحاق ساجد(جرمنی) ہوں گے۔ پروگرام کے سٹیج سکیرٹری : جناب عمانوائیل نذیر مانیؔ ،جناب رضا شاہ ،محترمہ شازیہ نورین ہوں گے. مشاعرے کے چند شرکاء کے اسمِ گرامی یہ ہیں شرکا: جناب رضا شاہ ،جناب نصیر احمد ملک ،جناب سرفراز تبسم (سپین) ،جناب سرور بھٹی، محترمہ شازیہ نورین، جناب یوسف رندؔ ، جناب عمانوائیل نذیر مانی ، جناب جیم فے غوری،جناب محمود اصغر چوئدری، جناب اسحاق ساجد (جرمنی) کے علاوہ اور بہت سے شعراء شرکت کریں گے.

.WebSite: www.sacwapakistan.org / www.amenews.orgمجلسِ اقلیت جنوبی ایشیا ( سما ،اٹلی) L'ItaliaEmails:sacwait@alice.itContact: Mushtaq Sultan,KaleemJacob, Norman K.Henry. "

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت بدھ, 10 جولائی 2013 19:06

اب نهیں تو پهر کب؟


                          کی محمدسےوفاتونےتوهم تیرےهیں
                          یه جہاں چیزهےکیالوح وقلم تیرےهیں
نہ محمد صلى الله عليه وسلم سےوفاکرسکےنہ کوئی اپنا بن سکا، نہ گهرکےرهےنہ گهاٹ کے
آج بےساختہ مجهےاپنےاردوکےپروفیسریادآگئےجوکہاکرتےتهےکہ دیکهویہ دل بڑاعجیب هے
کبهی خوشی دیتاهےتوکبهی خون کےآنسورولاتاهے. هاںیقین تهاکہ بات وزنی هے مگر جان بلایہ خون کےآنسو کی حقیقت کیا هے. جون ،۲۰۱۳کی ایک سیاه تاریخ جب نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے ہراہم میڈیا کی شہ سرخیوں میں 
بانی پاکستان کےگهرکےخاکسترہونےکی خبر نےراج کیا. تب مملکت خداداد پاکستان کے ہر باسی

بلخصوص دیارغیر میں رہنےوالےپاکستانیوں کی عزت وغیرت داوپرلگی محسوس ہوئ اور احساس
ہواکہ دل خون کےآنسوکیسےروتاهے۔ لاکهوں تارکین وطن اورکروڑوں پاکستانیوں کی طرح میں بهی اسی سوهنی دهرتی کا بیٹا هوں جس کی چادر کو گهر میں گهس کر چاک کیا گیا. مجهے بهی ان دیکهے انجانے محمدعلی جناح اور ان تمام

 شهداءسے محبت اورعقیدت هے جن کی قربانیوں سے آج هم وطن عزیزمیں آزاد هیں                                                                                                   مگر کہاں؟؟؟

                   

جہاں بانئ پاکستان کا گهر راکه کا ڈهیر بنادیاگیا. جہاں ماؤں بہنوں اور بیٹیوں کو بم سے
اڑادیاجاتاهے ان کی عزت و ناموس کو سرعام رسوا کیا جاتا هے، جہاں فرقہ واریت کے نام پہ خون
کی حولی کهیلی جاتی هے، جہاں ڈرون حملوں میں کئ معصوم جانیں جان آفرین کے سپرد هوئیں، جہاں
غیرملکی سیاحوں کو حساس اداروں کی وردیاں پہن کرقتل کیا جاتا هے،  جہاں کوئٹہ کےهسپتال میں

فائرنگ سے گئ جانوں کا جواب حکمرانان وقت کے پاس نہیں اور جہاں پکڑا جائے تو صرف ایک

دہشت گرد، جس کو نہ هم جان سکتے هیں نہ کبهی جان پائیں گے۔ آج اپنی غیرت پہ شرمندگی اور دل پربوجه محسوس هونے لگا اور میں یہ سوچنے پرمجبور هو گیا کہآخر کب تک هم ان مٹهی بهر دهشت گردوں کی ظالمانہ کاروائیوں میں اپنے لوگ رخصت کرتے رهیں گے۔ کب تک همارےحکمران اپنے پرتعیش محلات میں بیٹه کر ایسی ذلت امیز رسوائی پر سیاسی پوائنٹ سکورنگکرتے رهیں گے اور عوام کو جهوٹی تسلیاں دیتے رهیں گے. کب تک عوام ان سیاسی جوکروں کے هاتهوںکی کٹه پتلیاں بن کر ناچتے رهیں گے۔  میں سوچنے پر مجبور هوا کہ بانئ پاکستان نے جو الفاظ افواج پاکستان سے خطاب میں ۱۱اکتوبر۱۹47میں  کہے تهے کہ خدا نے همیں موقع دیا هے کہ هم ثابت کر دکها ئیں کہ هم واقعی ایک
      مملکت کے معمار هونے کی اہلیت رکهتے هیں. خدارا کہیں لوگ همارے متعلق یہ نہ کہیں کہ ہم یہ بهار اٹهانے کے قابل نہ تهے

        کیا واقعی ہم یہ بهار اٹهانے کے قابل نہیں؟
کیاواقعی همارے حکمران، جرنیل، جج اور بیوروکریٹ صاحبان یہ بهول گئے کہ قائداعظم نے فرمایا
تها  ۔ حکومت کا پہلا فریضہ امن و امان برقرار رکهنا ہے،  تاکہ مملکت کی جانب سے عوام کو ان کی

زندگی، املاک اور مذہبی اعتقادات کے تحفظ کی پوری  پوری ضمانت حاصل ہو۔ کیا قائداعظم کی تصویروتعظیم صرف سرکاری دفاتر اور سیاسی تقاریروں تک ہی محدود ره گئی ہے۔ کیا هم اس قابل بهی نہیں کہ اپنی غیرتوں اور قائد کی باقیات کا تحفظ کر سکیں؟ جو در حقیقت ہر پاکستانیاور پاکستان کا سرمایا                                                                      ہیں   ،اقبال فرماتے هیں
                                   

                                      اس قوم کو شمشیر کی حاجت نهیں رهتی
                                  هو جس کے جوانوں کی خودی صورت فولاد 

 
اور اس پر پهر قائداعظم کا فرمان
                                                

وطن سے محبت رکهنے اور وطن کی خاطر قربانی دینے کا جذبہ رکهنے والی قومیں تاریخ کے صفحات میں همیشہ عزت و وقار کے ساته جگہ پاتی هیں

               حد افسوس کہ همارے حکمرانوں نے اپنے قائد کی ہر تعلیم کو بهلا دیا. اپنی مان مریاده
کو بهول کر دوسروں کی غلامی قبول کر لی. اس عظیم سانحہ نے هر پاکستانی کو اپنی نظروں میں
مجرم بنادیا هے لیکن پهر بهی مجهے یقین هے کہ ان ۱۸کروڑ پاکستانیوں اور لاکهوں تارکین وطن
میں بے پناه لوگ موجود هیں جو شاعرمشرق کے اس شعر کی تقلید کرتے هوئے لبیک کہیں گے کہ
                                

                                فارغ تو نہ بیٹهے گا محشر میں جنوں میرا
                                یا اپنا گریباں چاک   ،  یا دامن یزداں چاک

هم اپنی سوهنی دهرتی سے دور سہی،  هماری محب وطنی پہ لاکه تہمتیں سہی مگر
پهر بهی یہ دل آج بهی پاکستان کے لیے ہی دهڑکتا هے. همارے قائد محمد علی جناح آج بهی هر
محب وطن پاکستانی کے دل کی دهڑکن هیں اور هر چیز جو ان سے وابسطہ هے وه همارا اثاثہ هیں
همیں اس ملک کی خاطر، اپنی عزت و وقار کی خاطر اب سوچنا هوگا اور عملی اقدامات کرنے هوں گے خواه وه ووٹ کی طاقت سے هو یا هاتهوں کی

..........کیوں کہ اگر اب نهیں تو پهر کب


                                                                                                    

 

محمد فاروق انور چوهدری

یہ ای میل پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے

 

 

 

 

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت پیر, 24 جون 2013 18:27

غیر ملکیوں کو روکنے سے اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے

روم، 2 جون 2013 ۔۔۔ اٹلی کی ایسوسی ایشن لوناریا کے مطابق غیر ملکیوں کو روکنے سے اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے ۔ غیر ملکیوں کو روکنے کے لیے چند ادارے کام کررہے ہیں اور انہیں جو اخراجات دیے جاتے ہیں ، ان کا اگر حساب لگایا جائے تو پتا چلتا ہے کہ انہوں نے عربوں یورو خرچ کرنے کے بعد بھی غیر ملکیوں کو روکنے کے لیے کوئی اعلی کردار ادا نہیں کیا اور اسکے علاوہ انسانی ہمدردی کے ادارے بھی ان کے خلاف رپورٹیں دے رہے ہیں ۔ 2005 سے لیکر 2012 تک اٹلی اور یورپین کمونٹی کے اداروں نے ایک عرب 668 ملین یورو غیر ملکیوں کو روکنے کے لیے خرچ کیے ہیں ۔ 33 ملین یورو سرحدوں کی حفاظت کے لیے خرچ کیے گئے ہیں ۔ ایک سو گیارہ ملین یورو جنوبی علاقوں میں ماڈرن سسٹم نصب کرنے کے لیے خرچ کیے گئے ہیں ۔ اس سسٹم کے زریعے غیر ملکیوں کو ٹریس کرنا، انکی شناخت کرنی اور انکی رپورٹ دینا وغیرہ شامل ہیں ۔ 60 ملین یورو غیر ملکیوں کے ملک بدر کرنے کے لیے خرچ کیے گئے ہیں ۔ ایک عرب سے زیادہ یورو غیر ملکیوں کو رکھنے کے لیے اداروں CIE, CPSA, CDA e CARAکے لیے خرچ کیے گئے ہیں ۔ 151 ملین یورو ان ممالک کو دیے گئے ہیں جو کہ غیر قانونی امیگریشن کو روکنے کے لیے کردار ادا کررہے ہیں ۔ لوناریا ایسوسی ایشن سے اٹالین قومی اسمبلی سے کہا ہے کہ وہ امیگریشن کے مسئلے میں یورپین قوانین پر عمل کرے اور غیر ملکیوں کی بھرتی اور ملک بدری کے لیے انسانی ہمدردی کو مدنظر رکھتے ہوئے قوانین بنائے ۔

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

اشرف محسن اقبال کو یونان میں گرفتار کر لیا گیا

روم۔ 29 مئی 2013 ۔۔۔۔ اٹلی کے قصبے Brescelloمیں 2005 میں ایک 50 سالہ اٹالین عورت کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والے اشرف محسن اقبال کو یونان میں گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ 2005 میں محسن نے اپنے تین دوستوں کے ساتھ ملکر ایک عورت سے جنسی زیادتی کی تھی ۔ پولیس کی رپورٹ کے مطابق ان چاروں نے ایک عورت کو جب وہ اکیلی سیر کررہی تھی ، زبردستی پکڑ کر ایک کار میں بٹھا کر اغوا کر لیا تھا اور اسکے بعد ایک گھر میں لیجا کر 5 گھنٹوں تک جنسی زیادتی کی تھی اور اسکا موبائل فون اور سونے کی بالیاں بھی چھین لی تھیں ۔ محسن اقبال اٹلی سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا اور پولیس اسکی تلاش میں تھی ۔ اب محسن کی عمر 30 سال ہے اور یورپین پولیس کی مدد سے اسے گرفتار کر لیا گیا ہے اور ایتھنز کی جیل میں بند کر دیا گیا ہے ۔ اٹالین پولیس فوری طور پر اسے اٹلی لیکر آئے گی اور اسے جج فرار ہونے اور جنسی زیادتی کی سزا دیگا ۔ محسن کو 7 سال قبل 8 سال کی قید دی گئی تھی لیکن اب سزا کی مدت زیادہ ہو گی ۔

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com